How to get URL link on X (Twitter) App



ورلڈ بینک اور دیگر مالی اداروں کی تعاون سے جاری ہے مگر ظلم کی انتہاء یہ کی اس پراجیکٹ کی سمرات سے مقامی لوگ اج بھی محروم ہیں ایک اندزے کمطابق کوہستان کہ 300 کی قریب پڑھی لکھے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیکر در در کہ ٹھکریں کھا رہے ہیں اور چوکیدار مالی خانسامہ تک پنجاب سے
یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ڈائریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا
زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ۔



تین اپریل کو سکول کھلا تو یہ دونوں بھائی بن سنور کر سکول پہنچے لیکن پہنچتے ہی مزاحمت کی ایک نئی تاریخ رقم کرنی شروع کی۔ اسمبلی میں تمام بچوں سے فاصلے پر کاندھوں پر بیگ لٹکائے کھڑے روتے رہے۔کوئی ٹیچر پاس جانے کی کوشش کرتی تو یہ زاروقطار رونے لگتے۔ میں مسلسل ان کا مشاہدہ کرتا رہا⏬

مگر اس نظام کی کامیابی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ اسٹیم انجنون کو رواں رکھنے والے ایندھن( جلنے والی بہترین لکڑی) کی بروقت، مسلسل اور وافر مقدار میں سپلائ کا نہ ہونا ہے۔
ﺍﯾﮏ ﺍﺩﯾﺐ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺬﺭ ﮨﻮﺍ .. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ .. " ﻣﯿﺎﮞ ! ﺍﺗﻨﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﺭﻭﺕ ﺗﮭﯽ .. ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ " ⏬
تیرا سارا پانی پی جاوُں گی تجھے ریگستان بنا دونگی... سمندراپنے غرور میں گرجا کہ اے چڑیا میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کردوں تو تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟
جس میں روزانہ کئی لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔ ایک دن میرے ذہن میں سوال آیا کہ ملک کی جدید ترین سڑکوں پر سب سے زیادہ حادثات کیوں ہو رہے ہیں؟اور حادثےکا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ بھی صرف ٹائر پھٹنےسے۔ ہائی وے بنانےوالوں نےسڑک پر ایسی کون سی اسپائکس ڈال دی ہیں کہ سب کے ٹائر پھٹ گئے⏬
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔