ਸਨਾ ਫ਼ਾਤਿਮਾ Profile picture
Historian | Linguist | Archeology | Egyptology | Indology | Geology | Civilizations | Lit. Pol. | Civil Supremacy | Snowfall | FaizAhmadFaiz @SaveHumanity78
Aug 15 6 tweets 3 min read
#ਖਾਲਸਾ_ਰਾਜ
#Sikh
#Empire
شہزادہ فریڈرک دلیپ سنگھ (Prince Freddie)
(1868-1926, لندن)
شہزادہ فریڈرک لاھورکی سکھ سلطنت کےآخری مہاراجہ دلیپ سنگھ اور شہزادی بمبا مولرسدرلینڈ کا بیٹا اور منفرد شخصیت کامالک تھا۔
فریڈرک لندن میں پیداھوا۔ ملکہ وکٹوریہ کی جانب سےاپنے باپ دادا کے مفراخدلانہ ImageImage اور قریبی سلوک کی وجہ سے وہ ایک کٹر بادشاہت پسند تھا۔
فریڈرک دلیپ ، کیتھرائن دلیپ اور وکٹر دلیپ: تینوں بچے دلیپ سنگھ کی مصری بیوی بمباسدرلینڈ سےتھے۔
شہزادہ فریڈرک بہترین موءرخ, تاریخی نوادرات collector اور ماہرِ آثارِ قدیمہ بھی تھا کیونکہ اس نےبیچلر اور ماسٹرتاریخ میں کیاھوا تھا.
Aug 8 6 tweets 4 min read
#Bhopal
#Rulers
#History
قدسیہ بیگم (بھوپال کی خاتون حکمران)
1819-1837
بھوپال کی پہلی مسلمان دبنگ حکمران جس نےبھوپالی"Patriarchal Ruling System" کوشکست دی۔
بھوپال کےحکمران غالباًمردہی رہتےاگرنوجوان نواب نذرمحمدخان کی موت کےبعداسکی18سالہ بیوی قدسیہ کی بہادری نہ ھوتی۔
تقریباً107سال (1819 سے 1926 تک) چار غیر معمولی خواتین نے بھوپال کی شاہی ریاست پر حکومت کی جن میں سب سے شاندار اور بانی مسلم حکمران"قدسیہ بیگم"تھیں۔
قدسیہ بیگم (بوقتِ پیدائش نام اودھم بیگم) دہلی میں پیدا ھوئیں۔ تاریخ میں انہیں گوہر بیگم سے لکھا جاتا ھے۔ اسی نام سے بھوپال میں گوہر بیگم کے نام سے
Aug 7 5 tweets 5 min read
#ENGLAND
#RoyalFamily
#History
29 جولائی 1981
"Wedding of The Century"
شہزادہ چارلس جارج اور ڈیانا فرانسس سپینسر کی شادی کا دن
یہ دن کئی لحاظ سے تاریخ میں امر ھوا۔
یورپ کے دوسرے بڑے چرچ "Saint Paul Cathedral" (لندن، انگلینڈ) میں پرنس آف ویلزچارلس اور 20 سالہ کنڈر گارٹن اسکول ٹیچر لیڈی ڈیانا کے درمیان "Fairy Tale" کی مانند شاہی شادی منعقد ھوئی جس نے دنیا بھر میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے۔
اس شادی میں 3500 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی اور دنیا بھر کے 750 ملین سے زائد ابادی نے لائیو دیکھا۔ اس شادی کو 74 ممالک میں براہِ راست نشر کیاگیا۔
ڈیانا وہ پہلی برٹش
Aug 4 5 tweets 3 min read
#Sindh
#ancient
#History
سہون (سندھ)____تاریخ سے چند اوراق
پاکستان کا چپہ چپہ تاریخ سےمالا مال ھے۔
عہد قدیم کےحوالوں میں جس "سیوستان" یا "سیستان" یا فارسی "شیوآستان" نام کےشہر کاذکر ملتا ھےسہون ممکنہ وہی شہر قدیم ھے۔
دریائےسندھ کی شاخ ارول (Arul)، جو لاڑکانہ سےبہتی آتی ھے کے کنارے واقع شہر سہون 600 سال پہلے کے صوفی اور معتبر بزرگ لال شہباز کی وجہ سے زیادہ مشہور ھوا اور مرکز توجہ بنا۔
بعض مؤرخین یہ بھی کہتےہیں کہ مقدونیائی حکمران (Macedonian King) اسکندر اعظم نے جس ھندوستانی پہاڑیوں کے راجہ سمبس (Raja Sambus/Greek King - 329 BC) کا شہر بتایاھے وہ
Aug 3 4 tweets 5 min read
#Hungary
#Archaeology
#History
Tokjaj Wine Region (Hungaria)
1063 AD
ہنگری میں واقع توکاج وائن کا علاقہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ھے۔
اس علاقےکی تاریخ صدیوں پہلے شروع ھوتی ھے.
دراصل یہ شراب کی کاشت کا خطہ تھا اور ان زیر زمین گھروں میں شراب کو سٹور کیا جاتا تھا۔
توکاج کا قدیم ترین تذکرہ قدیم ہنگری کتاب (Hungarian History Book) گیسٹا ہنگارورم (Gesta Hungarorum) یعنی "ہنگریوں کے اعمال" میں بھی پایا گیا ھے۔
1252ء کی ایک نامور ہنگری دستاویز"Hegyalja" میں اسی خطے کا ذکر "Hétszőlő" یعنی "قدیم انگوروں کے باغات" کے نام سے ملتا ھے۔
مختلف قسم کی مشکلات اوررکاوٹوں سے
Jul 29 6 tweets 3 min read
#Shikarpur
#History
شکار پور (سندھ)__تاریخ سے چند اوراق
تقریباً 600 سال پہلے
شکار پور دراصل قندھار کو جانے والی شاہراہ عام پر درہ بولان میں آتا ھے۔
گزرے زمانوں کاایک مالدار شہر بلکہ ایک وقت تھا کہ مالی منڈی کے اعتبار سے یہ شہر ملتان سے آگے نکل چکا تھا۔
شکارپور کی آبادکاری کا سہرا داؤد پوتہ قبیلے کے لوگوں کے سر جاتا ھے جنہوں نے اس شہر کو آباد کیا۔اس خطے میں افغانوں، تالپوروں، کلہوڑوں اورانگریزوں کا غلبہ رہا۔
یہاں کےھندو مہاجن اور ساھوکار خاص طورپرمشہور تھے۔ شکارپور میں سب سےزیادہ اکثریت لوہانہ قوم کے(Lohanas) ھندوؤں کی تھی۔
بلاشبہ شکارپور افغانستان کےدرانی
Jul 25 4 tweets 6 min read
#ancient
#Archaeology
Rock-Cut Art
Cappadocia Caves (Anatolia, #Turkey)
کپاڈوشیا غار (ترکی)__3rd BC
Hatti Culture
دھاتی عہد کے ہٹی کلچر کا مرکز اناطولیہ کو کہا گیا ھے۔
کپاڈوشیا (اناطولیہ) سے دریافت ھونے والے Neolithic عہد کے مٹی کے برتن، اوزار، پہاڑوں کی تشکیل، تیسری صدی قبل مسیح کی باقیات، ہزاروں مٹی کی گولیاں اس شہر کے قدیم ھونے کا ثبوت ہیں۔
اناطولیہ کا قدیم ضلع Cappadocia موجودہ ترکی کے مرکز میں Taurus Mountains کی ناہموار سطح مرتفع پر واقع ھے۔ Cappadocia کی ساری زمین ہی نرم آتش فشاں چٹان پر مشتمل ھے۔
نرم ریتلے پتھروں سے بنے یہ قدیم غار چٹانی طرزِتعمیر
Jul 22 4 tweets 5 min read
#StepWell
#architecture
#Rajhastan
پنا مینا کا کنڈ (ریاست راجستھان، بھارت)
Panna Meena ka Kund (Rajhastan, India)____16th C.
زیرزمین تعمیر ھندوستان کیلئے کوئی نئی بات نہیں!
ریاست راجھستان، کی ڈسٹرکٹ جےپور کے قریب شہر امیر جسے عنبر بھی کہا جاتا تھا، میں واقع پنامینا کا کنڈ زیرزمین طرزتعمیر کی شاندار مثال ھے جو 16لہویں صدی میں مشہورِ زمانہ "قلعہ امیر" کیساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ مختصر سی StepWell تعمیر دراصل پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے کنواں کی مانند تھی جہاں امیر کےلوگ پانی جمع کرتے تھے۔ بعد میں اس جمع شدہ ذخیرےکو قریبی مندروں میں استعمال کیاجاتا تھا۔
خواتین
Jul 20 4 tweets 3 min read
#Indology
#ancient
#Varanasi
شہر وارانسی__تاریخ سےچند اوراق
اترپردیش (انڈیا)___1100قبل مسیح
شہروارانسی__جنوبی ھندوستان کی ریاست اترپردیش میں واقع ہندؤوں کامقدس ترین شہر بلکہ روحانی دارالخلافہ (Spiritual Capital)
شہر وارانسی__کی وجہ تسمیہ یہ کہ شہرکی سرحدیں دوندیوں (ورونہ اور آسی) ImageImage سے ملتی ہیں جو گنگا میں بہتی ہیں۔ شہر کا نام انہی دو دریاؤں کیوجہ سے ھے۔
شہروارانسی__شیو دیوتا کا مسکن جو ہندؤ مت میں الہی کا سب سے اہم مظہر ھے۔
 شہروارانسی__ دریائے گنگا کے کنارے آباد وہ دریا جو ہندومت کے مقدس ترین دریاؤں میں سے ایک ھے۔
2,500سال سےزیادہ عرصےسےھندو یاتریوں نےگنگا
Jul 18 5 tweets 5 min read
#ਗੁਰੂ_ਅ੍ਰਜੰ_ਦੇਵ
#ਪੰਜਾਥ
#Lahore
#History
لاھور (پاکستان) اور گرو ارجن دیو کا تعلق (1606)
بادشاہی مسجد (لاھور) سےتھوڑا آگےخوبصورت سکھ گوردوارہ جسےدیکھ کر لوگ تعریف تو کرتےہیں مگرشاید وہ اس کے پس منظر سےکم ہی واقف ھوں گے۔
لاھورقلعہ وہی جگہ ھےجہاں پنج شاہی (یعنی پانچویں گرو) ارجن دیو کوشہنشاہ جہانگیرکے حکم پر تشدد سےشہید کیاگیاتھا۔ انہی کی یاد میں یہ "گوردوارہ ڈیرہ صاحب" تعمیر کیاگیا۔
پنج شاہی ارجن دیو صاحب سکھ مت کے پہلےشہید کہلاتے ہیں۔
سکھوں کی پنج شاہی ارجن دیو اور لاھور (پنجاب) کا آپس میں تعلق درحقیقت ایک تاریخی سانحہ ھے جو مغلوں کے جبر کا بھی عکاس ھے اور
Jul 16 6 tweets 6 min read
#Temple
#Kashmir
مرتند سورج مندر (اننت ناگ، سرینگر کشمیر)
Martand Sun Temple (Anantnag, Kashmir)___8th AD
اننت ناگ (بھارتی کشمیر) میں واقع مرتند سورج مندر جو آٹھویں صدی کی سناتنی تہذیب (Sanatani Civilization) کاگڑھ تھا، کو وادئ کشمیرکی ٹاپ پر تعمیر کیاگیا جوکلاسک کشمیری طرزِتعمیر کا نمونہ تھا۔
سورج مندر کی وجہ شہرت اس کا گندھارا، گپت اور چینی طرزتعمیر کا کلاسک اورجاذب نظر امتزاج ھے۔
یہ ھندو مندر سوریادیو (Suryadev) کے نام سے منسوب تھاجسے "مرتند" کہا جاتا تھا۔ سناتنی تہذیب دراصل ایک ایساھندو عقیدہ (Hindi Cult)تھا جنکی تعلیمات (Teachings) خالصتاً بھگوت گیتا
Jul 14 5 tweets 7 min read
#ਪੰਜਾਬ
#Shekhupura
#Heritage
#Fort
#architecture
قلعہ شیخوپورہ (1607)
مغل بادشاہ جہانگیر کاشاہکار
بادشاہ جہانگیر کےنام (شیخو) پر ہی آباد شہر شیخوپورہ میں 68 کنال پرمشتمل یہ وہی قلعہ ھے جہاں رنجیت سنگھ کی بیوہ اور دلیپ سنگھ کی ماتا سکھ مہارانی جند کور (جنداں) کو برطانوی راج نے قید کیا تھا۔
جہانگیری عہد میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ شیخوپورہ تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ھے۔ جہانگیر کی آب بیتی "توزک جہانگیر" کافی تفصیل سے اس قلعے کا حال بتاتی ھے۔
سکھ عہد میں قلعے کیساتھ متعدد عمارتیں تعمیر کرکے اسےیکسر تبدیل کر دیا گیا۔
1808میں قلعے کورنجیت سنگھ نے اپنے 6 سالہ
Jul 8 5 tweets 4 min read
#Sehwan
#Saints
#Sindh
لال شہباز قلندر ؒ (خراسان/سہون، سندھ)
Lal Shehbaz Qalander ؒ(Sehwan, Pakistan)
(1177 تا 1274ء)
شہغنشاہ قوال نصرت فتح علی خان کی مشہورِ زمانہ قوالی "جھولےجھولےلال" کاعنوان "لال شہباز قلندر ؒ " کاکوئی شمار نہیں۔
یوں سمجھ لیں کہ دریائےسندھ انکےحکم کامحتاج ھے۔ سہون کی پہچان لال شہباز قلندر ؒ کا اصل نام "سید عثمان" تھا.
آپ ؒ (موجودہ) خراسان میں پیداھوئے اور تقریبآ 650سال قبل سہون تشریف لائے۔
آپکی مخصوص پہچان (Signature) وہ "ڈھول" جواس وقت سےآج تک آپکے مزارپرگونج گونج کر زائرین کودھمال پرمجبور کیےھوئےھےدراصل 1242میں بادشاہ دہلی علاؤالدین
Jul 7 5 tweets 3 min read
#ancient
#History
"ھندوستان"  نام کا اصل 
کیاھندوستان کا کبھی ایک نام رہا ھے؟
ایک پیچیدہ ترین سوال
دراصل اس خطےمیں کبھی کوئی قوم وارد ھوئی اورکبھی کوئی حملہ اسلیے ھندوستان مختلف ادوار اور زمانوں میں مختلف ناموں سے لکھا اور پکاراگیا۔
آج ھم جس ھندوستان میں رھتےہیں کبھی اسے"جمبودیپ" کہا جاتا تھا جو پورے ھندوستان کیلئے استعمال ھوتا تھا اور اشوک کے کتبوں اور ھندوؤں کی مقدس پرانوں میں بھی یہی لفظ استعمال ھوا ھے۔
آریاؤں نےاسے دریائے سندھ کی مناسبت سے "سندھ" کہا۔
ایرانیوں نےجب یہاں اپنا قبضہ جمایا "سندھ" یا "سندھو" کو "ھند" کر دیا۔
جب یونانی حملہ آورھوئے تو ان کے
Jul 6 4 tweets 5 min read
#architecture
#Peru
Rock-Cut Art
Dwelling of gods (Peru)
"دیوتاؤں کا گھر" (پیرو)
نہ فیک، نہ فوٹو شاپ، نہ ایڈیٹنگ
لیکن ناقابل یقین ضرور
کیونکہ انسانی ہاتھ سےبنا یہ چٹانی طرزِ تعمیر (Rock-Cut Architecture) دیکھ کرسب سےپہلے یہی ذہن میں آتاھے۔
جنوبی امریکی ملک پیرو کےشہر کسکو (Cusco) جوہمیں حیران کرنےسےبازنہیں آتاکیونکہ نئے کھدائی شدہ کھنڈرات، دریافتوں کی وجہ سےیہ شہر کبھی بھی ساکن نہیں رہا!
پیروجو پہلےہی عالمی آرکیالوجیکل سائیٹ Macchu Pichchu کیوجہ سےحیران کن تصورکیاجاتاھے۔ اسی پیروکی اپوکوناق ٹیانن چٹان (Apukunaq Tianan Mountain) جسکامقامی زبان (quenchecqu)
Jul 5 4 tweets 5 min read
#Temple
#architecture
رانا محل گھاٹ (دریائے گنگا کنارے، وارانسی، بھارت)
Rana Mahal Ghat, Varanasi (Uttar Pradesh, India)
1670ء میں اودے پور کے مہاراجہ کا تعمیرکردہ مقدس دریائےگنگا کنارے یہ شاہکارھندوستان کےمقدس ترین مقامات میں سے ایک ھےاوراپنی حسین لوکیشن کی بدولت توجہ کھینچتاھے۔ خیال کیاجاتاھے کہ یہ بھگوان شیو کا گھر تھا۔
زیادہ تر گھاٹ غسل اور پوجاکی تقریب کے گھاٹ ہیں جبکہ کچھ کوخصوصی طور پر شمشان گھاٹ کےطور پر استعمال کیا جاتا ھے۔
وارانسی کےزیادہ تر گھاٹ 1700عیسوی کے بعد بنائےگئےتھے، جب یہ شہر مراٹھا سلطنت کاحصہ تھا۔ موجودہ گھاٹوں کےسرپرست 'مراٹھے' ہیں۔
Jul 3 5 tweets 3 min read
#Gujranwala
#History
گوجرانوالہ (پاکستان)___تاریخ سے چند اوراق
وجہ تسمیہ اور تاریخی پس منظر
گوجرانوالہ__تقسیمِ ھند سے پہلے بھی وجہ شہرت "پہلواناں دا شہر"
گوجرانوالہ__کی بنیاد گجروں نے رکھی تھی اور امرتسر کے سانسی جاٹوں نے اسکا نام خانپور رکھاجو وہاں آباد ھوئے تاہم اس کا پرانا نام باقی رہا۔
گوجرانوالہ__کا 630ء میں چینی بدھ مت یاتری Hsuan Tsang نے موجودہ گوجرانوالہ کے قریب Tse-kia کے نام سے مشہور دیہات کا دورہ کیا.
گوجرانوالہ__7ویں صدی کے آغاز سے راجپوت سلطنتوں کا پاکستان کے ان مشرقی حصوں اور شمالی ہندوستان پر غلبہ ھو گیا۔
گوجرانوالہ__997ء میں، سلطان محمود
Jun 30 5 tweets 6 min read
#StepWell
#Church
#Ethiopia
Saint George Church (Lalibela, Ethiopia)
سینٹ جارج چرچ (ایتھوپیا)____11th AD
زیرزمین صرف مندر، محل یا یادگاریں ہی نہیں ھوتی بلکہ چرچ بھی اس میں شامل ہیں جیساکہ ایتھوپیاکایہ چرچ جسےبصارت داد دیئے بغیرنہیں رہ سکتی۔
ایتھوپیامیں چٹان کو کاٹ کرقبطی عیسائیوں (Coptic Orthodox Christians)
نے زیرزمین یہ چرچ بنایا۔
قدیم مقدس بائبل جن عیسائی عبادت گاہوں کا حوالہ دیتی ھے وہ یہی ایتھوپیائی چرچ ہیں۔ ایتھوپیا میں 341ء میں رسمی طور ہر عیسائیت کو اپنایا گیا تھا۔
ملک کے شمال میں امہارا ریجن میں واقع للی بیلاشہر (Lalibela جو کہ یہاں کے بادشاہ کا
Jun 28 5 tweets 5 min read
#Sukkur
#Temple
سادھو بیلو (دریائے سندھ کنارے، بمقام سکھر)
Sadhu Belu (Sukkur, #Pakistan) 1823
سادھو بیلو کیا ھے؟
سکھر اور تاریخ کے مابین بہت گہرا اور قدیم رشتہ ھے۔
سکھر شہر (پاکستان) کے پاس دریائے سندھ کے جزیرے پر واقع یہ ھندوؤں کے مقدس ترین مندر ہیں۔
عام خیال کیا جاتا ھے کہ1823 ImageImage میں اداسی پنتھ سے تعلق رکھنے والے ایک عقیدت مند پجاری "سوامی بانکھنڈی" نے اس مندر کو بنوایا تاکہ ہندو برادری اپنی قدیم روایات کو دوبارہ زندہ کر سکے۔
چودھویں صدی میں سندھ "اداسین پنتھ" عقیدے کا سب سےبڑا مرکز ماناجاتا تھا اور کسی زمانےمیں سادھو بیلہ کے مندر کے اطراف میں گرجاگھر اور ImageImageImage
Jun 27 5 tweets 3 min read
#mughals
#Rajput
#relationships
#facts
مغل راجپوت تعلقات___تاریخ کے آئینے میں
تاریخ شاہدھے کہ مغل اور راجپوت روابط تاریخ کےسب سےمضبوط سیاسی اتحاد میں سے ایک رھے ہیں۔
"تاج محل" کے پاءوں کے نیچے کی زمین مغلوں کوایک راجپوت کی عنایت کردہ ھے اوران دونوں میں خون کےروابط رھے۔
مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی شادی راجپوت شہزادی ہرکھا بائی سے ھوئی۔
اس شادی سے پہلے بھی ہمارے پاس یہ تاریخی ثبوت موجود ھے کہ کس طرح ہمایوں نے ایک راجپوت شہزادی جو اسکی راکھی بہن تھی، کی حفاظت کے لیے شیر شاہ سوری کےمقابل ایک جیتی ھوئی جنگ ہار دی۔
اسی ہار نے حقیقت میں ہمیشہ کے لیے اس کی قسمت
Jun 22 7 tweets 5 min read
#Shia
#Scholar
علامہ طالب جوہری (شیعہ اسکالر)
پٹنہ، بھارت
27 اگست 1929- 22 جون 2020
خانوادہءآیت اللہ مولانامحمدمصطفیٰ کے چشم وچراغ اورفرزندجلیل
عظیم المعتبر خطیبِ دوراں، شاعر
مفکر، مفسرقرآن وحدیث
ماہرعلوم اسلامیہ،ستارہ امتیازکےمالک
اردو، فارسی،عربی زبانوں پردسترس
فقہ جعفریہ کی نہایت قد آور اور ممتاز شخصیت مولانا طالب جوہری 1929 میں ریاست بہار کے شہر پٹنہ (بھارت) میں پیدا ھوئے۔
ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرکے مذہبی تعلیم کیلئے نجف وعراق کاسفر کیا۔ وھاں آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم الخوئی کے زیرانتظام "حوزہ علمیہ" (Howza Ilmiya) جہاں شیعہ طلباءتعلیم