Zilay Huma Dar Profile picture
Simply complicated|MBA/MA Lit.|Blend of Kashmir & Punjab But pure Pakistani|Multilingual so think Before u speak| Believe in Civil Supremacy.
حسنین شاہ Profile picture 1 added to My Authors
22 Nov
اپنی سوشل میڈیا ایپس کی بلاک لسٹ پہ نظر ڈالیں۔
بلاک ہونے والوں کی کثیر تعداد اس بنیاد پہ بلاک کی گئی ہو گی کہ انھوں نے آپ کی کسی مسلکی،سیاسی یا معاشرتی پوسٹ کے جواب میں آپ کو دلیل کے بجاۓ گالی یا بددعا دی ہوگی
بحیثیت خاتون مجھےاسی زبان میں جواب دینے کے بجاۓ بلاک کرنا آسان لگتا ہے
یہی لوگ جب قریب المرگ ہوتے ہیں تو ان کی اور ان کے اپنوں کی خواہش ہوتی ہے کہ تمام لوگ انھیں ک خطاؤں کو معاف کریں اور اللہ کریم ان کے گناہوں کو معاف کر دے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام عمر انھیں اپنی زبان پہ قابو پانا نصیب نہیں ہوتا لیکن مرتے دم ان کی دعا ہوتی ہے کہ ان کےلیے سب دعا کریں
اب سب سے تکلیف دہ مرحلہ ہے کہ لوگ آپ کو کیوں معاف کریں۔ کیا اس لیے کہ اب آپ فوت ہونے لگے ہیں یا آپ وفات پا چکے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ نے اس دنیا فانی سے جانا ہے؟ کیا آپ کو سزا و جزا، جنت و جہنم کی حقیقت معلوم نہ تھی؟
Read 8 tweets
18 Nov
نہ جنوں رہا ۔۔۔۔

کچھ لوگ دنیا دار نہیں ہوتے یا شاید دنیا ان کے لیے بنی ہی نہیں ہوتی۔
وہ بھی ایسا ہی انسان تھا۔
دیکھنے میں عام سا۔
خاموش رہنے والا۔
محفل میں ہو تو شاید کسی کا دھیان بھی اس کی طرف نہ جاۓ۔ لیکن اسے خود کو نمایاں کرنے کا شوق بھی نہیں تھا۔
میں اپنی کلاس کی خود اعتماد لڑکی جس کو ہر موضوع پہ دسترس حاصل تھی۔ اساتذہ کی تعریفیں میرا اعتماد اور بڑھا دیتیں۔ ایسی چکا چوند میں کہاں کسی پہ نظر ٹھہرنی تھی۔ وہ میرا ہم جماعت ضرور تھا لیکن اتنا غیر اہم کہ شاید ہی کسی نے اسے بولتے سنا ہو۔
اساتذہ بھی اسے ایسے ہی نظر انداز کر دیتے جیسے ہم سب کرتے تھے۔ کسی نے بتایا کہ وہ کسی مزدور کا بیٹا ہے۔ایسے لوگوں کی کیا تربیت اور کیا شخصیت۔ وہ نظریں جھکاۓ گزرتا اور ہم سب اسے کسی کلاس میں پڑے بنچ کی طرح جماعت کا حصہ سمجھنے لگے۔
Read 14 tweets
16 Nov
افسانہ ۔۔

ان سے میری پہلی ملاقات چہل قدمی کے دوران ہوئ۔کالج کی چھٹیوں میں روزانہ واک معمول کا حصہ تھی۔ سبزے پہ چہل قدمی کرتے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کتنی دیر ہو گئی کہ یکدم سانس کی تکلیف شروع ہو گئی۔ پولن سیزن میں واک ہمیشہ اذیت دیتی ہے
لیکن درختوں اور پودوں کو نئے رنگوں میں دیکھنا اتنا خوشنما لگتا ہے کہ میں باز نہیں آتی۔
ایک تنے سے ٹیک لگا کے سانس بحال کرنے کو کوشش جاری تھی کہ کسی نے پانی کی بوتل بڑھائ۔ پہلی نظر میں وہ کوئ فرشتہ لگا۔ شکریہ ادا کرتے ہوۓ بوتل واپس کی تو جناب نے شبلی کے نام تعارف کروایا۔
شکل سے وہ انتہائ معقول لگ رہے تھے لیکن ہمیں شبلی سے شبلی فراز یاد آۓ اور جیسے منہ میں کونین گھُل گئی۔پھر انھیں مولانا شبلی نعمانی سے تشبیہ دے کے سکون ملااور انھیں مولانا کا خطاب دے ڈالا۔وہ بھی صاحب جیسے برسوں سے منتظر تھے۔ایک ہی سانس میں نام،رہائش اور سانس کی تکلیف کی وجہ پوچھ لی
Read 19 tweets
29 Oct
آپ کی تیرہ سالہ بیٹی کے لیے چوالیس سال کے مسلمان کا رشتہ آۓ تو کیا آپ صرف مسلمان ہونے کی بنا پہ رشتہ قبول کر لیں گے؟
لیکن یہی رشتہ ایک مسیحی یا ہندو گھرانے سے آپ کی بیٹی کے لیے آۓ تو۔۔
آپ نہ صرف ان کو بے عزت کرکے گھر سے نکالیں گے بلکہ آپ شاید ان کے گھر بھی تباہ کرنے کی کوشش کریں
آخر دوسرے مذہب سے ہو کر بھی انھوں نے یہ گستاخی کرنے کا کیوں سوچا؟
اب اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا اس ملک کی اقلیتوں کو بھی ایسا سوچنے کا حق ہے یا نہیں ؟
کم عمری کی شادی پہ سزا کا قانون بھی ہے اور نکاح بالجبر پہ بھی سزا ہے
لیکن بات جب دوسرے مذہب کے لوگوں کی آتی ہے تو ہم فوراً اسلام کی آڑ لیتے ہیں۔
ان تمام لوگوں کو جنھیں کم عمر بچیوں کو مسلمان کر کے نکاح کرنے کا ثواب کمانے کا شوق ہے، وہ ادھیڑ عمر مسلمان خواتین یا بیوہ و طلاق یافتہ خواتین کا سہارا بن کے سنت پہ عمل کرنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟
Read 6 tweets
27 Oct
انسان جب علم اور ترقی کی معراج کو چھُو لے گا تو اُس وقت کے تاریخ دانوں میں سے کوئی اپنے اجداد کی عقل پر ماتم کرتے ہُوئے لکھے گا،
"ہمارے اجداد میں بعض ایسے بھی گُزرے ہیں جنہوں نے بیس کروڑ سے زیادہ انسانوں کی تقدیر ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دے دی تھی
جِس کی واحد قابلیت ایک ایسے کھیل میں مہارت تھی جِس میں ایک آدمی گیند ہاتھ میں پکڑے دور سے بھاگتا آتا ہے اور ایک مخصوص جگہ پہنچ کر گیند جھٹ سے چند میٹر دور کھڑے ایک دوسرے آدمی کے پیچھے چھُپی لکڑیوں کی طرف پھینکتا ہے۔ جِس شخص کی طرف وہ گیند پھینکی گئی ہوتی ہے
اُسے اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کے ذریعے گیند کو روک کر اُسے نہ صرف پیچھے موجود لکڑیوں سے ٹکرانے سے بچانا ہوتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ میں پکڑے لکڑی کے ڈنڈے سے گیند پر اتنی زور سے ضرب لگانی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دور جا گرے۔"
Read 4 tweets
20 Oct
آپکو یہ تو بتایا ہے کہ حضرت یوسف بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر
کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس یوسف نے اپنے ملک کو کیا "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نہیں مرنے پایا۔
سب صرف یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت سلیمان کی بادشاہت اتنی دبدبے والی تھی کہ جنات بھی ان کے ماتحت تھے مگر کوئی نہیں بتاتا کہ وہ بے پناہ "سیاسی بصیرت" رکھنے والے بادشاہ تھے،
اپنے ملک فلسطین [ انڈسٹریل/ صنعتی اکانومی ] اور ملکہ بلقیس کے ملک یمن [ ایگریکلچرل/ ذرعی اکانومی ] کے درمیان دو طرفہ معاہدات [Bileteral Agreements] کے نتیجے میں خطے کو جس طرح خوشحالی دی آج کی جدید دنیا بھی اس کی مثال نہیں ملتی
Read 7 tweets
11 Oct
ملک میں کرپشن کے خاتمہ سے روزانہ 12 ارب روپے بچ رہے ہیں.
حکومتی اخراجات میں کمی کی وجہ سے 5000 ارب پہلے سے بچے ہوئے ہیں.
بیری کے درخت والی شہد سے بھی اربوں کی آمدنی متوقع ہے اور ہم نے اربوں کھربوں درخت بھی لگا رکھے ہیں۔
ظاہر ہے انکی اضافی لکڑی بھی ایکسپورٹ ہوگی
اور زرِمبادلہ ملک میں آئے گا۔ ابھی تو باہر پڑے 200 ارب ڈالر الگ اور 5000 ہزار کروڑ ڈالر الگ سے بھی ملک لانے ہیں اور گلابی نمک جو ہم نے بھارت جانے سے روک کر خود ایکسپورٹ کرکے اربوں ڈالر باہر سے پاکستان لائیں گے وہ الگ۔
چرس اور بھنگ کی کاشتکاری سے اربوں ڈالرز کی کمائی اور ساتھ میں جو عوام کو انڈے، کٹے اور مرغیاں دی گئی ہیں ظاہر ہے وہ بھی دو سے تین ہزار ارب سالانہ منافع تو دینگے ہی دینگے۔۔۔۔

مجھے معلوم ہے لوگ نہیں مانیں گے مگر باقی سب چھوڑیں یہ دیکھیں
Read 11 tweets
10 Oct
انگریزی کی کلاس میں ایک لیکچرر نے پوچھا کہ اگر آپ کے پاس چوائس ہوتی تو آپ کیا بننا پسند کرتے؟
سب سے انوکھا جواب ایک لڑکے کا تھا کہ میں لڑکی بننا پسند کرتا۔
یہ جواب بہت سے حقائق واضح کر گیا۔
ہمارے ہاں لڑکی ہونے کا مطلب ہے کہ نازک اندام،سگھڑ، پڑھائ کے ساتھ گھریلو امور میں ماہر ہونا
اس میں کچھ قصور افسانہ نگاروں اور شاعروں کا ہے جنھوں نے محبوب یا ہیروئن کا ایسا تصور پیش کیا کہ فی زمانہ اس سانچے میں ڈھلنے کے لیے دن کے چوبیس گھنٹے بھی کم لگتے ہیں۔
رہی سہی کسر فلمی ہیروئنز نے پوری کر دی۔سب کی آئیڈیل مخروطی آنکھوں،ڈمپل والی سروقد، گھنیری پلکوں والی ہیروئنیں ہیں
اب اس مقابلے کی فضا میں عام لڑکی کے لیے برابری کرنا کتنا مشکل ہے، کوئ ہم سے پوچھے۔

لمبے چمکدار بالوں کو قابو رکھنے کے لیے خاص شیمپو چاہیے۔ اب چاہے گرمی میں آپ جو بھی کریں،بالوں کا ٹوکرا سنبھالنے کو گھنٹہ لگتا ہے ۔
Read 11 tweets
9 Oct
ہریش کمار فزکس میں PhD کے بعد بھارت کی ایک اہم یونیورسٹی میں لیکچرار پوسٹ ہوا۔ہندو دھرم سے پہلے ہی متنفر تھا۔1986 لندن میں اسٹیفین ہاکنگز کے لیکچرز اور کتب سے ایسا متعارف ہوا کہ خدا کا ہی منکر ہو گیااور ایسا منکر کہ بڑے بڑے مسلم،عیسائی اور یہودی علماء سے بھرپور مباحثہ کرتا۔
یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی قائل نہ کر سکے۔

ڈاکٹر بتاتے ہے کہ 2005 کی چھٹی کے دن کی ایک صبح مسلم سبزی فروش نے بیل کی۔ ہم گزشتہ 20 سال سے سبزی اسی سے خرید رہے تھے۔ اس دن میں نے اسے چائے کی آفر کی تو اس نے قبول کر لی۔ حسب معمول خدا یا اللّہ کے وجود پر اس سے بحث شروع کر دی۔
30 منٹ کی گفتگو سے معلوم ہوا وہ سیدھا سادہ مسلمان ہے۔ جو 5 وقت نماز پڑھتا ہے۔ ہاں وہ سودے میں بہت ہی صاف گو اور ایماندار تھا۔ مناسب دام میں بیچتا تھا۔ آخر چلتے ہوئے اس نے ایک ایسی بات کی جس نے میری زندگی ہی بدل دی۔ وہ کیا تھی:-
Read 9 tweets
7 Oct
میرے ایک دوست ہیں‘تین نسلوں سے کاروباری ہیں‘ کراچی میں بزنس کرتے ہیں‘والد احمد آباد (گجرات) کے چھوٹے سے گاؤں میں دکان چلاتے تھے‘خاندان پاکستان بننے کے بعد کراچی آ گیا‘والد کاروبار کے سلسلے میں چٹاگانگ گئے‘مشرقی پاکستان میں فیکٹریاں لگانا شروع کیں اور یہ 17 فیکٹریوں کے مالک بن گئے
1971ء میں فسادات شروع ہو گئے‘ یہ لوگ جان بچا کر بھاگے اور لاشیں پھلانگ کر واپس کراچی پہنچے‘ نئے سرے سے کام شروع کیا اور ایک بار پھر قدموں پر کھڑے ہو گئے‘ یہ اب ملک کے چند بڑے بزنس مینوں میں شمار ہوتے ہیں اور چار ارب روپے سالانہ ٹیکس دیتے ہیں۔
چند دن قبل میرے پاس تشریف لائے‘ گفتگو کے دوران بنگلہ دیش کا تذکرہ شروع ہوا تو
مجھے پہلی مرتبہ پتا چلا یہ سال میں تین چار مرتبہ بنگلہ دیش جاتے ہیں‘ میں نے وجہ پوچھی‘ یہ مسکرا کر بولے‘ میرا ایک بھائی اور والدہ دونوں چٹاگانگ میں رہتی ہیں‘ میں حیران ہو گیا‘
Read 27 tweets
6 Oct
1996 کوئٹہ میں 4 ایکڑ زمین لی,کاغذات تیار کروائے جب اپنی زمیں پر گھر بنانے کی پلاننگ کی تو آرمی کیطرف سے مجھے روک دیا گیا اور میری اپنی زمیں پر مجھے داخل ہونے سے منع کر دیا گیا.میری طرح اور کئی لوگ جو مالک تھے انکو اپنے حق سے محروم ہونا پڑا وجہ بتائی گئی کہ وہ فائرنگ رینج ہے۔
اب اسی زمیں پر ڈی ایچ ایے بن رہا ہے ، جنرل سلیم باجوہ میرے دوست بھی ہیں میں نے انہیں فون نہیں کبھی کیا،شاید میرے خاندان والوں نے تربیت ایسی کی تھی کہ دوست اگر طاقت میں ہو تو اسے فون نہ کرو،2016 میں جب کینیڈا شفٹ ہوا تو اس سے پہلے میں نے انکو ایک کال کی
کہ میری کوئٹہ والی زمیں کا کیا بنے گا ؟

انہوں نے مجھے جواب دیا ، " کہ گھر بیٹھ کر تو آپکو کوئی پیسے نہیں دے گا ، مجھے اپنے کاغذات بھجوائیں میں ڈی ایچ اے والوں کو فون کروں گا تو وہ آپکو پیسے دے دیں گے"۔۔۔۔۔۔

جنرل صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے تعاون کی یقیں دہانی کروائی
Read 13 tweets
27 Sep
ساٹھ کی دہائی تک پاکستان میں انڈسٹری فروغ پا رہی تھی۔اصفہانی,آدم جی,سہگل,جعفر برادرز,رنگون والا، افریقہ والا برادرز جیسے ناموں نے پاکستان کو انڈسٹریلائزیشن کے راستے پر ڈال دیا تھا۔ پاکستان انڈسٹریل پیراڈائز کہلاتا تھا۔بقول ماہرین یہی رفتار رہی تو پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا۔
ہمارے ہاں سرمایہ دار کو ہمیشہ دشمن سمجھا گیا‘رہی سہی کسر بھٹو کے سوشلزم کے خواب نے پوری کر دی۔’’ چھینو مل لٹیروں سے ‘‘۔چنانچہ ایک دن بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کے ذریعے یہ سب کچھ چھین لیا۔ لوگ رات کو سوئے تو بڑے وسیع کاروبار کے مالک تھے صبح جاگے تو سب کچھ ان سے چھینا جا چکا تھا۔
بھٹو نے 31 صنعتی یونٹ، 13 بنک ،14 انشورنش کمپنیاں ،10 شپنگ کمپنیاں اور 2 پڑٹرولیم کمپنیوں سمیت بہت کچھ نیشنلائز کر لیا۔سٹیل کارپوریشن آف پاکستان ، کراچی الیکٹرک، گندھارا انڈسٹریز ، نیشنل ریفائنریز، پاکستان فرٹیلائزرز، انڈس کیمیکلز اینڈ اندسٹریز، اتفاق فائونڈری، پاکستان سٹیلز،
Read 17 tweets
25 Sep
کیپ ٹاؤن کی مشہور میڈیکل یونیورسٹی میں 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:
"ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،جو ایک غیر معمولی استاد، اور
ایک حیران کن سرجن ہے
جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے " ہیملٹن " کا نام لیا اورپورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔
یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔

ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں " سنیٹانی " میں پیدا ہوا۔
اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا، اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا،
بچپن میں اس کاوالد بیمار ہو گیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر "کیپ ٹاﺅن" آگیا۔ ان دنوں " کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی " میں تعمیرات جاری تھیں۔
وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔
Read 22 tweets
24 Sep
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی،اسلام آباد کے ریکٹر ملک معراج خالد مرحوم تھے۔میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔
میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔یاد نہیں کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔

اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کرکہا
کہ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل میں گو اینڈ فیس دی میوزک۔
خیر میں ریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے،
Read 14 tweets
22 Sep
میرا کسی بات پر اپنے والد سے کچھ ایسا اختلاف ہوا کہ ہماری آوازیں ہی اونچی ہو گئیں۔میرے ہاتھ میں کچھ درسی کاغذات تھے جو میں نے غصے میں ان کے سامنے میز پر پٹخے اور دروازہ دھڑام سے بند کرتے ہوئے اپنے کمرے میں آ گیا۔
بستر پر گر کر،ہونے والی اس بحث پر ایسا دماغ الجھا کہ نیند ہی اڑ گئی Image
صبح یونیورسٹی گیا تو بھی دماغ کل والے واقعے پر اٹکا رہا۔دوپہر تک صبر جواب دے گیا،موبائل نکالا اور اپنے اباجی کو یوں پیغام بھیجا:

"میں نے کہاوت سن رکھی ہے کہ پاؤں کا تلوہ پاؤں کے اوپرکے حصے سے زیادہ نرم ہوتا ہے،گھر آ رہا ہوں،قدم بوسی کرنے دیجیئے گا تاکہ کہاوت کی تصدیق ہو سکے۔"
میں جب گھر پہنچا تو ابا جی صحن میں کھڑے میرا ہی انتظار کر رہے تھے، اپنی نمناک آنکھوں سے مجھے گلے سے لگایا اور کہا: قدم بوسی کی تو میں تمہیں اجازت نہیں دیتا، تاہم کہاوت بالکل سچی ہے کیونکہ جب تم چھوٹے سے تھے تو میں خود جب تیرے پاوں چوما کرتا تھا
Read 4 tweets
21 Sep
میں 1987 ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﮨﺮ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎ میرے دوستوں میں سے تھے.
انہوں ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ کہ
" ﺟﺎﻧﯽ رئیس ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﭘوچھیں, کرنا کسطرح ہے" .
رئیس ﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ ﻓﮑﺮ ﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﻻﻟﻮ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﭙﺮ
ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ "
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺤﺮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﺯﻥ ہوگئے.
کراچی شہر کے مشہور علاقے لیاقت آباد المعروف لالو کھیت کی سوپر مارکیٹ پہنچا تاکہ "ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ" ڈھونڈا جاسکے.
حیرانگی ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺎ
Read 22 tweets
21 Sep
چار چیزیں زندگی میں کبھی نہ چھوڑیں:

1-شکر کرنا نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراہيم :آیت 7)
2-اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رکھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ (تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا)
(سورة البقرة: آیت 152)

3-دعا کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

أَدْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ (تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا)
(سورة غافر:آیت 60)

4-استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے..!!
Read 4 tweets
9 Sep
یا ایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔
امام حرم کعبہ عبدالرحمن السدیس کا خطبہ جمعہ(4،ستمبر 2020) سنا۔اس "لکھے ہوئے" خطبے میں وہ یہودیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق لانے پر زور بیان صرف کر رہے تھے ۔یہ گویا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاریاں ہیں.
صدیوں کے بعد امام کعبہ کو یہ یاد آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ان کی ذرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی( یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ کے یہودیوں کے ساتھ تعلقات بہت اچھے تھے )
زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ اسی مسجد حرام کے منبر سے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا تھا ۔شب قدر میں رو رو کر فلسطین کی آزادی کی دعا اور یہود وہنود کے لئے بد دعا کی جاتی تھی، اس وقت رسول اللہ کی وہ زرہ ان خطبا کو یاد نہ آئ جو بوقت وصال ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی!
Read 11 tweets
8 Sep
سن 2019کا ذکر ہے کہ ہماری زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی۔روزصبح واک کی جاتی پھر یوگا۔ جز وقتی سکول ملازمت بھی جاری تھی کہ اچانک 2020 نے اپنے جلوے دکھانا شروع کیے۔پہلے سکول بند ہوۓ اور پھر پارکس۔
ہمیں چہل قدمی صرف پارک میں پسند تھی،اس لیے گھر میں واک کرنے کا خیال ہمیں کچھ بھایا نہیں۔
روزانہ خبروں میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سنتے تو حیران ہوتے کہ آخر ہر بیماری ہم سے اپنا تعارف کرواۓ بنا نہیں جاتی تو اب بےگانگی کیوں
گھر والے سارا دن چیزوں کو disinfect کرتے اور ہم کھانےکی کوئ نئی ترکیب آزماتے کہ لاک ڈاؤن پہ باہر جانے پہ پابندی ہے،کھانے پہ نہیں۔
انھی دنوں میں ہماری اپنے انکل سے ملاقات ہوئ اور کچھ دن بعد انکشاف ہوا کہ وہ بھی متاثرین میں شامل ہیں۔
گھر والوں کو علامات نظر نہیں آئیں،وہ مطمئن لیکن ہمیں اپنے مدافعتی نظام پہ بھروسہ تھا۔زبردستی ٹسٹ کروانے پہ سارا گھرانہ مثبت ظاہر ہو گیا۔ساتھ ہی حکم ملاکہ دو ہفتے نظر بند رہیں
Read 15 tweets
29 Aug
بہارہ کہو اسلام آباد کے مضافات میں ایک چھوٹی سی بستی میں گیارہ سال کی بچی شہزادی رہتی تھی، یہ غریب ماں باپ کی بیٹی تھی، یہ شام کے وقت زارا مہک کے گھر ٹیوشن پڑھنے جاتی تھی، زارا مہک نے ماس کمیونیکیشن میں بی ایس کر رکھا تھا، اس کے والد او جی ڈی سی میں نائب قاصد تھے،
شہزادی تیرہ فروری کو ٹیوشن پڑھنے گئی اور گھر واپس نہیں آئی،والدین نے تھانے میں رپورٹ کرا دی، بچی کی لاش تین دن بعد آئی نائین انڈسٹریل ایریا کے ایک گٹر سے ملی، بچی کو قتل کر کے اس کی نعش پر پٹرول چھڑک کر اسے جلا دیا گیا تھا۔نعش سوفیصد جل گئی،والدین نے بچی کو اس کے دانتوں سے پہچانا
لواحقین نے 17 فروری کو لاش سڑک پر رکھ کر ٹریفک بلاک کر دی،میڈیا پر خبر آئی، چیف جسٹس نے سوموٹو نوٹس لے لیا،ایس پی کیپٹن الیاس نے تفتیش شروع کر دی، یہ نوجوان ایس پی الجھے ہوئے کیس حل کرنے میں خصوصی مہارت رکھتا ہے،کیپٹن الیاس نے بہارہ کہو اور آئی نائین کے فون ٹاورز کا ڈیٹا نکلوایا،
Read 18 tweets
26 Aug
کل ندیا اطہر @naddiyyaathar نے ایک میٹنگ کی ویڈیو میں شریک افراد کے بارے میں پوچھ لیا کہ سعد رفیق اور احسن اقبال کے درمیان کون بیٹھا ہے۔
تصویر میں سردار ایاز صادق کو دیکھ کر بہت سی پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ہم سب بہن بھائ کٹر لیگی تھے
لیکن الیکشن 2013 سے پہلے جانے کیا ہوا کہ آدھی عوام عمران خان کے گُن گانے لگی۔پہلے تو ان کو ARY محب وطن اور جیو غدار لگا پھر انھیں نون لیگ بھی نااہل لگنے لگی۔ چونکہ بہنوں کے گھر دوسرے شہروں میں ہیں اس لیے براہ راست بحث تو ممکن نہیں ہوتی تھی
لیکن فیملی واٹس ایپ گروپ پہ خوب بھڑاس نکالی جاتی تھی۔ہمیں تب سیاست میں کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی سواۓ اس کے کہ شیر ہی جیتے۔
الیکشن کی رات ہم سب جاگتے رہے اور ٹی وی پہ نتائج دیکھتے رہے۔میاں صاحب کی جیت کا اعلان ہوا تو بقول “دشمنوں” کے آتش بازی ٹی وی سے زیادہ واٹس ایپ گروپ میں ہوئ۔
Read 7 tweets