How to get URL link on X (Twitter) App
اسلامی مبلغ، مذہبی اسکالر، یونیورسٹی کے پروفیسر، اور سعودی مفکر ہیں، جنہوں نے "سنت" میں ماسٹریٹ کیا ہے اور 62 کے قریب گراں قدر کتب تصنیف کی ہیں۔۔۔۔
لیکن اس کی جان جمعے کے خطبے سے نکلتی ہے...!!!

دراڑ بھی اسی طرح اب بھی موجود ہے جو تقریباً دیڑھ فٹ کی ہو گی ۔ ہر دیوار تقریباً 30 فٹ چوڑی ہے , شنید ہے کہ اس پر گھوڑے آسانی کے ساتھ چلتے تھے۔ کم و بیش 130 فٹ کی بلندی پر ڈاٹ ہے اور 100فٹ پر کسریٰ کا تخت تھا جہاں وہ بیٹھتا تھا~

تیار کیا جس سے توپوں میں باآسانی سوراخ کیا جاسکتا تھا۔ دنیا میں میزائل ایجاد کرنے کا سہرا بھی اسی کے سر تھا۔ حتیٰ کے امریکیوں نے بھی اس کو راکٹ کے بانیوں میں شمار کیا ہے۔ وہ جب بھی اپنی سلطنت کے کسی کارخانہ میں جاتا تو نئے طرز یا جدید انداز کی کوئی چیز بنانے کا حکم ضرور دیتا۔
پیچھا کرتا ہوا فرعون پانی میں غرق ہو کر اپنی فوج سمیت مر گیا تھا جبکہ حضرت موسیٰؑ اور ان کی قوم کو پانی نے اللہ کے حکم سے گزرنے کا راستہ دے دیا تھا۔

"مجھے چاہیے لڑکیاں"کہاں ہیں لڑکیاں!😢😢😢😢
مختلف باتوں اور تقریروں سے لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے ہے کہ خود کو مصروف کر لو تاکہ کسی کے عیب دیکھنے کا وقت ہی نہ ہو جبکہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دن میں ایک خاص حصہ اکیلے بیٹھ کر اللہ کی عبادت کیا کرو اور سوچا کرو، غوروفکر کیا کرو کہ تم کتنے پانی میں ہو اور تم اللہ کی نافرمانی
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جدِ امجد قصی ابن کلاب کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے۔ چونکہ قصی ابن کلاب نے اہل عرب کو ایک مرکز پر جمع کیا اس لیے وہ قریش کہلائے کیونکہ تقرش کا مطلب عربی میں جمع کرنے کے اور قصی عرب کو جمع کرنے والے تھے۔

حضور ﷺ کے ادب و احترام کا بہت خیال رکھتے تھے، لیکن ربّ ِ ذوالجلال کو اپنے محبوب رسولؐ کی موجودگی میں آواز کی یہ بے احتیاطی بھی پسند نہ آئی اور جبرئیل امینؑ، اللہ کا حکم لے کر حاضر ہو گئ۔
وَثَانِيَ اثْنَيْنِ فِي الْغَارِ الْمَنِيفِ وَقَدْ
ﮐﻞ ﺭﺍﺕ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﺳﻮﻣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮨﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﯿﺖ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ... "

درکنار اپنا کرتا بھی اتار دیتے تھے۔

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر پارلیمانی ممبر،وزیر اور صدر انتخابات جیتنے میں لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کرتا ہے ،جو لوگ اس قدر خطیر رقم خرچ کر کے ممبر بننا چاہتے ہیں ظاہر ہے ان کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اپنے مال و جاہ میں اضافہ کریں،ان میں ایسے لوگوں کا وجود نایاب ہوتا ہے