How to get URL link on X (Twitter) App
ہیرو لک کے ساتھ رومانوی فلمیں بنانا ممکن نہ رہا۔ موضوعات کے گرد گھیرا تنگ ہوا تو گنڈاسے سے کٹی اڑتی گردنیں اور خون میں لت پت لاشوں کے علاوہ سنسر بورڈ کی قینچی ہر اس چیز پر تیزی سے چلی جس سے شعور پیدا ہونے کا ذرا سا بھی اندیشہ تھا۔ یوں مرد مومن کی نئی وضع کردہ ثقافت میں (2/24)
پیدائش ہوئی۔ والدین نے اس کا نام نانک رکھا اور دنیا آج اسے بابا گرو نانک کے نام سے جانتی ہے۔ نانک ہندو کھتری خاندان کے چشم و چراغ تھے لیکن ان کی زندگی عشق کے ایسے انقلاب کی داستان ہے کہ سولہویں صدی میں رائے بھوئی کے پوتے نے اس بستی کا نام نانک کی نسبت سے ننکانہ رکھ (2/15)
بھی بے رنگ ہو جاتی۔ ساز کے بغیر ٹی وی نشریات بشمول اشتہارات دیکھنا بڑا ہی عجیب تجربہ تھا۔ جس کا احاطہ آج کرنا ناممکن سا ہے۔
لطیف فاطمہ کی کہانی حیدر آباد دکن کے ایک گھرانے سے شروع ہو کر دلی کے ایک قبرستان میں جانے سے پہلے پنڈی کے ایک دیہات مٹور میں بھی رکتی ہے کیونکہ لطیف فاطمہ اور میر تاج کی رخصتی جس گھر سے ہوئی وہ کہنے کو تو دہلی میں تھا مگر اس کے مالک کا دل، مٹور نام کے گاؤں میں دھڑکتا تھا۔ 2/22
ایک روایت کے مطابق جہلم کا نام ’’جل ہم‘‘ تھا۔ جل کا مطلب پانی اور ہم کا مطلب ٹھنڈا اور میٹھا۔ ایک روایت کے مطابق جہلم یونانی زبان میں ایک چھوٹا نیزہ نما ہتھیار کو کہا جاتا ہے۔ چونکہ یونانی فوج نے راجہ پورس کا مقابلہ انھی نیزوں سے کیا اس لیے اس مقام کا نام جہلم پڑ گیا۔ 2/22
اور بار کا یہ حصہ اس کے دادا کے نام سے منسوب تھا۔ یہ سوریا ونشی راجپوت، چاند سے اپنا تعلق جوڑتے اور پنجاب میں کثرت سے ملتے تھے۔ ہمایوں کے بعد اکبر نے تخت سنبھالا تو باغیوں کا قلع قمع کرنے کی ٹھانی۔ ساندل کے علاقے میں مغلوں کے سب سے بڑے دشمن فرید اور ساندل بھٹی تھے سو (2/11)
پانی سے زندگی جوڑنے والے یہ لوگ اول اول تو لڑتے نہ تھے اور جو بھڑ جاتے تو چھوڑتے نہ تھے۔ جہلم میں پورس کو شکست دینے کے بعد جب سکندر یہاں آیا تو ان کھوکھروں سے بھی لڑا۔ جنگ کا نتیجہ تو معلوم نہیں کیونکہ تاریخ لکھنے والے ہمیشہ ایسے موقع پہ چوک جایا کرتے ہیں (2/12)
Osman felt "sympathy" for the remorseful sixty-five-year-old ex-viceroy and tried to cheer him, but to no avail. Thirty-nine years after that meeting he recalled: “Mountbatten was not to be con-soled. To this day his own judgment on how he had performed in India rings (2/4)
جب دونوں وقت مل رہے تھے اور دادی جے کور بی بی گھڑے ڈھانپ کر اندرجارہی تھی تو اچانک اس کے اپنے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ یہ سات تیس کاوقت تھا۔
آنا چاہیے، مگر نہیں آئیں گے۔ آئیں گے بھی تو سرحد کے پار آئیں گے۔ ہمارے نصیب سے سب اچھے رنگ مٹا دیے گئے ہیں۔ قدیم ایرانی شمسی کیلینڈر کا آغاز یکم فروردین یعنی اکیس مارچ سے ہوتا ہے۔ سو ایرانی تہذیب میں نوروز کا جشن مناکر محض بہار کو خوش آمدید نہیں کہا جاتا، (2/18)
the ruler of Jaisalmer (r. 1530 - 1551).
High Court against the death sentence. Following is complete judgement of the case.
تھی۔ محبت کی اس داستان میں ایک اور درباری زین الخان ولن تھا۔
داستانیں موجود ہیں مگر قدیم ہجروں کے نقوش زمانے کی ہوائیں چاٹ گئی۔
چند لمحوں کو ٹوٹتا ہے جو راولپنڈی سے کسی اژدھے کی مانند آتی ہے اور اِکا دُکا مسافروں کو نگل کر اسی راستے سے واپس چلی جاتی ہے۔
مشروط کی ہوئی تھی کہ سابق صدر و آرمی چیف پہلے خود کو حوالہ قانون کریں۔ اب جب پرویز مشرف کی موت ہو گئی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس اپیل کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا یہ اپیل سنی جائے گی؟ کیا اس پر کوئی سزا جزا کا فیصلہ ہو سکتا ہے یا وہ غیر موثر ہوگئی؟
خصوصی عدالت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ ،نذر اکبر سندھ ہائی کورٹ اور شاہد کریم لاہور ہائی کورٹ پر مشتمل تھی۔ ان تین ججز میں سے جسٹس وقار سیٹھ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا تھا کہ اگر پرویز مشرف سزا پر عملدرآمد ہونے سے پہلے فوت ہو (2/12)
جی سکس آباد ہوا ۔