ندیّا اطہر Profile picture
‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏🐅🐅🐅جو ‎‎‎‎‎‎#ووٹ کی ‎‎‎‎‎‎#عزت نہیں کرے گا ہم اس کی عزت نہیں کریں گے، ‎‎‎‎‎‎#نوازشریف 🐅🐅🐅 https://t.co/MEQMiqfRk5
#ووٹ۔کو۔عزت۔دو.  VoteKoIzzatDo# Profile picture 1 added to My Authors
10 Jun
مسلم لیگ ن کے دور میں تقریباً تمام بنیادی مسائل حل ہو چکے تھے. دہشت گردی ختم ہو چکی تھی اور کاروباری زندگی تقریباً معمول پر آ چکی تھی اور بیرونی انویسمنٹ بھی پاکستان آنے لگی تھی، لوڈشیڈنگ کے انتہائی مسئلے پر پاور پلانٹس لگا کر قابو پایا جا چکا تھا اور اب صرف پراپر ترسیل کے
نظام پر کام ہونا تھا، سی پیک کے ذریعے ایک بڑا اقتصادی پیکج پاکستان میں اپنا کام شروع کر چکا تھا.
انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا جا رہا تھا. ان تمام ترقیاتی اور عوامی مفاد کے منصوبوں کو دیکھ کر سلیکٹرز کی رال ٹپک ٹپک کر ان کے کپڑے گندے کرنےلگی اور انہوں نے وہی گند
ملکی سیاست میں ڈال دیا. عمران خان، ثاقب نثار اور کھوسہ جیسے جج، جے آئی ٹی کے ہیرے اور مختلف آئینی اداروں نے سہولت کاری کے فرائض سرانجام دئیے؛ جس کی وجہ سے ایک منتخب وزیراعظم (جو ملک کی ترقی کا ویژن رکھتا تھا) کو گھر جانا پڑا. پھر بھرپور دھاندلی سے 2018 کا الیکشن چرایا گیا اور
Read 6 tweets
29 May
پپل پارٹی سے مایوس ہو کر پی ٹی آئی میں جانے والے اور عمران خان کی میں میں میں میں میں میں والی لایعنی تقریریں سن کر بڑے ہونے والے کیا جانیں کہ ویژنری لیڈر، عوام کے لیے کچھ کرنا اور ملک کو مشکلات سے نکالنا کیا ہوتا ہے؟
اس لیے وہ اپنے بند دماغ عمران خان کی طرح ہاتھ نچا نچا کر
++
الزام لگاتے ہیں کہ بھارتی دھماکوں کے بعد فوری دھماکے اس لیے نہیں کیے کیونکہ نوازشریف کو منایا جا رہا تھا اور نوازشریف پر پریشر ڈالا جا رہا تھا.
جاہلو! پریشر ڈالنے کے لیے 17دن کی ضرورت نہیں ہوتی. ادھر مشرف کو فائیر کیاجاتاہے اور دو گھنٹوں میں وہ وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگ
++
کر وزیراعظم کو گن پوائنٹ پر استعفیٰ دینے پر مجبور کرتے ہیں اور نہ ماننےپر اٹک قلعے میں محصور کردیتے ہیں.
جووقت لگا وہ نوازشریف کی ٹیم کویہ پلاننگ کرنےمیں لگا کہ عالمی پابندیوں کے نتیجے میں پھر ملک کے معاشی معاملات کو کس طرح مینج کیاجائےگا اور ایسےکونسے اقدامات کرنا ہوں گے؟
++
Read 5 tweets
28 May
میں 2دن سے لکھناچاہ رہی تھی لیکن جب آن لائن ہوتی تو ذہن سے نکل جاتا تھا. دو تین دن پہلے محمدمالک کے پروگرام میں سنا؛ وہ بتا رہےتھے کہ ایک ہائی آفیشلز میٹنگ میں بتایا گیا کہ نوازشریف کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں اور وہ محبِ وطن ہیں.
مجھے ان ہائی آفیشلز کی منافقت پر افسوس ہوتا ہے++
جو بند کمروں میں نوازشریف کی حب الوطنی کی گواہی دیتے ہیں اور پبلک سپاٹس پر اپنے بھرتی شدہ ففتھیوں سے نوازشریف کی حب الوطنی کے خلاف ٹرینڈ چلواتے ہیں، مودی کا یار کہلواتے ہیں، نیشنل سیکورٹی رسک قرار دلواتے ہیں اور والیم 10 کو نوازشریف کی غداری کے ثبوت کا مجموعہ کہلواتے ہیں.++
آپ ملک کے کیسے ہائی فائی آفیشلز ہیں؟ جن میں اتنی جرات بھی نہیں کہ پبلک کےسامنے اپنی غلطی مان کرقبول کرلیں کہ جو سازشی کھیل آپ نے کھیلا اس کھیل میں کامیاب ہونےکے باوجود آپ ملک کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاسکے.
آپ کو ملک کا مفادعزیز ہوتاتو پبلک میں معافی مانگتے اور اعترافِ جرم کرتے...!!!
Read 4 tweets
10 May
جاوید چوہدری صاحب! آپ نے صحیح کہا کہ یہ ملک ہے ٹشو پیپر نہیں ہے کہ اسے کبھی ایوب ڈاکٹرائن کے حوالے کر کے احساسِ کمتری کا شکار بنا دیا جائے؛
کبھی یحییٰ ڈاکٹرائن کے حوالے کر کے دولخت کروا دیا جائے؛
کبھی ضیاء ڈاکٹرائن کے حوالے کر کے انتہا پسندی کی آگ میں جھونک دیا جائے؛
کبھی مشرف ڈاکٹرائن کے حوالے کر کے دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، ٹارگٹ کلنگ، علیحدگی پسندی، معاشی بدحالی کا شکار کرنے کے بعد فاٹف بلیک لسٹ کروا کر تجارتی و کاروباری پابندیاں لگوا لی جائیں؛
جی ہاں! یہ ملک ٹشو پیپر نہیں ہے کہ اسے باجوہ ڈاکٹرائن کے ہاتھوں دنیا بھر میں بھکاری بنا دیا جائے.
تین سال کی معاشی بدحالی، قرضوں کا بوجھ اور عوام کی شکستہ حالی آپ کو نظر نہیں آئی لیکن آپ کو نوازشریف اور اسحاق ڈار کا باہر بیٹھ کر ایشوز پر بولنا تکلیف دے رہا ہے.
آپ صحافی ہوتے تو باجوہ سے پوچھتے کہ باجوہ صاحب! آپ کی ڈاکٹرائن نے معاشی تباہی اور قرضوں کے سوا دیا کیا ہے؟
Read 4 tweets
7 May
اس کی نئی نئی شادی ہوئی اور شادی بھی محبت کی، بہت سے اختلافات اور جھگڑوں کے بعد دونوں ایک ہوئے تھے. دونوں نے مل کر الگ اپنا گھر آباد کیا، بہت سے وعدے وعید ہوئے، بہت سی قسمیں کھائی گئیں اور یقین دہانیاں کروائی گئیں. ایک یقین دہانی یہ بھی تھی کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر کھانا نہیں
کھائیں گے اور پہلا نوالا ہمیشہ ایک دوسرے کے ہاتھ سے کھائیں گے. ایسے ہی محبت کے جھولوں میں جھولتے شادی کو تین ماہ گزر گئے. یونہی ایک دن بڑی آپا کو خیال آیا کہ کچھ دن بھائی کے گھر رہ کر آنا چاہیے؛ دیکھوں تو سہی گھر گرہستی کیسی ہے؟
بوریا بستر سمیٹا اور کچھ دن بھائی کے گھر رہنے کے
لیے چل پڑیں. شام میں جب بڑی آپا آئیں تو وہ گھر میں اکیلی تھی، شوہر ابھی آفس سے نہیں آیا تھا. اس نے دیکھا کہ نند پہلی دفعہ آئی ہیں تو ان کے سرد مہر رویے کے باوجود ان کی آؤ بھگت کے لیے کچن میں گھس گئی. شوہر کو فون کر کے آپا کی آمد کا بتایا اور شوہر سے ہی پوچھ کر آپا کے پسندیدہ
Read 8 tweets
18 Apr
ایک وقت تھا جب کشمیر اور افغانستان جہاد کے نام پر کمپین چلائی جاتی تھی اور غریب کے بال جذبہ جہاد اور شہادت سے سرشار ہو کر اپنی ماؤں کو روتا چھوڑ کر نکل جاتے تھے؛ انہیں ذیلی کیمپوں میں جہاد کی ٹریننگ دی جاتی تھی اور پھر خفیہ راستوں سے سرحد پار کروائی جاتی تھی.
ان میں سے کتنے واپس آئے کتنے نہیں کوئی نہیں جانتا. پھر ہمیں بتایا گیا کہ وہ تو جہادی نہیں دہشت گرد ہیں اور وار آن ٹیرر کے نام پر اپنے ہاتھوں بنائے جہادیوں کو دہشت گرد بنا کر پکڑنا اور مارنا شروع کیا اور یہ سلسلہ کم و بیش آج تک جاری ہے.
اب ٹی ایل پی کو دیکھیں!
یہ بھی اپنے ہی بچے تھے، انہیں اپنے لوگ کہا گیا؛ فیض آباد میں مکمل سہولتوں کے ساتھ بٹھائی رکھا اور منتخب حکومت پر پریشر ڈالا گیا؛ پھر ہزار ہزار کے نوٹ بانٹ کر واپس بھیجا گیا اور کفر کے فتوے دلوائے گئے. ہم نے دیکھا بھی کہ ن لیگ کے بہت سے ووٹر شیر کو چھوڑ کر کرین میں سوار ہو گئے.
Read 5 tweets
16 Apr
کل رات ایک یوتھنی ٹکر گئی؛ کہنے لگی دیکھا ہے نوازشریف کا گھر بھی غیر قانونی ہے، اب یہ بھی گرے گا. میں نے کہا اسی طرح آپ نے کھوکھر پیلس کی دیواریں گرنے پر بھی کہا تھا کہ حرام کی کمائی سے غیر قانونی گھر کھڑے کیے ہوئے ہیں. پھر عدالت نے آپ کی سلیکٹڈحکومت کے اقدام کو غلط قرار دے دیا.
اب آپ کو نوازشریف کا گھر غیر قانونی نظر آ رہا؛
کچھ کہنے لگیں تو میں نے ٹوکتے ہوئے کہا.
دراصل آپ کا قصور نہیں ہے م؛ آپ جسے فالو کر رہی ہیں اس کی گندی نظریں ہمیشہ دوسرے کی جیب، دوسرے کی کمائی اور دوسروں کے گھروں پر رہتی ہے اور جس نے اسے مسلط کیا ہے اور جس نے اسے مسلط کیا ہے
اس کی نظریں بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں پر نہیں بلکہ اقتدار کی کرسی پر مرکوز رہتی ہیں. چھینا جھپٹی اور دوسرے کی حق پر قبضہ کرنا ہی اس کا وطیرہ ہے تو آپ کو بھی یہی کام اچھے لگیں گے.
کہنے لگیں؛ نوازشریف ہے ہی کرپٹ...... میں نے کہا وہ جو بھی ہے دوسرے کے گھر اور مال پر نظر نہیں رکھتا.
Read 5 tweets
10 Apr
اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت صوبوں کا معاملہ ہے اور ہر صوبہ اپنے وسائل یا بیرونی امداد اور انویسٹمنٹ سے اپنے صوبے کے ہسپتالوں کے حالات بہتر کر سکتا ہے.
شہبازشریف نے اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے بعد پنجاب کے ہسپتالوں میں جتنا کام کیا اس کی تفصیلات تو @MansurQr یا @HummaSaif
ہی آپ کو بتا سکتے ہیں لیکن اتنا ضرور کہوں گی ن لیگ کے دور میں جتنے بھی سرکاری ہسپتالوں میں جانا ہوا وہاں جدید انفراسٹرکچر، صاف ستھرا ماحول، ایکٹیو عملہ اور سٹاف، ہر واڈ میں حاضر ڈیوٹی ڈاکٹر، مفت ادویات، سستے ترین ٹیسٹوں کی سہولت اور ہمیشہ تقریباً ہر ہسپتال میں توسیعی کام ہوتا
نظر آتا تھا.
اور آج یہ فارغ العقل آدمی کہتا ہے کہ وہ ہسپتالوں کی حالت نہیں سدھار سکتا.
اول تو یہ اس کا کام ہی نہیں ہے صوبوں کا ہے، دوئم یہ کہ پونے تین سالوں میں تمام ہسپتالوں کا بیڑا غرق کر کے اور ہر سہولت کا خاتمہ کر کے آج یہ ہاتھ کھڑے کر رہا ہے کہ مجھ سے نہیں ہوتا. یاد رہے کہ
Read 4 tweets
9 Apr
کیا جرم ہے اس کا؟
جنابِ عالی! اس نے فوج کی شان میں گستاخی کی ہے.
کیا گستاخی کی ہے؟
جنابِ عالی! اس نے تمسخر اڑاتی ٹوئیٹ لکھی ہے.
کیا ٹوئیٹ لکھی ہے اس نے؟
جنابِ عالی! یہ کہتا ہے کہ "جب 74 سال میں کشمیر آزاد نہیں کروا سکتے تو اتنا بجٹ کیا گانے ریلیز کرنے کے لیے لیتے ہو؟"
ہاں بھئی! کیا یہ تمہاری ٹوئیٹ ہے؟
جی جناب!
کیا تم جانتے ہو کہ تنقید کرنے اور تمسخر اڑانے کی سزا کیا ہے؟
جی جناب! لیکن میں نے تو بس سوال پوچھا ہے.
جنابِ عالی! اس نے سوال کے پردے میں تمسخر اڑانے کی کوشش کی ہے؟
وہ کیسے؟
جنابِ عالی! یہ فوج پر تنقید کر رہا ہے.
یہی تو پوچھا کہ وہ کیسے؟
جنابِ عالی! یہ کہہ رہا ہے کہ فوج بجٹ لے کر صرف گانے ریلیز کرتی ہے لیکن کشمیر آزاد نہیں کرواتی.
کیا کشمیر آزاد ہو گیا ہے؟
نہیں جناب!
کیا فوج بجٹ نہیں لیتی؟
لیتی ہے جناب!
تو پھر غلط کیا ہے؟
جنابِ عالی! فوج ایک محبِ وطن ادارہ ہے اس سے ایسے سوال پوچھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی.
Read 7 tweets
8 Apr
آئیں دیکھتے ہیں کہ پاکستان پینل کوڈ کے جس سیکشن میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا ہے وہ سیکشن ہے کیا؟

اس وقت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شق میں ملک کی مسلح افواج کا نام نہیں لکھا ہوا.
سیکشن 500 کے متن کے مطابق
"جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں."

اب ترمیمی بل میں اضافہ کی جانے والی شق 500۔الف یعنی (500-A) ہے اور اس میں مسلح افواج کا اضافہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ
"مسلح افواج وغیرہ کے ارادتاً تمسخر اڑانے کی بابت سزا"

بل پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے پیش کیا اور اس کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ
"بل ہذا کے ذریعے مجموعہ تعزیرات پاکستان اور مجموعہ فوجداری میں ترامیم تجویز کی جا رہی ہیں.
Read 10 tweets
21 Mar
ایوب خان کا دور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا دور تھا یہ ایک ایسا لطیفہ ہے جس کے غبارے سے ہوا ایوب خان کی رخصت سے پہلے ہی نکل چکی تھی.
کہتے ہیں کہ ایوب خان نے اپنے دس سالہ دور کا جشن منانے کے لیے The Great Decade of Development and Reform کا نعرہ تخلیق کیا
اوریہ نعرہ ہی اس کےزوال کا نکتہ آغازثابت ہوا.
ایوب کےدور کی ترقی کی بات تو میں بعد میں کروں گی پہلے آپ کو بتادوں کہ ایوب کے وزیر قانون ایس ایم ظفر نے کہا تھاکہ "ایوب خان کا عشرہ ترقی اور چینی، دونوں ایک ساتھ ختم ہوئےتھے."
(چینی کا بحران بھی ایوب کے زوال کی وجوہات میں سے ایک تھی)
یہ خوشحالی و ترقی کا کیسا سفر تھا جو صرف دس سال میں ہی زمین بوس ہو گیا؟
ایوب خان 1956 کے آئین کو معطل کر کے اقتدار پر قابض ہوئے. انہیں یقین تھا کہ ان سے زیادہ قابل، معاملہ فہم، ملکی معاملات کی سوجھ بوجھ رکھنے والا اور کرسیءاقتدار کا اصل حقدار کوئی نہیں.
Read 16 tweets
18 Mar
22فروری سے 25 فروری کے دوران ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے مزید تین اہداف پورے کرنے کی ذمہ داری دی گئی. یہ اہداف جون میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے پہلے پورے کرنے ضروری ہیں. مزید بات کرنے سے پہلے ان اہداف پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں.+
ان اہداف کو پڑھ کر ہی آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ آج اپنا گھر صاف کرنے کا بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یاد رہے اس سے پہلے احسان اللہ احسان کے فرار میں چند فوجیوں کی معاونت کا اعتراف بھی کیا جا چکا ہے.
ایف اے ٹی ایف نے جن اہداف پر مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے وہ یہ ہیں+
♦نامزد شدت پسندوں یا جو ان کے لیے یا ان کی جگہ کام کر رہے ہیں، ان پر مالی پابندیاں لاگو کرنا.
♦دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات اور مقدمات اور ان افراد یا اداروں کو ٹارگٹ کرنا، جو ان کی جگہ کام کر رہے ہیں. +
Read 5 tweets
12 Aug 20
ابوالتاریخ ہیروڈوٹس ایک قدیم یونانی مؤرخ تھا، تاریخ ہیروڈوٹس مغرب کی تاریخی کتب میں قدیم ترین تاریخی کتب سمجھی جاتی ہے. اس کتاب کو ہیروڈوٹس نے 450 ق م اور 420 ق م کے درمیانی عرصے میں یونانی زبان کے آیونی لہجے میں لکھا.
اس کتاب میں بحیرہ روم اور مغربی ایشیا کی اس وقت کی تہذیب و ثقافت اور روایات کے علاوہ خصوصی طور پر بخامنشی سلطنت کے قیام و عروج کے مستند حالات و واقعات کے علاوہ پانچویں صدی ق م میں بخامنشیوں اور یونانیوں کے مابین ہونے والی جنگوں کے مستند واقعات بھی ملتے ہیں.
اس کتاب میں سندھ اور پنجاب سے لے کر یونان تک پھیلے ہوئے ممالک، فارس اور یونان کی تہذیبی اور سیاسی روایتوں، قدیم یورپ اور ایشیا کے ثقافتی اور مذہبی رسم و رواج، مُردوں کو حنوط کرنے کے مصری طریقوں، ان کے بادشاہوں، جنگوں اور حکومتوں کے متعلق معلومات کا بیش بہا ذخیرہ بھی ملتا ہے.
Read 8 tweets
18 Jul 20
مجھے کوئی اعتراض نہیں کہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دی جاتی ہے یا نہیں. کن شرائط پر دی جاتی ہے اور اسے کیا کیا سہولیات دی جاتی ہیں؟ وہ عدالت میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق رکھتا ہے یا نہیں رکھتا.
ہو سکتا ہے کوئی عالمی قوانین ہوں، ممالک کے آپس میں معاہدے ہوں یا دو-طرفہ امن کی کوششوں کو تقویت پہنچانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہو.
مجھے اعتراض صرف یہ ہے کہ جب ایک منتخب وزیراعظم ہمسائیوں کے ساتھ برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات قائم رکھناچاہتا ہے تو اسےیہ سہولت کیوں نہیں دی جاتی؟
اسے کیوں مودی کا یار اور غدار کہا جاتا ہے؟
آج علی محمد خان کو خیال آ رہا ہے کہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا کوئی شخص ملک کا دشمن نہیں ہو سکتا؛ یہ حُسنِ ظن نوازشریف کی دفعہ کہاں تھا؟
Read 5 tweets
8 Jul 20
این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟

پاکستانی حکومت مختلف ٹیکسز اور محصولات کی مد میں جو آمدنی اکٹھی کرتی ہے اس کی مرکز اور صوبوں میں تقسیم کے لیے جو کمیشن بنایا جاتا ہے اسے قومی مالیاتی کمیشن یا نیشنل فنانس کمیشن کہتے ہیں جو حرفِ عام میں این ایف سی ایوارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے.
1973کے آئین کی شق 160کے تحت صدرپاکستان کو ہر 5سال بعدیہ کمیشن بناناہوتاہے.
کمیشن میں وفاق اور چاروں صوبوں کے دو دو ارکان نمائندگی کرتےہیں اورہر صوبائی وزیر خزانہ اس کاسرکاری رکن ہوتاہے جبکہ اس کےعلاوہ ہرصوبےسےایک غیرسرکاری رکن کی تقرری صدرمملکت صوبائی حکومتوں کی سفارش پرکرتےہیں۔
کمیشن یہ طے کرتا ہے کہ جو قابل تقسیم وسائل ہیں ان میں سے وفاق کا حصہ کتنا اور صوبوں کا کتنا ہوگا۔ اس کے بعد یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ صوبوں کا جو مجموعی حصہ ہے اسے چاروں کے مابین کس فارمولے کے تحت بانٹا جائے گا؟کمیشن کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں۔
Read 14 tweets
7 Jul 20
#اٹھارویں_ترمیم 8اپریل 2010 کو پاس ہوئی. اس ترمیم کی رو سے آئین میں سو کے قریب تبدیلیاں کی گئیں جنہوں نے آئین کے 83 آرٹیکلز کو متاثر کیا. اس ترمیم کی رو سے ضیاء دور میں کی گئی تقریباً تمام آئینی ترامیم کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ مشرف دور کی 17ویں ترمیم کو بھی رول بیک کیا گیا.
#اٹھارویں_ترمیم کے تحت
⬅ شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔
⬅ دو صوبوں کے انگریزی ناموں کے سپیلنگز میں تبدیلی کے تحت Baluchistan کو Balochestan اور Sind کو Sindh کیا گیا ہے۔
⬅ 1973کےآئین میں شامل آرٹیکل6ریاست اور آئین سےغداری میں ملوث افراد کےلیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھی، #اٹھارویں_ترمیم کےتحت اس میں مزید تبدیلی کرکے آرٹیکل 2۔6 الف کا اضافہ کیاگیا ہے۔ جس کےتحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں ملوث افرادکو سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت معاف نہیں کرسکتی.
Read 14 tweets
6 Jul 20
"پاکستان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ترکی کی فوج کی مثال دیتے ہیں کہ اس کی طرح یہاں بھی سیاسی دھارے کا رُخ بدلا جا سکتا ہے۔ یہ مثال اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھے بغیر دی جاتی ہے کہ ترکی میں فوج اور سول تعلقات پر یورپی سیاست کس قدر اثر انداز ہوئی ہے۔
ترکی میں فوج کو سیاسی قوتوں کو تسلیم کرنا پڑا، اس لیے کہ وہ یورپی یونین کا حصہ بننے کی خواہاں تھی۔ ہمارے ہاں مستقبل کا کوئی بحران یا حالات کی ٹھوس تبدیلی کا کوئی امکان ایسا نظر نہیں آتا جس کے تحت فوج اقتدار میں کسی قدر دست برداری پر آمادہ ہو سکے۔
دوسری طرف سیاسی طاقتیں کوئی تبدیلی لانے کے لیے قطعاً نااہل ہیں۔ تاہم، یہ محض سیاست دانوں کی فطری بددیانتی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ سیاستدانوں کے ممتاز طبقے اور فوج کے مفادات یکساں ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک بےاختیار معاشرے میں،
Read 5 tweets
14 Jun 20
میں آج جو لکھنے لگی ہوں وہ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی اتنا پرانا کہ اہلیانِ پاکستان کی یادداشت سے محو ہو گیا ہو:
ہم بات کریں گے 2013 کے پاکستان کی:
میرا خیال ہے کہ 2013 اور اس سے پہلے تقریباً 10سال پاکستانی تاریخ کے تاریک ترین دس سال تھے.
جب پاکستان ایک طرف تو دہشتگردی کا شکار تھا
اور دوسری طرف پاور پراجیکٹس نہ لگانے کی وجہ سے بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا، دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ نے معاشی مسائل کا انبار کھڑا کر دیا تھا اور پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کی خبریں ہر روز ملکی و غیر ملکی میڈیا کا حصہ بنتی تھیں.
وار آن ٹیرر نے پاکستان کو ڈالر تو بےتحاشا دئیے مگر
اس وقت کے حکمران(بھگوڑے جرنیل) کو یہ عقل نہیں دی کہ ان ڈالرز کو ڈویلپمنٹ پروگرامز میں انویسٹ کرے تاکہ پاکستان معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن ہو جائے. بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے اصل بات یہ ہے کہ 2013 میں جب نوازشریف نے عنانِ اقتدار سنبھالا تو
Read 15 tweets
11 Jun 20
ستمبر 2019 میں جاتی امراء میں ایک ڈیسک بنایا گیا اور دنیا بھر کے ماہر سائنسدانوں کو ہائیر کیا گیا. ان سائنسدانوں کا کام ایک ایسا وائرس تیار کرنا تھا جو موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو ایسی مشکل میں ڈال دے جس سے وہ بآسانی نہ نکل سکے. پھر سائنسدانوں کی دن رات کی محنت سے کووڈ 19 تخلیق ہوا.
اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر اسے براہ راست پاکستان میں چھوڑ دیاجاتا تو تھوڑی تحقیق کےبعد اس کی جائےپیدائش کا پتہ چل جاتا. بالآخربہت سوچ بچار کےبعد چین کےشہر ووہان کا انتخاب ہوا اور وہاں وائرس کو پھیلنے کےلیے چھوڑ دیا گیا.
دوسرے مرحلے میں پہلے سے تیار طلباء کی ٹیم نے احتجاج شروع کر دیا.
طلباء وباء زدہ علاقے سے واپس پاکستان آنا چاہتے تھے. خیر! یہ ترکیب ناکام ہوئی کیونکہ حکومت نے وبائی علاقے سے طلباء کو لانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی. اس دوران کورونا وائرس چین سے نکل کر ایران اور دنیا کے دیگر ممالک میں پھیل چکا تھا.
وائرس کو پاکستان کیسے لائیں؟
Read 9 tweets
17 May 20
ن لیگ کے کھٹولے میں جتنے بھی ٹولے ہیں ایک بات طے ہے کہ 2014 سے آج 2020 تک چھ سال ہو گئے لیکن اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کے کھٹولے میں سوراخ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی.
اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ ن لیگ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اپنے خلاف ہونے والی کسی سازش کی بیخ کنی نہیں کر سکی لیکن
یہ خواہش کہ ن لیگ میں دراڑ پڑ جائے پوری نہ ہو سکی. 2018 الیکشن سے پہلے اور بعد میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے بہت سے ہرکارے یہ دعوے کرتے رہے کہ ن لیگ کے اتنے جانے کو تیار ہیں اور اتنے ہماری مٹھی میں ہیں لیکن کوئی ایک بھی نمایاں لیڈر پارٹی چھوڑ کر نہیں گیا.
99 کُو کے بعد قیادت شمار ہوتے چوہدری برادران، میاں اظہر، شیخ رشید اور کئی نمایاں نام مارشل لاء کا پریشر برداشت نہیں کر سکے اور نہ صرف مشرف کی آمریت کو قبول کر لیا بلکہ میاں صاحب اور فیملی پر دشنام طرازی کا حصہ بھی بنے رہے بلکہ ابھی تک ہیں لیکن اس دفعہ صورتحال مختلف رہی.
Read 7 tweets
6 Mar 20
لاہور ہائی کورٹ عورت مارچ کی مشروط اجازت دے چکی ہے اور اسے قانونی پروٹیکشن مل چکی ہے. مشروط اجازت کچھ متنازعہ سلوگنز اور پلے کارڈز کو استعمال کرنے کے حوالے سے ہے.
ہم دیکھتے ہیں کہ عورت مارچ کا مرکزی سلوگن #میرا_جسم_میری_مرضی ہے اور اس سلوگن کا اوریجن #MyBodyMyChoice ہے.
اور سارا اعتراض بھی اسی سلوگن کا پیدا کیا ہوا ہے.
لیٹ 60 اور ارلی 70، 80 میں ساؤتھ افریقہ اور یورپ میں #MyBodyMyChoice کی تحریک نے سر اٹھایا. اس کا مقصد عورتوں کو سیکس ریلیشن کے بعد ان وانٹڈ پریگنینسی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے قانونی تحفظ دینا تھا.
ساؤتھ افریقہ، یورپ یا مغربی ممالک میں بغیر شادی ریلیشن کو اتنا ناپسندیدہ نہیں سمجھا جاتا تھا جتنا ابارشن کو. لیکن ایسے ہر جوڑے کو اولاد کی خواہش نہیں ہوتی تھی اور اس صورت میں خاتون خفیہ طریقے سے یا کہہ لیں غیرقانونی طریقوں سے ابارشن کی کوشش کرتی جو کہ جان لیوا بھی ہو سکتا تھا.
Read 11 tweets