#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
عشقِ رسول ﷺ کا اظہار کلام اقبال کا مرکزی موضوع ہے۔ آپ ﷺ خاتم النّبیین ہیں اور دینِ حق کی تکمیل آپﷺ کی نبوت پر ہوئی۔
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اقبال اپنی شاعری میں نبیِ آخرالزمان ﷺ کو متعدد اسما سے پکارتے ہیں اور اُن سے اپنی قلبی محبت و موانست کا اظہار کرتے ہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
ان اسمائے مبارک میں دانائے سبل، ختم الرسل ، مولائے کل، یٰس، طہٰ، رسالت مآبؐ، رسالتؐ پناہ، رسولِ مختارؐ، رسولِؐ پاک، رسولِؐ عربی، رسولؐ ہاشمی، سرورِؐ عالم، شہنشاہِؐ معظم، میرؐ عرب اور کملیؐ والے جیسے تعظیمی القابات شامل ہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
جن کی وساطت اقبال بارگاہ رسول ﷺ میں اُس اُمت کے مسائل پیش کرتے ہیں جسے ’’اُمتِ احمد مرسل‘‘ اور ’’ملتِ ختمِ رُسل‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ اقبال اپنے ملی تصور کو بھی جذبۂ عشقِ رسول ﷺ سے تقویت دیتے ہیں۔
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
وہ اس امرکی وضاحت کرتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ایک ایسے نبیؐ اور رسولؐ کی اُمت ہے جو اپنی ترکیب میں خاص ہے، جس کی بنیاد جغرافیائی حدود و ثغور پر نہیں بل کہ کلمۂ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پر رکھی گئی ہے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
۔ یہ ایسی اُمت ہے جس میں برتری کا حق رنگ، نسل، خون یا خطہ کو نہیں بل کہ صرف اور صرف تقویٰ کو حاصل ہے اور اس ملت کے لیے تاقیامت کامل ترین ہستی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اقبال اپنے اردو اور فارسی کلام میں اس حقیقت کا شدت سے اظہار کرتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ کے افراد کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ عشقِ محمدؐ کا جذبہ ہی ہے جو دلِ مسلم کو قوی تر کر تا ہے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اور اسے حرارت اور سوز سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ چناں چہ ملّت کی حالتِ زار دیکھ کر اُن کی نظر بارگاہِ رسالت کی طرف اُٹھ جاتی ہے، فرماتے ہیں:
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
شیرازہ ہُوا ملّتِ مرحوم کا ابتر
اب تُو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر جائے!
وہ لذّتِ آشوب نہیں بحرِ عرب میں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں، وہ طوفان کدھر جائے
ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اس کوہ و بیاباں سے حُدی خوان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے رُوحِ محمدؐ
آیاتِ الٰہی کا نگہبان کدھر جائے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اقبال اپنے کلام میں جا بجا دردمندی کے ساتھ ملتِ اسلامیہ کو اس نقطۂ ارجمند کی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ عالم اسلام کی بقا اتباعِ رسولؐ ہی میں مضمر ہے:
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
نہیں وجود حدود و ثغور سے اس کا
محمدؐ عربی سے ہے عالمِ عربی
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اُن کے نزدیک افرادِ ملت کا اپنی ملت کو اقوامِ مغرب پر قیاس کرنا کارِ عبث ہے۔ جب تک روحِ محمدؐ مسلمان کے بدن میں ہے، وہ خدائے مطلق کے سوا کسی کا خوف دل میں محسوس نہیں کرتا،
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
کسی تہذیب سے اثرات قبول نہیں کرتا اور ایسی ہی ملت کے افراد سے باطل کو ہر آن خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اقبال نے اپنی ایک ڈرامائی رنگ میں مرقوم نظم: ’’ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام‘‘ میں لکھا ہے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
کہ یورپ کے ابلیسی نظام کو نڈر اور متوکل مسلمانوں ہی سے ڈر رہتا ہے لہٰذا طاغوتی طاقتیں ہر آن اس کوشش میں منہمک رہتی ہیں کہ فکرِ عرب فرنگی خیالات کی اسیر ہو جائے۔
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اقبال اس نظم میں عالمِ تخیّل میں دکھاتے ہیں کہ ابلیس اپنے سیاسی فرزندوں کو ایسے غیور مسلمانوں کو راہِ حق سے ہٹانے کی ترغیب دلاتے ہوئے کہتا ہے:
احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
اہلِ حرم سے اُن کی روایات چھین لو
آہُو کو مرغزارِ خُتن سے نکال دو
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اقبال اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ جب بھی مسلمانوں نے پیغامِ محمدؐ سے دُوری اختیار کی، زوال ہی اُن کا مقدر ٹھہرا۔ ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں استفساریہ رنگ میں زوال زدہ مسلمانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرماتے ہیں:
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
کون ہے تارکِ آئینِ رسولِؐ مختار؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہو گئی کس کی نِگہ طرزِ سلف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
دوسری طرف ایسے ابیات بھی کثرت سے ہیں جہاں اقبال بارگاہِ الٰہی میں ملتجی ہیں کہ ملت کے بھٹکے ہوئے آہُوکو پھر سے سُوئے حرم چلنے کی توفیق مل جائے۔ اقبال جابجا قوتِ عشقِ رسول ﷺ کے تمنائی نظر آتے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
ہیں اور افرادِ ملت کے قلوب میں یہ بات راسخ کر دینا چاہتے ہیں کہ محمدؐ مصطفی سے وفا نبھانے والوں کو دنیا تو ایک طرف لوح و قلم بھی عطا کر دیئے جاتے ہیں:
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے
چشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رفعنالک ذکرک دیکھے
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
یوں کلامِ اقبال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرۂ جلیلہ و جمیلہ کثرت سے ملتا ہے اور علامہ کے نزدیک مردِ مومن کی حتمی اور کامل صورت آپؐ کی ذاتِ مبارکہ ہی ہے۔
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اقبال نے حیاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی وقایع تحسینی پیرایے میں موزوں کیے ہیں اور خالصتاً قرآنی تلمیحات کی وساطت سے بھی مسلمانوں کو نبی آخرالزماںؐ کے مرتبے سے آگاہ کرایا ہے۔
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اس سلسلے میں واقعۂ معراج کی پیش کش کو وہ خاص اہمیت دیتے ہیں اور اس واقعے کو انسانی قوتوں کی بیداری، جرأت و ہمت اور استقامت کے استعاروں کے طور پر پیش کرتے ہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
۔ ۲۷ رجب کی مبارک رات میں خدائے سمیع و بصیر نے نبی پاکؐ کو اپنی نشانیاں دکھانے کے لیے رات ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی سیر کرائی
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
اس موقعے پر آپ ؐ نے آیات و تجلیات الٰہی کا مشاہدہ فرمایا اور اپنے باطن کی آنکھ سے ان حالات و واقعات کو یوں ملاحظہ فرمایا کہ نہ آپ ؐ کی نگاہ پیچھے ہٹی اور نہ حد سے بڑھی
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
علامہ واقعۂ معراج کے ان پہلوؤں کو تمام تر جزئیات کے ساتھ اپنے کلام میں برتتے ہیں اور ’’لیلۃ الاسری‘‘ سے متعلق تلمیحوں کو عشقِ رسولؐ کے جذبے کی بیداری کے ساتھ ساتھ عظمتِ بشر سے آگاہ کرنے کے لیے بطورعلامت بھی استعمال کرتے ہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
خاص طور پر وہ عصرِ حاضر سے ان تلمیحوں اور علامتوں کو منسلک کرتے ہوئے اصلاحِ احوال کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ علامہ اس سلسلے میں تنبیہی اور دعائیہ دونوں طرح کے لہجے اختیار کرتے ہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
واقعہ معراج مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف جہتیں ان کے ہاں یوں نمود کرتی ہیں:
اخترِ شام کی آتی ہے فلک سے آواز
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو وہ ہے آج کی رات
رہِ یک گام ہے ہمت کے لیے عرشِ بریں
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
جہانِ آب و گل سے عالمِ جاوید کی خاطر
نبوّت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیؐ سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
ناوک ہے مسلماں ہدف اس کا ہے ثریا
ہے سرِّ سرا پردئہ جاں نکتۂ معراج
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
تو معنیِ ’’والنجم‘‘ نہ سمجھا تو عجب کیا
ہے تیرا مدوجزر ابھی چاند کا محتاج
فروغِ مغربیاں کر رہا ہے خیرہ تجھے
تری نظر کا نگہباں ہو صاحبِ ’مازاغ‘!
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
کلام اقبال میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کا ایک اور خوب صورت قرینہ وہ ہے جہاں وہ مصطفیؐ اور ’ابولہب‘ کی رعایت سے ’’مصطفوی‘‘ اور ’’بولہبی‘‘ کی علامتیں وضع کرکے ان کو خیر اور شر کے مکاتبِ فکر کی وضاحت کے طور پر لائے ہیں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
جس کی رُو سے ایک مومن کا راستہ ہے، تو دوسراکافر کا___مصطفویؐ کفر و شرک کے بتوں کو خاک میں ملا دیتا ہے، خود کو طریق احمدِ ؐ مرسل پر چلاتا ہے اور یہی اس کا منصب ہونا چاہیے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
بمصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ است
اگر بہ او نرسیدی، تمام بولہبی است
یہ نکتہ پہلے سکھایا گیا کس اُمّت کو؟
وصالِ مصطفویؐ، افتراقِ بولہبی!
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی!
تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا
عشق تمام مصطفیؐ، عقل تمام بولہب
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانی بھی ضروری ہے کہ اقبال نہ صرف خود عشقِ رسولؐ کے جذبے سے سرشار تھے بل کہ دلی طور پر یہ خواہش بھی رکھتے تھے کہ مسلمان نوجوان بھی جذبۂ عشقِ رسولؐ کے حامل ہوں
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
کیوں کہ یہی جذبہ حیات مسلم کو تابناکی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے نسلِ نو کے لیے ’’شاہین‘‘ کی علامت اختیار کی اور جہاں اس کے دیگر اوصاف بتائے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
وہیں اس کا نمایاں ترین وصف یہ قرار دیا کہ مسلم نوجوان ’’شاہینِ شہِ لولاک‘‘ ہوتاہے اور یہ وہ خوبی ہے جو نہ صرف اس کی خودی کی تعیین میں معاون ٹھہرتی ہے بل کہ اسی نسبت خاص سے اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ’’فروغِ دیدۂ افلاک‘‘ ہے
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
ترا جوہر ہے نوری پاک ہے تو
فروغِ دیدۂ افلاک ہے تو
ترے صیدِ زبوں افرشتہ و حُور
کہ شاہینِ شہِ لولاک ہے تُو
#احمد_مجتبیٰ_صلے_علیٰ
ﷺ
#البدر
جزاکم اللہ خیرا
@drislamilyas
ایک ادنی کو ایسے اچھے موضوع پر
لکھنے کا موقع عنائیت کیا
اللہ آپکو اپکی ٹیم کو اجر عظیم سے نوازے
سب دوستوں سے اپیل ہے اچھے پیغام کو عام کریں
❤️
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
