#نڈر_لیڈر_نوازشریف
نواز شریف کی تصویری کہانی :
دوسری قسط 👇
اور اس دور میں انھوں نے نو منتخب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کی کوششیں کیں۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
2014 میں نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں بھی شرکت کی اور دسمبر 2015 میں نریندر مودی نے لاہور کا بلا اعلان ایک دن کا دورہ بھی کیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
( یہ وہی نریندر مودی ھے جس کے الیکشن جیتنے کے لیئے عمران نیازی نے دعائیں مانگی )
اور الیکشن جیتنے کے بعد اسے مبارکباد دینے کے لیئے کال کرتا رہا لیکن نریندر مودی جیسے قصائی نے بھی نیازی کو گھاس نہ ڈالی۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
اس کے علاوہ نواز شریف کے دور حکومت کا سب سے اہم منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری کا تھا جسے ماہرین نے خطے کے لیے ’گیم چینجر‘ کا خطاب دیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
لیکن سال 2016 میں نواز شریف زوال کا آغاز ہوا جب مارچ کے مہینے میں پاناما پیپرز کے نام سے کاغذات منظر عام پر آئے اور ان میں شریف خاندان کے افراد کے ناموں کا انکشاف ہوا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
نواز شریف کے بیٹوں نے اپنے صفائی کے لیے مختلف انٹرویو دیے جبکہ نواز شریف نے پارلیمان سے خطاب کے علاوہ ٹی وی پر قوم سے بھی خطاب کیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے سب سے بڑے حریف عمران نیازی نے اسٹیبلشمنٹ کی کال پر حکومت مخالف مظاہروں کا ایک بار پھر سلسلہ شروع کیا اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
چند ماہ تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد بالاآخر سپریم کورٹ نے نومبر 2016 میں ان الزامات کی تفتیش کے لیے حکم دیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
اسی سال اکتوبر میں نواز حکومت اور فوج کے مابین اختلافات ابھر کر سامنے آئے جب ’ڈان لیکس‘ کی خبر چلوائی گئی
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد حکومت کے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجتاً پرویز رشید کو اپنی وزارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے تھے۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
جنوری 2017 سے شروع ہونے والی سماعتوں کی تکمیل اپریل 2017 کو ہوئی جب پانچ رکنی بینچ نے تین دو سے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا لیکن ساتھ ساتھ ان کے اثاثوں کے بارے میں مزید تفتیش کا حکم دیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
اس فیصلے کے بعد عمران نیازی نے اپنے حریف میان نواز شریف پر چھوٹوں کی مزید بوچھاڑ کر دی جسے اسٹیبلشمنٹ کی مکمل سپورٹ حاصل تھی اور ایک مخصوص ماحول بنا کر ’گو نواز گو‘ کے نعرے ملک بھر میں لگوائے گئے۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
دوسری تفتیش کی تکمیل جولائی 2017 میں ہوئی جس میں نواز شریف کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا اقامہ ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر صادق اور امین کی شق کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھیرایا گیا اور پانچ صفر کی اکثریت کے ساتھ انھیں اسمبلی سے نااہل قرار دیا گیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
اس فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کے خلاف تین ریفرنسز کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
احتساب عدالت میں ستمبر 2017 میں شروع ہونے والی کاروائی کا سلسلہ تقریباً دس ماہ تک جاری رہا جس میں نواز شریف نے اسی سے زائد پیشیوں میں حاضری دی۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
اسی اثنا میں ان کی اہلیہ کلثوم نواز کو کینسر کی وجہ سے لندن میں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
احتساب عدالت میں پیشیوں کے ساتھ ساتھ نواز شریف نے ملک بھر میں ریلیوں کا آغاز کر دیا جس میں انھوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ پیش کیا اور اپنے خلاف ہونے والی عدالتی کاروائیوں کو ایک سازش قرار دیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
لیکن گذشتہ سال کی طرح ایک بار پھر جولائی کے مہینے میں عدالتی فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا اور جج محمد بشیر نے نواز شریف پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کی بنا انھیں دس سال قید بامشقت اور آٹھ ملین پاؤنڈ کے جرمانے کی سزا سنائی۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
نواز شریف نے یہ سزا اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ اسی اپارٹمنٹ میں سنی جس کی ملکیت کے بارے میں انھیں سزا سنائی گئی۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
انھوں نے بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کی صحت بہتر ہونے کے بعد جلد وطن واپس آئیں گے۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد 13 جولائی کو نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ وطن واپس لوٹ آئے جہاں انھیں ائیرپورٹ سے ہی حراست میں لے لیا گیا اور اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
حراست میں لیے جانے کے بعد نواز شریف کو جیل سے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست دیکھنی پڑی۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
کیونکہ ان کے خلاف پاناما پیپرز کا مقدمہ دائر کرنے والے عمران نیازی کو الیکشن ہائی جیک کرکے جتوا دیا گیا تھا اور انھوں نے اگست میں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
کلثوم نواز کی وفات کے بعد ایک ہفتے کی پیرول ملنے کے بعد نواز شریف اور ان کی بیٹی اور داماد کو اڈیالا جیل دوبارہ بھیج دیا گیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
کلثوم نواز کے انتقال کے چند روز بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا نتیجہ سامنے آگیا جس نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کر دیا۔
👇
#نڈر_لیڈر_نوازشریف
تیسری قسط دیکھیں
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
