#تھریڈ
کسی زمانےمیں #PTV سے سیریز ”ایک مَحبَت سو اَفسانے“ میں اَشفاق احمد کا لکھا ایک کھیل پیش ہوا۔اس کھیل کا عُنوان تو یاد نہیں،کیوں کِہ میری عمر،عزیز دوست Faseeh Bari Khan جتنی نہیں،جو شمیم آرا سےلےکر کےشبنم تک کی جوانی کا رازداں ہے۔کچھ کچھ یاد پڑتاہےکِہ اس ڈرامےکے مرکزی
+++++
کردار میں اداکارہ طاہرہ نقوی تھیں۔وہ محض پچیس سال کی عمر میں کینسر کا شکار ہو کےاِس دارِ فانی سےکُوچ کر گئیں۔
یہاں ذکرطاہرہ نقوی کا نہیں،اشفاق احمدکے اُس کھیل کاہے،جس میں طاہرہ نقوی ایک ایسی لڑکی کا کردار نباہتی ہیں،جو کسی نفسیاتی کجی میں مُبتلا ہے۔
ڈاکٹرکی ہدایت کےمطابق
++++
مریض کےعلاج کی خاطر،اُس کےکمرےمیں کپڑےسےبنا ایک پُتلا لٹکادیاجاتاہے۔اِس ڈمی پر طاہرہ کوڑا برساتی ہے،تاکِہ اُس کےمزاج میں رچابسا غُصہ کم ہو سکے،جو بچپن میں جبر کےزیر اثر پلنےکےسبب اس میں دبا ہوا ہے۔
تھوڑےدن تو اچھےگُزرتےہیں،لیکن وہ پھر ویسی کی ویسی ہو جاتی ہے۔اب کےماہرِ نفسیات+++
کو دکھایاجاتاہے،تو وہ بہت غور و فکر کرنے کےبعد یہ تجویز کرتا ہے،اِسےلتےسےبنا فرضی انسان نہیں،اصل کردار مطلوب ہے،جس پہ یہ کوڑےبرساسکے۔
ہو سکتا ہے،یہ داستان”ایک محبت سو افسانے“ سےنہ ہو۔ ممکن ہےیہ کھیل اشفاق احمد کالکھا نہ ہو،اور یہ بھی کِہ مرکزی کردار طاہرہ نقوی نےنہ نباہیا ہو،++
لیکن اس ٹیلی ویژن پلے کا بنیادی خیال کچھ ایسا ہی کر کے تھا، جیسا بیان ہوا۔
نیوز چینل ہوں یا اخبارات، سوشل میڈیا ہو یا بازار، کوڑے برسانے والے سیاست دانوں پر کوڑے برساتے ہیں۔ ایسے ان کا غصہ کچھ دن تو کم ہوتا ہے، لیکن نفسیاتی کجی اپنی جگہ پہ رہتی ہے۔ ماہرِ نفسیات سے پوچھا جائے تو+
وہ تجویز کریں گے، ان پُتلیوں پر چاہے جتنے کوڑے برسائیں، کوئی مثبت نتیجہ بر آمد ہونے والا نہیں۔ علاج تبھی ممکن ہو گا، جب کوڑے برسانے کے لیے پُتلیاں نہیں، وہ کردار مطلوب ہوں، جنھوں نے پاکستانی عوام پہ جبر کا نظام نافذ کر کے، انھیں نفسیاتی مریض بنا کے رکھ دیا۔+
پاکستانیوں کی نفسیاتی کجی اسی دن دُور ہو گی، جس روز کمرے میں کٹھ پتلیوں کے بہ جائے جیتے جاگتے خاکی وجود کو چھت سے لٹکا کے، اس پر کوڑے برسائے جائیں گے۔
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
