ابو یعلی سند میں ابن سعد اور حاکم حضرت عائشہ رضی اللہ سے روایت۔کہ حضور صلی اللہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ حضرت ابوبکر آئے حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا جو جہنم کی آگ سے آزاد شخص دیکھنا چاہے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ کو دیکھ لے ان کا نام عبداللہ رکھا گیا تھا۔جاری
مگر عتیق مشہور ہوا اور اسی دن سے عتیق مشہور ہے ( عتیق ) کے معنی آزاد ہونا ابن اسحاق نے حضرت حسن بصری اور فتادہ سے روایت کی ہے کہ اپ کا لقب شب معراج کے دوسرے دن سے مشہور ہوا مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مشرکین حضرت ابوبکر کے پاس آئے کہا۔ جاری
اپ کا دوست کہتا ہے کہ مجھے رات کو بیت المقدس پہنچایا گیا انہوں نے کہا وہ کہتے ہیں فرمایا ہے وہ اگر اس سے زیادہ آسمانوں کی خبر دیتے تو میں اسکی بھی تصدیق کرتا یہی حدیث حضرت انس رضی اللہ اور ابو ہریرہ سے ابن عساکر نے بیان کی ہے کہ شب معراج میں جب حضور صلی اللہ وسلم۔ جاری
ذی طوی کے مقام پر پہنچے تو حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ اے جبر ائیل میری قوم میری تصدیق نہیں کرے گی حضرت جبرائیل نے کہا اپ کی تصدیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کریں گے طبرانی نے حکیم ابن سعد سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ نے ایک دفعہ قسم کھا کر فرمایا کہ حضرت ابوبکر۔ جاری
رضی اللہ عنہ کا نام ( صدیق ) اللہ تعالی نے آسمان سے نازل فرمایا ہے سبحان اللہ۔ دعا ہے اللہ ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق نصیب کرے اور صحابہ کرام سے محبت نصیب ہو امین یا رب العالمین۔ #نمود_عشق
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
