Adv Sahiba Rana Profile picture
Executive Member Gujranwala Bar, Lawyer By Profession, Loyal By Passion, Wonderer Woman, Humanity First.

Apr 26, 2025, 17 tweets

29 مئی 2009 کی رات بھارتی فوج نے کشمیر میں17 سال کی آسیہ اور 22 سالہ کی نیلو فر کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ۔ وہ ساری رات اس کیساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے. ان دونوں کا تعلق ڈسٹرکٹ شوپیاں کے گاؤں بونگام سے تھا۔
دونوں بہنیں نہ تھیں لیکن آپس میں بہت گہرا رشتہ رکھتی تھیں،نیلوفر شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں تھی ۔ آسیہ جان اور نیلوفر جان اپنے خاندانی باغ سے واپس آرہی تھیں۔لیکن شاید یہ دونوں لڑکیاں نہیں جانتی تھیں کہ ان کیساتھ کیا ہونے والا ہے ۔

رات ڈھلنے لگی تو گھر میں بےچینی اور تشویش نے سر اٹھانا شروع کردیا۔ آسیہ اور نیلوفر کے گھر والوں نے پہلے تو سوچا کہ شاید وہ کسی پڑوسی کے گھر چلی گئی ہوں گی، لیکن جب کافی دیر تک ان کا اتا پتا نہ ملا تو سب ہکا بکا رہ گئے۔ لمحہ لمحہ بھاری لگنے لگا۔ گاؤں کے کچھ نوجوانوں نے لالٹینیں لے کر ادھر ادھر تلاش شروع کی، مگر رات کے گھپ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہ دیا۔

اگلی صبح جب سورج نے پہاڑوں کے عقب سے جھانکنا شروع کیا تو گاؤں کے چند افراد رمبیارا ندی کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ندی بہت چھوٹی سی تھی، شاید چند انچ گہری، جس میں ایک بچہ بھی مشکل سے ڈوب سکتا تھا۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ پانی میں کچھ پھنسے ہوئے کپڑوں کے رنگ نظر آرہے ہیں۔ جب قریب جا کر دیکھا تو یہ منظر انہیں پتھر کا بنا گیا۔ وہاں دو اجساد پڑے تھے—آسیہ جان اور نیلوفر جان کی لاشیں تھیں۔ ادھ کھلی آنکھیں جیسے مدد کی منتظر تھیں۔ جسموں پر بکھری مٹی اور پانی ان کی ہولناک حالت کو مزید واضح کر رہے تھے۔

گاؤں کے لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ ایک خاتون نے چیختے ہوئے بتایا، “یہ وہی دو لڑکیاں ہیں جو کل سے لاپتہ تھیں!” دیکھتے ہی دیکھتے خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ گھر والوں پر تو جیسے قیامت گزر گئی۔ آسیہ کی ماں بے اختیار ندی کے کنارے گر کر اپنی بچی کو پکارنے لگی۔ نیلوفر کے شوہر نے اپنے وجود کے اوسان کھوتے ہوئے آہ و زاری شروع کردی۔ گاؤں کے جوانوں نے مل کر لاشوں کو نکالا۔ یہ منظر بیان کرنے سے قاصر ہے کہ دونوں کے کپڑے ادھڑ چکے تھے اور جسموں پر تشدد کے نشانات صاف ظاہر تھے۔

جسم پر بکھرے نشانات چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ یہ محض حادثاتی ڈوبنے کا واقعہ نہیں۔ لوگ جانتے تھے کہ کشمیر میں ایسے واقعات کے پیچھے اکثر بندوق اٹھائے ہوئے ظالم ہاتھ ہوتے ہیں۔ کیونکہ آئے دن کشمیری عورتوں کو حراست میں لیا جاتا، انہیں ہراساں کیا جاتا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ یہ حادثات نہیں تھے، بلکہ ایک منظم طریقہ کار تھا جس سے کشمیریوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا جاتا تھا۔

لیکن افسوس کہ سرکاری ادارے کچھ اور ہی کہانی سنانا چاہتے تھے۔ پولیس نے پہلا بیان جاری کیا کہ دونوں خواتین ندی میں ڈوب کر مری ہیں اور ان پر کسی قسم کا تشدد یا زیادتی ثابت نہیں ہوتی۔ گاؤں والوں کو یہ بات کسی طور بھی ہضم نہ ہوئی۔ لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرے شروع ہوئے، پلے کارڈز اٹھائے گئے، جن پر لکھا تھا: “ہمیں انصاف چاہیے۔”

عوام کے بڑھتے ہوئے غصے اور احتجاج کے سبب حکومت کو مجبوراً ایک تحقیقاتی کمیشن بٹھانا پڑا جس کی سربراہی جسٹس (ریٹائرڈ) مظفر جان کو سونپی گئی۔ انہوں نے پولیس اور محکمہ صحت کے لوگوں سے سوال جواب کیے، جائے وقوع کا معائنہ کیا اور تفتیش شروع کی۔ کچھ عرصہ بعد ان کی رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں نہ صرف اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پولیس اور ڈاکٹروں نے ابتدائی شواہد ضائع کیے بلکہ ان پر غفلت برتنے اور سچ چھپانے کے الزامات بھی لگائے گئے۔

نتیجتاً چار پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔ ایک اُمید بندھی کہ شاید اب انصاف کا کوئی در کھلے۔ جون 2009 میں پولیس نے زیادتی اور قتل کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ لوگوں نے سمجھا کہ اب صورتحال تبدیل ہوگی، قاتل اور زیادتی کے مرتکب افراد کو سزائیں ملیں گی، کیوں کہ گاؤں کے کئی لوگوں نے مبینہ طور پر بھارتی فوج کے اہلکاروں کو اس علاقے میں دیکھا تھا۔ لیکن اسی دوران سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے دسمبر 2009 میں ایک رپورٹ جاری کی، جس نے سب کو حیرت اور غم و غصے میں مبتلا کردیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں خواتین کی موت ڈوبنے سے ہوئی ہے اور نہ تو ان کے ساتھ زیادتی ہوئی اور نہ ہی قتل کے شواہد ملے۔

یہ ایک عجیب تضاد تھا۔ ایک طرف عوامی شکوک و شبہات، مبینہ گواہوں کے بیانات اور ابتدائی تحقیقات میں تشدد کے واضح ثبوت۔ دوسری جانب حکومتِ ہند کے اعلیٰ تحقیقاتی ادارے کا یہ کہنا کہ یہ صرف ایک حادثہ تھا۔ متاثرہ خاندانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا تھا۔ سڑکوں پر بار بار مظاہرے پھوٹ پڑتے۔ انتظامیہ نے گولی چلائی تو کہیں آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کئی نوجوان گرفتاریوں کے ڈر سے چھپ گئے۔ آواز اٹھانے والوں کو ڈرایا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

وقت گزرتا گیا۔ 2023 آیا تو ایک اور چونکا دینے والا اقدام سامنے آیا۔ جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے دو ڈاکٹروں، ڈاکٹر نگہت شہین چلو اور ڈاکٹر بلال احمد دلال، کو ملازمت سے برخاست کردیا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہیرا پھیری کی اور ان کے مبینہ پاکستان سے روابط تھے۔ گویا ایک بار پھر اصل سوال پس منظر میں چلا گیا کہ ان دونوں خواتین کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ اُن کی زندگیوں کا چراغ کیوں بجھا؟ کون تھے وہ درندہ صفت ہاتھ جو ان کو پکڑ کر اس قابلِ نفرین جرم کا نشانہ بنانے کے بعد لاشوں کو ایک اتنی کم گہرائی والی ندی میں پھینک گئے؟

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر لاشیں ملی تھیں، وہاں اتنا پانی ہی نہیں تھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ڈوب جائے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ دو بالغ خواتین وہاں ڈوب کر جان سے جاتی ہوں؟ گاؤں کی ایک بوڑھی خاتون جنہیں سب 'حلیمہ آماں' کہہ کر پکارتے ہیں، بارہا یہی سوال کرتی نظر آتی ہیں:
“اگر یہ بیٹیاں واقعی حادثاتی طور پر ڈوبی تھیں تو ان کے جسموں پر زخموں کے نشان کہاں سے آئے؟ کیوں ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے؟ کیوں کوئی سرکاری رپورٹ ان سوالوں کا واضح جواب نہیں دیتی؟”

یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی اور ناانصافی کی وہ زنجیر ہے جس کی کڑیاں ہر روز لمبی ہوتی جا رہی ہیں۔ بیسیوں واقعات ہیں جہاں کشمیری عورتوں کو بھارتی فورسز کی طرف سے ہراسانی، تشدد، حتیٰ کہ ریپ کا بھی سامنا رہا۔ بیشتر کیسوں میں متاثرہ خواتین یا ان کے خاندان سرکاری اداروں کی جارحیت، مقدمات کی پیچیدگی یا خوف کی وجہ سے آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ اگر کبھی کوئی ہمت کرتا بھی ہے تو نظامِ انصاف کا تنگ دہانہ یا تو انہیں دھتکار دیتا ہے یا ان کی چیخیں کسی خفیہ فائل میں قید ہو کر رہ جاتی ہیں۔

شوپیان کا یہ واقعہ ان میں سے نمایاں ترین ہے جس نے پوری وادی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آسیہ اور نیلوفر کی لاشوں کے ساتھ ملا وحشت ناک تشدد اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستانوں نے ہر صاحبِ دل کو رلادیا۔ جب احتجاج بڑھا تو سرکاری اداروں نے الزامات کو پہلے مسترد کیا، پھر پیروی بڑھنے پر ایک آدھا قدم اٹھایا، لیکن بالآخر CBI کی رپورٹ کے ذریعے سارا معاملہ ایسا دبا دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

آسیہ اور نیلوفر کے خاندان آج تک انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کی آنکھوں میں اس سانحے کے بعد مسلسل اداسی اور بے یقینی بسی ہوئی ہے۔ گاؤں کے لوگ جب بھی اس ندی کے پاس سے گزرتے ہیں تو ایک دھڑکا سا محسوس کرتے ہیں، انہیں یاد آتا ہے کہ یہاں دو معصوم عورتوں کی لاشوں کو پھینک دیا گیا تھا۔ جیتے جاگتے خوابوں کو برہنہ جسموں کے ساتھ اس ندی میں یوں ڈبویا گیا جیسے ان کی کوئی وقعت نہ ہو۔

کشمیر کی تاریخ ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے جہاں عورتوں کو ایک ’’جنگی ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہیں ریپ کی اذیت سے گزار کر پوری بستی کو خوف میں مبتلا کیا گیا۔ اکثر ماورائے عدالت قتل کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جن میں مقتولین کو دہشت گرد کہہ کر مار دیا جاتا ہے، یا حادثے کا نام دے کر سارا قصہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اسی شوپیان واقعے میں بھی ایک منظم طریقہ کار نظر آتا ہے کہ پہلے تو موت کو ’’ڈوبنے‘‘ کا واقعہ بنا کر پیش کیا گیا، شواہد کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، پھر تحقیقات کا رُخ بدلنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے گئے، یہاں تک کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس تک پر سازش کا الزام لگایا گیا۔

اس همه گیر ناانصافی نے کشمیریوں کے دلوں میں ایک خاموش آتش فشاں روشن کر رکھا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا اس دنیا میں کوئی ایسا انصاف کا نظام نہیں جو انہیں اِن مظالم سے بچا سکے؟ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اقوام عالم خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

یہ افسانہ ان دو عورتوں کی کہانی ہے جن کی آنکھوں نے ممکنہ طور پر اپنے آخری لمحات میں بھارتی فوجی اہلکاروں کے درندہ صفت چہروں کو دیکھ کر اپنے نصیب پر ماتم کیا ہوگا۔ یہ اُن تمام کشمیری عورتوں کی روداد ہے جو آئے روز خوف کی اذیت سہہ رہی ہیں۔ یہ ان خاندانوں کا نوحہ ہے جو برسوں سے اپنے پیاروں کے قاتلوں کا تعین چاہ رہے ہیں مگر ہر بار انہیں کوئی نئی سازش، نئی رپورٹ یا نئی تحریر کے نام پر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

ندیاں، پہاڑ، باغات، یہ سب تو اللہ کی نعمتیں ہیں، مگر اُن کے درمیان ایک خوف کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ اس کہانی کے دو مرکزی کردار آج ہمارے بیچ نہیں ہیں، مگر ان کی خاموش چیخیں کشمیر کی فضاؤں میں اب تک گونجتی ہیں۔ وہ چیخیں ایک ہی سوال کرتی ہیں کہ:
“ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلہ کیوں نہیں ملتا؟ کب تک ہمارے خاندان تڑپتے رہیں گے؟”

رات کی تاریکی میں بونگام گاؤں کے چھوٹے چھوٹے گھروں کی لائٹیں جب بجھتی ہیں تو کبھی کبھی کسی ماں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں، جو اپنی بیٹی کو یاد کر کے روتی ہے۔ کبھی کوئی باپ کھنڈرات جیسے صحن میں بیٹھا سوچتا ہے کہ کاش وہ اپنی بیٹیوں کی حفاظت کر پاتا۔ کبھی کوئی بھائی جلاپے سے ٹکٹکی باندھے سوچتا ہے کہ اس کے گھر کی عزت کو پامال کرنے والے خاکی وردیوں میں ملبوس تھے مگر پھر بھی وہ بے بس رہا۔

کشمیر کی یہ کہانیاں، یہ افسانے، سادہ لفظوں کی ڈوری میں بندھی کوئی خیالی تحریر نہیں ہیں۔ یہ حقیقی واقعات ہیں جو ہر سننے والے کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ شوپیان کا واقعہ ایک ایسا ہی آئینہ ہے جس میں ہولناک تصاویر ابھر آتی ہیں کہ کیسے دھرتی کی بیٹیوں کا لہو بہایا گیا۔ اور پھر سچائی کو جھوٹ کے پردوں میں چھپایا گیا۔ افسانے کے انجام میں کوئی خوشی کی نوید نہیں، کوئی عدل کا بول بالا نہیں۔ صرف ایک سسکی ہے، ایک افسردگی، ایک تڑپ—کہ کاش انصاف کا ترازو واقعی غیر جانبدار ہوتا، کاش مظلوموں کی آواز دُور تک سنائی دیتی، اور کاش اس وادی کے آنسو پل بھر کو ہی سہی، خشک ہوجاتے۔

مگر تب تک، آسِیہ اور نیلوفر جیسی کتنی ہی بیٹیاں اس “ندّی” کے پانیوں میں ’’ڈوبتی‘‘ رہیں گی۔ لوگ صرف ماتم کرتے رہیں گے، رپورٹس تبدیل ہوتی رہیں گی، ڈاکٹر برطرف ہوتے رہیں گے، اور ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی۔ یہ افسانہ دراصل کشمیر کی ایک ایسی چیخ ہے جو شاید کبھی دبی نہ جاسکے گی۔

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling