29 مئی 2009 کی رات بھارتی فوج نے کشمیر میں17 سال کی آسیہ اور 22 سالہ کی نیلو فر کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ۔ وہ ساری رات اس کیساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے. ان دونوں کا تعلق ڈسٹرکٹ شوپیاں کے گاؤں بونگام سے تھا۔
دونوں بہنیں نہ تھیں لیکن آپس میں بہت گہرا رشتہ رکھتی تھیں،نیلوفر شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں تھی ۔ آسیہ جان اور نیلوفر جان اپنے خاندانی باغ سے واپس آرہی تھیں۔لیکن شاید یہ دونوں لڑکیاں نہیں جانتی تھیں کہ ان کیساتھ کیا ہونے والا ہے ۔
رات ڈھلنے لگی تو گھر میں بےچینی اور تشویش نے سر اٹھانا شروع کردیا۔ آسیہ اور نیلوفر کے گھر والوں نے پہلے تو سوچا کہ شاید وہ کسی پڑوسی کے گھر چلی گئی ہوں گی، لیکن جب کافی دیر تک ان کا اتا پتا نہ ملا تو سب ہکا بکا رہ گئے۔ لمحہ لمحہ بھاری لگنے لگا۔ گاؤں کے کچھ نوجوانوں نے لالٹینیں لے کر ادھر ادھر تلاش شروع کی، مگر رات کے گھپ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہ دیا۔
اگلی صبح جب سورج نے پہاڑوں کے عقب سے جھانکنا شروع کیا تو گاؤں کے چند افراد رمبیارا ندی کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ندی بہت چھوٹی سی تھی، شاید چند انچ گہری، جس میں ایک بچہ بھی مشکل سے ڈوب سکتا تھا۔ اچانک ان لوگوں نے دیکھا کہ پانی میں کچھ پھنسے ہوئے کپڑوں کے رنگ نظر آرہے ہیں۔ جب قریب جا کر دیکھا تو یہ منظر انہیں پتھر کا بنا گیا۔ وہاں دو اجساد پڑے تھے—آسیہ جان اور نیلوفر جان کی لاشیں تھیں۔ ادھ کھلی آنکھیں جیسے مدد کی منتظر تھیں۔ جسموں پر بکھری مٹی اور پانی ان کی ہولناک حالت کو مزید واضح کر رہے تھے۔
گاؤں کے لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ ایک خاتون نے چیختے ہوئے بتایا، “یہ وہی دو لڑکیاں ہیں جو کل سے لاپتہ تھیں!” دیکھتے ہی دیکھتے خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ گھر والوں پر تو جیسے قیامت گزر گئی۔ آسیہ کی ماں بے اختیار ندی کے کنارے گر کر اپنی بچی کو پکارنے لگی۔ نیلوفر کے شوہر نے اپنے وجود کے اوسان کھوتے ہوئے آہ و زاری شروع کردی۔ گاؤں کے جوانوں نے مل کر لاشوں کو نکالا۔ یہ منظر بیان کرنے سے قاصر ہے کہ دونوں کے کپڑے ادھڑ چکے تھے اور جسموں پر تشدد کے نشانات صاف ظاہر تھے۔
جسم پر بکھرے نشانات چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ یہ محض حادثاتی ڈوبنے کا واقعہ نہیں۔ لوگ جانتے تھے کہ کشمیر میں ایسے واقعات کے پیچھے اکثر بندوق اٹھائے ہوئے ظالم ہاتھ ہوتے ہیں۔ کیونکہ آئے دن کشمیری عورتوں کو حراست میں لیا جاتا، انہیں ہراساں کیا جاتا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ یہ حادثات نہیں تھے، بلکہ ایک منظم طریقہ کار تھا جس سے کشمیریوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا جاتا تھا۔
لیکن افسوس کہ سرکاری ادارے کچھ اور ہی کہانی سنانا چاہتے تھے۔ پولیس نے پہلا بیان جاری کیا کہ دونوں خواتین ندی میں ڈوب کر مری ہیں اور ان پر کسی قسم کا تشدد یا زیادتی ثابت نہیں ہوتی۔ گاؤں والوں کو یہ بات کسی طور بھی ہضم نہ ہوئی۔ لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرے شروع ہوئے، پلے کارڈز اٹھائے گئے، جن پر لکھا تھا: “ہمیں انصاف چاہیے۔”
عوام کے بڑھتے ہوئے غصے اور احتجاج کے سبب حکومت کو مجبوراً ایک تحقیقاتی کمیشن بٹھانا پڑا جس کی سربراہی جسٹس (ریٹائرڈ) مظفر جان کو سونپی گئی۔ انہوں نے پولیس اور محکمہ صحت کے لوگوں سے سوال جواب کیے، جائے وقوع کا معائنہ کیا اور تفتیش شروع کی۔ کچھ عرصہ بعد ان کی رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں نہ صرف اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پولیس اور ڈاکٹروں نے ابتدائی شواہد ضائع کیے بلکہ ان پر غفلت برتنے اور سچ چھپانے کے الزامات بھی لگائے گئے۔
نتیجتاً چار پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔ ایک اُمید بندھی کہ شاید اب انصاف کا کوئی در کھلے۔ جون 2009 میں پولیس نے زیادتی اور قتل کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ لوگوں نے سمجھا کہ اب صورتحال تبدیل ہوگی، قاتل اور زیادتی کے مرتکب افراد کو سزائیں ملیں گی، کیوں کہ گاؤں کے کئی لوگوں نے مبینہ طور پر بھارتی فوج کے اہلکاروں کو اس علاقے میں دیکھا تھا۔ لیکن اسی دوران سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے دسمبر 2009 میں ایک رپورٹ جاری کی، جس نے سب کو حیرت اور غم و غصے میں مبتلا کردیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں خواتین کی موت ڈوبنے سے ہوئی ہے اور نہ تو ان کے ساتھ زیادتی ہوئی اور نہ ہی قتل کے شواہد ملے۔
یہ ایک عجیب تضاد تھا۔ ایک طرف عوامی شکوک و شبہات، مبینہ گواہوں کے بیانات اور ابتدائی تحقیقات میں تشدد کے واضح ثبوت۔ دوسری جانب حکومتِ ہند کے اعلیٰ تحقیقاتی ادارے کا یہ کہنا کہ یہ صرف ایک حادثہ تھا۔ متاثرہ خاندانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا تھا۔ سڑکوں پر بار بار مظاہرے پھوٹ پڑتے۔ انتظامیہ نے گولی چلائی تو کہیں آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کئی نوجوان گرفتاریوں کے ڈر سے چھپ گئے۔ آواز اٹھانے والوں کو ڈرایا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
وقت گزرتا گیا۔ 2023 آیا تو ایک اور چونکا دینے والا اقدام سامنے آیا۔ جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے دو ڈاکٹروں، ڈاکٹر نگہت شہین چلو اور ڈاکٹر بلال احمد دلال، کو ملازمت سے برخاست کردیا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہیرا پھیری کی اور ان کے مبینہ پاکستان سے روابط تھے۔ گویا ایک بار پھر اصل سوال پس منظر میں چلا گیا کہ ان دونوں خواتین کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ اُن کی زندگیوں کا چراغ کیوں بجھا؟ کون تھے وہ درندہ صفت ہاتھ جو ان کو پکڑ کر اس قابلِ نفرین جرم کا نشانہ بنانے کے بعد لاشوں کو ایک اتنی کم گہرائی والی ندی میں پھینک گئے؟
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر لاشیں ملی تھیں، وہاں اتنا پانی ہی نہیں تھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ڈوب جائے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ دو بالغ خواتین وہاں ڈوب کر جان سے جاتی ہوں؟ گاؤں کی ایک بوڑھی خاتون جنہیں سب 'حلیمہ آماں' کہہ کر پکارتے ہیں، بارہا یہی سوال کرتی نظر آتی ہیں:
“اگر یہ بیٹیاں واقعی حادثاتی طور پر ڈوبی تھیں تو ان کے جسموں پر زخموں کے نشان کہاں سے آئے؟ کیوں ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے؟ کیوں کوئی سرکاری رپورٹ ان سوالوں کا واضح جواب نہیں دیتی؟”
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی اور ناانصافی کی وہ زنجیر ہے جس کی کڑیاں ہر روز لمبی ہوتی جا رہی ہیں۔ بیسیوں واقعات ہیں جہاں کشمیری عورتوں کو بھارتی فورسز کی طرف سے ہراسانی، تشدد، حتیٰ کہ ریپ کا بھی سامنا رہا۔ بیشتر کیسوں میں متاثرہ خواتین یا ان کے خاندان سرکاری اداروں کی جارحیت، مقدمات کی پیچیدگی یا خوف کی وجہ سے آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ اگر کبھی کوئی ہمت کرتا بھی ہے تو نظامِ انصاف کا تنگ دہانہ یا تو انہیں دھتکار دیتا ہے یا ان کی چیخیں کسی خفیہ فائل میں قید ہو کر رہ جاتی ہیں۔
شوپیان کا یہ واقعہ ان میں سے نمایاں ترین ہے جس نے پوری وادی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آسیہ اور نیلوفر کی لاشوں کے ساتھ ملا وحشت ناک تشدد اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستانوں نے ہر صاحبِ دل کو رلادیا۔ جب احتجاج بڑھا تو سرکاری اداروں نے الزامات کو پہلے مسترد کیا، پھر پیروی بڑھنے پر ایک آدھا قدم اٹھایا، لیکن بالآخر CBI کی رپورٹ کے ذریعے سارا معاملہ ایسا دبا دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
آسیہ اور نیلوفر کے خاندان آج تک انصاف کے منتظر ہیں۔ ان کی آنکھوں میں اس سانحے کے بعد مسلسل اداسی اور بے یقینی بسی ہوئی ہے۔ گاؤں کے لوگ جب بھی اس ندی کے پاس سے گزرتے ہیں تو ایک دھڑکا سا محسوس کرتے ہیں، انہیں یاد آتا ہے کہ یہاں دو معصوم عورتوں کی لاشوں کو پھینک دیا گیا تھا۔ جیتے جاگتے خوابوں کو برہنہ جسموں کے ساتھ اس ندی میں یوں ڈبویا گیا جیسے ان کی کوئی وقعت نہ ہو۔
کشمیر کی تاریخ ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے جہاں عورتوں کو ایک ’’جنگی ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہیں ریپ کی اذیت سے گزار کر پوری بستی کو خوف میں مبتلا کیا گیا۔ اکثر ماورائے عدالت قتل کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جن میں مقتولین کو دہشت گرد کہہ کر مار دیا جاتا ہے، یا حادثے کا نام دے کر سارا قصہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اسی شوپیان واقعے میں بھی ایک منظم طریقہ کار نظر آتا ہے کہ پہلے تو موت کو ’’ڈوبنے‘‘ کا واقعہ بنا کر پیش کیا گیا، شواہد کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، پھر تحقیقات کا رُخ بدلنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے گئے، یہاں تک کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس تک پر سازش کا الزام لگایا گیا۔
اس همه گیر ناانصافی نے کشمیریوں کے دلوں میں ایک خاموش آتش فشاں روشن کر رکھا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا اس دنیا میں کوئی ایسا انصاف کا نظام نہیں جو انہیں اِن مظالم سے بچا سکے؟ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اقوام عالم خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
یہ افسانہ ان دو عورتوں کی کہانی ہے جن کی آنکھوں نے ممکنہ طور پر اپنے آخری لمحات میں بھارتی فوجی اہلکاروں کے درندہ صفت چہروں کو دیکھ کر اپنے نصیب پر ماتم کیا ہوگا۔ یہ اُن تمام کشمیری عورتوں کی روداد ہے جو آئے روز خوف کی اذیت سہہ رہی ہیں۔ یہ ان خاندانوں کا نوحہ ہے جو برسوں سے اپنے پیاروں کے قاتلوں کا تعین چاہ رہے ہیں مگر ہر بار انہیں کوئی نئی سازش، نئی رپورٹ یا نئی تحریر کے نام پر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔
ندیاں، پہاڑ، باغات، یہ سب تو اللہ کی نعمتیں ہیں، مگر اُن کے درمیان ایک خوف کا سایہ منڈلا رہا ہے۔ اس کہانی کے دو مرکزی کردار آج ہمارے بیچ نہیں ہیں، مگر ان کی خاموش چیخیں کشمیر کی فضاؤں میں اب تک گونجتی ہیں۔ وہ چیخیں ایک ہی سوال کرتی ہیں کہ:
“ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟ ہمارے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلہ کیوں نہیں ملتا؟ کب تک ہمارے خاندان تڑپتے رہیں گے؟”
رات کی تاریکی میں بونگام گاؤں کے چھوٹے چھوٹے گھروں کی لائٹیں جب بجھتی ہیں تو کبھی کبھی کسی ماں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں، جو اپنی بیٹی کو یاد کر کے روتی ہے۔ کبھی کوئی باپ کھنڈرات جیسے صحن میں بیٹھا سوچتا ہے کہ کاش وہ اپنی بیٹیوں کی حفاظت کر پاتا۔ کبھی کوئی بھائی جلاپے سے ٹکٹکی باندھے سوچتا ہے کہ اس کے گھر کی عزت کو پامال کرنے والے خاکی وردیوں میں ملبوس تھے مگر پھر بھی وہ بے بس رہا۔
کشمیر کی یہ کہانیاں، یہ افسانے، سادہ لفظوں کی ڈوری میں بندھی کوئی خیالی تحریر نہیں ہیں۔ یہ حقیقی واقعات ہیں جو ہر سننے والے کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ شوپیان کا واقعہ ایک ایسا ہی آئینہ ہے جس میں ہولناک تصاویر ابھر آتی ہیں کہ کیسے دھرتی کی بیٹیوں کا لہو بہایا گیا۔ اور پھر سچائی کو جھوٹ کے پردوں میں چھپایا گیا۔ افسانے کے انجام میں کوئی خوشی کی نوید نہیں، کوئی عدل کا بول بالا نہیں۔ صرف ایک سسکی ہے، ایک افسردگی، ایک تڑپ—کہ کاش انصاف کا ترازو واقعی غیر جانبدار ہوتا، کاش مظلوموں کی آواز دُور تک سنائی دیتی، اور کاش اس وادی کے آنسو پل بھر کو ہی سہی، خشک ہوجاتے۔
مگر تب تک، آسِیہ اور نیلوفر جیسی کتنی ہی بیٹیاں اس “ندّی” کے پانیوں میں ’’ڈوبتی‘‘ رہیں گی۔ لوگ صرف ماتم کرتے رہیں گے، رپورٹس تبدیل ہوتی رہیں گی، ڈاکٹر برطرف ہوتے رہیں گے، اور ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی۔ یہ افسانہ دراصل کشمیر کی ایک ایسی چیخ ہے جو شاید کبھی دبی نہ جاسکے گی۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
بلوچستان کے علاقے تربت کے مضافات میں ایک غیر نمایاں فارم ہاؤس ہے ۔ یہاں 2022ء کے آخر میں بھارتی RAW کا فیلڈ افسر، کوڈ نیم راجیف–K17 ، موساد کے رابطہ کار یِعیل بن شاؤل کے ساتھ خفیہ ملاقات کرتا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستانی اینکر عمران ریاض بھی شامل تھا ۔ بظاہر ایک اسٹوری پر کام کرنے والا صحافی، مگر پسِ پردہ پراجیکٹ ان ڈو کے لیئے بھرتی ہونے والا نیا مہرہ۔ یہ مہم اس خیال پر اُٹھی کہ طاقتور پاکستانی فوج کو میدان میں نہیں، ذہنوں میں شکست دو۔
پہلا مرحلہ فروری 2023ء میں اسلام آباد سے شروع ہوا، جہاں بظاہر ایک میڈیا اسٹریٹجی ورکشاپ کے نام پر ایک اجلاس منعقد کیا گیا، جو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کے زیرِ انتظام ایک فیک تھنک ٹینک کا کور تھا۔ اس ورکشاپ میں عمران ریاض کو یوٹیوب چینل کی عالمی سطح پر برانڈنگ، لندن کے فینٹم پروڈکشن ہاؤس سے اسپانسرشپ، اور آزادیٔ اظہار کے نام پر لامحدود فنڈنگ کی پیشکش کی گئی۔
یہیں سے عمران ریاض کے کیمرے کے پیچھے اصل ہدایت کاروں کا کنٹرول شروع ہوا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک مخصوص بیانیہ تیار کرنا تھا جس میں فوجی قیادت پر براہِ راست تنقید، قومی اداروں کے خلاف مایوسی پھیلانا، اور عالمی اداروں کی زبان دہرا کر نوجوان ذہنوں کو متاثر کرنا شامل تھا۔ اس شہرت کو ہوا دینے کے لیے SEO بوٹس، جعلی فالورز، ٹرول فیکٹریز اور ٹرینڈ واریئرز کا ایک پورا نیٹ ورک استعمال کیا گیا، جن کا ڈیجیٹل سراغ بعد میں بھارتی شہر پونے سے ملنے والے سٹیلائٹ ٹریفک اور IP لاگز سے ملا۔
پھر ایک روز عمران ریاض لاپتہ ہوگیا اور 👇
ستمبر 2023 میں عمران ریاض دوبارہ منظر عام پر آیا پھر کچھ عرصے بعد روپوش ہوگیا ۔ اسی دوران موساد نے فیصلہ کیا کہ عمران ریاض کو برطانیہ منقتل کردیا جائے اور RAW کے افسر راجیف–K17 اور موساد کے لوجسٹک سیل نے بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے کی ذیلی تنظیم فتنہ الہندوستان کے ذریعے ایک خفیہ کوریڈور کھولا۔ اس پیچیدہ مگر منظم روٹ کا آغاز گوادر سے ہوتا تھا، جہاں سے پسنی تک اسمگلروں کا سمندری راستہ استعمال کیا گیا۔ پسنی سے قافلہ دشت اور پھر سرانان کی وادیوں میں داخل ہوتا، جہاں بی ایل اے کے سیف ہاؤسز پہلے سے فعال تھے۔
یہاں سے عمران ریاض کو خفیہ طور پر ایرانی سرحد پار کرا کے سیستان منتقل کیا گیا، جہاں موساد نے حال ہی میں Node-C4 کے نام سے ایک نیا انٹیلیجنس اسٹیشن قائم کیا تھا۔ اسی مقام پر عمران ریاض کو ایرانی پاسپورٹ پر عمران ناصری کے جعلی نام کے ساتھ نئی شناخت دی گئی۔ صرف 48 گھنٹوں کے اندر اندر، ایک مہربند خفیہ کارگو فلائٹ کے ذریعے اسے تہران سے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ منتقل کیا گیا یہ وہی پرانا طیارہ تھا جو ماضی میں شام اور یمن میں موساد کے اسلحہ ڈراپس کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
تل ابیب کے نواحی علاقے نیتسریم کے باہر واقع ایک موساد سیف ہاؤس میں مکمل ہوا، جہاں عمران ریاض نے لگاتار 13دن قیام کیا۔ یہ سیف ہاؤس، بظاہر ایک عام فارم کی شکل میں، درحقیقت موساد کی نفسیاتی جنگ (PSYOPS) کے لیے مخصوص تربیتی مرکز تھا۔ یہاں اسے سب سے پہلے اسرائیلی سافٹ ویئر BruteForce AI پر خصوصی ٹریننگ دی گئی، جس کا مقصد سوشل میڈیا کے الگورتھمز کو ہائی جیک کر کے مخصوص بیانیہ عام کرنا تھا یعنی نوجوانوں میں اداروں سے بدظنی، مایوسی اور بغاوت کی فضا پیدا کرنا۔
اس تربیت کا ایک اہم جزو لیبیا ماڈل کی تفصیلی اسکریننگ تھی، جس میں قذافی کی کردار کشی پر مبنی بی بی سی اور سی این این کی پرانی ڈاکیومنٹریز بطور نصاب دکھائی گئیں۔ اس ماڈل کو بطور سانچے کے پیش کیا گیا کہ کیسے میڈیا کے ذریعے کسی طاقتور ریاستی علامت کو عالمی برادری کی نظروں میں ظالم بنا کر، اندرونی خلفشار کے ذریعے تباہ کیا جا سکتا ہے بالکل وہی منصوبہ جو پاکستان پر آزمانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
18 مئی 1990 کی رات بھارتی فوج نے کشمیر میں خون سے لت پت نئی نویلی دلہن مبینہ غنی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ۔ وہ ساری رات اس کیساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے۔ مبینہ کی اسی روز رخصتی تھی ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب زندگی نے مبینہ کے سامنے اپنا بدترین روپ عیاں کیا۔ چند گھنٹے پہلے وہ دلہن بنی، مہندی سے سجے ہاتھوں اور آنکھوں میں سپنوں کی کہکشاں بسائے اپنے نئے گھر کی دہلیز پار کرنے کو بے تاب تھی۔ مگر اب اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کس قیامت میں پھنس چکی ہے۔
مبینہ کا تعلق موہری پورہ مقبوضہ کشمیر سے تھا ان کی شادی لیزر۔چاول گام کے عبدالرشید ملک سے طے پائی تھی یہ سارا خاندان بہت خوش تھا۔ بھارتی فورس کی چوکیاں جا بجا قائم ہیں اس لئے شادی بیاہ کے موقع پر پہلے اجازت لینا لازمی ہوتی ہے اور اکثر بھارتی فوج بغیر اطلاع کرفیو نافذ کردیتی ہے جس سے کشمیریوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس روز عبدالرشید ملک جب بارات لیکر آرہے تھے انہوں نے مقامی انتظامیہ سے پیشگی کرفیو پاس لے لیے تھے۔
رات کے تقریباً آٹھ بجے، رشید اپنے قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ ایک بس میں سوار ہوا۔
اس بس کے شیشے دھندلے سے تھے مگر اندر قہقہے اور خوشی کے نغمے سنائی دے رہے تھے۔ مرد حضرات نے دروازے کے پاس بیٹھ کر گرما گرم کشمیری چائے پر گفتگو شروع کردی۔ نوجوان دوست ڈھولکی پر ٹپے لگا رہے تھے اور بیچ بیچ میں جشن کا سماں بنائے ہوئے تھے۔ راستہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، مگر سب کو یقین تھا کہ حکومت کی جانب سے ملے کرفیو پاس انہیں کسی بھی روک ٹوک سے محفوظ رکھیں گے۔
تقریباً نو بجے کے قریب یہ بارات مونی پورہ پہنچ گئی۔ وہاں پہلے سے مبارکبادیاں دینے اور دولہے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے لوگ کھڑے تھے۔ مبینہ کے گھر میں سجی دھجی محفل اور بھی رنگ پکڑ گئی۔ شادی کے لوک گیتوں نے فضا میں رس گھول دیا۔ بڑی بوڑھیوں نے دعائیں دیں، نوجوانوں نے ہنسی مذاق کیا، اور اس سارے منظر میں مبینہ گھونگھٹ کی اوٹ سے کبھی دلہنوں کی طرح شرماتی تو کبھی اپنے ہونے والے شوہر کا عکس دیکھنے کی کوشش کرتی۔ کھانا کھایا گیا، میٹھے پکوان تقسیم ہوئے۔ وقت گزرتا گیا اور سب کو احساس ہوا کہ رات ڈھل رہی ہے۔ کشمیری وادیوں کی رات ویسے بھی اچانک ہی گہری ہو جاتی ہے، پھر اس زمانے میں جہاں جگہ جگہ ناکے لگے ہوں، وہاں دیر تک رکنا کسی طور بھی مناسب نہ سمجھا جاتا تھا۔
ریجنٹ اسٹریٹ کے قریب واقع ایک قدیم عدالتی عمارت کے باہر آج غیر معمولی گہماگہمی تھی۔ برطانیہ کی عدالت میں ایک ہنگامہ خیز کیس کا فیصلہ سنایا جانے والا تھا، جس کے مرکزی کردار تھے: خودساختہ سیاسی مبصر اور یوٹیوب سنسنی بننے والے عادل راجہ، اور دوسرے فریق برگیڈیئر (ر) راشد۔
عدالت کا ماحول بارُعب تھا۔ لکڑی کی کندہ کاری والے بینچز کے درمیان پولیس کی موجودگی بتا رہی تھی کہ معاملہ محض ہتکِ عزت تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ تہہ دار ہو چکا ہے۔
گزشتہ سال اپریل 2024 میں برطانیہ ہی کی اسی عدالت نے عادل راجہ پر دس ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا تھا۔ اُس وقت عادل نے بڑے یقین سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ “عدلیہ کے فیصلے کو چیلنج کریں گے” اور “سچ جلد سامنے آ جائے گا۔” مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ معاملہ صرف اتنا تھا کہ عادل نے برگیڈیئر راشد پر طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگائے اور پاکستان کے خلاف مغلظات بکی تھیں، جن کی وجہ سے برگیڈیئر راشد نے برطانوی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آج اسی مقدمے میں ایک اور مرحلہ سر ہونے والا تھا۔
ایک وقت تھا جب عادل راجہ اپنے یوٹیوب چینل پر صبح شام لمبی لمبی تقریریں کیا کرتا، اپنے آپ کو “حق پرست مجاہد” ثابت کرتا، اور دِن میں کئی کئی وڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا۔ اس کی شہرت چل نکلی تو اس نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچانے کی کوشش میں طرح طرح کے دعوے کیے۔ ہر نئی وڈیو میں مزید سنسنی خیزی اور سازشی نظریات کا تڑکا لگاتا۔ کہتے ہیں کہ اسی دوران اس نے سبین کیانی نامی خاتون سے کسی طرح کا معاہدہ کیا تھا، جو اس کی پشت پر مالی مددگار تھی۔
اِن ہی وڈیوز سے ملنے والا اشتہاراتی ریونیو اور سبین کیانی کی اقتصادی پشت پناہی نے عادل کی زندگی میں ظاہری خوشحالی بھردی۔ وہ کبھی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں رُکنے لگ گیا، کبھی بیرونِ ملک کے چکّر۔ لیکن ہر عروج کو زوال ہے — اور کسی بھی عمارت کی بنیاد جب جھوٹ پر رکھی جائے تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔
برگیڈیئر (ر) راشد، ایک سلجھے ہوئے ریٹائرڈ فوجی افسر، بریگیڈ کی کمان چھوڑ کر لکھنے پڑھنے اور مشاہدے میں مصروف تھے۔ وہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم اور اپنی فوج سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔ جب ان پر عادل نے جھوٹے الزامات لگائے، تو پہلے تو انہوں نے اسے سنجیدہ نہ لیا۔ لیکن جب عادل نے حدود پھلانگتے ہوئے نہ صرف ذاتی کردار کشی کی بلکہ پاکستان کے خلاف بھی بیہودہ زبان استعمال کی، تو برگیڈیئر صاحب نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
شروع میں لوگوں کو حیرت ہوئی کہ ایک پاکستانی فوجی افسر برطانیہ میں مقدمہ کیوں کر دائر کر رہا ہے۔ لیکن برگیڈیئر صاحب کے وکیل نے واضح کیا کہ عادل راجہ برطانیہ میں رہائش پذیر ہے، اور اس نے اپنی تمام ویڈیوز اور پوسٹس اسی دائرۂ اختیار میں تخلیق کی ہیں، لہٰذا برطانیہ کی عدالت ہتکِ عزت کے اس مقدمے کو سن سکتی ہے۔
معید پیرزادہ 27 جولائی 1966 کو راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔اسکول کے دنوں میں اسے دین سے شدید نفرت تھی۔ مسجد کے قریب سے گزرتے ہی اس کے چہرے پر طنز بھرا مسکراہٹ آ جاتی۔ دور طالبعلمی میں Gay کی چھاپ ہو یا امریکہ میں دوست کے گھر میں رہ کر اسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے جیسا مکروہ کام ۔ معید پیرزادہ نے ہمیشہ نیچ پن کی انتہا پر جانے میں کوئی کمی نہیں رکھی ۔ معید پیرزادہ کو جب علامہ اقبال میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تو ان کا اصل کردار کھل کر سامنا آیا اور وہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے یہاں تک کہ 👇
کئی بار اسے اپنے ہی دوستوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا بھی گیا۔ معید نے بعد میں بیرون ملک سے بھی تعلیم حاصل کی مگر قوم لوط کا عمل نہ چھوڑ سکا۔ امریکہ میں قیام کے دوران معید کو قدم قدم پر معاشی اور رہائشی مسائل نے گھیر لیا۔ نہ یہاں کوئی قریبی رشتے دار، نہ کوئی مستقل نوکری کا سامان۔ بس ایک دوست کا سہارا تھا جو برسوں پہلے پاکستان سے تعلق کی بنیاد پر اُس کے ساتھ ہمدردی رکھتا تھا۔ وہ دوست، جس کا نام فرضی طور پر "فراز" ہی کہہ لیجیے، ایک متحرک اور مثبت سوچ رکھنے والا انسان تھا۔ فراز نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ ایک دن امریکہ کی پُرسکون سڑکوں اور آرام دہ ماحول میں بس جائے گا۔ اس نے برسوں محنت کی، چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں، طرح طرح کی مشکلات دیکھی تھیں۔ اب جاکر اُس نے تھوڑا سکون کا سانس لیا تھا اور اپنی محنت سے ایک چھوٹا سا گھر خرید لیا تھا، جو گو کہ حویلی تو نہ تھا، مگر رہنے کے لیے کافی آرام دہ تھا۔
فراز نے بغیر سوچے سمجھے اپنا دستِ تعاون بڑھایا۔ اس نے اسے مالی امداد بھی دی اور رہائش کے لیے عارضی طور پر اپنے گھر میں رہنے کی پیشکش کی۔ فراز کے گھر میں اس کی بیوی رہتی تھیں، جنہیں ہم یہاں داستان میں "سمیرا" کے نام سے پکاریں گے۔ یہ وہی سمیرا تھی جو فراز کے ساتھ محبت کی شادی کے بندھن میں بندھ کر پاکستان سے ہی آئی تھیں اور ایک خوشگوار گھریلو زندگی گزار رہی تھیں۔
ماہرنگ لانگو ایک اوسط درجے کی طالبہ تھی، جس کے اسکول کے نمبرز زیادہ متاثر کن نہیں تھے۔ عام حالات میں، ایسے طلباء کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ تو کیا، حکومتی وظائف (اسکالرشپ) بھی نہیں ملتے۔ لیکن قسمت نے ماہرنگ پر مہربانی کی۔ پاکستان نے بلوچستان میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے اور کمزور تعلیمی کارکردگی کے باوجود، اسے بھی اسکالرشپ دے دی گئی۔
یہ محض ایک تعلیمی موقع نہیں تھا بلکہ اس کے لیے ترقی کی سیڑھی تھی۔ سرکاری اخراجات پر اسے اچھی تعلیم دی گئی، حتیٰ کہ اس کی بہنوں کو بھی ریاست نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ بلوچستان میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جہاں سرکاری اداروں نے ضرورت مند طلباء کو ان کے معاشرتی پس منظر کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنے میں مدد دی۔ لیکن ماہرنگ کا پس منظر ایک عام طالبہ کا نہیں تھا۔
ماہرنگ کا تعلق ایک عام خاندان سے نہیں تھا۔ اس کے والد، غفار لانگو، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ایک متحرک کمانڈر تھے۔ یہ وہی تنظیم تھی جو پاکستان میں دہشت گردی، قتل و غارت، اور انتشار پھیلانے میں مصروف تھی۔ مگر اس حقیقت کے باوجود، ریاست نے ماہرنگ اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ کسی قسم کی تفریق نہیں کی۔
یہ تحریر ہر مسلمان پر پڑھنا فرض ہے اس میں ایسے مستند حقائق ہیں جو ہر مسلمان کو جاننے چاہئیں۔ تاکہ وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہ سکی ۔دجال اس دنیا میں اب تک آنے والے فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ ہوگا ۔ وہ مسیحا کے روپ میں آئے گا ۔ ایک عالمی رہنما بنے گا جو سب سے مقبول ہوگا۔ سوشل میڈیا پر اسی کا راج ہوگا جو دجال کے حق میں بولے گا اس کو ویوز ملیں گے جو دجال کے خلاف جائے گا وہ مشکل سے سروائیو کرسکے گا یہ فتنہ اس قدر خطرناک ہوگا کہ ایمان بچانا مشکل ہوجائے گا۔
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں حقیقت اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔ کچھ وقت میں سچائی وہ نہیں ہوگی جو حقیقت میں موجود ہوگی، بلکہ وہ ہوگی جو دکھائی جائے گی۔ لوگ آنکھوں سے جو دیکھیں گے، وہی سچ مانیں گے، اور جو کچھ ان کی اسکرینوں پر آئے گا، وہی ان کا ایمان بنے گا۔ یہی وہ وقت ہوگا جب ایک ایسا شخص دنیا کے سامنے آئے گا جو خود کو مسیحا کہلائے گا، اور لوگ اس کے سحر میں مبتلا ہو جائیں گے اور 👇
یہ زمانہ ہوگا ڈیجیٹل غلامی کا، جہاں کسی کی مقبولیت، روزی، اور کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ دجال کے حق میں کتنا بولتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک نئی دوڑ شروع ہوگی، جس میں لوگ دجال کی حمایت میں جھوٹے وی لاگز بنائیں گے، جذباتی کہانیاں گھڑیں گے، اور اپنے فالوورز کو یقین دلائیں گے کہ یہی شخص دنیا کا سب سے بڑا رہنما ہے۔
ایک وی لاگر کہے گا: "میں بیمار تھا، کوئی دوا کام نہیں کر رہی تھی، لیکن جب میں نے دجال کی تصویر کو دیکھا اور اس کا نام لیا، تو میں ٹھیک ہو گیا!"
دوسرا کہے گا: "میری زندگی میں غربت تھی، میں بے روزگار تھا، لیکن جیسے ہی میں نے دجال کی حمایت میں ویڈیوز بنانی شروع کیں، میری قسمت بدل گئی۔ ڈالرز کی بارش ہو گئی!"
تیسرا کہے گا: "میں ایک عام انسان تھا، لیکن جب میں نے دجال کے معجزات پر یقین کیا اور انہیں دنیا کے سامنے پیش کیا، تو مجھے شہرت مل گئی۔ آج میں دنیا کا سب سے بڑا انفلوئنسر ہوں!"