My Authors
Read all threads
آج 17 رمضان یعنی یوم الفرقان گزرا، آج کے دن ہی
غزوہِ بدر ( 17 رمضان، 2ھ بروز جمعہ اور ایک روایت کے مطابق 17 یا 19 رمضان، بروز سوموار) رونما ہوا۔

ہجرت سے قبل کفار قریش مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے آزار و اذیت دیتے یہاں تک کہ وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور کئے گئے اور مناسک حج 1/40
بجا لانے سے منع کئے گئے؛ لیکن انہیں خدا کی طرف سے مشرکین قریش کے ساتھ جنگ کی اجازت نہیں تھی اور انہیں فقط صبر کی دعوت دی جاتی تھی۔
مسلمان ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے تو اللہ نے ان پر روا رکھے گئے مظالم کی یادآوری کرائی اور انہیں اذن جہاد عطا کیا۔

غزوہ بدر سے تقریبا ڈیڑھ مہینے 2/40
قبل ایک سریے میں جو حرام مہینے میں عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں، انجام پایا اور مشرکین میں سے ایک شخص ہلاک ہوا اور دو پکڑے گئے نیز قریش کا تجارتی کاروان ضبط کیا گیا۔
قریش اس شکست کو عربوں کے درمیان اپنے لئے خجلت اور شرمندگی کا سبب گردانتے تھے اور سریئے میں ہلاک ہونے والے 3/40
عمرو بن حضرمی کے خون بہاء کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس موضوع نے جنگ بدر کا واقعہ رونما ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔

اللہ نے پیغمبر(ص) کو قریش کے کاروان یا لشکر پر فتح پانے کی غرض سے مدینہ سے باہر نکلنے کا فرمان دیا۔ رسول خدا(ص) نے اس حکم الہی کا اعلان کیا اور یوں مدینہ سے نکل 4/40
گئے۔

پیغمبراکرم(ص) بقول مشہور 12 یا 13 رمضان 313 اصحاب کا لشکر لے کر مدینہ سے نکلے، پہلی منزل میں اپنے لشکر کی تیاریوں کا معائنہ کیا اور چند افراد کو کم سنّی کی وجہ سے مدینہ واپس بھجوایا

ادھر، ابو سفیان جو ابھی عالم کفر میں تھے، کو شام میں اطلاع ملی تھی کہ مسلمان کاروان 5/40
قریش کا سامنا کرنے کی تیار کرچکے ہیں۔ اس نے ایک قاصد مکہ روانہ کیا اور اہلیان مکہ سے درخواست کی کہ اپنے اموال کے بچاؤ کے لئے مدد پہنچائے۔
سارے یا اکثر مکی جو کاروان تجارت میں حصص رکھتے تھے ، خبر سنتے ہی 950 افراد پر مشتمل لشکر میں منظم ہوکر ابو جہل (عمرو بن ہشام مخزومی) کی 6/40
سرکردگی میں بدر کی طرف روانہ ہوئے۔
اس لشکر میں قبیلہ بنو عدی بن کعب کے سوا تمام قبائل شامل ہوئے؛ نیز قریش کے تمام اشراف، سوائے ابو لہب کے، جس نے عاص بن ہاشم کو اپنی جگہ بدر روانہ کیا تھا، لشکر کفار میں شامل ہوئے۔

پیغمبر(ص) متعدد منازل طے کرکے 15 رمضان کو "روحا" کے مقام پر 7/40
پہنچے اور وہاں کے کنویں کے کنارے نماز بجالائے۔بدر کے قریب، جبرائیل نے رسول خدا(ص) کو لشکر قریش کے قریب ہونے کی خبر دی۔ رسول اللہ(ص) نے اصحاب کو مشاورت کے لئے بلایا۔ کچھ نے قریش کے مقابلے میں مسلمانوں کی قوت سے مکمل نا امیدی کا اظہار کیا لیکن مہاجرین میں جناب مقداد نے کہا: 8/40
"اے رسول خدا! ہم قوم یہود کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے موسی سے کہا: بس آپ جائیے اور آپ کا پروردگار اور دونوں لڑ لیجئے۔ ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہم آپ(ص) کے دائیں بائیں اور آگے اور پیچھے لڑیں گے"۔
قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ انصار 9/40
مکمل طور پر رسول اللہ(ص) کے مطیع اور فرمانبردار ہیں۔
رسول خدا(ص) حضرت مقداد اور حضرت سعد کے اظہار خیال سے خوش ہوئے اور فرمایا: "اللہ نے مجھے دو گروہوں (تجارتی کاروان یا مکہ کے بھجوائے ہوئے لشکر) پر فتح و نصرت کا وعدہ دیا ہے۔"
مسلمانوں نے رسول اللہ(ص) کا خطاب سننے کے بعد 10/40
پرچم لہرائے اور روانہ ہوئے اور 17 رمضان بوقت عصر بمقام بدر پہنچے اور حُباب بن منذر، اس کنویں کے کنارے اترے جس کا فاصلہ دشمن سے بہت کم تھا۔ اسی رات بارش آنے کے بموجب رگستانی زمین مسلمانوں کے قدموں کے لئے مستحکم ہوئی جبکہ وہی بارش قریشیوں کے مقام تعیناتی نے دلدل کی سی کیفیت 11/40
کا سبب ہوئی۔

فریق مقابل کی طرف سے ابو سفیان نے احتیاط کے ساتھ بدر کے ایک قریبی علاقے میں پڑاؤ ڈالا اور تحقیقات کے بعد جان گئے کہ مسلمان بدر کی حدود میں ہیں؛ چنانچہ انہوں نے فوری طور پر اپنے کاروان کا راستہ بدل دیا اور ساحل کے راستے سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے۔

تاہم ابو جہل 12/40
نے مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی قوت ثابت کرکے دکھانے کا فیصلہ کرلیا تھا چنانچہ لشکر قریش نے ابوجہل کی ضدّ اور ہٹ دہرمی کی وجہ سے مجبور ہوکر اپنا سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

قریش کا لشکر سپاہ اسلام کی تعیناتی کے بعد بدر میں داخل ہوا اور "عَقَنْقَل" نامی ٹیلے کی پشت پر پڑاؤ 13/40
ڈالا۔
عُمَیر بن وہْب جُمَحی اور ابو اُسامه جُشَمی نے ابوجہل کو خبر دی کہ مسلمانوں کی افرادی قوت مختصر اور ان کے وسائل بہت کم ہیں؛ لیکن یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ جنگ لڑنے اور مارے جانے کے لئے تیار ہیں۔
واقدی نے نقل کیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکیوں کے 14/40
پڑاؤ ڈالنے کے بعد ایک پیغام بھجوا کر انہیں جنگ میں اترنے سے خبردار اور قریش کے ساتھ جنگ کے سلسلے میں اپنے عدم اشتیاق کا اعلان کیا۔

قرآن نے مسلمانوں اور مشرکین کے ٹھکانوں کی واضح تصویر کشی کی ہے:

" جب کہ تم ادھر کی جانب [مدینہ سے قریب تر درے میں] تھے اور وہ ادھر کی جانب 15/40
[مدینہ سے دور تر کنارے پر جن کے درمیان ریت کے ٹیلے تھے] اور قافلہ تم سے نیچے [زیادہ دور اور سمندر کے کنارے] تھا اور اگر تم نے آپس میں وقت مقرر کیا ہوتا تو قطعی طور پر اپنی وعدہ گاہ کے تعین میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجاتا مگر اللہ کو [کفار کی ہلاکت کا] جو وعدہ [بدر میں] 16/40
پورا کرنا تھا وہ پورا کرلیا)"
( سوره توبه، 42)

مسلمانوں نے رسول خدا(ص) کے حکم پر، مسلمانوں کے زیر استعمال کنویں کے سوا، تمام کنؤوں کو مٹی ڈال کر بند کردیا اور لشکر قریش کی خبریں لانے کے لئے اپنے سراغرساں روانہ کئے۔

رسول اللہ(ص) نے حضرت علی (ع) سمیت چند افراد کو اس کنویں 17/40
کی جانب روانہ کیا جو لشکر قریش کے قریب واقع تھا۔ انھوں نے کنویں کے قریب موجود دو قریشیوں کو گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کرکے معلوم ہوا کہ قریش کے سپاہیوں کی تعداد 900 سے 1000 افراد کے درمیان ہے اور قوم کے اکثر اکابرین بھی لشکر میں شامل ہیں اور انھوں نے ریت کے ٹیلوں کی پشت 18/40
پر پڑاؤ ڈالا ہے۔
رسول خدا(ص) نے اس موقع پر فرمایا: "مکہ نے اپنے جگر گوشوں کو تمہاری جانب روانہ کیا ہے"۔

صبح کے وقت پیغمبر(ص) نے اپنے لشکر کی صف آرائی کا اہتمام کیا اور اسی اثناء میں قریش کی سپاہ عَقَنْقَل نامی ٹیلے سے ظاہر ہوئی۔
رسول خدا(ص) نے دیکھا تو بارگاہ احدیت میں 19/40
التجا کی: "اے رب متعال! یہ قریش ہیں جو غرور و تکبر کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے آئے ہیں؛ بار خدایا! میں اس نصرت کا خواہاں ہوں جس کا تو نے مجھے وعدہ دیا ہے! انہیں صبح کے وقت نیست و نابود کردے"۔

رسول خدا(ص) کی سپاہ کی پشت آفتاب کی جانب تھی جب کہ قریشیوں کا 20/40
رخ آفتاب کی جانب تھا۔ قیادت کا پرچم (بنام عقاب) جو صرف اکابرین اور خاص افراد کو ملا کرتا تھا، حضرت علی(ع) کے ہاتھ میں تھا۔

ابتداء میں پیغمبر(ص) نے پیغام بھجوا کر قریش کے ساتھ جنگ اور تقابل کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر کی۔ حکیم بن حزام جیسے بعض افراد نے اس پیغام کو منصفانہ قرار 21/40
دیا اور واپسی کا مطالبہ کیا لیکن ابو جہل کا جنگی جنون اور تکبر آڑے آیا۔

مسلمانوں نے پیغمبر اسلام(ص) کے لئے ایک سائبان بنایا اور سعد بن مُعاذ سمیت انصار کے چند افراد نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی۔
تاہم مسند ابن حنبل میں حضرت علی(ع) سے منقولہ روایت کے مطابق ، جو زیادہ 22/40
تر تاریخی نسخوں میں بھی نقل ہوئی ہے، بدر کے روز رسول خدا(ص) کا ٹھکانا دشمن سے قریب ترین نقطے پر تھا اور جب جنگ میں شدت آجاتی تھی تو مسلمان آپ(ص) کی پناہ میں چلے جاتے تھے۔

دو بدو لڑائی شروع ہونے سے قبل، ابو جہل نے اپنے لشکریوں کے جذبات ابھارنے اور انہیں مشتعل کرنے کی غرض 23/40
سے "عامر حضرمی" کو حکم دیا کہ اپنا سر مونڈ لے اور سر پر مٹی ڈال کر اپنے بھائی عمرو حضرمی کے خون کا مطالبہ کرے۔ مروی ہے کہ: عامر پہلا شخص تھا جو مسلمانوں کی صفوں پر حملہ آور ہوا تاکہ ان کی صفوں کو درہم برہم کرے۔ لیکن حضرت محمد(ص) کے سپاہیوں نے ثابت قدمی دکھائی۔ اور پھر 24/40
ابوجہل نے "عتبہ" اور اسکے بیٹوں "ولید اور شیبہ" کو دوبدو جنگ کیلئے بھیجا۔

رسول خدا(ص) نے اپنے چچا حضرت حمزہ، حضرت علی (ع) اور حضرت عبیدہ بن حارث کو میدان میں بھیجا؛ جناب حمزہ نے عتبہ کو ہلاک کیا اور جناب علی(ع) نے ولید کو اور جناب عبیدہ نے حضرت حمزہ اور حضرت علی(ع) کی مدد 25/40
سے شیبہ کا کام تمام کیا۔

عتبہ، شیبہ اور ولید کے ہلاک ہوجانے کے بعد جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے لیکن اللہ کی غیبی امداد اور مسلمانوں کی شجاعت اور پامردی کے نتیجے میں مشرکین بہت جلد مغلوب ہوئے۔

تواریخ کے مطابق گھمسان کی لڑائی کے دوران، رسول خدا(ص) نے مٹھی بھر ریت اٹھا کر قریشیوں 26/40
کی جانب پھینک دی اور ان پر نفرین کی۔ یہی امر مشرکین کے فرار ہونے اور ان کی شکست و ناکامی کا سبب ہوا۔
قریش کا لشکر اپنا مال و اسباب چھوڑ کر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ گیا اور بعض افراد شکست کی خبر مکیوں کے لئے لے گئے۔

جنگ بدر میں 14 مسلمان شہید ہوئے (جن میں سے 6 کا تعلق 27/40
مہاجرین اور 8 کا تعلق انصار سے تھا) اور مشرکین میں سے 70 افراد ہلاک ہوئے اور اتنے ہی افراد کو قیدی بنایا گیا۔
ابن قتیبہ دینوری نے مشرکین کے مقتولین کی تعداد 50 اور قیدیوں کی تعداد 44 بتائی ہے جن میں سے 35 افراد حضرت علی (ع) کے ہاتھوں مارے گئے۔ دریں اثناء سینکڑوں قریشی 28/40
اطراف کے صحراؤں میں منتشر ہوگئے تھے

رسول خدا(ص) کو ابو جہل کی ہلاکت کی خبر سننے کا انتظار تھا اور آپ(ص) نے اس کو پیشوایان کفر کا سرکردہ اور فرعون امت جیسے خطابات سے نوازا تھا،
چنانچہ آپ(ص) نے اس کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی فرمایا: "اے میرے رب! تو نے مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا 29/40
کرکے دکھایا"
ابو جہل دو نو عمر نوجوانوں "معاذ ‌بن عمرو" اور "معاذ‌ بن عفراء" کے ہاتھوں مارا گیا اور ابھی اس کی جان میں جان تھی جب حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کا سر تن جدا کیا۔

دوسرا شخص، جس پر رسول خدا(ص) نے نفرین کی تھی اور اس کی ہلاکت کے خواہاں تھے، نوفل بن خویلد تھا جو 30/40
حضرت علی (ع) کے ہاتھوں مارا گیا۔ نوفل کی ہلاکت پر رسول اللہ(ص) نے تکبیر کہی اور فرمایا: "خدا کا شکر جس نے میری دعا مستجاب فرمائی۔"۔

جنگ بدر جو نصف روز سے زیادہ جاری نہ رہی، صدر اول کا ایک اہم ترین واقعہ ثابت ہوئی؛ یہاں تک کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا: "کبھی بھی شیطان اتنا 31/40
عاجز اور چھوٹا نہ تھا جتنا کہ روز عرفہ کو عاجز اور چھوٹا ہوجاتا ہے، سوائے یوم بدر کے"۔

مشرکین قریش کے باقیماندہ مال و متاع کو رسول خدا(ص) کے حکم پر اکٹھا کیا گیا اور شہداء کی تدفین اور مشرکین کی لاشین "قَلیب" نامی کنویں میں پھینکنے کے بعد مسلمان مال غنیمت اور قیدیوں کو لے 32/40
کر مدینہ کی طرف چل دیئے۔ مال غنیمت کو بیچ راستے شرکائے جنگ کے درمیان تقسیم کیا گیا۔

دو قیدیوں کو، جو مکہ میں مسلمانوں پر تشدد کے اصل ذمہ دار تھے، راستے میں ہی قتل کی سزا سنائی گئی اور حضرت علی علیہ السلام نے حکم پر فوری طور پر عملدرآمد کیا۔ امیہ بن خلف بھی قید ہونے کے 33/40
پہلے لمحات میں ہی حضرت بلال بن رباح کے ساتھ لڑ پڑا اور حضرت بلال کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا۔ امیہ مکہ میں نہایت وحشیانہ انداز سے جناب بلال پر تشدد کرتا رہا تھا۔

رسول اللہ(ص) کے حکم پر، ابو البختری (عاص بن ہشام) کو شعب ابی طالب میں مسلمانوں کی قلعہ بندی کے دوران قابل قدر خدمات 34/40
کی وجہ سے اور بنو ہاشم کے چند افراد کو جنگ میں جبری شمولیت کی بنا پر، نیز دو یا تین دیگر افراد کو، سزائے موت سے معاف رکھا گیا۔
باقی قیدی مدینہ میں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کئے گئے اور رسول خدا(ص) نے ان کے ساتھ نیک رویہ روا رکھنے کی ہدایت کی۔
بعدازاں عباس بن عبد المطلب سمیت 35/40
زیادہ تر افراد کو فدیہ لےکر رہا کیا گیا اور باقی افراد جو نادار اور پڑھے لکھے تھے، زید بن ثابت اور انصار کے فرزندوں کو پڑھائی لکھائی سکھانے کے عوض رہا ہوئے جبکہ کئی افراد فدیہ ادا کئے بغیر رہا کئے گئے۔

اگر اس غزوہِ کا قرآن کی روشنی میں جائزہ لیں تو قرآن کریم کی سورت آل 36/40
عمران کی آیات 12 اور 13 ور 123 سے 127 میں، سورت نساء کی آیات 77 اور 78 میں اور سورت انفال انفال کی آیات 1 سے 19 تک اور 36 سے 51 تک نیز آیات 67 سے 71 تک، میں غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اس کو یوم الفرقان کا نام دیا گیا ہے۔
ان آیات کریمہ میں مشرکین کے لاحاصل اقدامات کو 37/40
سابقہ اقوام، بالخصوص آل فرعون سے تشبیہ دی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس جنگ میں کفار و مشرکین کی شرکت شیطان کے مکر و فریب کا نتیجہ تھی۔

ارشاد قرآنی کے مطابق بعض مسلمانوں نے جہاد میں شرکت کرنے سے انکار کیا، جبکہ اللہ مسلمانوں کا حامی و ناصر تھا اور اس نے کافروں کے دل 38/40
پر لرزہ طاری کیا اور مسلمانوں کی نظروں میں ان کی تعداد کم دکھائی دی اور اس نے بارش بھیج دی اور دیگر اقدامات کئے اور یوں کامیابی کو مسلمانوں کا مقدر کیا۔ سب سے زیادہ اہم اور زیادہ صریح و روشن یہ کہ بدر کے دن فرشتے مسلمانوں کی مدد کو آئے اور ان کے مسلمانوں کے لئے قوت قلب کا 39/40
Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh.

Enjoying this thread?

Keep Current with 💎 پـیــــــKamilــــــر™

Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

Twitter may remove this content at anytime, convert it as a PDF, save and print for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video

1) Follow Thread Reader App on Twitter so you can easily mention us!

2) Go to a Twitter thread (series of Tweets by the same owner) and mention us with a keyword "unroll" @threadreaderapp unroll

You can practice here first or read more on our help page!

Follow Us on Twitter!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!