1/ 25 محرم الحرام
شھادت امام زین العابدین علیہ السلام

آپ ع بتاریخ 15 جمادی الثانی 38 ھجری یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ پیدا ہوئے.

آپ کا اسم گرامی "علی"، کنیت ابومحمد، ابوالحسن اور ابوالقاسم تھی.
آپ کے القاب بےشمار تھے جن میں زین العابدین، سیدالساجدین، ذوالثفنات، اور سجاد
2/ و عابد زیادہ مشہور ہیں.

امام مالک کا کہنا ہے کہ آپ کو زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہا جاتا ہے.

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو "سجاد" اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ تقریبا ہر کارخیر پر سجدہ فرمایا کرتے تھے. جب آپ خدا کی کسی نعمت کا ذکر کرتے توسجدہ کرتے، جب کلام خدا
3/ کی آیت "سجدہ" پڑھتے تو سجدہ کرتے، جب دو شخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کے مواضع سجود پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑ جاتے تھے پھر انہیں کٹوانا پڑتا تھا.

ملا مبین تحریر فرماتے ہیں کہ آپ حسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے. آپ کے چہرہ مبارک
4/ پرجب کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا.
آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ راہ روی میں آپ کے ہاتھ زانو سے باہرنہیں جاتے تھے.
آپ عبادت کی اس منزل پر فائز تھے جس پرکوئی بھی فائز نہیں ہوا.
حضرت
5/ زین العابدین علیہ السلام نمازشب سفر وحضر دونوں میں پڑھا کرتے تھے. اورکبھی اسے قضا نہیں ہونے دیتے تھے

28 رجب 60 ھ کو آپ حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ پہنچے.
چار ماہ قیام کے بعد وہاں سے روانہ ہوکر 2 محرم الحرام کو وارد کربلا ہوئے.
وہاں
6/ پہنچتے ہی یا پہنچنے سے پہلے آپ علیل ہوگئے اور آپ کی علالت نے اتنی شدت اختیار کی کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت تک اس قابل نہ ہوسکے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت حاصل کرتے.
تاہم جب امام حسین علیہ السلام کی آخری آواز استغاثہ کان میں آئی، آپ اٹھ بیٹھے اورمیدان
7/ کار زار میں شدت مرض کے باوجود جا پہنچنے کی کوشش کی۔ آپ خیمہ سے بھی نکل آئے اور ایک چوب خیمہ لے کر میدان کا عزم کر دیا. ناگاہ امام حسین ع کی نظر آپ پر پڑ گئی اور پھر حکم امام سے بی بی زینب س نے سید سجاد (ع) کو میدان میں جانے سے روک لیا۔ امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ مرض اور
8/ علالت کی وجہ سے آپ درجہ شہادت پر فائز نہ ہوسکے.

شہادت امام حسین ع کے بعد جب خیموں میں آگ لگائی گئی تو آپ انہیں خیموں میں سے ایک خیمہ میں بدستور پڑے ہوئے تھے، ہماری ہزارجانیں قربان ہو جائیں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر کہ انہوں نے اہم فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سب سے
9/ پہلا فریضہ امام زین العابدین علیہ السلام کے تحفظ کا ادا فرمایا اور امام کو بچا لیا.

الغرض رات گزاری اورصبح نمودار ہوئی، دشمنوں نے امام زین العابدین کو اس طرح جھنجوڑا کہ آپ اپنی بیماری بھول گئے. آپ سے کہا گیا کہ ناقوں پر سب کو سوار کرو اور ابن زیاد کے دربار میں چلو، سب کو
10/ سوار کرنے کے بعد آل محمد کا ساربان پھوپھیوں، بہنوں اور تمام مخدرات کو لئے ہوئے داخل دربار ہوا.

حالت یہ تھی کہ عورتیں اور بچے رسیوں میں بندھے ہوئے اور امام لوہے میں جکڑے ہوئے دربارمیں پہنچ گئے. آپ چونکہ ناقہ کی برہنہ پشت پرسنبھل نہ سکتے تھے اس لیے آپ کے پیروں کوناقہ کی پشت
11/ سے باندھ دیا گیا تھا.

دربارکوفہ میں داخل ہونے کے بعد آپ اور باقی خانوادہ رسول ع قیدخانہ میں بند کر دئیے گئے، سات روز کے بعد آپ سب کو لئے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے اور 19 منزلیں طے کر کے تقریبا 36 یوم میں وہاں پہنچے.

حدود شام کا ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں
12/ ہتھکڑی، پیروں میں بیڑی اور گلے میں خاردار طوق آہنی پڑا ہوا تھا، لوگ آپ پر پتھر برسا رہے تھے اسی لیے آپ نے بعد واقعہ کربلا ایک سوال کے جواب میں "الشام الشام الشام" فرمایا تھا.

شام پہنچنے کے کئی گھنٹوں یا دنوں کے بعد آپ آل محمد کو لئے ہوۓ سرہائے شہداء سمیت داخل دربار ہوئے
13/ پھر قیدخانہ میں بند کر دیئے گئے تقریبا ایک سال قید کی مشقتیں جھیلیں.

قیدخانہ بھی ایسا تھا کہ جس کی سختی نے ان لوگوں کے چہروں کی کھالیں متغیر کر دی تھیں.

مدت قید کے بعد آپ سب کو لئے ہوئے 20 صفر 62 هجری کو وارد ہوئے آپ کے ہمراہ سرحسین بھی کر دیا گیا تھا، آپ نے اسے اپنے
14/ پدربزرگوار کے جسم مبارک سے ملحق کیا.

8 ربیع الاول 62 ھجری کو آپ امام حسین کا لٹا ہوا قافلہ لئے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، وہاں کے لوگوں نے آہ وزاری اور کمال رنج وغم سے آپ کا استقبال کیا. 15 شبانہ و روز نوحہ و ماتم ہوتا رہا.

اس عظیم واقعہ کا اثر یہ ہوا کہ زینب کے بال اس طرح
15/ سفید ہوگئے تھے کہ جاننے والے انہیں پہچان نہ سکے. بی بی رباب نے سایہ میں بیٹھنا چھوڑ دیا.
امام زین العابدین تاحیات گریہ فرماتے رہے.
اہل مدینہ یزید کی بیعت سے علیحدہ ہو کر باغی ہو گئے بالآخر واقعہ حرہ کی نوبت آ گئی.

10 محرم 61هجری کا واقعہ، جس میں اٹهارہ (18) بنی ہاشم اور
16/ بہتر (72) اصحاب و انصار شہید ہوئے اور اس واقعہ کربلا کے بعد چالیس سال تک امام سجاد (ع) کبھی تو اپنے مظلوم بابا حضرت امام حسین(ع) کی شہادت اور سانحہ کربلا کے مصائب پر گریہ کرتے، کبھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے اور کبھی اپنے کردار و عمل کے ذریعے
17/ لوگوں کو ہدایت کے راستے کی رہنمائی کرتے۔

حضرت امام سجاد(ع) کے طرز عمل سے لوگوں کو امام حسین(ع) اور اہل بیت رسول(ص) کی مظلومیت سے آگاہی مل رہی تھی، نسل در نسل اہل بیت کے حقوق کو غضب کرنے والوں کے اصل چہرے لوگوں پہ عیاں ہو رہے تھے، لوگوں کے دلوں پہ اہل بیت کا اقتدار مضبوط
18/ سے مضبوط تر ہو رہا تھا۔

اور یہی وہ بات تھی جس نے دشمنان اہلبیت کے لیے حضرت امام سجاد(ع) کے مقدس وجود کو خطرہ بنا دیا تھا اور وہ نبوت کی نیابت میں جلنے والی اس شمعِ امامت کو بجھانے کے درپے ہو گئے، اور پھر ایک کھانے میں زہر ملا کر حضرت امام سجاد(ع) کو کھلا دیا گیا۔

جب امام
19/ سجاد(ع) کے بدن میں زہر سرایت کر گیا اور آپ کو اپنی شہادت کا یقین ہو گیا تو آپ(ع) اپنے بیٹے امام محمد باقر(ع) کو اپنے پاس بلایا اور انھیں چند وصیتیں فرمائی اور پھر فرمایا:
اے میرے فرزند آگاہ ہو جاؤ، میں عنقریب تم سے جدا ہونے والا ہوں، اور موت قریب آ چکی ہے۔

امام محمد
20/ باقر(ع) فرماتے ہیں کہ میرے بابا نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا:
اے میرے فرزند! میں تمہیں وہ وصیتیں کرنا چاہتا ہوں جو میرے بابا نے مجھے اس وقت کی تھیں جب ان کی وفات کا وقت قریب آ گیا تھا
پھر امام نے کچھ وصیتیں فرمائی، جن میں یہ وصیت بھی تھی کہ:
اے بیٹا! خبردار کسی
21/ ایسے پر ظلم نہ کرنا جس کا خدا کے علاوہ کوئی مددگار نہ ہو۔

وصیتیں کرنے کے بعد تین مرتبہ امام سجاد(ع) پر غش طاری ہوا، پھر آنکھیں کھول کر امام سجاد(ع) نے یہ پڑھا:
اذا وقعت الواقعۃ
انا فتحنا لک فتحا مبینا
پھر فرمایا:
تمام تعریفیں اس معبود کے لیے ہیں کہ جس نے ہم سے کیا ہوا
22/ وعدہ سچ کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث قرار دیا، ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں، تو اچھے عمل کرنے والوں کا اجر کتنا ہی اچھا ہے۔

اس کی بعد امام سجاد(ع) کی روح پرواز کر گئی اور امام سجاد(ع) نے انتہائی مظلومیت کے عالم میں 25محرم الحرام 94 ہجری کو شہادت پائی۔

حوالہ جات:
23/ تاریخ طبری ج5، مقتل و اسیر، تاریخ کربلا، ناسخ تواریخ اور بہت سے آرٹیکلز

#پیرکامل
#قلمکار

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with 💎 پـیــــــKamilــــــر™

💎 پـیــــــKamilــــــر™ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Peer_Kamil_

13 Sep
1/ جناب جون بن حویؑ کا تعلق حبشہ سے تھا۔ آپ نے اسلام کی پہلی ہجرت کے بعد نجاشی کے دور میں اسلام قبول کیا اور بعد ازاں آپ رسول اللہؐ کی خدمت میں مدینہ آگئے۔ ان کے بعد امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے پاس رہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے حضرت جون کو ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے
2/ سپرد کر دیا اور یہاں سے جون اور ابوذر غفاری رض کی بہترین دوستی کا آغاز ہوا۔
حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ گزرے وقت کی وجہ سے جون کی امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کے ساتھ قلبی وابستگی پہلے ہی قائم ہو چکی تھی، ابوذر غفاری کا ساتھ ملنے پر محمدؐ و آل محمد علیہم
3/ السلام سے وابستگی مزید پختہ ہوتی چلی گئی۔

جب امام حسین علیہ السلام بیعت طلبی کے بعد مدینہ چھوڑ رہے تھے اس وقت جون کی عمر 70 ( یا کچھ روایات کے مطابق 95) برس ہو چکی تھی اور کمر میں خم پڑ چکا تھا مگر پھر بھی امام حسین علیہ السلام کے حضور پیش ہوئے اور اُن کا ساتھ دینے کے لیے
Read 8 tweets
7 Sep
1/ پچھلے دنوں ایک پوسٹ پڑھی جس میں شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے بعد امام حسین علیہ السلام کے کٹے ھوئے سر مبارک کا نوک نیزے پر قرآن پڑھنے کا ذکر تھا
یہ ذکر میں پہلے بھی کئ بار سن چکا تھا اور ہر بار کچھ سوال ذہن میں ابھرتے کہ
کیا یہ فقط مکتبِ تشیع کا گھڑا ھوا قصہ اور افسانہ
2/ ھے؟
کیا اسکا ذکر کتبِ اھلسنت میں بھی نقل ھوا ھے یا نہیں؟

دو دن پہلے کسی نے مجھ سے یہی سوال پوچھا تو تحقیق سے آشکار ہوا
امام حسین علیہ السلام کے سر کا نوکِ نیزہ پر قرآن پڑھنا یہ تاریخِ کربلا میں ایسی واضح بات ھے کہ جسکو علماءِ اھلسنت نے بھی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ھے۔

ابن
3/ عساكر كتاب "تاريخ مدينہ دمشق" میں لکھتے ہیں کہ
سلمہ بن کہیل کہتت ہیں کہ میں نے حسینؑ ابن علیؑ کے سر کو نیزے پر دیکھا ھے وہ یہ آیت پڑھ رہا تھا، "فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم۔"
(تاريخ مدينة دمشق ابن عساكر، ج22، ص117)

اسی طرح ابن عساكر نے اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ لکھا ھے
Read 8 tweets
4 Sep
1/ محرم الحرام کامہینہ شروع ہوتے ہی ہر مسلمان کے دل و دماغ میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے پاکیزہ خانوادہ پر یزیدیوں کے ظلم و ستم کی دردناک داستانیں تازہ ہو جاتی ہیں۔

بد قسمتی سے کچھ کلمہ گو مگر دشمنان آل بیت وہ بھی ہیں جو یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ
2/ "امام حسین علیہ السلام نے اقتدار کے حصول یا عظمت و سطوت کے لالچ میں یزید کی بیعت نہیں کی اور اس سے برسر پیکار ہوئے، جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت ہوئی"۔
جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علی ع کی شہادت کے بعد خلافت کے امور حضرت امام حسن ع کے
3/ سپرد ہوئے۔ آپ نے چھ ماہ تک یہ فرائض سرانجام دیئے۔ بعد ازاں آپ نے از خود ایک معاہدہ کے تحت یہ اقتدار امیر معاویہؓ کے سپرد کردیا تھا۔

اس وقت حضرت امام حسین ع عالم شباب میں تھے۔ اگر اقتدار کی خواہش ہوتی تو اپنے بھائی سے گزارش کر کے لے لیتے۔ لیکن کسی ایک روایت میں بھی آپ
Read 18 tweets
29 Aug
1/ شب عاشور کب نو محرم کا دن ڈھل چکا تھا اور رات چھاگئی تو امام حسین(ع)نے اپنے اصحاب کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
"میں نہیں جانتا کسی کو جو میرے اصحاب سے زيادہ وفادار اور بہتر ہوں اور میں نہیں جانتا کسی کو جو میرے خاندان سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور نیکو کار
2/ ہو، اور چونکہ کل جنگ کا دن ہے چنانچہ میری طرف سے تم پر کوئی ذمہ نہیں ہے میں نے اپنی بیعت تم سے اٹھا دی، پس میں اجازت دیتا ہوں کہ رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر اپنا راستہ لو اور چلے جاؤ۔"

امام(ع) کا کلام اختتام پذیر ہوا تو اصحاب و انصار یکے بعد دیگر اٹھے اور آپ کا ساتھ
3/ دینے پر زور دیتے ہوئے اپنی بیعت کی پابندی اور آپ سے مکمل وفاداری پر زور دیا اور آپ کے ساتھ بیعت میں ثابت قدمی کے سلسلے میں اظہار خیال کیا۔

سب سے پہلے ابوالفضل العباس(ع) اٹھے اور ان کے بعد ان کے سگے بھائی اور اہل بیت رسول(ص) کے دوسرے نوجوانوں نے ان کی پیروی کرتے ہوئے
Read 17 tweets
29 Aug
1/ 9 محرم الحرام (جمعرات) کی صبح پانی ختم ہوچکا تھا اور امام حسین علیہ السلام نے حضرت عباس ع کو کنواں کھودنے کا حکم دیا لیکن پانی بر آمد نہ ہوا۔
تھوڑی دیر کے بعد امام حسین ع نے بچوں کی حالت کے پیشِ نظر پھر عباس ع سے کنواں کھودنے کی فرمائش کی، آپ نے سعی بلیغ شروع کردی۔

جب
2/ بچوں نے کنواں کھدتا ہوا دیکھا تو سب کوزے لے کر آپہنچے۔ ابھی پانی نکلنے نہ پایا تھا کہ دشمنوں نے آکر اسے بند کر دیا۔ دشمنوں کو دیکھ کر بچے خیموں میں جا چھپے۔

پھر تھوڑی دیر کے بعد حضرت عباس (ع) نے کنواں کھودا وہ بھی بند کر دیا گیا- یہاں تک کہ چار کنویں کھودے اور پانی حاصل
3/ نہ کر سکے۔ اس کے بعد امام حسین (ع) ایک ناقہ پر سوار ہوکر دشمن کے قریب گئے اور اپنا تعارف کرایا لیکن کچھ نہ بنا۔

مورخین لکھتے ہیں کہ نویں تاریخ کو شمر کوفہ واپس گیا اور اس نے عمر ابن سعد کی شکایت کرکے ابن زیاد سے ایک سخت حکم حاصل کیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ اگرحسین (ع) بیعت
Read 23 tweets
24 Aug
1/ 4 محرم الحرام کی صبح عمر سعد نے اپنے لشکر کے کمانڈروں کو بلایا اور ان سے امام حسین علیہ السلام اور ابن زیاد ملعون کے بارے مشورہ کیلٸے ایک میٹنگ کی۔
باتیں ہو رہی تھیں اور عمر سعد امام حسین علیہ السلام کے بے قصور ہونیکی بات کر رہا تھا۔

دورانِ میٹنگ اچانک کوفہ سے ابن زیاد
2/ ملعون کا قاصد آ پہنچا اور عمر سعد کے خط کا جواب لایا۔
جونہی سعد نے زیاد ملعون کے خط کا مضمون پڑھا تو بہت پریشان ہو گیا اور اپنی گفتگو جو لشکر کے کمانڈروں سے کر رہا تھا اس میں شرمندہ ہونے لگا۔

عمر سعد سوچنے لگا کہ فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی صورت میں یزید کی
3/ اطاعت نہ کرینگے اور میں فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑنا بھی نہیں چاہتا اور دوسری طرف رَے کی حکومت کو بھی نہیں چھوڑ سکتا۔

عمر سعد ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کوفہ سے ایک اور قاصد آ پہنچا اور ابن زیاد ملعون کا دوسرا خط دیا۔
اسکا مضمون کچھ یوں تھا:
"اے ابن سعد!
میں
Read 12 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!