"ریپ" کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے
اسلام سے پہلے کی تقریباً تمام بڑی طاقتیں اور افواج اس قبیح اور غیر انسانی فعل کی مرتکب رہی ہیں
اسلام نے مگر جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بہترین انسانی معیارات مقرر کئے وہیں جنگی قوانین میں بھی بے شمار مثبت تبدیلیاں🔻
کیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ کے دوران بوڑھوں،بچوں،عورتوں،درختوں،کھڑی فصلوں اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کیا
بعد میں خلفائے راشدین نے اس کی مکمل پیروی کی
سینکڑوں جنگوں اور معرکوں میں کوئی ایک بھی انسانی المیہ جنم نہ لے سکا
اگر کچھ سپہ سالاروں سے کہیں غلطی ہوئی🔻
تو فوراً انکوائری کی گئی اور جو قصوروار پایا گیا اسے قرار واقعی سزا دی گئی
قوانین اتنے موثر تھے کہ دوران جنگ حضرت خالد بن ولید جیسے بے مثال سپہ سالار سے خدمات واپس لے لی گئیں
مسلمانوں کا یہ حسن سلوک عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے خوشگوار حیرت کا باعث بنا اور وہ جوق در 🔻
جوق حلقہ بگوش اسلام ہوتے گئے
اسلامی سنہری جنگی قوانین کی پامالی کا آغاز امیر شام حضرت معاویہ نے کیا جب انہوں نے اسلامی خلافت کے خلاف بغاوت کر دی۔ انہوں نے تقریباً ساٹھ جید صحابہ کو قتل کروایا اور مولا علی علیہ السلام کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
حضرت عثمان غنی رضی 🔻
اللہ عنہ کے قتل کے بعد یہ اسلامی سلطنت کو دوسرا بڑا دھچکا تھا
جنگ صفین میں بھی حضرت معاویہ کی شامی افواج نے اسلامی جنگی ضابطوں کی ذرا پرواہ نہ کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی کھلی نافرمانی کی
مولا علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہو تو🔻
اسلامی جنگی قوانین یکسر ختم کر دئیے گئے
معمولی اختلاف پر مخالفین کا قتل عام رواج ہو گیا
بہت سے صحابہ اور تابعین کو مساجد میں قتل کر دیا گیا
معاویہ کے بعد جب حکومت یزید کو منتقل ہوئی تو رہی سہی کسر بھی نکل گئی
یزید کا ایک سیاہ کارنامہ تو کربلا میں محض بہتر افراد کیلئے چوبیس ہزار🔻
سپاہیوں پر مشتمل فوج کو بھیجنا ہے
پھر امام عالی مقام علیہ الصلواۃ والسلام کی شہادت کے بعد عورتوں اور بچوں پر بدترین مظالم ڈھانا ہے
حتی کہ بیماری کی حالت میں سیدنا زین العابدین علیہ السلام کو بیڑیاں پہنا کر پیدل چلایا گیا
یزید کا دوسرا بڑا جرم مدینہ منورہ پہ حملہ ہے
جسے اسلامی🔻
تاریخ میں "واقعہ حرہ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
اس میں یزید پلید نے سفاکیت اور بربریت کے وہ مظاہرے کئے کہ آسمان کانپ اٹھا
یہی وہ بدبخت تھا جس نے اسلامی تاریخ میں پہلی بار ریپ کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا
اور مدینہ شریف کی مظلوم عورتوں کا اپنے شامی فوجیوں سے ریپ کروایا
🔻
امام مسلم، امام بخاری اور امام ترمذی اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ تین دن تک مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے گئے
مدنی عورتوں کو مسجد میں لا لا کر ان کا ریپ کیا گیا
یہاں تک کہ ایک ہزار کے قریب مدینہ منورہ کی خواتین حاملہ ہو گئیں
تین دن مسجد نبوی میں اذان اور نماز کا سلسلہ بند رہا🔻
یزید نے ہر وہ ظلم اہل مدینہ پہ ڈھایا جو وہ ڈھا سکتا تھا
یزید کے علاؤہ اسلامی تاریخ میں بہت کم ایسی بربریت دیکھنے کو ملی ہے
1971کی جنگ میں پاک فوج پر بھی ریپ کے الزامات لگے جو کہ درحقیقت مکتی باہنی کے لوگوں نے پاک فوج کی وردیاں پہن کر کئے
حالیہ عراق،لیبیا اور شام کی جنگوں میں🔻
داعش نے یزید کی سنت کو زندہ کیا اور ہزاروں لڑکیوں کو اغوا کر کے ان سے زبردستی شادیاں کیں
جو راضی نہ ہوئیں ان سے اجتماعی زیادتی کی گئی
ستر سالوں سے بھارت بھی مقبوضہ کشمیر میں ریپ کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے
جب تک خلافت راشدہ کا دور واپس نہیں آتا
یہ غیر انسانی وحشت 🔻
مختلف شکلوں میں یونہی جاری رہے گی

نوٹ: اس تحریر کا موضوع "ریپ بطور جنگی ہتھیار" ہے
تمام مواد مستند اور تاریخی کتب سے لیا گیا ہے
اسے فرقہ واریت کی عینک سے نہ پڑھا جائے
شکریہ !!

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Roy Mukhtar Ahmad

Roy Mukhtar Ahmad Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @roymukhtar

13 Sep
رافضیت،خوارجیت اور ناصبیت یہ عالم اسلام کے اندر خوفناک فتنے ہیں
یہ تینوں آل یہود کے تخلیق کردہ ہیں
ان کا مشترکہ مقصد امت مسلمہ میں انتشار اور نااتفاقی پیدا کرنا ہے تاکہ مسلمان متحد ہو کر کبھی کفار کا مقابلہ نہ کر سکیں
تا حال کفار اس میں انتہائی کامیاب ہیں
ان کی کامیابی کی بڑی🔻
وجہ مسلمانوں میں دولت کا لالچ اور غداری کا نمایاں عنصر ہے
رافضیت زیادہ تر اہل تشیع میں پائی جاتی ہے جبکہ خوارجیت اور ناصبیت اہل سنت کے تینوں بڑے گروہوں یعنی وہابیوں،بریلویوں اور دیوبندیوں میں پائی جاتی ہے
حالیہ دہشت گردی کی بڑی لہر جس کا مسلم امہ کو سامنارہا یہ خوارج کا کام تھا🔻
اگلا بڑا فتنہ مگر ناصبی ہیں
اہلسنت بریلوی مکتب فکر کی دو بڑی جماعتوں میں ناصبی گھس چکے ہیں
اور انہیں کثیر بیرونی امداد حاصل ہے
اہلسنت کا دوسرا بڑا گروہ دیوبند مکتب فکر کا ایک بڑا حصہ خوارج نے ہائی جیک کر لیا ہے اور دوسرے بڑے حصے پہ پہلے ہی ناصبیت کا قبضہ ہے
جبکہ وہابیت کا 🔻
Read 16 tweets
15 Aug
ترکی نے بھی اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے
یہ بات عام سننے کو مل رہی ہے
چند حقائق کو جان لیں پھر اس پہ تبصرہ کریں !
اسرائیل ستمبر 1948میں قائم ہوا
ترکی نے اسے 1949میں تسلیم کر لیا
کیسے؟
ترکی اس وقت معاہدہ لوزان کے مطابق ایک مسلم نہیں بلکہ سیکولر ملک تھا
ترکی اس وقت ایک مرد بیمار🔻
جیسا تھا جسے یورپ کی شرائط ہر صورت ماننا پڑتی تھیں
اسرائیل کا اصل تنازعہ عربوں سے تھا اور آل سعود اس وقت بھی اسرائیل کے حمایتی تھے
ترکی کا براہ راست اسرائیل سے کوئی جھگڑا نہیں تھا
ترکی نے مگر اسرائیل کو بطور ایک جمہوری ریاست کے کبھی تسلیم کیا نہ ہی اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ🔻
کھولا
رجب طیب کی حکومت آنے کے بعد ترکی نے اسرائیل کو باقاعدہ دھمکیاں دے کر اس کی اوقات میں رکھا ہے
ترکی اب بھی فلسطینیوں کا پرجوش حامی اور حمایتی ہے
ایاصوفیہ کے افتتاح پہ طیب اردوگان نے باقاعدہ اعلان کیا کہ اگلی باری مسجد اقصی کی ہے
کیا کوئی عرب ملک اسرائیل کے خلاف ایسی بات کر🔻
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!