Muddassar Rashid Profile picture
Sep 14, 2020 56 tweets 12 min read Read on X
موت کے وقت ایسی علامات جو انسان کے اچھے یا برے ہونے پر دلالت کرتی ہیں

سوال: قرب الموت سے لیکر مرنے کے بعد تک کی وہ کون سی علامات ہیں جو میت کے نیک یا برے ہونے پر دلالت کرتی ہیں؟

الجواب وباللہ التوفق

👇
حسن خاتمہ يہ ہے كہ: بندے كو موت سے قبل ايسے افعال سے دور رہنے كى توفيق مل جائے جو اللہ رب العزت كو ناراض اورغضبناك كرتے ہيں، اور پچھلے كيے ہوئے گناہوں اور معاصى سے توب و استغفار كى توفيق حاصل ہوجائے، اور اس كے ساتھ ساتھ اعمال خير كرنا شروع كردے، تو پھر 👇
اس حالت كے بعد اسے موت آئے تو يہ حسن خاتمہ ہوگا. اس معنى پر دلالت كرنے والى مندرجہ ذيل صحيح حديث ہے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

"جب اللہ تعالى اپنے بندے سے خير اور بھلائى چاہتا ہے تو اسے استعمال كرليتا ہے."

تو 👇
صحابہ كرام رضى اللہ عنہم نے عرض كيا: اسے كيسے استعمال كر ليتا ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

"اسے موت سے قبل اعمال صالحہ كى توفيق عطا فرما ديتا ہے."

👇
مسند احمد حديث نمبر (11625) جامع ترمذى حديث نمبر (2142) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر (1334) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب اللہ تعالى كسى بندے كےساتھ خير اور بھلائى كا ارادہ كرتا ہے تو اسے توشہ ديتا ہے."👇
كہا گيا كہ: اسے كيا توشہ ديتا ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس كى موت سے قبل اللہ تعالى اس كے ليےاعمال صالحہ آسان كر ديتا ہے، اور پھر ان اعمال صالحہ پر ہى اس كى روح قبض كرتا ہے."

مسند احمد حديث نمبر ( 17330 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے 👇
السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر ( 1114 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور حسن خاتمہ كى كئى ايك علامات بھى ہيں، جن ميں كچھ تو مرنے والا موت كے قريب جان ليتا ہے، اور كچھ ايسى بھى ہيں جو لوگوں كے ليے بھى ظاہر ہو جاتى ہيں:
👇
دوم:

حسن خاتمہ كى وہ علامتيں جو مرنے والے كے ليے ظاہر ہو جاتى ہيں، ان ميں سے ايك تو يہ ہے كہ اسے موت كے وقت اللہ تعالى كى رضامندى و خوشنودى كى خوشخبرى دى جاتى ہے، اور اللہ تعالى كے فضل و كرم سے وہ عزت و تكريم كا استحقاق حاصل كرتا ہے.

جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:
👇
واقعى جن لوگوں نے كہا ہمارا پروردگار اللہ ہے، اور پھر اسى پر قائم رہے ان كے پاس فرشتے ( يہ كہتے ہوئے ) آتے ہيں كہ تم كچھ بھى انديشہ اور غم نہ كرو بلكہ اس كى جنت كى بشارت سن لو جس كا تم سے وعدہ كيا جاتا رہا ہے فصلت ( 30 ).

تو يہ بشارت مومنوں كو ان كى موت كے وقت ملتى ہے. ديكھيں👇
: تفسير ابن سعدى (1256). اور اس معنى پر مندرجہ ذيل حديث بھى دلالت كرتى ہے: ام المومنين عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

"جو شخص اللہ تعالى سے ملاقات كرنا پسند كرتا ہے، اللہ تعالى بھى اس سے ملنا پسند كرتا، اور 👇
جو شخص اللہ تعالى سے ملنا ناپسند كرتا ہے، تو اللہ تعالى بھى اس سے ملنا ناپسند كرتا ہے."

ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كيا موت كو ناپسند كرتے ہوئے، پھر تو ہم سب موت كو ناپسند كرتے ہيں؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
👇
" معاملہ ايسا نہيں، ليكن جب مومن شخص كو اللہ تعالى كى رحمت اور اس كى رضامندى و خوشنودى اور اس كى جنت كى خوشخبرى ملتى ہے تو وہ اللہ تعالى كى ملاقات سے محبت كرنے لگتا ہے، اور بلا شبہ جب كافر شخص كو اللہ تعالى كے عذاب اور اس كى ناراضگى كى خبر دى جاتى ہے تو 👇
وہ اللہ تعالى كى ملاقات كو ناپسند كرنے لگتا ہے، اور اللہ تعالى بھى اس سے ملنے كو ناپسند كرتا ہے."

صحيح بخارى حديث نمبر (6507) صحيح مسلم حديث نمبر (2683)

👇
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

(اس حديث كا معنى يہ ہے كہ: وہ محبت اور كراہيت جس كا شرعى طور پر اعتبار كيا جاتا ہے وہى حالت نزع كے وقت واقع ہوتى ہے جس حالت ميں توبہ قبول نہيں ہوتى، كہ اس وقت قريب المرگ شخص كے سامنے سارى حالت ظاہر ہو جاتى ہے، اور 👇
جس كى طرف وہ جانے والا ہوتا ہے وہ اس كے سامنے ظاہر ہوچكا ہوتا ہے).

اور حسن خاتمہ كى علامات تو بہت زيادہ ہيں، علماء رحمہم اللہ تعالى نے اس بارہ ميں وارد شدہ نصوص كو سامنے ركھتے ہوئے ان كا تتبع بھىكيا ہے، ان علامات ميں سے چند درج ذيل ہيں:

👇
1 - موت كے وقت كلمہ شھادت پڑھنا، اس كى دليل نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے:

" جس شخص كى آخرى كلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت ميں داخل ہو گيا"

سنن ابو داود حديث نمبر (3116) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابوداود حديث نمبر ( 2673 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
👇
2 - پيشانى كے پسينے سے موت آنا:

يعنى اس كى موت كے وقت پيشانى پر پسينے كے قطرے ہوں، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

بريدہ بن الحصيب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

"مومن كى موت پيشانى كے پسينے سے ہوتى ہے."
👇
مسند احمد حديث نمبر (22513) جامع ترمذى حديث نمبر (980) سنن نسائى حديث نمبر ( 1828 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

👇
3 - جمعہ كى رات يا دن ميں موت آنا:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

"جو شخص بھى جمعہ كى رات يا جمعہ والے دن فوت ہوتا ہے اللہ تعالى اسے قبر كےفتنہ سے محفوظ ركھتا ہے"

مسند احمد حديث نمبر (6546) جامع ترمذى حديث نمبر (1074) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: يہ 👇
حديث اپنے سب طرق كے ساتھ حسن يا صحيح ہے.

4 - اللہ تعالى كى راہ ميں لڑتے ہوئے موت آنا:

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے: جو لوگ اللہ تعالى كى راہ ميں شہيد كيے گئے ہيں ان كو ہرگز مردہ نہ سمجھيں، بلكہ وہ زندہ ہيں اپنے رب كے پاس رزق ديے جارہے ہيں، اللہ تعالى نے جو 👇
انہيں اپنا فضل دے ركھا ہے اس سے وہ بہت خوش ہيں اور خوشياں منا رہے ہيں، ان لوگوں كى بابت جو اب تك ان سے نہيں ملے، ان كے پيچھے ہيں، اس پر كہ نہ انہيں كوئى خوف ہے اور نہ غمگين ہونگے، وہ خوش ہوتے ہيں اللہ تعالى كى نعمت اور فضل سے اوراس سے بھى كہ اللہ تعالى ايمان والوں 👇
كےاجرو ثواب كو ضائع نہيں كرتا آل عمران (169 - 172).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

"جو اللہ تعالى كى راہ ميں قتل كرديا گيا وہ شہيد ہے، اور جو اللہ تعالى كى راہ ميں فوت ہوا وہ شہيد ہے." صحيح مسلم حديث نمبر (1915).

5 - طاعون كى بيمارى سے موت واقع ہونى:

👇
كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" طاعون ہرمسلمان كے ليے شھادت ہے."

صحيح بخارى حديث نمبر (2830) صحيح مسلم حديث نمبر (1916)

اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى زوجہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے 👇
طاعون كے متعلق دريافت كيا تو انہوں نے مجھے بتايا كہ: " يہ اللہ تعالى كا عذاب ہے جس پر چاہے اللہ تعالى مسلط كردے، اور اللہ تعالى نے اسے مومنوں كے ليے رحمت كا باعث بنايا ہے، جو كوئى بھى طاعون كى بيمارى ميں پڑ جائے اور پھر وہ صبر اور اللہ تعالى سے اجروثواب كى اميد ركھتے ہوئے 👇
اپنے علاقے ميں ہى رہے، اسے يہ علم ہو كہ اسے وہى تكليف پہنچ سكتى ہے جو اللہ تعالى نے اس كے مقدر ميں لكھ دى ہے، تو اسے شہيد جتنا اجروثواب حاصل ہوگا." صحيح بخارى حديث نمبر (3474).

6 - پيٹ كى بيمارى سے موت واقع ہونا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
👇
"اور جو پيٹ كى بيمارى سے فوت ہوا وہ شھيد ہے."

صحيح مسلم شريف حديث نمبر (1915).
👇
7 - ڈوبنے اور منہدم شدہ كے نيچے دب كر موت واقع ہونا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

"شھيد پانچ قسم كے ہيں: طاعون كى بيمارى سے فوت ہونےوالا، اور پيٹ كى بيمارى سے فوت ہونے والا، اور پانى ميں غرق ہونے والا، اور دب كر مرنے والا، اور اللہ تعالى كى راہ ميں👇
شھيد ہونے والا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2829 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1915 )

8 - اپنے بچے كى وجہ سے عورت كا نفاس ميں يا حاملہ فوت ہونا:

اس كے دلائل درج ذيل ہيں:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

"اوروہ عورت جو اپنے حمل كى بنا پر فوت ہو وہ شہيد ہے."

👇
سنن ابوداود حديث نمبر ( 3111 )

خطابى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس كا معنى يہ ہے كہ وہ فوت ہوتو بچہ اس كے پيٹ ميں ہو. اھـ

ديكھيں عون المعبود

اور امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے عبادہ بن صامت رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شھداء كے متعلق 👇
بتاتے ہوئے فرمايا:

"اور وہ عورت جسے اس كا بچہ حمل كى حالت ميں قتل كردے يہ بھى شھادت ہے"

مسند احمد حديث نمبر ( 17341 )

(اسے اس كا بچہ اپنے نال ( پيدائش كے بعد ناف سے كاٹا جاتا ہے) كے ساتھ جنت ميں كھينچ لے گا)

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے كتاب الجنائز صفحہ نمبر ( 39 ) ميں👇
اسے صحيح قرار ديا ہے.

9 - جلنے، اور ذات الجنب اور سل كى بيمارى سے موت آنا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

"اللہ تعالى كى راہ ميں قتل ہونا شھادت ہے، اور طاعون شھادت ہے، اور غرق شھادت ہے، اور پيٹ كى بيمارى سے مرنا شھادت ہے، اور نفاس ميں مرنے والى 👇
عورت شھيد ہے، اسےاس كا بيٹا اپنے نال كے ساتھ جنت ميں كھينچےگا"

وہ كہتے ہيں كہ: بيت المقدس كے دربان نے يہ الفاظ زيادہ كيے ہيں:

"جلنے اور سل كى بيمارى سے مرنے والا"

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتےہيں: حسن صحيح ہے، ديكھيں: صحيح الترغيب والترھيب حديث نمبر ( 1396 ).
👇
10 - دين يا مال يا اپنى جان كا دفاع كرتے ہوئے مرنا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

"جو كوئى اپنا مال بچاتا ہوا قتل ہو وہ شھيد ہے، اور جو كوئى اپنا دين بچاتا ہوا قتل ہو وہ شھيد ہے، اور جو كوئى اپنا خون اور جان بچاتے ہوئے قتل ہو وہ شھيد ہے"

جامع ترمذى حديث 👇
نمبر ( 1421 ).

اور امام بخارى و مسلم رحمہما اللہ نے عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئےسنا:

"جو اپنے مال كا دفاع كرتا ہوا قتل ہو جائے وہ شھيد ہے."

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2480) صحيح مسلم حديث نمبر👇
( 141 ).

اللہ تعالى كى راہ ميں پہرہ ديتے ہوئے موت آنا:

سلمان فارسى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

"ايك دن اور رات كا پہرہ ايك ماہ كے روزے اور قيام سے بہتر ہے، اور اگر وہ مرجائے تو اس عمل كا اجر جارى رہتا ہے جو كر رہا تھا، اور 👇
اس كا رزق بھى جارى رہتا ہے، اور وہ فتنے سے محفوظ رہتا ہے"

صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 1913 ).

12 - اور حسن خاتمہ كى يہ علامت ہے كہ:

كسى نيك اور صالح عمل كو انجام ديتے ہوئے موت واقع ہو، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے اللہ تعالى كى رضامندى 👇
اورخوشنودى كےليے لا الہ الا اللہ كہا اور اس كا خاتمہ اس پر ہوا وہ جنت ميں داخل ہوگا، اور جس نے صدقہ كيا اوراس پر اس كا خاتمہ ہوا تووہ جنت ميں داخل ہو گا"

مسند احمد حديث نمبر (22813).

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے كتاب الجنائز صفحہ (43) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

👇
يہ علامتيں اچھى خوشخبري ميں سے ہيں جو حسن خاتمہ پر دلالت كرتى ہيں، ليكن اسكے باوجود ہم يقينا كسى بعينہ شخص كے ليے يہ نہيں كہہ سكتے كہ وہ جنتى ہے، ليكن كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جنتى ہونے كى بشارت دے دى ہے، مثلا خلفاء اربعہ اور عشرہ مبشرہ.

👇
اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہےكہ وہ ہميں حسن خاتمہ نصيب فرمائے.

یہ علامات انسان کے نیک اور اللہ کے قریب ہونے کی نشانی ہیں۔ لیکن موت  کے بعد  ایسی کوئی قوی علامت موجود نہیں ہے جس سے بندے کے صالح اور متقی ہونے کی دلیل لی جائے

👇
ہاں البتہ کبھی میت کے چہرے کی خوبصورتی یا مسکراہٹ کی وجہ سے اس کی چمک، یا اسی جیسی کسی اور نشانی سے کچھ اشارے مل سکتے ہیں،یہ بات واضح رہے کہ اس وقت ہے جب اس شخص کو زندگی میں لوگوں کے درمیان اچھے لفظوں میں بیان کیا جاتا ہو، تاہم اس بارے میں کوئی یقینی اور ٹھوس بات نہیں کی جاسکتی👇
چنانچہ اگر مرنے والا  بندہ اپنی زندگی میں نیکی و تقوی میں مشہور تھا، پھر اسکی موت کے بعد اس کا چہرہ خوبصورتی سے چمک اٹھا تو یہ ایسی علامت ہے جس سے اچھا تاثر لیا جاسکتا ہے اور اس پر خیر کی امید کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مرنے کے بعد لوگ اس کی تعریف کریں، اور 👇
اس کے لئے دعائیں کریں تو یہ اس کے نیک ہونے کی نشانی ہے، اسی طرح زندگی میں اچھے لوگوں کی صحبت بھی انسان کے نیک ہونے کی نشانی ہے۔

👇
حسن خاتمہ کے بہت سے اسباب ہیں؛ جن میں: اللہ کی اطاعت پر استقامت، اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن ،سچائی ،پرہیز گاری ،توبہ ،موت  کثرت سے  یاد کرنا اور دنیاوی چاہتیں مختصر کرنا، آخرت کی فکر اور نیکوکار لوگوں  کی صحبت، قابل ذکر ہیں👇
بری حالت اور برے انجام کی نشانی بننے والی علامات میں سے چند ایک یہ ہیں:

- بندہ اپنی موت کے وقت اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانی کا شکار ہو ، صحیح مسلم (2877)میں  جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ:"میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن قبل آپکو یہ فرماتے ہوئے 👇
سنا :(تم میں سے ہر ایک کا خاتمہ اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن کی ہی حالت میں ہونا چاہیے)

- اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہوئے فوت ہو، جیسے نماز نہ پڑھنا، شراب نوشی، اور زنا  کرنا؛ امام بخاری رحمہ اللہ  حدیث نمبر (6607) میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ 👇
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بے شک اعمال کا انجام خاتمے کے مطابق ہوتا ہے)

- بندے کو توبہ کی توفیق ہی نہ ملے، اور وہ اپنی سخت گمراہی و ضلالت میں بڑھتا ہی چلا جائے کسی برائی سے باز نہ آئے یہاں تک کہ اسی حالت میں مر جائے۔

- دنیا میں برے اعمال کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر 👇
پھٹکار، ترش روی اور سیاہی جیسی علامات وغیرہ برے انجام  کی نشانیاں ظاہر ہو جائیں ،یا کلمہ طیبہ کے پڑھنے سے انکار کر دے اور ایسی بری اور غلط باتیں وغیرہ منہ سے نکالنے لگے جو دنیا میں اس کے معمولات میں شامل تھیں۔

- 👇
اپنی آخری عمر میں بیماری اور طاقت و استطاعت کے نہ ہونے کا بہانہ بنا کر فرائض اور واجبات میں سستی کرے؛ اور اپنی سستی اور برے کردار کی وجہ سے اللہ کے فرائض کو ضائع کرنا شروع کردے۔

- قریب المرگ شخص موت کو ناپسند کرنے کے ساتھ ساتھ خوف، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہو نیز 👇
نیکی پر قائم نہ رہے اور برے اعمال کرنے لگے۔
رے انجام کے چند اسباب:

غلط عقائد، گناہوں پر مصر رہنا، کبیرہ گناہوں کا ارتکاب، دنیا کی طرف متوجہ ہونا اور اسی سے دل لگا کر رکھنا، اس کے برعکس آخرت اور اس کیلئے تیاری سے بے رغبتی ، دین پر استقامت اور دیندار لوگوں سے رو گردانی،برے لوگوں کی صحبت اور ان سے دوستی  قابل ذکر اسباب ہیں👇
حافظ عبدالحق اشبیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

 "اللہ تجھ پر رحم کرے! اس بات کو اچھی طرح جان لے کہ برے خاتمہ -اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے- کے کئی اسباب، راستے اور دروازے ہیں، ان میں سب سے بڑا سبب دنیا میں مگن ہوکر، آخرت سے روگردانی اور رب کی معصیت کا رسیا ہونا ہے۔
👇
کبھی انسان پر کسی قسم کی غلطی یا نافرمانی، یا دین سے بے رغبتی اور تہمت وغیرہ  جیسے گناہ حاوی ہوجاتے ہیں اور ان کا دل پر تسلّط مضبوط  ہوجاتا ہے، اور انسان کی عقل کو اپنا غلام بناکر اس کے نور کو بجھادیتا ہے اور عقل پر پردے ڈال دیتا ہے، تو 👇
ایسی صورت میں  کوئی وعظ و نصیحت فائدہ نہیں دیتی اور نہ کوئی  بھلی  بات سود مند ثابت ہوتی ہے؛ بلکہ بسا اوقات اسی حالت میں ہی اسے موت آدبوچتی ہے ۔۔۔

یاد رکھیں: بے شک برا انجام- اللہ تعالی ہمیں اس سے محفوظ رکھے- اس کا نہیں ہوتا جس کا ظاہر بالکل درست اور باطن پاک صاف ہو، 👇
یہ انجام تو اسی کا ہوتا ہے جس کی عقل میں فتور ہو اور کبیرہ گناہوں کا رسیا ہو، معصیت کے کاموں کی طرف گامزن رہے، بسا اوقات یہی حالت اس پر غالب رہتی ہے حتی کہ توبہ سے پہلے ہی اسے موت آدبوچتی ہے اور اسے توبہ کا موقع دیے بغیر ہی حملہ آور ہوجاتی ہے چنانچہ ضمیر کی اصلاح سے قبل ہی 👇
اس کا قصہ تمام کردیتی ہے اس طرح شیطان اس ناگہانی آفت کے وقت اس کا قلع قمع کرکے رکھ دیتا ہے اور اسے اس حیرانی و پریشانی کی حالت میں اچک لیتا ہے."

 "العاقبۃ وذکرالموت" (ص/178) واللہ اعلم. (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
@threadreaderapp pl unroll

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Muddassar Rashid

Muddassar Rashid Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Muddassar04

Feb 10
قتل بالسبب (Qatl-bis-sabab) قتل کی وہ چوتھی قسم ہے جس میں کسی شخص کا ارادہ نہ تو کسی کو مارنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی کرنے کا، لیکن وہ کوئی ایسا غیر قانونی کام کرتا ہے جو بالواسطہ طور پر کسی کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
👇
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 321 کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت کے بغیر کوئی ایسا غیر قانونی فعل کرے جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اسے قتل بالسبب کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
کسی عوامی راستے یا دوسرے کی ملکیت میں بغیر اجازت گہرا گڑھا یا کنواں کھودنا 👇
جس میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے۔
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا پتھر رکھنا جس سے ٹکرا کر کسی کی جان چلی جائے۔
سزا (دفعہ 322):
دیت: اس جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص صرف دیت (مالی معاوضہ) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) یا قید کی سزا عام طور پر نہیں ہوتی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ شبہ عمد قتل کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو نقصان یا چوٹ پہنچانے کی نیت تو ہو، لیکن اسے جان سے مارنے کا ارادہ نہ ہو، مگر وہ فعل یا ضرب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
اس کی قانونی اور شرعی تفصیلات یہ ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو جان بوجھ کر ایسی چیز (مثلاً ڈنڈا یا تھپڑ) سے 👇
مارے جس سے عام طور پر موت واقع نہیں ہوتی، لیکن اس کے نتیجے میں اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو اسے قتلِ شبہ عمد کہتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 315 میں اس کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
سزا
دیت: مجرم پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (مالی معاوضہ) ادا کرے👇
قید (تعزیر): دفعہ 316 کے تحت عدالت مجرم کو 25 سال تک قیدِ تعزیری کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
کفارہ: شرعی اعتبار سے قاتل پر کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے) بھی واجب ہوتا ہے۔
Read 4 tweets
Feb 10
قتل عمد کسے کہتے ہیں؟

قتلِ عمد سے مراد وہ قتل ہے جو مکمل ارادے اور نیت کے ساتھ کیا گیا ہو، یعنی قاتل کا مقصد جان بوجھ کر کسی شخص کی جان لینا ہو۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 300 کے مطابق، اگر کوئی شخص اس نیت سے کوئی ایسا فعل کرے 👇
جس سے کسی کی موت واقع ہو جائے یا ایسی جسمانی چوٹ پہنچائے جو عام حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہو، تو اسے قتلِ عمد کہا جاتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): اس جرم کی سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی ہے۔
سزائیں:
قصاص: اس کا مطلب ہے "جان کے بدلے جان"۔ یہ اسلامی سزا ہے جہاں عدالت 👇
قاتل کو سزائے موت سناتی ہے۔
تعزیر (سزائے موت یا عمر قید): اگر قصاص کے شرائط (جیسے گواہی کا خاص معیار) پورے نہ ہوں، تو عدالت حالات کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے۔
حبسِ دوام (25 سال قید): بعض مخصوص حالات میں، جہاں قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، وہاں 25 سال تک قید کی سزا دی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ خطا سے مراد وہ قتل ہے جو کسی شخص کے ارادے یا نیت کے بغیر محض غلطی (Mistake of fact or act) کی وجہ سے ہو جائے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو مارنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن کسی غلطی یا غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے، تو اسے قتلِ خطا کہا 👇
جاتا ہے۔
مثالیں:
نشانہ بازی یا شکار کے دوران گولی غلطی سے کسی انسان کو لگ جانا۔
ٹریفک حادثات، جہاں ڈرائیور کا ارادہ قتل کرنا نہ ہو مگر غفلت یا حادثے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو جائے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پاکستان کے قانون کی دفعہ 318 (Section 318) میں اس کی تعریف بیان کی گئی👇
ہے۔
سزا:
دیت: قاتل پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرے۔
کفارہ: شرعی طور پر قاتل پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔
قید: اگر قتل غفلت یا لاپروائی (Rash or negligent act) کی وجہ سے ہوا ہو، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت 5 سے 10 سال تک قید کی سزا بھی ہو 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتل خطا پر دیت کی مقدار

دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 👇
2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے
قتلِ عمد میں قاتل پر دیت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قتلِ عمد میں قاتل کی شرعی سزا قصاص ہے ، اور قصاص صرف حکومت جاری کرسکتی ہے، البتہ اگرمقتول کے ورثاء قصاص معاف کرکے قاتل سے صلح کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم قتلِ عمد میں صلح کی صورت میں دیت کی مقدار پر 👇
Read 4 tweets
Aug 6, 2025
علماء ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ نسب
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﻧﮯ
👇 Image
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﻧﮯ
👇
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﺳﮯ
ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﺳﮯ
ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﻧﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﻧﮯ
👇
Read 10 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us!

:(