ہمارے جدید تعلیم یافتہ دانشوروں کی ایک مجبوری یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات و احکام اور اسلامی تاریخ تک ان کی رسائی براہ راست نہیں بلکہ انگلش لٹریچر کے ذریعہ ہے۔ اور انگلش لٹریچر بھی وہ جو مسیحی اور یہودی مستشرقین کے گروہ نے اپنے مخصوص ذہنی ماحول اور تاریخی پس منظر میں پیش کیا ہے۔ 👇
مستشرقین کی تحقیقی کاوشوں اور جانگسل محنت سے انکار نہیں مگر اس کے اعتراف کے باوجود ان کے پیش کردہ لٹریچر کو ان کے ذہنی رجحانات اور فکری پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی ان کے ذریعہ اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ تک رسائی حاصل کرنے کے عمل کو ان خرابیوں اور 👇
نقصانات سے مبرا قرار دیا جا سکتا ہے جو کسی بھی واقعہ یا مسئلہ میں معلومات تک بالواسطہ رسائی کی صورت میں لازماً پیدا ہو جاتے ہیں۔
@threadreaderapp pl unroll

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Muddassar Rashid

Muddassar Rashid Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Muddassar04

24 Sep
مذہب کے ساتھ معاشرہ اور ریاست کے تعلق پر نظر ثانی اور سوسائٹی میں مذہب کے کردار کی حدود ازسرنو طے کرنے کا مشورہ دیا جانے لگا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص کے بدن میں ناسور پیدا ہونے پر اس کی جراحی کی ضرورت پیش آجائے تو کوئی دانشور یہ مشورہ دے کہ چونکہ اس ناسور کی وجہ 👇
وہ خوراک بنی ہے جو حلق کے راستے اس کے وجود کا حصہ بنی تھی اس لیے اس کی گردن ہی کاٹ دی جائے تاکہ بیماری کے اس سبب کا سرے سے خاتمہ ہو جائے۔ اس پر ایک کہاوت یاد آگئی ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بکری پانی پیتے ہوئے مٹکے میں اپنا سر پھنسا بیٹھی، لوگ اکٹھے ہوئے مگر 👇
انہیں مٹکے سے بکری کی پھنسی ہوئی گردن کو نکالنے کی کوئی صورت سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اتنے میں ایک دانشور آیا اور اس نے لوگوں کو پریشان دیکھ کر مشورہ دیا کہ اس کا آسان حل یہ ہے کہ بکری کو ذبح کر دیا جائے۔ چنانچہ بکری ذبح کر دی گئی لیکن سر پھر بھی اس کے اندر ہی رہا۔ پھر 👇
Read 4 tweets
24 Sep
فرد، خاندان، سوسائٹی، اور ریاست انسانی سماج کے چار مراحل ہیں۔ قرآن کریم میں انسانی زندگی کے ان چاروں مراحل کے لیے ہدایات اور تعلیمات تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم انسانی سوسائٹی کا آغاز فرد سے نہیں بلکہ خاندان سے کرتا ہے۔ بث منھما رجالاً کثیرًا ونسآءًا 👇
کہہ کر قرآن کریم نے فرد کی بجائے فیملی کو انسانی سماج کا بنیادی یونٹ قرار دیا ہے جس سے مغرب کے ’’فردیت‘‘ (Individualism) کے فلسفہ کا کھوکھلاپن آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے۔ اور جب انسانی سماج فیملی اور سوسائٹی کے مرحلہ سے آگے بڑھ کر ریاست کے دور میں داخل ہوا تو 👇
اللہ تعالیٰ نے توراۃ کی صورت میں ایک باضابطہ حکومتی نظام نازل کر کے اس کی پابندی کا حکم دیا اور فرمایا ومن لم یحکم بمآ انزل اللّٰہ فاولئک ھم الکافرون کہ جو آسمانی تعلیمات کے مطابق حکومت نہیں کریں گے وہ کافر شمار ہوں گے۔ اسی سسٹم کے تحت حضرت داؤد علیہ السلام نے خلافت سنبھالی تو 👇
Read 9 tweets
24 Sep
قرآن کریم کی تعلیم و تفہیم کا ذریعہ

ایک سوال یہ کیا گیا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس کے سب بندوں کے لیے ہے اس لیے اس کے ہر بندے کو خود اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور درمیان میں کسی واسطہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر عرض کیا گیا کہ یہ دیکھ لینا چاہیے کہ 👇
خود قرآن کریم اس سلسلہ میں کیا کہتا ہے؟
قرآن کریم میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض نبوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ویعلمھم الکتاب کہ وہ اپنے ساتھیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہیں۔ حالانکہ 👇
آنحضرتؐ کے صحابہؓ کی اکثرت عرب تھی اور عرب بھی اس دور کے جس کی فصاحت وبلاغت کو معیاری سمجھا جاتا ہے، لیکن ان سے یہ نہیں کہا گیا کہ وہ خود قرآن کریم پڑھ کر اسے سمجھیں اور جیسا سمجھ میں آئے اس پر عمل کریں۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ انہیں قرآن کی تعلیم دیتے ہیں۔👇
Read 17 tweets
24 Sep
فہمِ قرآن

اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں تدبر و تفکُّر کرنے کا حکم دیا ہے، مگر یہ تدبُّر و تفکُّر مفسرِ اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں ہی ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ارشاد فرمایا ہے: ’’یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اُتاری ہے، تاکہ👇
لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غوروفکر کریں۔‘‘ (النحل :۴۴) ’’ یہ کتاب ہم نے آپ پر اس لیے اُتاری ہے، تاکہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔‘‘ (النحل: ۶۴) اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیات میں 👇
واضح طور پر بیان فرمادیا کہ قرآن کریم کے مفسرِ اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمتِ مسلمہ کے سامنے قرآن کریم کے احکام ومسائل کھول کھول کر بیان کریں۔ اور 👇
Read 5 tweets
24 Sep
خاتون کا پہلا نام ’’مارسیہ کے ہرمینسن‘‘ تھا اور ایم کے ہرمینسن کہلاتی تھیں ۔اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے نام کا مخفف قائم رکھنے کے لیے اسلامی نام مجاہدہ رکھ لیا اور اس طرح ان کے نام کا مخفف ایم کے ہرمینسن قائم رہا۔

اس نومسلم خاتون کا کہنا تھا کہ فلسفہ میں ایم اے کی 👇
ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہیں ذہنی طور پر ایک خلاء محسوس ہوتا تھا اور کہیں سکون نہیں مل رہا تھا۔ اسی سکون کی تلاش میں وہ مختلف ملکوں میں گھومتی رہیں اور یونیورسٹیوں میں کورسز کرتی رہیں۔ اسی دوران اسپین کی کسی یونیورسٹی میں وہ اپنے ہاسٹل میں تھیں کہ ایک روز ریڈیو کی سوئی گھماتے 👇
ہوئے ایک جگہ سے عجیب سی پرکشش آواز سنائی دی۔ آواز میں کشش تھی مگر زبان سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ایک دو دفعہ سننے کے بعد مختلف حضرات سے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ یہ مراکش ریڈیو ہے اور اس وقت مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے۔ اس کے بعد قرآن کریم کا سننا معمول بن 👇
Read 9 tweets
24 Sep
خلفائے راشدینؓ نے قومی خزانے کو امانت کا درجہ دیا اور اس حد تک آگے چلے گئے کہ ایک بار امیر المومنین حضرت عمرؓ بیمار ہوگئے۔ بیماری کیا تھی کہ خشک روٹی کھاتے کھاتے انتڑیوں میں خشکی اور سوزش پیدا ہوگئی تھی۔ طبیب نے زیتون کا تیل بطور علاج تجویز کیا تو فرمایا کہ 👇
میرے پاس زیتون کا تیل استعمال کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کسی نے کہا کہ زیتون کا تیل بیت المال میں موجود ہے اس میں سے لے لیں۔ حضرت عمرؓ نے بیت المال کے انچارج کو بلایا اور پوچھا کہ بیت المال میں زیتون کا جو تیل ہے اسے اگر مدینہ منورہ میں عام دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے تو 👇
میرے حصے میں کتنا آئے گا؟ اس نے جواب میں جتنی مقدار بتائی وہ بہت تھوڑی تھی، طبیب نے کہا کہ اس سے کام نہیں چلے گا۔ اس پر امیر المومنین حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ اس تیل پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی اپنے پیٹ پر ہاتھ مار کر کہا کہ ’’جتنا چاہے گڑگڑاتا رہ، 👇
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!