انتخابات سے قبل مشرقی پاکستان کے متعدد سیاسی راہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں مسٹر ایم ایم احمد کو اقتصادی منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ماضی میں اقتصادی طور پر مشرقی پاکستان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں ان کے ذمہ دار 👇
مسٹر ایم ایم احمد ہیں کہ انہوں نے اقتصادی منصوبہ بندی میں مشرقی پاکستان کو ثانوی حیثیت دی۔ اور شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات جو آج سیاسی بحران کا باعث بنے ہیں اسی نا انصافی اور ترجیحی سلوک کی صدائے بازگشت ہیں
صدر مملکت نے مسٹر ایم ایم احمد کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے تو ہٹا دیا مگر اس سے زیادہ اہم پوسٹ ان کو دے کر اپنا اقتصادی مشیر مقرر کر لیا۔ 👇
گویا اقتصادی اور سیاسی دونوں میدانوں میں ایم ایم احمد اور ان کا ٹولہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو آپس میں لڑانے کے لیے پوری منصوبہ بندی سے کام کر رہا ہے۔ خدا نہ کرے کہ یہ منصوبہ بندی کسی منطقی نتیجے تک پہنچے، اگر خدانخواستہ خدانخواستہ خدانخواستہ ایسا ہوا تو اس 👇
کی ذمہ داری نہ صرف نوکرشاہی ایم ایم احمد اور ان کے رفقاء پر ہوگی بلکہ وہ افراد بھی اس قومی جرم میں برابر کے شریک سمجھے جائیں گے جنہوں نے ۱۹۵۳ء میں عوامی مطالبہ پر قوم کو ان ’’پیرانِ تسمہ پا‘‘ سے نجات دلانے کی بجائے قوم کے ہزاروں نونہالوں کے خون سے پاک سرزمین کو رنگ دیا تھا۔ 👇
دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس روز بد سے قوم کو بچائیں، آمین یا الہ العالمین۔
قتل بالسبب (Qatl-bis-sabab) قتل کی وہ چوتھی قسم ہے جس میں کسی شخص کا ارادہ نہ تو کسی کو مارنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی کرنے کا، لیکن وہ کوئی ایسا غیر قانونی کام کرتا ہے جو بالواسطہ طور پر کسی کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
👇
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 321 کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت کے بغیر کوئی ایسا غیر قانونی فعل کرے جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اسے قتل بالسبب کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
کسی عوامی راستے یا دوسرے کی ملکیت میں بغیر اجازت گہرا گڑھا یا کنواں کھودنا 👇
جس میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے۔
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا پتھر رکھنا جس سے ٹکرا کر کسی کی جان چلی جائے۔
سزا (دفعہ 322):
دیت: اس جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص صرف دیت (مالی معاوضہ) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) یا قید کی سزا عام طور پر نہیں ہوتی 👇
قتلِ شبہ عمد قتل کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو نقصان یا چوٹ پہنچانے کی نیت تو ہو، لیکن اسے جان سے مارنے کا ارادہ نہ ہو، مگر وہ فعل یا ضرب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
اس کی قانونی اور شرعی تفصیلات یہ ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو جان بوجھ کر ایسی چیز (مثلاً ڈنڈا یا تھپڑ) سے 👇
مارے جس سے عام طور پر موت واقع نہیں ہوتی، لیکن اس کے نتیجے میں اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو اسے قتلِ شبہ عمد کہتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 315 میں اس کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
سزا
دیت: مجرم پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (مالی معاوضہ) ادا کرے👇
قید (تعزیر): دفعہ 316 کے تحت عدالت مجرم کو 25 سال تک قیدِ تعزیری کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
کفارہ: شرعی اعتبار سے قاتل پر کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے) بھی واجب ہوتا ہے۔
قتلِ عمد سے مراد وہ قتل ہے جو مکمل ارادے اور نیت کے ساتھ کیا گیا ہو، یعنی قاتل کا مقصد جان بوجھ کر کسی شخص کی جان لینا ہو۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 300 کے مطابق، اگر کوئی شخص اس نیت سے کوئی ایسا فعل کرے 👇
جس سے کسی کی موت واقع ہو جائے یا ایسی جسمانی چوٹ پہنچائے جو عام حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہو، تو اسے قتلِ عمد کہا جاتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): اس جرم کی سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی ہے۔
سزائیں:
قصاص: اس کا مطلب ہے "جان کے بدلے جان"۔ یہ اسلامی سزا ہے جہاں عدالت 👇
قاتل کو سزائے موت سناتی ہے۔
تعزیر (سزائے موت یا عمر قید): اگر قصاص کے شرائط (جیسے گواہی کا خاص معیار) پورے نہ ہوں، تو عدالت حالات کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے۔
حبسِ دوام (25 سال قید): بعض مخصوص حالات میں، جہاں قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، وہاں 25 سال تک قید کی سزا دی 👇
قتلِ خطا سے مراد وہ قتل ہے جو کسی شخص کے ارادے یا نیت کے بغیر محض غلطی (Mistake of fact or act) کی وجہ سے ہو جائے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو مارنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن کسی غلطی یا غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے، تو اسے قتلِ خطا کہا 👇
جاتا ہے۔
مثالیں:
نشانہ بازی یا شکار کے دوران گولی غلطی سے کسی انسان کو لگ جانا۔
ٹریفک حادثات، جہاں ڈرائیور کا ارادہ قتل کرنا نہ ہو مگر غفلت یا حادثے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو جائے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پاکستان کے قانون کی دفعہ 318 (Section 318) میں اس کی تعریف بیان کی گئی👇
ہے۔
سزا:
دیت: قاتل پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرے۔
کفارہ: شرعی طور پر قاتل پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔
قید: اگر قتل غفلت یا لاپروائی (Rash or negligent act) کی وجہ سے ہوا ہو، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت 5 سے 10 سال تک قید کی سزا بھی ہو 👇
دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 👇
2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے
قتلِ عمد میں قاتل پر دیت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قتلِ عمد میں قاتل کی شرعی سزا قصاص ہے ، اور قصاص صرف حکومت جاری کرسکتی ہے، البتہ اگرمقتول کے ورثاء قصاص معاف کرکے قاتل سے صلح کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم قتلِ عمد میں صلح کی صورت میں دیت کی مقدار پر 👇