❞فــــــــــــــــــــــــــــرقــــــــــــــــــــــــــہ❝

برصغیر میں تین ہی فرقے ہیں اُتر پردیشوی الگ پٹھانوی الگ اور پنجابوی، یہ تین الگ الگ مسلک ہیں، پنجاب کا وہابی سرحد اور اترپردیش کے وہابی سے مختلف المزاج ہوگا، پنجاب کا دیوبندی، بریلوی، شیعہ بھی سرحد و اترپردیش کے
دیوبندی،بریلوی، شیعہ سے مختلف مزاج رکھتا ہوگا، عقائد بدلنے سے مزاج نہیں بدلتے عرب چودہ صدیاں قبل بھی لونڈیاں غلام رکھنا پسند کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں عقیدہ انکا کچھ نہیں بگاڑ سکا، پختون صدیوں پہلے بھی امرد پرست، سطحی العقل تھے آج بھی ویسے ہی ہیں عقیدہ انکا کچھ نہیں بگاڑا سکا،
اسی طرح اُترپردیش کا مزاج پنجابیوں کے مزاج سے بہت مختلف ہے

چلیں کچھ کھول کر بیان کردیتے ہیں بریلویت اور دیوبندیت کا مسئلہ یہ ہے کہ انکے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک صرف دو ایم بی کی ہے اب اتنی چھوٹی سپیس میں چیدہ چیدہ چیزیں ہی سیو ہوپاتی ہے اُترپردیش کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اس خطے نے
ہندوازم اور پھر اسلام میں کمرشل ازم کی بنیاد رکھی پنجاب میں مورتی پوجن بھی یوپی کا سا کبھی نا تھا سچ میں، پنجاب کا ہندوازم بھی یوپی سے بہت وکھرا تھا، اچھا کوئی نہیں سوچتا کہ مسلمان تو پنجاب ،کشمیر، بنگال، اور سندھ میں اکثریت میں تھے لیکن برصغیر کے سارے بڑے مولوی اُترپردیش میں
ہوئے جو کہ مسلمانوں کا اقلیتی علاقہ تھا، تو ہوا یوں کہ جو جو مولوی ہمیں دیوبندیت، بریلویت اور دہلوی وہابیت کی شکل میں نظر آتے ہیں یہ مغل دربار یا پھر مغلوں سے پہلے گزرے بادشاہوں کے وہ گورمنٹ ایمپلوئیز تھے جو بہتر روزگار کی تلاش میں دِلّی دربار کے نواحی شہروں میں آبسے ان میں سے
اکثر خود کو صحابہؓ کی اولاد کہتے تھے کوئی صدیقی، کوئی فاروقی، کوئی عثمانی، کوئی علوی غرض آپ کو دہلی کے اردگرد دائرے میں موجود صحابہؓ کی اولاد ہونے کے دعوے دار اس کثرت سے ملیں گے کہ پورے خطہ عرب میں بھی اتنے دعوے دار موجود نا ملیں (ان میں سے آدھے پاکستان آ چکے ہیں)
یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنا معاشی مستقبل بہتر بنانے کے لیے اپنی مادری زبان یا ایڈاپٹڈ زبانوں فارسی و عربی کو ترکی سپیکنگ مغلوں یا ان سے پہلے گزرے مسلمان بادشاہوں سے کیش کروایا ، اچھا اسے سادہ کرکے سمجھ لیں پاکستان بنا تو پنجابیوں پر قہر ٹوٹ پڑا پاکستان کیا بنا گویا پنجاب
اُجڑ گیا ، لیکن جب پنجاب اُجڑ چکا اور کچھ مہینوں میں امن و امان ہوچکا تو اُترپردیش سے انہی علم و فن کے معراج پر براجمان ہستیوں نے بہتر معاشی مستقبل کے لیے نئی سلطنت کے دارالحکومت کا رُکھ کیا اور سنہ اکہتر کے بہت بعد تک بھی یہ اُترپردیشی صحابہؓ کی اولادیں جاہل سندھیوں اور
جاہل پنجابیوں کو رموزِ دینِ اسلام اردو/ہندی میں سمجھانے کے لیے تشریف مبارک لاتے رہے،

تو یہ سیاق و سباق تھا، برطانوی قبضے کے بعد دہلی دربار کے نواحی شہروں میں موجود صحابہؓ کی یہ اولادیں شدید بے روزگار ہوگئیں وہ ایسے کہ پورے مغلیہ دور میں ایک بھی مدرسہ نا بنا تھا لیکن مغلیہ دور
ختم ہوتے ہی ان عظیم بے روزگار ہستیوں نے مدرسے بنانا شروع کردیے، گویا یہ مدرسے بھی اٹھارہویں صدی میں ایجاد ہونے والی بدعت ہیں خیر ان مدرسوں میں چھوٹے چھوٹے علماء کی فوجیں تیار ہونے لگیں جیسے ایک لونڈے نے حفظ کرلیا تو وہ بھی خود کو عالم سمجھنے لگا حالانکہ اس نے حقیقی معنوں میں حفظ
کیا ہی نہیں حفظ تو فقط عربی زبان لوگ کرسکتے ہیں کیونکہ عربی انکی زبان ہے ہندی لوگ حفظ نہیں کرتے کیونکہ انکو عربی کی سمجھ ہی نہیں آتی یہ تو تھرسٹی کرو کی طرح رٹا لگاتے ہیں جسکا مطلب انکو خود معلوم نہیں ہوتا خیر،
جسوقت یہ مدارس بنے یعنی اسلام کو کمرشلائز کیا گیا تو اجارہ داری کا مسئلہ بن گیا وہ اسطرح کہ اداروں کا آپس میں ٹکراؤ ہوجانا تو کوئی بڑی بات نہیں لیکن شخصیات کا ٹکراؤ بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے، دیوبند و بریلی کی دو شخصیات کے ٹکراؤ نے ایک ایسا کٹا کھولا جو آج تک کوئی نا باندھ سکا،
لڑائی یہ اترپردیش کے مولویوں کی تھی لیکن آج بھگت سارا پنجاب سندھ بلوچستان سرحد و کشمیر رہا ہے کیونکہ یہ جھگڑا مہاجروں کے کراچی آتے وقت ہی انکے ساتھ یہاں چلا آیا ، ان دونوں پارٹیوں نے سندھ، پنجاب، کشمیر میں پُھدّو ڈھونڈھنا شروع کردیے آدھے پُھدّو دیوبندیوں تو باقی آدھے بریلویوں
کے ساتھ ہوگئے،

مطلب یوپی کا مسلمان اتنا تعصب پسند، تفرقہ پرست، سطحی العقل، ہے کہ برصغیر میں چاہے ہندو مسلم کو تقسیم کرنا ہویا مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہو سب کا سہرا اُترپردیشیوں کے سر جاتا ہے، خیر مرزا غلام احمد قادیانی بھی دیکھا جائے تو اسی قبیل کا آدمی تھا کیونکہ اول تو وہ
پنجابی نا تھا بلکہ منگول النسل تھا یا کہہ لیں منگول نژاد پنجابی تھا پیدا یہاں ہوا لیکن اسکے اجداد منگول تھے، یہ سب بھی بہتر مستقبل کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آئے تھے، گویا یہ خطہ پنجاب صدیوں تک دنیا میں وہی حیثیت رکھتا تھا جو آجکل امریکہ انگلیڈ یا سعودی عرب کی ہے ہر ملک ہر خطے
سے بھوکے ماندے لوگ یہاں کا رُخ کرتے تھے اور پھر اپنے ملک واپس جانا بھی پسند نا کرتے تھے خاص کر افغانیوں کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ انہوں پچھلے ہزار سال میں اپنے اجاڑستان میں رہنے کی بجائے ہمیشہ پنجاب و برصغیر میں گُھس بیٹھنے کو ترجیح دی

بیچارے پانچ سال کی عظیم تاریخ رکھنے والے
کرتے بھی کیا انہیں ٹکر مارنے کے علاوہ کوئی کام بھی جو نہیں آتا، یہ ہیٹ سپیچ بالکل نہیں ہے یہ تو وہ حقائق ہیں جو عوام کے سامنے آنا چاہئے آخر میں آپ کہتے ہیں تو چار چار باتیں شیعوں اور وہابیوں کو بھی سُنا دیتا ہوں کیونکہ تحریر میں دو فرقوں کا ذکر پہلے کرچکا ہوں جس پر پاکستانی
طریقہ تفکر کے تحت لوگ یہی سوچیں گے کہ دیوبندی بریلوی کو تُن رہا ہے تو شیعہ یا وہابی ہی ہوگا ، خیر وہابیت کے بارے میں عرض ہے کہ وہابیت کی ہارڈ ڈسک صرف ایک ایم بی کی ہے اور شیعت کی ہارڈ ڈسک میں صرف ایک مقدس خاندان کی ہستیوں کے نام سیو ہیں باقی ساری خالی ہے۔۔

﹏﹏✎ عͣــلᷠــͣــᷢی

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with رانا علی

رانا علی Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @PunjabiWarriorr

2 Sep
آٹھ پنجابی مزدور ہی اغواء ہوئے ہیں کونسا طوفان آگیا؟ چند دنوں میں انکی لاشوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر بھی نشر ہو جائیں گی، اچھا البتہ اگر ان آٹھ پنجابی مزدوروں کی جگہ آٹھ امریکی ٹورسٹ اغواء ہوئے ہوتے تو ریاست میں وزیراعظم سے لے کر محافظِ اعظم تک سب انکی بازیابی کے لیے تن من دھن
کی بازی لگا دیتے یہ بھی نہیں تو اگر آٹھ پخ پخے یا بلوچ پنجاب میں اغواء ہوجاتے تو پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے چوبیس گھنٹے میں انکو پنجاب کی ساتویں تہہ سے بھی برآمد کرلیا جاتا، اور پریشان نا ہوں اختر مینگل کہ جس کا بھائی بلوچ ملیٹنٹ تنظیم چلاتا ہے وہی اختر مینگل ملتان میں
کئی مرتبہ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کو بلوچستان میں شامل کرنے کے لیے جلوس کرچکا ہے، یہ پنجاب ہے اسے ریاست پاکستان نے تین روٹھے ہوئے بھائیوں کو راضی رکھنے کے لیے گدھے کے کردار کے طور پر رکھا ہوا ہے ملک بنانا ہے پنجاب توڑ دو ملک بچانا ہے پنجاب توڑ دو دوسرے صوبے راضی کرنے ہیں
Read 80 tweets
31 Aug
لال مسجد میں کوئی ظلم نہیں ہوا تھا لال مسجد کے دیوبندیوں نے حاکم کے خلاف خروج کیا تھا دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان کے دارلحکومت میں اکٹھا کیے تھے تا کہ اس ملک پر سعودیہ کے غلاموں کی حکومت آجائے لیکن جب آپ لال مسجد کے حامیوں سے یہی بات کریں گے تو وہ عجیب و غریب دنیا جہان کی
تاویلیں اور دلیلیں لائیں گے کہ وہ مظلوم تھے ان پر ظلم ہوا دوسری طرف اسی لال مسجد گروپ اور اس قبیل کے سبھی چمونوں کی کھُلی رائے واقعہ کربلا کے بارے میں یہ ہے

کہ آقا حسینؑ نعوذباللہ باغی تھے کیونکہ انہوں نے حاکم کے خلاف خروج کیا تھا اس لیے واقعہ کربلا سے یزید پر کوئی بار نہیں
یزید آج بھی جنت کے تمام پیکجز کا اتنا ہی حقدار ہے جتنا کوئی دوسرا مسلمان، حالانکہ حقیقت میں اگر حسینؑ باغی تھے تو حضرت امیر معاویہ بھی باغی تھے کیونکہ انہوں نے خلیفہ کے ساتھ جنگ کی لیکن یہ بات کرنے سے زبان تھتھلانے لگتی ہے اور اموی فوجوں سے آج کے دن بھی ڈر لگنے لگتا ہے
Read 14 tweets
26 Aug
فوڈ پانڈا کی ایک مشہوری ٹی وی پر چلتی ہے فوڈ پانڈا کراچی کے مٹرووں کی کمپنی ہے اب مشہوری پر غور کریں

۱۔ سندھی، بریانی ، زبردست
۲۔ پشاوری کڑاہی ، زبردست
۳۔ بلوچی سجّی ، زبردست
۴۔ چِکڑ چھولے¹، زبردست
۵۔ کشمیری پلاؤ، زبردست
پاکستان زبردست
بریانی کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ان سالن والے اُبلے چاولوں کے ساتھ شروع میں آپ کسی بھی علاقے کا نام لگا سکتے ہیں جیسے ممبئی بریانی، حیدرآبادی بریانی، سندھی بریانی وغیرہ یعنی ممبئی بریانی ممبئی میں حیدرآبادی بریانی حیدرآباد میں اور سندھی بریانی سندھ میں ایجاد ہوئی ؟
کیا یہ مذاق ہے؟

اب آئیں پشاور کڑاہی کی طرف تو پشاوری کڑاہی کیوں؟ کابُلی کڑاہی، یا چارسدہ کڑاہی، یا قندھاری کڑاہی کیوں نہیں؟ کیا افغانی پٹھان کڑاہی نہیں کھاتے ؟ اب اگر پشاور کی بات کریں تو یہ تو خاص طور پر پٹھانوں کا آبائی علاقہ تک نہیں ہے بلکہ یہ پنجابی علاقہ ہے اگر مصالحوں
Read 15 tweets
24 Aug
❞بـــــہــــاولـــپـــــور آزاد ریــــاســـــت تــــھــــی❝
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک تحریر لکھی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ برصغیر میں کوئی بھی ریاست آزاد نہیں تھی بلکہ یہ سب پرِنسلی سٹیٹس تھیں جو کہ برطانوی راج کے زیر سایہ اس کے دست و بازو کے طور پر کام کرتی تھیں اس بات پر
چند احباب نے یہ سوال کیا کہ آپ کے اس دعوے کی دلیل کیا ہے حالانکہ یہ دعویٰ نا تھا نا ہی کوئی ڈھکی چھپی بات تھی بلکہ یہ بالکل زندہ حقیقت ہے کہ برصغیر کی تمام پرِنسلی سٹیٹس برطانوی راج کی کٹ پُتلی حکومتیں تھیں البتہ دلیل کے طور پر میں ریاست بہاولپور کے برطانوی حکومت کے ساتھ ہوئے
معاہدے کی نقل جو کہ برطانوی راج میں
Treaties Engagements And Sanads Relating to India And Neighbouring Countries
Vol. I: Punjab, Punjab States And Delhi
نامی برطانوی رپورٹ میں شائع ہوئی پوسٹ میں دے رہا ہوں یہ معاھدہ 1838 میں نواب آف بہاولپور اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان طے
Read 17 tweets
16 Aug
زیادہ کلپنے کی ضرورت نہیں پنجاب 1849ء میں، 1901ء میں، پھر 1947ء میں برطانوی سامراج نے ہی توڑا تھا اب پھر پنجاب کو برطانوی سامراج ہی توڑنا چاہتا ہے جن کو آپ اپنا حکمران سمجھتے ہیں یہ حقیقت میں برطانیہ کے بغل بچے ہیں، پنجاب توڑنے کے بعد انکے بہت سے پلان کامیاب ہونے والے ہیں 1947ء
میں بھی پیروں، وڈیروں، گدّی نشینوں نے پنجاب توڑنے کی راہ ہموار کی تھی اب پھر یہی لوگ پنجاب توڑیں گے، جب انکو ضرورت ہوئی کہ پاکستان میں اب انکا مستقبل تاریک ہے تو یہ پاکستان بھی توڑیں گے، اسٹیبلشمنٹ اس خواب میں مبتلا ہے کہ پنجاب توڑنے سے پاکستان کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے بلوچ،
سندھی اور پٹھان محرومی کا رونا نہیں روئیں گے جبکہ یہ انکا وہم ہے جنوبی پنجاب سندھ و بلوچستان سے بھی زیادہ جہالت، قبضہ گیری، لا قانونیت، ریاست کو بلیک میل کرنے اور مذہبی انتہا پسندی کا گڑھ بنے گا، اس نئے صوبے کی اشرافیہ بلوچ، اور پٹھان ہوں گے جو دہشت گرد ڈیرہ بگٹی یا باجوڑ میں
Read 25 tweets
9 Aug
محمد علی جناح پاکستان آئے تو سیدھے لاہور میں پنجابیوں کے کیمپ میں پہنچے کیونکہ تب اردو سپیکنگ لونڈے بہتر مستقبل کی تلاش میں لکھنؤ بنارس و حیدرآباد سے پاکستان کی طرف آنا شروع نہیں ہوئے تھے، اردو سپیکنگ لوگوں نے پاکستان صرف اس لیے آنا شروع کیا کیونکہ نئے ملک میں ہندو بنیوں اور
ہندو بیوروکریسی کے ساتھ کوئی مقابلہ تھا ہی نہیں پنجابی کٹ کٹا چکے تھے اور مشرقی پنجاب سے آنے والے پنجابی چالیس سال پیچھے جا چکے تھے ایسے میں نئے ملک میں اردو بولنے والے بھئیے کا مقام برہمن جیسا تھا جس کی زبان کو اس چوتیا نگر کی قومی زبان بنا دیا گیا تھا مطلب *انڈ پنجابی کی
پھٹی لیکن فائدہ بنارسی ٹھگوں کو ہوا دھرتی پنجابی کی کاٹی فائدہ پخ پخے اور اونٹ چار لے گئے لوگ پنجابیوں کے مرے اور نوے فیصد بیوروکریسی یوپی کے بھئیوں کے ہاتھ میں چلی گئی، مغربی پنجاب کے لوکل پنجابی سردار قبل از تقسیم بھی فیوڈل تھے اور بعد از تقسیم بھی فیوڈل رہے انکو کوئی تکلیف
Read 8 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!