Muddassar Rashid Profile picture
Sep 16, 2020 21 tweets 5 min read Read on X
اسلامی نظریاتی کونسل اور ڈی این اے :
” زنا بالجبر کے مقدمات میں صرف ڈی این اے ٹیسٹ ہی کی بناء پر حد (یعنی سنگساری کی سزا ) نافذ نہیں کی جا سکتی اسے صرف ضمنی شہادت کے طور پر قبول کیا جائے”
اسکی وجہ یہ ہے کہ ڈی این اے کی شہادت شناخت تو کرسکتی ہے لیکن 👇
یہ زنا بالرضا اور زنا بالجبر میں تفریق کرنے میں معاون نہیں ہے۔ اس سلسلے میں دیگر شہادتیں بھی درکار ہوتی ہیں۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی قانون دیگر کئی جرائم کے فیصلے میں پٌہلے سے موجود ہے مثلاً قتل کے کسی کیس میں فنگر پرنٹس یا پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مدد لی جاتی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ👇
ان میڈیکل شہادتوں سے کسی مخصوص فعل کا وقوع تو ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کی حتمی نوعیت ، جیتے جاگتے انسانوں کی گواہی کے بغیر ممکن نہیں۔یہی صورتحال ڈی این اے کے بارے میں بھی ہے۔ ڈی این اے کو نظریاتی کونسل نے ضمنی شہادت قرار دیا ہے اس طرح 👇
اُنہوں نے اوقوعہ کے ثبوت میں اسے تائیدا ًقبول کرنے کی بات کی ہے۔ ڈی این اے سے فعل زنا کا ثبوت مل سکتا ہے ، اس سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ یہ فعل رضا مندی سے ہوا یا جبر واکراہ اور ظلم کی بنا پر ۔ اس سے جتنا فائدہ لیا جاسکتا تھا اتنا لینے کی بات کی ، 👇
یہ بات معقو ل اور واضح سمجھ آنے والی تھی 👇
سیکولر عناصر کا جھوٹ یہ ہے کہ ہیں کہ عورت اگر چار گواہ نا لاسکے تو ملزم کو کوئی سزا نہیں دی جائیگی اور نا سزا کے لیے ڈی این اے کی شہادت قبول کی جائیگی ۔یہ بالکل خلاف حقیقت بات ہے ۔ اگر گواہوں کی شرط پوری نا ہوسکے تو اس صورت میں مجرم کو آزاد نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ 👇
اسے تعزیری سزا دی جاتی ہےیہ حالات کے مطابق سخت سے سخت بھی ہوسکتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعزیری سزا بھی اس سزا سے سخت ہے جتنی یہ زانی کو دینے کا مطالبہ کرتے ہیں یا جتنی مغربی ممالک میں دی جاتی ہے 👇
علماء کے درمیان اجماع پایا جاتا ہے کہ اگر حد کی شرائط پوری ہوجائیں یا مجرم خود اعتراف کر لے تو زبردستی زنا کرنے والے پر حد نافذ ہوگی(شادی شدہ کو سنگسار، غیر شادی شدہ کیلئے اسی کوڑے )۔ اور اگر حد کی شرائط پورے نہیں ہوتی تو اس کو دوسری سزا(تعزیر) دی جائے گی 👇
( یعنی قاضی کو حق حاصل ہے کہ اس کو دوسری ایسے سزا دے جس سے سبق حاصل کر کے وہ خود اور دوسرےلوگ اس قسم کے جرم کی جرأت نہ کر سکے)۔👇
اگر زنا بالجبر کی سی صورت حال پیدا ہواگئی، تو مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے:
۱۔ زنا کی حد قائم کرنے کی شرائط پوری ہوجائے تو اس پر حد نافذ ہوگی۔
۲۔ زنا کی حد قائم کرنے کی شرائط پوری نہ ہوں۔ لیکن یہ ثابت ہوجائے کہ مجرم نے جبراًایسی کوئی صورت حال پیدا کردی تھی 👇
جس میں مجرم عورت کے ساتھ زیادتی کرنے کی پوزیشن میں تھا جیسے جبراً گھر میں گھس جانا یا عورت کو اغوا کرنا۔ ایسے میں مجرم کو تعزیری سزا دی جاسکتی ہے۔ اور موجودہ پاکستان کے قانون کے مطابق یہ سزا زیادہ سے زیادہ پچیس سال قید تک ہوسکتی ہے۔اس سزا کے لئے چار گواہوں کی کوئی شرط نہیں ہے۔👇
اس معاملے میں واقعاتی شہادتیں بھی کافی ہیں۔
۳۔ اگر مجرم نے جرم کا ارتکاب کرنے کی خاطر یا دھمکانے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہو تو ا سے محارب مان کر سخت سے سخت سزا دی جاسکتی ہے۔ محاربہ کی صورت میں سنگسار تک کی سزا دی جاسکتی ہے چاہے مجرم شادی شدہ نہ ہو۔ 👇
اس سزا کے لئے بھی چار گواہوں کی شرط نہیں ہے۔👇
شرعی سزاؤوں سے نالاں سیکولرزم کے علمبردار اور مغربی نظریات کے داعیوں کو آخر شکایت کیا ہے؟

1. ریپ کی سزا سخت ہونی چاہئے تو وہ موجود ہے۔
2. چار گواہوں کی شرط(سزاکیلئے) نہیں ہونی چاہئے تو یہ بھی طے ہے کہ ایسی کسی شرط کے پورے نہ ہونے کی صورت میں بھی سزا موجود ہے۔
👇
3. ہتھیاروں کا استعمال کرکے عوام کو اور خصوصاً عورتوں کو ہراساں کرنے کی سزا اور بھی سخت ہونی چاہئے، تولیجئے وہ بھی موجود ہے۔
4. حد ود کی سزائیں بہت ہی سخت ہیں اس لئےیہ سزائیں عمل میں لانی ہی نہیں چاہئے۔ تو جناب ان کے اپنے قول کے مطابق حدود کی سزا دینے کے لیے شرائط ایسے کڑے ہیں 👇
کہ وہ کبھی پورے نہیں ہوسکتے تو ان کی دانست میں حدود کی سزائیں عملاً کالعدم ہی ہیں۔
تو پھرشکایت ہے کیا؟
شاید شکایت یہ ہے کہ زنا بالرضا پر سزا کیوں ہے؟ حالانکہ ان کے مطابق سزا دینے کی شرائط پوری ہی نہیں ہوسکتی۔ تو شکایت یہ ہے کہ یہ سزا لکھی ہوئی بھی کیوں ہے؟
👇
یا پھر غصہ اس بات کا ہے کہ چار ثقہ گواہوں کے سامنے انہیں زنا کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
یا پھر یہ کہ اس سزا کے لکھے ہونے کی صورت میں ریاست زنا کو غلط تسلیم کرتی ہے اور انہیں یہ گوارا نہیں ہے؟
یا پھر ریاست کے معاملےمیں نام کو ہی سہی “اسلام”کے حوالے سے کچھ تو لکھا ہوا ہے اور 👇
انہیں یہ تسلیم نہیں ہےچاہے وہ لکھا ہونا ان کی اپنی شرائط کو بھی کافی حد تک پورا کرتا ہو۔
الغرض عورت کی مظلومیت کا نام لے کر جو کوشش ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں فواحش کی نشر و اشاعت پر کوئی روک نہ لگے یا پھر اسلام کے حوالے سے کوئی چیز پائی جانا انہیں قبول نہیں ہے۔
👇
استفادہ تحریر: ابوزید، سہ ماہی ایقاظ
@threadreaderapp pl unroll

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Muddassar Rashid

Muddassar Rashid Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Muddassar04

Feb 10
قتل بالسبب (Qatl-bis-sabab) قتل کی وہ چوتھی قسم ہے جس میں کسی شخص کا ارادہ نہ تو کسی کو مارنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی کرنے کا، لیکن وہ کوئی ایسا غیر قانونی کام کرتا ہے جو بالواسطہ طور پر کسی کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
👇
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 321 کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت کے بغیر کوئی ایسا غیر قانونی فعل کرے جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اسے قتل بالسبب کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
کسی عوامی راستے یا دوسرے کی ملکیت میں بغیر اجازت گہرا گڑھا یا کنواں کھودنا 👇
جس میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے۔
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا پتھر رکھنا جس سے ٹکرا کر کسی کی جان چلی جائے۔
سزا (دفعہ 322):
دیت: اس جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص صرف دیت (مالی معاوضہ) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) یا قید کی سزا عام طور پر نہیں ہوتی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ شبہ عمد قتل کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو نقصان یا چوٹ پہنچانے کی نیت تو ہو، لیکن اسے جان سے مارنے کا ارادہ نہ ہو، مگر وہ فعل یا ضرب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
اس کی قانونی اور شرعی تفصیلات یہ ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو جان بوجھ کر ایسی چیز (مثلاً ڈنڈا یا تھپڑ) سے 👇
مارے جس سے عام طور پر موت واقع نہیں ہوتی، لیکن اس کے نتیجے میں اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو اسے قتلِ شبہ عمد کہتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 315 میں اس کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
سزا
دیت: مجرم پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (مالی معاوضہ) ادا کرے👇
قید (تعزیر): دفعہ 316 کے تحت عدالت مجرم کو 25 سال تک قیدِ تعزیری کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
کفارہ: شرعی اعتبار سے قاتل پر کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے) بھی واجب ہوتا ہے۔
Read 4 tweets
Feb 10
قتل عمد کسے کہتے ہیں؟

قتلِ عمد سے مراد وہ قتل ہے جو مکمل ارادے اور نیت کے ساتھ کیا گیا ہو، یعنی قاتل کا مقصد جان بوجھ کر کسی شخص کی جان لینا ہو۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 300 کے مطابق، اگر کوئی شخص اس نیت سے کوئی ایسا فعل کرے 👇
جس سے کسی کی موت واقع ہو جائے یا ایسی جسمانی چوٹ پہنچائے جو عام حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہو، تو اسے قتلِ عمد کہا جاتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): اس جرم کی سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی ہے۔
سزائیں:
قصاص: اس کا مطلب ہے "جان کے بدلے جان"۔ یہ اسلامی سزا ہے جہاں عدالت 👇
قاتل کو سزائے موت سناتی ہے۔
تعزیر (سزائے موت یا عمر قید): اگر قصاص کے شرائط (جیسے گواہی کا خاص معیار) پورے نہ ہوں، تو عدالت حالات کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے۔
حبسِ دوام (25 سال قید): بعض مخصوص حالات میں، جہاں قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، وہاں 25 سال تک قید کی سزا دی 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتلِ خطا سے مراد وہ قتل ہے جو کسی شخص کے ارادے یا نیت کے بغیر محض غلطی (Mistake of fact or act) کی وجہ سے ہو جائے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو مارنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن کسی غلطی یا غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے، تو اسے قتلِ خطا کہا 👇
جاتا ہے۔
مثالیں:
نشانہ بازی یا شکار کے دوران گولی غلطی سے کسی انسان کو لگ جانا۔
ٹریفک حادثات، جہاں ڈرائیور کا ارادہ قتل کرنا نہ ہو مگر غفلت یا حادثے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو جائے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پاکستان کے قانون کی دفعہ 318 (Section 318) میں اس کی تعریف بیان کی گئی👇
ہے۔
سزا:
دیت: قاتل پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرے۔
کفارہ: شرعی طور پر قاتل پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔
قید: اگر قتل غفلت یا لاپروائی (Rash or negligent act) کی وجہ سے ہوا ہو، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت 5 سے 10 سال تک قید کی سزا بھی ہو 👇
Read 5 tweets
Feb 10
قتل خطا پر دیت کی مقدار

دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 👇
2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے
قتلِ عمد میں قاتل پر دیت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قتلِ عمد میں قاتل کی شرعی سزا قصاص ہے ، اور قصاص صرف حکومت جاری کرسکتی ہے، البتہ اگرمقتول کے ورثاء قصاص معاف کرکے قاتل سے صلح کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم قتلِ عمد میں صلح کی صورت میں دیت کی مقدار پر 👇
Read 4 tweets
Aug 6, 2025
علماء ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ نسب
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﻧﮯ
👇 Image
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﻧﮯ
👇
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﺳﮯ
ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﺳﮯ
ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﻧﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﻧﮯ
👇
Read 10 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us!

:(