Muddassar Rashid Profile picture
Sep 16, 2020 19 tweets 5 min read Read on X
جنسی تشدد: ہم کچھ بھول رہے ہیں….؟
غزالی فاروق
الانا کا تعلق امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا سے ہے، پورا نام الانا واگیانوس ہے۔ وہ ایک فیمینسٹ ہیں اور خواتین کے حقوق، ان کے اختیارات، تحفظ، مساوات اور معیشت میں ان کے مثبت کردار کی علمبردار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک صحافی بھی ہیں اور
ہفنگٹن پوسٹ میں سیاست اور معاشرے میں پیش آنے والے جنسی مسائل پر لکھتی ہیں۔ 6 اپریل 2017 کو ان کی ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے جس کا عنوان ہے: ” 30 ایسے پریشان کن اعداد و شمار جو امریکہ میں جنسی تشدد کی اصل حقیقت کو واضح کرتے ہیں”۔

اس رپورٹ میں وہ بتاتی ہیں کہ👇
امریکہ میں 1998 سے لے کر 2017 تک کے درمیان 20 سال کے عرصہ میں 1 کروڑ 77 لاکھ خواتین ریپ یعنی زناء بالجبر کا شکار ہوئی ہیں جس کا مطلب ہوا کہ ہر دن اوسطاً 2425 خواتین اس کا نشانہ بنی ہیں یعنی ہر 35 سیکنڈ کے بعد ایک عورت کا ریپ ہوا ہے۔ ان جنسی زیادتیوں کے مجرموں میں سے صرف 👇
ایک فیصد کو سزا ہوی جبکہ باقی چلتے بنے۔ جن خواتین کے ساتھ یہ ہوا ان میں سے 13 فیصد یعنی 23 لاکھ سے زیادہ خواتین نے خود کشی کر لی۔

الانا کی رپورٹ میں جو بات اہم ہے وہ مغربی معاشروں میں اس قسم کے جنسی جرائم کی وجہ کی تشخیص ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ “جنسی تشدد ہماری ثقافت میں راسخ ہو چکا
ہے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی جڑ ہماری ثقافت میں بہت گہری ہے”۔ ان کے مطابق ایسا ” معروف ٹی وی شوز میں اس قسم کے مناظر کو عام کرنے اور لباس کے ایسے ضوابط جو جنس پرستی پر مبنی ہوں” اور ان جیسی دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہوا ہے۔

اسی طرح امریکی ریاست مشی گن کے ایک ہائی اسکول کے 👇
پرنسپل جم بیزن کی ایک پوسٹ 29 اکتوبر 2015 میں ایم لائیو ڈاٹ کام پر اس عنوان کے ساتھ شائع ہوئی کہ ” لباس کے ضوابط بچیوں کو جنسی اشیاء بننے سے روکتے ہیں”، اس میں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اسکول اور کالجوں میں لباس کے ضوابط اس لئے ضروری ہیں کہ وہ عورتیں جو عزت کا لباس اوڑھتی ہیں، انہیں👇
لوگ ایک جنسی شےء کے طور پر دیکھنے کی بجائے اس نظر سے دیکھتے ہیں جو ان کی اصل پہچان ہے”۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ لباس کے ضوابط کی ایسی پالیسی جس میں عورتوں سے کہا جائے کہ جو مرضی چاہے پہنو اور ساتھ ہی مردوں سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ ان سے اپنی نظریں پھیری رکھیں گے، ایسا ہی ہے 👇
جیسے “بارش میں چلنا لیکن اس امید کے ساتھ کہ آپ بھیگنے سے بچ جائیں گے”۔

جم بیزن پھر لکھتے ہیں کہ “(اسکول میں) خواتین طلبہ سے معتدل لباس استعمال کرنے کا تقاضا کر کے ہم ان کو سزا نہیں دے رہے۔ ہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں!”۔ لیکن مغرب میں ایسی آوازیں بہت کم ہیں۔ اس👇
اس پوسٹ کے بعد مغرب میں ایک ” ڈریس کوڈ ڈیبیٹ” چل پڑتی ہے جس میں“حقوق نسواں”، جنسی مساوات” اور “آزادیوں” کے علمبردار بہت سے لوگ بالخصوص فیمنسٹ خواتین اس موقف سے مکمل اختلاف کرتی ہیں
مغربی تہذیب کی جڑوں میں جنسی تشددکے یوں راسخ ہو جانے کی وجہ ان کا زندگی گزارنے سے متعلق وہ نظریہ ہے
جسے انہوں نے مذہب سے علیحدگی کے نتیجہ میں قبول کیا ہے۔ چونکہ پاپائیت کا نظام ان کے استحصال کا باعث بن رہا تھا اور ان کی مادی ترقی میں بھی رکاوٹ تھا تو اس سے چھٹکارا حاصل کر کے انہوں نے مذہب کے کاروبار زندگی سے علیحدگی کے فلسفے یعنی سیکولرزم کو گلے لگا لیا جس کا پرچار برطانیہ میں
جان لاک فرانس میں روسو اور والٹیئر، اور امریکہ میں بنجمن فرانکلن اور ان جیسے دیگر مفکرین کر رہے تھے۔ چونکہ مذہب کو اب ان کے اجتماعی معاملات میں رائے دینے کا اختیار نہیں تھا، لہٰذا وہ آزاد تھے کہ جس بھی معاملہ میں جو مرضی رائے چاہے اپنا لیں۔ چونکہ مذہب انسان پر چند حدود و قیود👇
عائد کرتا ہے اور پاپائیت نے اسی بات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کا استحصال کیا، تو اس مذہبی فکر کی ضد میں اب آزادیوں کی فکر سب سے زیادہ مقدس ٹھہری۔ یہی وہ فکر ہے جس کو مغرب میں اصل الاصول کے طور پر مانا جاتا ہے۔
اجتماعی معاملات میں کوئی رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو یا کسی بھی مسٔلہ پر کسی قسم کی قانون سازی درکار ہو تو اس سب کے لئے اسی فکر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ شخصی آزادی یعنی پرسنل فریڈم اسی فکر کا ہی ایک شاخسانہ ہےجس کے مطابق کوئی شخص جو بھی عمل کرے وہ اس کا حق ہے سوائے اس کے کہ 👇
اس عمل سے کسی اور کی آزادی کو زک نہ پہنچتی ہو۔ لہٰذا ایک شخص جو مرضی کھائے پیئے، جو مرضی پہنے اوڑھے یا کچھ بھی نہ پہنے، اوڑھے اور جو مرضی افعال انجام دے، وہ سب ٹھیک ہیں جب تک کہ کسی اور کی آزادی اس کے اس فعل سے بلا واسطہ طور پر سلب نہ ہوتی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ 👇
ہم جنس پرستی کے علاوہ جانوروں کے ساتھ یہاں تک کہ اپنے مقدس رشتوں کے ساتھ جنسی افعال بھی ان کے ہاں آزادیوں کی اسی فکر کے تحت ان کا بنیادی حق ہونے کے باعث اصولی طور پر درست ٹھہرتے ہیں۔ ہمارے آقارسول اللہ ﷺ نے یقیناً درست فرمایا تھا کہ ” جب حیاء نہ رہے تو جو مرضی چاہے کرو”۔ 👇
مغرب نے حیاء کے تصور کو دفن کرنے کے بعد پھر جو چاہا کیا ، اس سے قطع نظر کہ یہ افعال بذات خود کس قدر قبیح ہیں۔

شخصی آزادی ہی کے نتیجہ میں مغرب میں عورت کا ایک جنسی شے کے طور پر شدید استحصال ہوا۔ لہٰذا گاڑی بیچنی ہو یا موٹر سائیکل، اپارٹمنٹ بیچنا ہو یا کچھ اور، 👇
عورت کو ایسے روپ میں لا کھڑا کیا گیا جو دیکھنے والوں کی توجہ کا باعث بنے تا کہ ان کی پروڈکٹس کی فروخت کو بڑھایا جا سکے۔ دولت کے حصول کے لئے اس سے بڑھ کر عورت کی جسم فروشی اور کیا ہو سکتی ہے! لیکن ایک مغرب زدہ عورت نے اس ذلت کو دل سے قبول کر لیا۔
@threadreaderapp pl unroll

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Muddassar Rashid

Muddassar Rashid Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Muddassar04

Aug 6, 2025
علماء ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﺎ ﺷﺠﺮﮦ نسب
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻗﺎﺳﻢ ﻧﺎﻧﻮﺗﻮﯼؒ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﺍﺳﺤﺎﻕؒ ﻧﮯ
👇 Image
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻐﻨﯽؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰؒ ﻧﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﺳﮯ
ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﺳﮯ
ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻃﺎﮬﺮ ﻣﺪﻧﯽؒ ﻧﮯ
👇
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺣﻤﺪؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﺳﮯ
ﺭﺑﯿﻊ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﯿﻊؒ ﻧﮯ
ﺷﯿﺦ ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﺳﮯ
ﺣﺴﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦؒ ﻧﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﺳﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺎﺭﻑؒ ﻧﮯ
👇
Read 10 tweets
Jul 2, 2025
*آزمائش*
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
بغیر آزمائش کے کوئی بندہ بشر اس دنیا سے رخصت نہیں ہوگا قرآن کے اس بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آزمائش کیا ہے یہ کیسا ہی امتحان کیوں نہ ہو کسی کو اس سے فرار نہیں اس لئے کہ بندہ اپنے علم و یقین کی جب خود گواہی دیتا ہے تو 👇
اس کی آزمائش اس کے اپنے علم و یقین کی اس کے بقدر ہوتی ہے۔
یقیناً آزمائش ایک مخصوص دورانیہ کی ہوتی ہے یعنی یہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی۔ آزمائش سے نبردآزما ہونے کے لئے سب سے اہم آزمائش کو سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ یہ لامحدود نہیں اور یہ یقین رکھنا کہ یہ دورانیہ اپنے مخصوص وقت تک 👇
محیط ہے یہ محیط کب تک ہے یہ غیب ہے بندہ اسے جاننے سے قاصر ہے چونکہ ہمیں آزمائش لاحق ہے تو ہمیں توبہ استغفار، ذکر و اذکار کرتے رہنا چاہئے اور دوا ، دعا کا بالخصوص باقاعدگی سے اہتمام کرنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے آزمائش کا دورانیہ سات سال تک طویل ہو جائے تو ہمیں گھبرانا نہیں چاہئے، 👇
Read 9 tweets
Feb 7, 2025
فلسطین 1940 تک کیسا تھا اور اب اسے کیا سے کیا بنا دیا گیا ہے۔
آئیے فلسطین کو جانتے ہیں پکچر کی زبانی

کیونکہ پکچر بھی بولتی ہیں
👇 Image
👇 Image
Image
Image
Image
Image
Read 8 tweets
Feb 1, 2025
غزہ یا ہم، قرون اولیٰ کے وارث کون!
۔۔
آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں ہر چیز کو اپنی محدود عقل و علم پر پرکھتے ہوئے فیصلے صادر کرتے ہیں، لیکن دعوہ ہمارا مسلمانی ہے، کبھی اپنے آپ کو ایمان کی روشنی میں نہیں پرکھا ۔۔۔۔ غزہ برپا ہوا تو ۔۔ 👇
اہل دانش غلطی گردانے لگے کہ کمزور ہو کر طاقتور دشمن کو کیوں للکارا اپنے وطن و لوگوں کو تباہی کے راستے پر کیوں ڈالا، وہ جی فلاں کے مہرے تھے۔۔۔ ؟؟؟ ۔۔ لیکن پرکھو گر انکو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و قرآن حکیم کی روشنی میں تو گونگے بہرے ہو جائیں گے ۔۔۔ 👇
پرکھنا ہے تو پرکھو غزہ کو غزوہ بدر سے ۔۔ کتنی تلواریں، نیزے، سواریاں و ڈنڈے سوٹے تھے مسلمانوں کے پاس ۔۔۔ 313 اصحاب، 2 گھوڑے ، 70 اُونٹ 6 زرہیں اور 8 شمشیریں اور دشمن 1000 سے زائد نفوس، 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے، آج کا دانشور 👇
Read 22 tweets
Feb 4, 2024
بھاری قرضے سے خلاصی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بھاری قرضے سے خلاصی
اللہ تعالی نے ”کلمہ طیبہ“ ”حمد“ اور تسبیح میں بڑی برکت رکھی ہے...بڑی تأثیر رکھی ہے...حضرت علامہ عبدالرحمن الجوزی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:-
حضرت شیخ ابوبکر بن حماد المقری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں...میں نے 👇
حضرت امام معروف الکرخی رحمہ اللہ تعالی سے عرض کیا......حضرت! مجھ پر بہت بڑا بھاری قرضہ چڑھ گیا ہے...حضرت نے فرمایا: میں آپ کو ایسی دعاء بتا دیتا ہوں جس سے اللہ تعالی آپ کا قرضہ اتار دیں گے...آپ 👇
روزانہ سحری کے وقت پچیس بار یہ دعاء پڑھا کریں
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً......
حضرت شیخ ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ عمل کیا تو 👇
Read 10 tweets
Jan 17, 2024
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل منافقین کے بارے میں یہ تھا کہ چند معروف منافقین کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی صفوں میں موجود ان منافقین کی نشاندہی تک نہیں کی گئی۔ انہیں الگ کرنے اور معاشرتی طور پر انہیں علیحدہ قرار دینا تو بعد کی بات ہے، اس سے قبل ان کی جو نشاندہی 👇
ضروری قرار پاتی ہے اس کا مرحلہ بھی نہیں آیا۔ جناب نبی اکرمؐ نے صرف چودہ منافقین کے نام بتائے اور وہ بھی صرف حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو، اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان میں سے کسی کا نام اور کسی کو نہیں بتائیں گے۔ حتٰی کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے انہیں کئی بار کرید کر پوچھنا چاہا مگر 👇
حضرت حذیفہؓ نے امیر المومنین حضرت عمرؓ کو بھی ان میں سے کسی منافق کا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ جس پر حضرت عمرؓ نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا کہ کسی عام شخص کے جنازے پر اگر حضرت حذیفہؓ موجود ہوتے تو حضرت عمرؓ جنازہ پڑھتے تھے ورنہ یہ سوچ کر جنازہ پڑھنے سے گریز کرتے تھے کہ 👇
Read 8 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us!

:(