جدیدیت پسند منکرین حدیث کے تضادات و اختلافات صلوٰۃ جیسے مسئلے میں ملاحظہ کیجیے
۱۔ سرسیدؒ پانچ نمازوں کے قائل تھے، عبداللہ چکڑالوی صاحب بھی پانچ نمازوں کے قائل تھے لیکن نماز میں اللہ اکبر کو شرک کہتے تھے، اور اس کی جگہ ان اللہ علیٰ کان کبیراً کا ورد کرتے تھے، 👇
سجدے کی حالت میں ایک گھٹنا اوپر رکھتے تھے۔
۲۔ عبداللہ چکڑالوی صاحب کے فرقہ اہل قرآن کے منحرف گروہ کے سربراہ مستری محمد رمضان تین وقت کی نماز کے قائل تھے ہر نماز میں صرف دو رکعت اور ہر رکعت میں صرف ایک سجدے کے قائل تھے۔
۳۔ عبداللہ چکڑالوی صاحب کے ایک اور منحرف گروہ کے 👇
سربراہ سید رفیع الدین ملتانی قرآن کریم کی روشنی میں صرف چار نمازوں کے قائل تھے ان کا موقف تھا کہ ہر نماز میں صرف دو رکعتیں قرآن سے ثابت ہیں اور دلیل یہ تھی کہ قرآن میں حالت جنگ و خوف میں ایک رکعت نماز کا حکم ہے لہٰذا ایک رکعت نصف نماز ہے تو حالت امن میں اصل نماز صرف دو رکعات ہے👇
، محبوب شاہ گوجرانوالہ اور سید عمر شاہ گجراتی کی رائے بالکل مختلف تھی۔
۴۔ مولوی احمد دین امرتسری صاحب جن سے علامہ اقبال بھی بے حد متاثر تھے۔ منکرین حدیث کے علمی امام اور اصل پیشوا احمد دین امرتسری صرف دو نمازوں کے قائل تھے، نماز کو قرآن سے حجت نہیں سمجھتے تھے اسے رسول اللہ کے 👇
قابل تقلید اجتہاد کے طور پر قبول کرتے تھے۔
۵۔ غلام احمد پرویز صاحب نماز کی جگہ نظام ربوبیت کے قائل تھے لہٰذا انھوں نے کبھی نہ مسجد بنائی نہ کسی مسجد میں نماز پڑھنے کی زحمت فرمائی۔ وہ نماز کی موجودہ حنفی شکل کو درست سمجھتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ 👇
مرکز ملت اس کی تعداد وغیرہ از سر نو مقرر کرسکتا ہے۔ ان کے حلقے بزم طلوع اسلام کے اجتماعات میں کبھی کسی کو نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
۶۔ اسلم جیراج پوری صاحب نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کو رسول اللہ کا متواتر اسوہ حسنہ سمجھتے تھے اور اس کی مخالفت کو 👇
قرآن کی مخالفت قرار دیتے تھے۔
۷۔ واضح رہے کہ اسلم جیراج پوری صاحب احمد دین امرتسری صاحب سے بے پناہ متاثر تھے، ان کا موقف تھا کہ احمد دین امرتسری کے مسلک سے اختلاف کرنا ممکن نہیں ہے جب کہ احمد دین امرتسری صرف دو نمازوں کے قائل تھے 👇
’’تعلیمات‘‘ میں صفحہ ۱۵۶ پر اسلم جیراج پوری کا یہ موقف تحریر ہے کہ ’’نماز متواتر اسوہ حسنہ ہے یقینی ہے اور دینی ہے اور اس کی مخالفت خود قرآن کی مخالفت ہے۔ لیکن ان کا یہ موقف بھی عجیب تھا کہ احمد دین امرتسری صاحب کی دو نمازوں کے فلسفے سے اختلاف کرنا ممکن نہیں۔
👇
۔
۹۔ حضرت علامہ مشرقی نماز کو پریڈ سے تشبیہ دیتے تھے تاکہ افواج اسلامی ورزش کے ذریعے چاق و چوبند رہیں ان کی صحت اچھی رہے اور وہ دنیاوی امور میں بہتر طور پر حصہ لے سکیں۔
۱۰۔ مصر میں منکرین حدیث کے سربراہ ڈاکٹر توفیق صدقی بھی صرف دو نمازوں کے قائل تھے۔
👇
ان تمام تضادات کو صرف صلوٰۃ کو مثال کے طور پر لیا ہے اگر اسی طرح دیگر موضوعات کی بھی فہرست تضادات پیش کی جائے تو قدم قدم پر منکرین حدیث کے متضاد نقطۂ ہائے نظر ملتے چلے جائیں گے۔ کولن ولسن نے لکھا تھا کہ سقراط سے آج تک جتنے بھی فلسفی گزرے ہیں ہر ایک نے دوسرے کی تردید کی بلکہ 👇
خود فلسفی اپنے فلسفے کی تردید کرتے رہتے ہیں۔ کم و بیش یہی صورت حال منکرین حدیث اور فرقہ اہل قرآن کی ہے صرف ان کے فرقوں میں تضادات نہیں پائے جاتے بلکہ ان فرقوں کے بانیان کے افکار تضادات سے پر ہیں، مختلف مواقع پر یہ مختلف موقف اختیار کرتے ہیں۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
قتل بالسبب (Qatl-bis-sabab) قتل کی وہ چوتھی قسم ہے جس میں کسی شخص کا ارادہ نہ تو کسی کو مارنے کا ہوتا ہے اور نہ ہی زخمی کرنے کا، لیکن وہ کوئی ایسا غیر قانونی کام کرتا ہے جو بالواسطہ طور پر کسی کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
👇
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 321 کے مطابق، جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت کے بغیر کوئی ایسا غیر قانونی فعل کرے جو کسی دوسرے شخص کی موت کا سبب بن جائے، تو اسے قتل بالسبب کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
کسی عوامی راستے یا دوسرے کی ملکیت میں بغیر اجازت گہرا گڑھا یا کنواں کھودنا 👇
جس میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے۔
راستے میں کوئی ایسی رکاوٹ یا پتھر رکھنا جس سے ٹکرا کر کسی کی جان چلی جائے۔
سزا (دفعہ 322):
دیت: اس جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص صرف دیت (مالی معاوضہ) ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
اس میں قصاص (جان کے بدلے جان) یا قید کی سزا عام طور پر نہیں ہوتی 👇
قتلِ شبہ عمد قتل کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو نقصان یا چوٹ پہنچانے کی نیت تو ہو، لیکن اسے جان سے مارنے کا ارادہ نہ ہو، مگر وہ فعل یا ضرب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
اس کی قانونی اور شرعی تفصیلات یہ ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو جان بوجھ کر ایسی چیز (مثلاً ڈنڈا یا تھپڑ) سے 👇
مارے جس سے عام طور پر موت واقع نہیں ہوتی، لیکن اس کے نتیجے میں اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو اسے قتلِ شبہ عمد کہتے ہیں۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 315 میں اس کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
سزا
دیت: مجرم پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (مالی معاوضہ) ادا کرے👇
قید (تعزیر): دفعہ 316 کے تحت عدالت مجرم کو 25 سال تک قیدِ تعزیری کی سزا بھی سنا سکتی ہے۔
کفارہ: شرعی اعتبار سے قاتل پر کفارہ (ساٹھ مسلسل روزے) بھی واجب ہوتا ہے۔
قتلِ عمد سے مراد وہ قتل ہے جو مکمل ارادے اور نیت کے ساتھ کیا گیا ہو، یعنی قاتل کا مقصد جان بوجھ کر کسی شخص کی جان لینا ہو۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 300 کے مطابق، اگر کوئی شخص اس نیت سے کوئی ایسا فعل کرے 👇
جس سے کسی کی موت واقع ہو جائے یا ایسی جسمانی چوٹ پہنچائے جو عام حالات میں موت کا سبب بن سکتی ہو، تو اسے قتلِ عمد کہا جاتا ہے۔
پاکستان پینل کوڈ (PPC): اس جرم کی سزا دفعہ 302 کے تحت دی جاتی ہے۔
سزائیں:
قصاص: اس کا مطلب ہے "جان کے بدلے جان"۔ یہ اسلامی سزا ہے جہاں عدالت 👇
قاتل کو سزائے موت سناتی ہے۔
تعزیر (سزائے موت یا عمر قید): اگر قصاص کے شرائط (جیسے گواہی کا خاص معیار) پورے نہ ہوں، تو عدالت حالات کی بنیاد پر سزائے موت یا عمر قید دے سکتی ہے۔
حبسِ دوام (25 سال قید): بعض مخصوص حالات میں، جہاں قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، وہاں 25 سال تک قید کی سزا دی 👇
قتلِ خطا سے مراد وہ قتل ہے جو کسی شخص کے ارادے یا نیت کے بغیر محض غلطی (Mistake of fact or act) کی وجہ سے ہو جائے۔
اس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
تعریف: جب کوئی شخص کسی کو مارنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، لیکن کسی غلطی یا غفلت کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے، تو اسے قتلِ خطا کہا 👇
جاتا ہے۔
مثالیں:
نشانہ بازی یا شکار کے دوران گولی غلطی سے کسی انسان کو لگ جانا۔
ٹریفک حادثات، جہاں ڈرائیور کا ارادہ قتل کرنا نہ ہو مگر غفلت یا حادثے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہو جائے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پاکستان کے قانون کی دفعہ 318 (Section 318) میں اس کی تعریف بیان کی گئی👇
ہے۔
سزا:
دیت: قاتل پر لازم ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کو دیت (خون بہا) ادا کرے۔
کفارہ: شرعی طور پر قاتل پر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا بھی لازم ہوتا ہے۔
قید: اگر قتل غفلت یا لاپروائی (Rash or negligent act) کی وجہ سے ہوا ہو، تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت 5 سے 10 سال تک قید کی سزا بھی ہو 👇
دیت اگر سونے کی صورت میں ادا کی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار (1000) دینار یعنی 375 تولہ سونا جس کا اندازا جدید پیمانے سے 4 کلو 374 گرام سونا یا اس کی قیمت بنتی ہے، اور اگر دراہم (چاندی) کے اعتبار سے ادا کرنا ہو تو دس ہزار (10000) درہم یعنی 👇
2625 تولہ چاندی جس کا اندازا جدید پیمانے سے 30 کلو 618 گرام چاندی یا اس کی قیمت بنتی ہے
قتلِ عمد میں قاتل پر دیت واجب نہیں ہوتی، بلکہ قتلِ عمد میں قاتل کی شرعی سزا قصاص ہے ، اور قصاص صرف حکومت جاری کرسکتی ہے، البتہ اگرمقتول کے ورثاء قصاص معاف کرکے قاتل سے صلح کرنا چاہیں تو اُن کو اس کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم قتلِ عمد میں صلح کی صورت میں دیت کی مقدار پر 👇