جب ہم مسلمان اللہ کو کائنات کا خالق ومالک اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ اور احکام وقوانین میں اس کی طرف سے مجاز اتھارٹی سمجھتے ہیں تو اس یقین وایمان کی رو سے ہم اس امر کے پابند ہو جاتے ہیں کہ اس کو حتمی تصور کریں اور 👇
اگر کوئی بات ہماری سمجھ میں نہ آتی ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اور ان کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو صحیح اور برحق مانتے ہوئے سمجھ میں نہ آنے کو اپنی عقل کی کوتاہی پرمحمول کریں۔ 👇
بات وہاں بگڑتی ہے اور اشکال وہیں پیدا ہوتا ہے جب کچھ لوگ یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہماری عقل اور سمجھ کسی بات کے صحیح اور حتمی ہونے کا واحد معیار ہے۔ کوئی بات اس کے دائرے میں آئے گی تو ہم قبول کریں گے اور اگر کوئی بات ہماری سمجھ اور عقل کے دائرے میں نہیں آ رہی تو نہ صرف یہ کہ 👇
اس کو تسلیم نہیں کریں گے بلکہ اس کی نفی کرنا اور اس کا مذاق اڑانا بھی ضروری سمجھیں گے۔
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
سورہ بنی اسرائیل کی آیات ۷۳، ۷۴ اور ۷۵ میں نبی کریمؐ سے یہ کہا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کو قرآن کریم کے احکام کے بارے میں آزمائش میں ڈالنے کا پورا پروگرام رکھتے تھے اور اگر ہم آپؐ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو یہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جاتے، اور اگر ان کا پروگرام آپؐ قبول کر لیتے تو 👇
یہ آپؐ کو دوست بنا لیتے۔
تفسیر قرطبیؒ، خازن اور روح المعانی میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ایک ارشاد ان آیات کے ضمن میں نقل کیا گیا ہے کہ یہ آیات طائف کے بنو ثقیف کی اس پیش کش کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جن میں انہوں نے جناب رسول اکرمؐ سے کہا تھا کہ اگر وہ 👇
ان کی بعض شرائط قبول کر لیں تو وہ سب قبولِ اسلام کے لیے تیار ہیں۔ یہ شرائط ان آیات کریمہ کے حوالہ سے مختلف تفاسیر میں اور آنحضرتؐ کے ساتھ بنو ثقیف کے وفد کی ملاقات کے تذکرہ میں سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں جن میں یہ باتیں بطور خاص قابل ذکر ہیں:
جہاں تک رائے اور دلیل کے اختلاف کا تعلق ہے چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اسے ہمیشہ برداشت کیا ہے اور دلیل کا جواب دلیل سے دیا ہے۔ گزشتہ کئی صدیوں سے مغرب کے مستشرقین اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کے بارے میں لکھتے آرہے ہیں، اعتراضات کرتے ہیں اور 👇
سینکڑوں باتوں سے اختلاف کرتے ہیں لیکن مسلمان کبھی ان پر سیخ پا نہیں ہوئے بلکہ کتاب کا جواب کتاب سے، مقالہ کا جواب مقالہ سے اور دلیل کا جواب دلیل سے دیا گیا ہے، جس پر مغرب کی بہت سی یونیورسٹیوں کی لائبریریاں گواہ ہیں۔ البتہ توہین، استہزا، تحقیر اور تمسخر کی بات مختلف ہے، 👇
دین اسلام، پیغمبر اسلامؐ، قرآن کریم بلکہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے حوالہ سے بھی مسلمانوں نے کبھی یہ لہجہ برداشت نہیں کیا اور نہ آئندہ کبھی برداشت ہوسکتا ہے، ہم تاریخ کے حوالہ سے اس سلسلہ میں ایک عام سی مثال دیا کرتے ہیں کہ 👇
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب ریاست مدینہ کی حکمرانی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سنبھالی تو انہوں نے اڑھائی سالہ مختصر دور حکومت میں تین بڑے اہم کام کیے تھے:
1 عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے اس دور کے مدعیان نبوت کی سرکوبی کی تھی۔
👇
2 زکٰوۃ کے منکرین کا استیصال کر کے ایک دینی فریضہ کا تحفظ کیا تھا۔
اور قرآن کریم کو سرکاری طور پر کتابی شکل میں محفوظ کر کے اللہ تعالٰی کی عظیم اور آخری کتاب کی حفاظت کے بارے میں ذہنوں میں پیدا ہونے والے خدشات و خطرات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا تھا۔
جس کا مطلب 👇
واضح طور پر یہ ہے کہ امت کے اسلامی عقائد کا تحفظ، دینی احکام و فرائض کی حفاظت اور اسلامی علوم کا تحفظ و فروغ ریاستِ مدینہ کی بنیاد تھی اور یہ تینوں کام اسلامی ریاست کے فرائض میں شامل ہیں۔ اس لیے 👇
اور جنرل یحیٰی خان؟
مجلہ:
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ 👇
سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔
یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا۔ 👇
پاکستان دولخت ہوگیا، نوے ہزار فوجی دشمن کی قید میں چلے گئے، اور مغربی پاکستان کے محاذ پر بھی بہت بڑے علاقے پر دشمن نے قبضہ کر لیا۔ یحییٰ خان اگرچہ اس دور میں ملک کے بلاشرکت غیرے حکمران رہے لیکن عوامی حلقوں کا یہ تاثر ہے کہ اس کاروائی میں ان کے ساتھ کچھ سیاسی چہرے بھی شریک ہیں 👇
مسٹر بھٹو کے زمانے میں جب قادیانیوں کا طوطی بولتا تھا، حضرت شیخ بنوریؒ نے متعدد ممالک اسلامیہ کو خطوط لکھے۔ افسوس! کہ وہ سب محفوظ نہیں۔ ماہنامہ بینات بنوریؒ نمبر سے دو خطوط درج ذیل ہیں، شاہ کو تحریر کیا: 👇
’’سیدی ومولائی! ہر شخص اپنی طاقت وقدرت کے بقدر اللہ تعالیٰ کے ہاں جوابدہ ہے۔ آنجناب کو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام وسائل عطا کر رکھے ہیں، جن کے ذریعہ آپ ساری روئے زمین پر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرسکتے ہیں۔ سیدی ومولائی! ہمیں علم ہے کہ جب ہمارے وطن عزیز پاکستان اور ظالم ہندوستان 👇
کے درمیان جنگ برپا ہوئی تو آنجناب نے پاکستان کی ہرممکن مادی واخلاقی مدد فرمائی، جو سربراہانِ اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک قابل نمونہ ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ آپ کے اس کارنامہ پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ بجالائیں۔ سیدی ومولائی! آج پاکستان قادیانیت کی جانب سے عظیم خطرہ میں ہے👇
یہ حکومت بجائے اس کے کہ پاکستان کو ترقی کی طرف لے جائے، اُلٹا پاکستان کو ہر طرف اور ہر اعتبار سے نیچے لے جارہی ہے، جب کہ حکومت میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران احمد خان صاحب نے کہا تھا کہ: ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، ہم بیرونی قرضے نہیں لیں گے، ہم 👇
ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دیں گے، پچاس لاکھ گھر بناکر غریبوں کو دیں گے، غربت کا خاتمہ کریں گے، بجلی، گیس، تیل اور خوردونوش کی اشیاء کی قیمتیں کم کریں گے۔ وفاقی وزیر جناب فیصل واوڈا صاحب نے بڑے فخر وانبساط کے ساتھ قوم کو یہ خوش خبری دی تھی کہ حکومتی اقتصادی پالیسیوں کے 👇
نتیجے میں قوم کو لاکھوں روزگار کے مواقع ملیں گے۔ اب اس کے برعکس وفاقی وزیرسائنس وٹیکنا لوجی جناب فواد چوہدری صاحب فرمارہے ہیں کہ: عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگے، حکومت تو خود چار سو محکمے ختم کرنے جارہی ہے۔ گویا اس حکومت کی سوا سال کی کارکردگی بس اتنی ہے کہ اس نے 👇