1/4 جنرل پرویز مشرف نے جب اپنی نوکری بچانے کے لئے اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کے اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں واحد احتجاجی آواز جو سڑکوں پر سنائی دی تھی، وہ مشاہد اللہ خان کی تھی۔ وہ اپنے گریبان کا پرچم بنا کر کراچی کے ریگل چوک میں پہنچے تھے اور اس شب خون کے خلاف نعرہ زن ہوئے تھے۔
2/4 قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس پر انہیں مار مار کر لال کر دیا تھا، وہ ایک عرصہ اپنی چوٹیں سہلاتے رہے، لیکن آئین شکنوں کو چوٹ لگانے سے باز نہیں آئے
مشاہد اللہ کی سیاست عام آدمی کی سیاست تھی، سینیٹ سے ملنے والی تنخواہ میں گزر اوقات کرتے اور شکر بجا لاتے۔ خواص میں اپنا شمار
3/4 کرایا، نہ اشرافیہ کا حصہ بننے کی خواہش دل میں پالی۔ سیاست کو گالی دینے والوں اور گالی بنانے والوں کے ہجوم میں وہ سیاست کا اعتبار تھے، اپنی جگہ ڈٹ جانے والے پہاڑ جیسے آدمی کو کوہ باوقار نہ کہیں تو کیا کہیں
4/4 ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کی پوچھتے ہو
جو عمر سے ہم نے بھر پایا وہ سامنے لائے دیتے ہیں
دامن میں ہے مشتِ خاک جگر، ساغر میں ہے خونِ حسرتِ مے