قرآن ، حدیث اور اسلامی تاریخ کا سعودی شہر مکہ سے تضاد
ثُـمَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالْبَيْتِ الْعَتِيْق (22/29)
پھر چاہیئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہ قدیم کا طواف کریں (روایتی ترجمہ)
روایتی تراجم کے مطابق خانہ قدیم (موجودہ خانہ کعبہ) کو ابراہیم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اسلامی تواریخ کے مطابق مکہ اسلام کی جائے پیدائش ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں ابراہیم کے وقت سے چاروں اطراف سے عرب حج کا فریضہ انجام دینے کے لیے آتے تھے۔ آدم نے اسی مقام پر زمین پر اپنے پہلے قدم رکھے
اور آخر کار محمد رسول اللہ کا جنم اسی شہر میں ہوا۔ نزول قرآن بھی اسی شہر میں ہوا۔ اسلامی مورخین کے مطابق مکہ مقدس شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم تجارتی مرکز بھی تھا۔ کافروں نے کعبہ میں 360 بُت رکھے ہوئے تھے اور وہ اسی بتوں کے مرکز کا طواف کر کے فریضہِ حج انجام دیتے تھے۔
اسلامی مورخین جس طرح کی خصوصیات مکہ سے منسوب کرتے ہیں، ان کے مطابق مکہ ایک مشہور و معروف عظیم الشان شہر تھا (قرآن کے مطابق ام القری) جس کے لوگوں، مقدس مقامات اور تجارت کی اہمیت کے معترف جزیرہِ عرب کے سبھی لوگ تھے۔ مگر حیرت انگیز اور حیران کُن طور پر مکہ شہر
کا اولین ذکر نبی کریم ص کی وفات کے 109 سال بعد سن 741 عیسوی میں پہلی مرتبہ مکاشفہِ سوڈو متھوڈیس (The Apocalypse of Pseudo Methodius) کے عربی ترجمے میں سامنے آیا۔ جبکہ مکہ دنیا کے کسی بھی نقشے پر پہلی مرتبہ سن 900 عیسوی یعنی نبی کریم ص کی وفات کے 238 سال بعد نمودار ہوا۔
قدیم تاریخ، نقشوں، کندہ کاریوں اور دستاویزات میں نا تو مکہ موجود ہے اور نا ہی کعبہ جیسے عظیم مقدس مقام کا کوئی ذکر ہے۔ مکہ جغرافیائی لحاظ سے اس قدر بنجر و ویران مقام پر ہے کہ قدیم زمانے میں اس جگہ کو تجارتی و آبادیاتی (inhabitation) لحاظ سے کسی صورت بھی اہم تصور نہیں کیا جا سکتا
۔ اس جگہ پر پانی کی شدید قلت ہے جس کے باعث دارالحکومت جیسی خاطر خواہ آبادی کے لئے زراعت و سکونت کے مواقع آج کی جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن ھی نہیں۔
حدیث اور اسلامی تاریخ کے مطابق مکہ ایک اہم تجارتی و مذہبی مقدس مقام اور تجارتی قافلوں کی اہم گزرگاہ تھا۔
اس شہر میں زیتون، کھجور اور دوسرے نباتات اگائے جاتے تھے۔ اس شہر سے 2500 اونٹوں کے کئی تجارتی قافلے برآمد کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا جس کی بنا پر یقیناً یہ شہر دو سے چار لاکھ کی آبادی کا مسکن ہو سکتا ہے مگر قبل از اسلام اس علاقے میں انسانی آباد کاری اور رہائش کے نشانات بلکل بھی
نہیں ملتے۔ مکہ اور قرب و جوار کا علاقہ تعمیرات کے غرض سے مسلسل کھودا جاتا رہا ہے اور اس قسم کی تمام کھدائیاں ادراہِ آثارِ قدیمہ سعودی عرب کی نگرانی میں کی جاتی ہیں مگر کسی بھی کھدائی کے دوران قدیم مکہ سے منسوب وہ تمام مقامات جو تاریخ کی کتب اور احادیث میں بیان کئے گئے ہیں،
کبھی بھی دریافت نہیں ہو پائے بلکہ عرب ماہرینِ آثار قدیمہ اس بات پر ہمیشہ سے حیران رہے ہیں کہ مکہ سے منسوب تمام ہی تاریخی نشانیاں آج تک ناقابلِ دریافت ہیں تو آخر کیوں ہیں ؟
طائف مکہ کا قریب ترین قدیم تجارتی مرکز ہے۔ یہاں عربوں نے پہاڑوں اور چٹانوں کو کھود کر رہائشگاہیں،
عبادتگاہیں، اناج کے گودام اور ہر قسم کے دوسرے مسکن بنائے ہیں۔ اس شہر میں قبل از اسلام مسیحی و یہودی مذہب سے متعلق کندہ کاریاں (Inscriptions in stone) باآسانی مل جاتی ہیں۔ یہاں کفارِ عرب (Arab Pagans) کے دیوی دیوتا اور مذہب سے متعلق کندہ کاری پتھروں پر باآسانی مل جاتی ہے یعنی
اس علاقے میں صرف عرب آبادی ھی نہیں بلکہ ان کے مذہب، رہن سہن حتی کہ ستارہ شناسی سے متعلق معلومات بھی باآسانی دستیاب ہو جاتی ہے۔ کمہاروں کے بنائے ہوئے برتنوں، لوہاروں کے بنائے ہوئے اوزاروں، بھڑئیوں کے بنائے ہوئے لکڑی کے ساز و سامان تک باآسانی دریافت کئے جا چکے ہیں لیکن
مکہ کے اردگرد کے علاقے اور پہاڑوں میں ایسا کچھ دریافت نہیں ہوا، نا کوئی کندہ کاری، نا ھی کوئی ایسا مسکن جو چٹانوں کو کھود کر بنایا گیا ہو، نا ہی مسیحت، یہودیت، سبائین اور عرب کفر (Arab Paganism) سے متعلق کوئی نام و نشان۔ مکہ کے ارد گرد کے پہاڑ اور چٹانیں مکمل طور پر اس طرح کے
تاریخی شواہد سے پاک ہیں جس سے یہی معلوم پڑتا ہے کہ اس جگہ پر کبھی بھی کوئی آبادی یا اہم مقدس مقام نہیں رہا۔ ایک ایسا شہر جس کی طرف تمام عرب مبینہ طور پر ابراہیم کے وقت سے حج کے لئے آتے تھے، وہ اس طرح کے شواہد سے مکمل پاک ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی لازم ہے کہ عرب جن علاقوں میں
تجارت کے لئے جاتے، جن راستوں سے جاتے وہاں اپنے دیوتاؤں اور دیویوں کے نشانات کندہ کرتے جاتے۔ اگر کسی راستے سے گزرتے تو پانی کے نظام کو بہتر کرتے چلے جاتے، بنجر و پانی کی کمی کے علاقوں میں وہ پتھروں کے درمیان مختلف نالیاں اور راستے اس لئے بناتے کہ گزرنے والے عرب قافلوں کو باآسانی
پانی مل سکے مگر حیرت انگیز طور پر مکہ کے گرد و نواح میں اس طرح کی کوئی بھی نشانی نہیں ملتی۔
پچھلے ڈیڑھ سو سال میں انسانی علم اور سائنس نے ہوش رُبا ترقی کی ہے، آثار قدیمہ سے متعلق رازوں سے پردہ اٹھانے کے لئے آج وہ ذرائع موجود ہیں جو ماضی میں کبھی بھی موجو نہ تھے۔ ان ذرائع کی
وجہ سے آج ہم ایسی حقیقتوں سے روشناس ہو رہے ہیں جن کا تصور بھی محال تھا۔ گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS)، جغرافیائی انفارمیشن سسٹم (Geographical Information System – GIS)، سٹلائیٹ کے ذریعے تصویر کشی (Satellite Imagery) سے زمین کے جغرافیہ اور قدیم مقامات کے متعلق اہم معلومات ملی ہیں۔
جغرافیہ اور علم العرضیات (Geology) کے ذریعے زمین کی تہوں میں چھپے ہوئے قدیم کھنڈرات، تجارتی راستے، جھیلیں اور دریا تک دریافت کر لیے گئے ہیں۔ آثار قدیمہ سے متعلق اہم شواہد روز بروز نا صرف دریافت ہو رہے ہیں بلکہ ان کی زمانی عمر کا تخمینہ بھی بڑی کامیابی سے لگایا جا رہا ہے
۔انٹرنیٹ نے ذرائع ابلاغ و مواصلات کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب بپا کر دیا ہے جس کے باعث جدید تحقیق تک ہر انسان کی رسائی ممکن بنا دی ہے، آج کسی بھی ثبوت، تحقیق اور منطق سے متعلق شواہد ڈھونڈنا صرف کی بورڈ پر انگلیاں چلانے جتنا آسان ہو چکا ہے۔
مکہ کی آرکیالوجی اور سٹلائیٹ تصاویر سے
معلوم ہوتا ہے کہ مکہ قدیم تجارتی راستوں سے بہت دور ہے، اور قدیم زمانے میں یہ کبھی بھی کسی تجارتی راستے (Trade route) سے منسلک نہیں رہا۔ اس کے علاوہ اس شہر کے مکینوں کے لئے قدیم زمانے میں کسی قسم کی مستقل آمدنی کے ذرائع ناممکن ہیں۔ اسلامی تواریخ میں بیان ہوتا ہے کہ مکہ کے
گرد پہاڑیوں کا ایک قدرتی حصار موجود ہے، مگر سیٹلائیٹ تصاویر میں ایسا کوئی حصار دکھائی نہیں دیتا۔ سٹلائیٹ تصاویر کی روشنی میں مکہ کے گرد و نواح میں سب سے قریبی تجارتی راستہ مکہ سے ایک سو دس کلومیٹر دور طائف سے گزرتا تھا، یہ راستہ سطح مُرتفع (Plateau) کے پار ہے، جس کے باعث
اس پتھریلے بنجر پہاڑی راستے میں سطح مرتفع کو پار کر کے ہی طائف جایا جاتا تھا، اس سفر کے دوران ایک ہزار فٹ چڑھائی اور پھر اسی طرح اترائی کو پار کرنا ہوتا تھا۔ قدیم زمانے میں یہ فاصلہ اونٹوں پر یا پیدل پار کرنا انتہائی مشکل کام تھا۔ آج پہاڑوں کو کاٹ کر سرنگیں بنا لی گئی ہیں جس سے
یہ سفر انتہائی آسان ہو چکا ہے۔
یمن سے شام جانے کا دوسرا تجارتی راستہ وھی ہے جسے آج روٹ 5 کے طور پر جانا جاتا ہے، یہ بھی مکہ سے تقریباً سو کلومیٹر کے فا صلے سے گزرتا ہے ، مگر اس راستے کا قبل از اسلام نقشوں میں کہیں ذکر نہیں، جس کی وجہ اس جگہ ساحل سمندر کی موجودگی ہے، جس کے باعث
یہاں زیادہ موثر تجارت سمندر سے ہوسکتی ہے، یہ ساحل مکہ سے 100 کلومیٹر دور ہے۔
مکہ پتھریلی، ریتلی ،خشک اور بنجر زمین پر واقع ہے جہاں ہزاروں سالوں سے خشک موسم کا راج ہے، اس علاقے میں میں اوسطاً 3.4 انچ (گیارہ سنٹی میٹر ) بارش ہوتی ہے۔ حدیث اور اسلامی تاریخ میں مکہ کو ہزاروں مسلح
سواروں کی رہائشگاہ بتایا جاتا ہے مگر اس قدر بنجر اور خشک زمین پر قائم اس شہر کے مکینوں کے لئے اناج تو درکنار، جانوروں کے لئے گھاس بھی مہیا نہیں کی جا سکتی۔ اگر آپ ایسا بھی فرض کر لیں کہ اس وقت مکہ حدیث اور اسلامی تاریخ کے بیان کے مطابق سر سبز و شاداب شہر تھا، تو پھر ہمیں اس
علاقے میں اس زمانے کے نباتات کے تخمک (spores) اور پولن کے فاسل ضرور ملنے چاہیں، جن کی کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے بڑی آسانی سے جناب محمد رسول اللہ کے زمانہ میں موجودہ مکہ کے سر سبز و شاداب ہونے کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ مگر اسلامی تاریخ کے مطابق بیان کردہ زیتون اور دوسرے نباتات
کا کوئی ثبوت آج تک مکہ سے نہیں ملا۔ مکہ کے جغرافیہ، جیالوجی، نباتات اور تاریخی ثبوتوں کی روشنی میں بآسانی اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ جس شہر کو ہم آج رسول اور اسلام کی جائے پیدائش کے طور پر مانتے ہیں، وہ تاریخِ اسلام اور احادیث میں بیان کردہ شہر ہو ھی نہیں سکتا کیونکہ یہ شہر
تاریخ، احادیث اور قرآن میں بیان کردہ خصوصیات سے قطعاً میل نہیں کھاتا۔
قرآن کا علاقہِ نزول:-
قرآن میں قوم عاد کا ذکر تئیس مرتبہ ، قوم ثمود کا چوبیس، اہل مدائن کا سات ،یثرب کا دو، مکہ کا ایک، بکہ کا ایک، قوم تبع کا دو، کنوئیں والی قوم کا دو اور حِجر کا ایک مرتبہ کیا گیا ہے۔
قوم عاد :-اس قوم سے متعلق کسی قسم کا کوئی آرکیالوجیکل ثبوت آج تک سامنے نہیں آیا، یا پھر یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مورخین آج تک قومِ عاد کو پہچان نہیں پائے، حالانکہ آج ان سے منسوب علاقہ پر مکمل آرکیالوجیکل چھان بین کی جا چکی ہے ، بائبل اور قرآن دونوں میں قوم عاد کا ذکر موجود ہے۔
قدیم مصریوں نے ان کو ہاکسوس کا نام دیا ہے، ان کا زمانہ وہ مانا جاتا ہے جب انسان نے اس خطے میں گُھڑ سوای شروع کی، مصری کُندہ کاریون کے مطابق عرب کے خطے سے اجتماعی طور پر برآمد ہونے والے حملہ آور گھُڑ سوار تھے۔
اہل مدائن :- ماہرین آثآر قدیمہ اور مورخین کی اکثریت متفق ہے کہ
ان کا نام مدائن ان کی جائے سکونت کے مماثل نہیں، بلکہ یہ عرب کے مختلف قبائل کا مجموعی نام ہے۔ اسلامی فتوحات شاید تاریخ میں دوسرا موقع تھا جب عرب بدؤ اکٹھے ہو کر دوسرے علاقوں پر حملہ آور ہوۓ۔ یوں تو قرآن میں مدیانی لوگوں کا متعدد بار ذکر ہوا ہے، لیکن احادیث میں ان کا
ذکر نا ہونے کے برابر ہے۔ مگر آثار قدیمہ کی دریافتوں میں مدایانیوں سے متعلق مٹی کے برتن(pottery) غزہ سے عراق تک پھیلے ہوئے ملتے ہیں۔ قرآن کے مطابق شعیب ص کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔
قوم ثمود: ثمود عربی کا لفظ نہیں اور نہ ہی عربی میں اس کے معنی موجود ہیں، لیکن اگر
اس لفظ کو دو حصوں یعنی "ثم" اور "عد" میں تقسیم کیا جائے، تو اس کا ترجمہ "عاد کے بعد آنے والے" بنا ۔ آثار قدیمہ سے حاصل کئے گئے ثبوتوں کی روشنی میں ہم جانتے ہیں کہ جب بھی عرب قبائل نے اکٹھے ہو کر دوسروں پر حملے کیئے تو انہیں ایک قوم کے طور پر پکارا گیا۔ یہی بات قرآن میں
بارہا دہرائی گئی ہے، یعنی مختلف علاقوں کے لوگوں کو ایک قوم سمجھ کر ان کی طرف ایک نبی مبعوث کر دیا گیا۔ اسی طرح محمد ص کی زندگی بھی عرب کے مختلف قبائل کو اکٹھا کرنے میں صرف ہوئی۔ اسی طرح ثمود سے متعلق شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ قوم ثمود مختلف قبائل پر مشتمل تھی۔ آثار قدیمہ سے ملنے
والے شواہد کے مطابق یہ لوگ پتھروں پر تصاویر اور کندہ کاری انتہائی ماہرانہ طریقے سے کرتے تھے، اور یہ جنوبی حجاز سے دنیا کے دوسرے حصوں تک اگربتی (incense) کی تجارت کرتے تھے۔
قرآن میں متعدد بار ان قدیم اقوام کی طرف متوجہ کروایا گیا ہے، اس طرح مخاطب کرنے کی وجہ سے ہم
سمجھ سکتے ہیں، کہ قرآن جن سے مخاطب ہے وہ انہی علاقوں کے مکین لوگ ہیں، جیسا کہ قرآن اس معاملے میں مکمل طور پر واضع ہے، قرآن اپنے مخاطبین کو سُوۡرَةُ الصَّافات میں قوم لوط کا انجام کا یاد دلاتے ہوۓ لوط کے تباہ شدہ شہر کی نشان دہی کرتے ہوۓ کہتا ہے
وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِى۔۔۔۔۔۔۔ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ (11/89)
اور اے میری قوم (کے لوگو!) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں
اِلَّا عَجُوۡزًا فِى الۡغٰبِرِيۡنَ٠ ۔۔۔۔۔ ٠ وَبِالَّيۡلِؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ( الصافات آیت 135 تا 138)
مگر ایک بڑھیا پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے ہو اور رات کو بھی۔ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔
قران کی ان آیات سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ جب قران اتر رہا تھا تو قرآن کے سامعین "قوم لوط" کے کھنڈروں کے ارد گرد آباد تھے، جسے آج أين تقع مدينة سدوم کے نام سے جانا جاتا ہے یہ شہر مکہ(موجودہ قبلہ) سے لگ بھگ ایک ہزار تین سو پچاس کلومیٹر دور ہے یعنی پاکستان کے حساب سے تقریباً
پشاور سے کراچی کے برابر فاصلہ بنتا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ ہم جس زمانے کی بات کر رہے ہیں اس زمانے میں براہ راست نشریات کی سہولت دستیاب نہیں تھی، سعودی ائر لائن کی سروسز کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ عربوں کے پاس اونٹ ایکسپریس تھا اور یہ اونٹوں کے قافلے انتہائی سازگار حالات
میں زیادہ سے زیادہ پچیس سے چالیس میل کا سفر ہی طے کر سکتے تھے۔ جس سے ایک بات واضع ہوتی ہے کہ عاد و ثمود کے کھنڈرات کسی صورت بھی موجودہ مکہ والوں کی نظر سے کبھی نہیں گزرے، کیونکہ اگر گزرے ہوتے
تو اللہ کبھی یہ نہ کہتا کہ تم روز وہاں سے گزرتے ہو یعنی کہ موجودہ کعبہ و مکہ کا قرآن اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
زرا نہیں پورا سوچئے !
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا وَزِيْنَتَـهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَـمِيْلًا (28)
اے نبی اپنے ساتھیوں (لِّاَزْوَاجِكَ) سے کہہ دو کہ
اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کے عیش و آرام چاہتے ہو تو آؤ میں تمہیں مالا مال کر دوں اور تمہیں الوداع کہہ کر خوبصورتی سے علیحدہ کر دوں
وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ ۔۔۔۔۔اَجْرًا عَظِيْمًا (29)
لیکن اگر تم اللہ اور پیغام رساں کی رضاء کی خواہش کرتے ہو اور
مستقبل میں مقام حاصل کرنےکی تو پھر اس کا یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے خوبیاں پھیلانے اور معاشرے کو توازن بدوش رکھنے والوں کے لیے بڑا عظیم اجر تیار کیا ہوا ہے۔
يَا نِسَآءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضَاعَفْ لَـهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ
مسلمانوں کے مذھبی افکار کی تاریخ میں "احمدیوں" نے جو کار ہائے نمایاں انجام دیا وہ یہ ہے کہ ہندوستان کی موجودہ غلامی کے لیے وحی کی سند مہیا کی جائے
سر ڈاکٹر محمد اقبال
"احمدیت اور اسلام"
انگریزی ایڈیشن صفحہ 127
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعووں کا بنیادی مقصد صرف یہ تھا کہ برطانوی سامراج کے خلاف مسلح جہاد کو حرام قرار دیا جائے چنانچہ اس نے اعلان کیا کہ "جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔
حضرت موسیٰ کے وقت اس قدر شدت تھی کہ
ایمان لانا بھی قتل سے نہیں بچا سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کیے جاتے تھے پھر ہمارے نبی ص کے وقت میں بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لیے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذے سے نجات پانا قبول کیا گیا اور
اگر ہم پاکستان کے جمود، اخلاقی و عملی تنزل کے اسباب دریافت کرنا چاہیں تو جو وجہ سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جاہل، متعصب اور فرقہ پرست مولویوں، پیروں، فقیروں اور صوفیوں نے اس سلطنت کی قوت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ صرف لاہور میں مختلف فرقوں کی اتنی مساجد و مدارس ہیں کہ
شمار ممکن نہیں۔ ہر دس قدم پہ فرقہ پرستوں کی مسجد، مدرسہ، دارالعلوم، مزار، پیر خانہ، گنج بخش، جھولے لعل، داتا، میاں میر نظر آئے گا، جنکے گرد معتقدین کا ہجوم قدم بوسی و ماتھا ٹیکنے کے لیے حلقہ بنائے رہتے ہیں۔
ہر شریف آدمی، تاجر، سیاستدان کوئی نہ کوئی مسجد مدرسہ بناتا یا انکے اخراجات میں حصہ ڈال کر جنت میں بنے بنائے محل کی بکنگ کرواتے اور اپنے کھاتوں سے گناہ ختم کرواتے نظر آئیں گے۔
ان مذہبی بہروپیوں کا عوام اذہان پہ بہت گہرا تسلط ہے۔ یہ یا انکے چیلے چانٹے اور
درج ذیل آیات مبارکہ کی روشنی میں آذان سے لے کر سلام پھیرنے تک پانچوں نمازوں کی تفصیل، عیدین، نماز جنازہ، ختنہ، چھ کلمے، مروجہ حج، عمرہ، زکوٰۃ و صدقات اور اپنے اپنے فرقوں کے عقائد و تعلیمات قرآن سے ثابت کریں کیونکہ جو قرآن میں نہیں وہ اسلام نہیں بلکہ کفر ہے
اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىٓ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّـهٝ عِوَجًا ۜ (18/1)
تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر الکتاب یعنی قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّـٰهِ ۖ (6/57)
اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلے گا