ذرا حوصلے سے پڑھیں
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
دورِ حاضر کی سیاست نے جہاں پاکستانیوں کو تبدیلی کے آنے کی نوید سنائی، وہیں بغیر سوچے سمجھے بولنے کے رواج کو عام کیا
🔽🔽
سوال یہ ہے کہ بھٹو، جنرل ضیاء الحق، اور جنرل مشرف کے ادوارِ حکمرانی میں کیا یہ گالم گلوچ، برے نام سے پکارنا، اؤے اور تم جیسے الفاظ استعمال ہوتے تھے؟
اگر ہوتے بھی تھے، تو کبھی کبھار اور خطاب کرنے والے کے لیے باعث شرمندگی قرار دیئے جاتے.
🔽🔽
لیکن عصرِ حاضر میں یہ بات مشاہدے میں ہے کہ بے تُکی گفتگو، بُرے ناموں سے پکارنا مخالف پارٹی کے حامیوں کو چڑانے اور نیچا دکھانے کے لیئے خصوصی طور پر تواتر سے رواج پکڑ چکا ہے.
پٹواری، جیالا، نونی، یوتھیا جیسے القابات دینا اب معیوب بات نہیں سمجھی جاتی.
🔽🔽
بابا نیوٹن کے اصول کے مطابق ہر مخاطب، جواباً پہلے سے گھٹیا اور مخرب الاخلاق اصطلاح ایجاد فرما کر معاشرے کا مزید بیڑہ غرق کرنے کے درپے ہے. اخلاقیات کا عملی طور پر جنازہ ہر پارٹی نے حتی المقدور نکالا ہے
دوست، رشتے دار، عزیز اور جان پہچان والے اس سے مستثنیٰ نہیں.
🔽🔽
بھلے تعلقات انتہائی مخدوش حالت کو پہنچ جائیں لیکن میرے لیڈر کی شان میں کوئی بات نہ کرے.
مزے کی بات یہ ہے کہ اکثریت کو براہ راست کسی بات، واقعے اور حالات کا یکسر علم نہیں ہوتا. معلومات سوشل میڈیا، من گھڑت خبروں اور سُنی سُنائی باتوں پر انحصار کرتی ہیں.
🔽🔽
اللّہ پہ یقین صرف زبان کی حد تک رہ گیا ہے، مگر اپنے لیڈر اور پارٹی نظریات پر مکمل یقین اور اعتماد ہے. جس میں کسی کمی کی گنجائش ہرگز نہیں. لیڈران کو نعوذبااللّہ وہ درجات دے دیئے ہیں جو صرف اللّہ ہی عطا کر سکتا ہے
ان درجات کو دیتے وقت ہم بشری کمزوریوں، لغزشوں اور کوتاہیوں
🔽🔽
کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں، گویا کہ ہمارے لیڈران ان سب عیوب سے پاک ہیں
المختصر یہ کہ معاشرتی روایات، اخلاقیات، باہمی رواداری، برداشت، پیار محبت، حُسنِ سلوک جیسی اچھی باتوں پر عمل ناپید ہو چکا اور ان سب اقدار کا جنازہ نکال دیا جا چکا.

شاید یہی تبدیلی ہے.

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Lt Col Shahid Bashir

Lt Col Shahid Bashir Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @LtColShahid

8 Oct
آفس سے تھکی ہاری خاتون چھٹّی کے بعد گھر جانے کے لئیے 🙉🙉🙈😂
بس میں سوار ہوئی،
سیٹ پر بیٹھ کر آنکھیں موند کر تھوڑا سا ریلیکس کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔

ابھی بس چلی ھی تھی کہ اگلی قطار میں بیٹھے ایک صاحب نے اپنا موبائل نکالا اور اونچی آواز میں گفتگو شروع کر دی۔
👇👇
اُن کی گفتگو کچھ اس طرح سے تھی: ’’جان میں غفور بول رہا ہوں، بس میں بیٹھ گیا ہوں اور گھر ھی آ رھا ھوں،
ہاں ہاں مجھے پتہ ہے کہ سات بج رھے ہیں پانچ نہیں، بس زرا آفس میں کام زیادہ تھا اس لئے دیر ہو گئی‘‘۔
نہیں جان، میں شبنم کے ساتھ نہیں تھا، میں تو باس کے ساتھ میٹنگ میں تھا
👇👇
’’نہیں جان، صرف تم ہی میری زندگی میں ہو‘‘۔
’’ہاں قسم سے۔۔۔

اس اونچی آواز میں مسلسل گفتگو سے خاتون کا سارا ریلیکس کرنے کا پروگرام غارت ھو چکا تھا اور وہ بہت ان ایزی محسوس کر رھی تھی ۔کافی دیر بعد تک بھی جب یہ سلسلہ جاری رھا تو خاتون کی ھمّت جواب دے گئی
👇👇
Read 4 tweets
26 Sep
یہ تحریر پوری پڑھیں

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟
جواب ملا
میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا لوگوں نے شور مچا رکھا ھے
آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے
🔰
ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (مٹی) لگایا کرتے تھے
(سلیٹ) پر سلیٹی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (بجری کا کنکر) استمعال کرتے تھے۔
اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہی عید پر بھی پہن لیتے تھے
🔰
اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے
کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا
🔰
Read 8 tweets
26 Sep
ضلع راجن پور کے شہر کوٹ مٹھن سے اگر چاچڑاں شریف کی جانب جائیں تو بے نظیر برِج پر چڑھنے سے پہلے دائیں ہاتھ پر ایک کچا راستہ مڑتا ہے جہاں دریا پار کرنے کے لیئے ایک عارضی پل قائم تھا۔ اِس پُل کے نزدیک حفاظتی بند کے ساتھ ایک حیران کُن منظر آپ کو اپنی جانب متوجہ کرے گا
🔰🔰
۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے یہاں ماضی میں کوئی بحری جنگ لڑی گئی ہو اور دشمن اپنے جہاز چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہو۔ یہاں آپ کو لہلہاتے اور سر سبز کھیتوں کے کنارے کیچڑ میں دھنسا ہوا ایک دیو ہیکل لوہے کا بحری جہاز نما ڈھانچہ نظر آئے گا، یہ "انڈس کوئین" ہے۔
🔰🔰
سابقہ ریاست بہاول پور کا "ستلج کوئین" جس سے کچھ دور ایک سٹیمر اور دو کشتیاں بھی اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہیں
اس کی مکمل تاریخ کے لیئے ہمیں ماضی کا چکر لگانا ہو گا۔ برِصغیر میں جب برٹش راج قائم ہوا تو سندھ سے پنجاب تک پُختہ سڑک اور ریلوے لائن نہ ہونے کی وجہ سے
🔰🔰
Read 22 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(