مغرب میں انتخابات کے دوران سیاست دانوں کے کردار، شخصیات اور صلاحیتوں کو جانچنے، پرکھنے کیلئے باقاعدہ ٹیلیویژن پر مباحثے ہوتے ہیں۔ لیڈر مخالفین کی کمزوریوں اور خامیوں پر زور نہیں دیتے، نہ ہی اپنی خوبیاں بتا کر خود ستائشی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ ہر سوال کا دوٹوک جواب دیتے ہیں۔👇
کیا کرنا ہے، کیوں کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور کب کرنا ہے؟ وہ ان چار سوالات کا جواب لاکھوں سامعین کے سامنے میڈیا کو دیتے ہیں۔ عوام سنتے ہیں اور پھر سوچ سمجھ کر ووٹ دیتے ہیں۔ کیا ہم نے انتخابی مہم کو جانچا؟ منشور کی خوش نما سطروں کو حافظےمیں جگہ دی؟ سوچا پاکستان کو ووٹ دینا ہے؟👇
لیکن دینا کس کو ہے؟
ہمارا تو رونا ہی یہ ہی ہے پورن ویڈیوز، گالی گلوج، کریکٹر اسیسینیشن اور پتا نہیں کیا کیا کر کے الیکشن لڑے جاتے ہیں اور ہم ہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کی گاڑیوں کے آگے بھنگڑے ڈالتے ہیں۔
اور یہ بھول جاتے ہیں کہ!
یہاں لوگ ہزار روپے چوری کرنے والے کو جوتے مارتے 👇
ہیں اور یہ ہی لوگ اربوں روپے کی چوری کرنے والوں سے جوتے کھاتے ہیں۔
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
اب دیکھنا یہ ہے کہ خواب دیکھنے والی نسل کب بے دار ہوجائے اوراپنے ووٹ کی طاقت سے اپنی ہی نہیں ملک کی تقدیر بھی بدل دیں۔ کسی دانانے کہا تھا، سیاست دان اگلے انتخابات کی فکر 👇
کرتا ہے، مدبر اگلی نسل کی فکر کرتا ہے اور نسل نو مستقبل کی فکرکرتی ہے۔
خدارا احسان کریں سدھر جائیں خود کو بدلیں ملک کا سوچیں۔
جزاک اللہ خیر
شکریہ 🥰
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
بیوہ‘ یتیم‘ نادار‘ مفلس اور معذور افراد وہ لوگ ہیں جن کے طفیل‘ اﷲ تعالیٰ ہمیں رزق دیتا ہے۔ نوازتا ہے‘ برکت اور رحمت نازل کرتا ہے جن گھروں میں ایسے لوگ بستے ہیں اور جو لوگ ایسے افراد کی دیکھ بھال کر ر ہے ہیں اہل نظر کی نگاہ میں وہ عظیم لوگ ہیں۔
خدمت خلق ایک مقدس جذبہ ہے جس کی👇
تحریک کے لئے کسی رہبر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ تو دل کا سودا ہے اور رضاکارانہ طور پر کیا جاتا ہے ۔ ایک رضا کار دل سے عہد کرتا ہے کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ہر ممکن کوشش کریگا۔ وہ مخلوق کی خدمت کرتے ہوئے تھکتا نہیں ہے۔ بیزار نہیں ہوتا ۔ دکھاوے اور نمائش سے کوسوں دور 👇
بھاگتا ہے۔ ایسے لوگ دل میں خوف خدا لئے دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی دنیا خوبصورت ہے۔ محتاجوں کے کام آنا‘ بھوکے کو کھانا کھلانا‘ اپاہجوں اور یتیموں کی سرپرستی کرنا‘ یہ وہ نیکیاں ہیں جو امن و آشتی اور انس و الفت کے پھول بکھیرتی ہیں۔ اور دلوں کو 👇
معروف مصنف نپولین ہل کہتا ہے: ”دنیا میں اتنا خزانہ زمین میں سے نہیں نکالا گیا، جتنا کہ انسان نے اپنے ذہن، خیالات، تصورات اور سوچ کے سمندر سے حاصل کیا"
اچھی سوچ ایک ایسا خزانہ ہے جس سے مٹی کو بھی سونا بنایا جاسکتا ہے، جبکہ منفی اور گھٹیا سوچ رکھنے والا شخص سونے کو ہاتھ ڈالے تو👇
وہ بھی مٹی بن جائے۔ اچھا سوچنے والے لوگ مسائل کو حل کرنے کی بہتر اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتے کہ ایسے ان سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھائے اور ان کو دھوکا دے۔ جن کی اپنی آزاد سوچ ہوتی ہے، ان کو غلام نہیں رکھا جا سکتا اور قوموں کی غلامی اصل میں 👇
سوچ کی غلامی ہوتی ہے۔
تاریخ کے مشہور آمر حکمران اڈولف ہٹلر نے کہا تھا: ”ہم جیسے حکمرانوں کو لوگوں پر حکومت کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کے پاس سوچ اور فکر نہیں ہوتی"
اور ہمارے ہاں ایسے لوگ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے حکومت بدل دو، کوئی کہتا ہے 👇