سانحہ کیچ بلوچستان
آخری بندہ آخری گولی تک .....
وہ الله کی راہ لڑنے والے کسی شیرنی کے بچے تھے آدھی رات کو گھپ اندھیرے اور سخت سردی میں 10 جوان 50 حملہ آوروں کا 5 گھنٹے تک مقابلہ کرتے رہے۔ آخری بندہ شہید ہونے تک نہ پیچھے ہٹے اور نہ دشمن کو پوسٹ تک پہنچنے دیا👇🏻
ویسے دنیا بھر میں فوج کا اصول ہوتا ہے کہ اگر یقین ہوجائے کہ آپ چیک پوسٹ کو نہیں بچا سکتے تو بجائے جانیں دینے کے آپ عارضی طور پر پیچھے چلے جاتے ہیں اور کسی دوسری پوزیشن سے مقابلہ کرتے ہیں۔ بلکہ اندھیرے میں تو لوگ جانیں بچانے بھاگ بھی جاتے ہیں لیکن👇🏻
ان چند جوانوں نے بہادری کی مثال قائم کر دی اور تب تک لڑتے رہے جب تک آخری جوان شہید نہیں ہوگیا
اس حوالے سے دو تین اعتراضات کیے جارہے ہیں مثلاً کمک کیوں نہیں پہنچی؟
بلکل پہنچی تھی اور جو پہنچی تھی اس میں بھی 4 جوان شہید ہوئے ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ👇🏻
چیک پوسٹ دیگر چیک پوسٹوں سے ذرا دور تھی اور اس تک پہنچنے کا راستہ خراب، کچا اور مشکل تھا۔ میدان میں لڑنے والے جوان جانتے ہیں کہ ایسا حملہ کرنے والے پہلے ہی ممکنہ کمک کو روکنے کے لیے راستوں میں آئی ڈیز لگا دیتے ہیں یا گھات لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان آئی ڈیز👇🏻
سے بچنے اور راستے کی خرابی کے پیش نظر کمک موٹر سائیکلوں پر روانہ کی گئی تاکہ جلد سے جلد پہنچے۔ تاہم ان میں بھی شہادتیں ہوئیں۔ حملہ شروع ہونے کے 20 سے 30 منٹ بعد کمک روانہ کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ تربت سے ایف سی کے ایس ایس جی کمانڈوز بھی روانہ کر دئیے گئے تھے👇🏻
میری انفارمشین کے مطابق 2 یا 3 ہیلی کاپٹر بھی بھیجے گئے لیکن وہ صرف نائٹ وژن یا نگرانی کرنے والے ہیلی کاپٹر تھے بلوچستان میں گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال نہیں ہوتے
جہاں تک ائر فورس یا ڈرون کی مدد کا تعلق ہے تو ائر فورس اس قسم کے حملوں میں موثر ثابت نہیں ہوتی۔👇🏻
ائر فورس جو بمباری کرتی ہے وہ کم از کم بھی 600 تا 700 میٹر کا علاقہ تباہ کرتی ہیں ایسے میں دشمن اور آپ کی فوج میں کافی فاصلہ ہونا چاہئے تاکہ آپ کی فوج اپنی ہی ائر فورس کا نشانہ نہ بنے۔ یہاں حملہ کلاشنکوفوں وغیرہ سے کیا گیا تھا جن کی موثر رینج 250 تا 300 میٹر ہوتی ہے۔👇🏻
یعنی دشمن چیک پوسٹ کے قریب تھا۔ ایسے میں ائر فورس تب ہی حملہ کرتی ہے جب یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ اپنے بندے بھی ماردو ساتھ میں
شہدا کے حوالے سے ایک فہرست سوشل میڈیا پر سرکولیٹ کی جارہی ہے جن میں ایک دو آٖفیسرز کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ فہرست بلکل جعلی ہے👇🏻
حملے میں کوئی افسر شہید نہیں ہوا ہے۔ حملہ آور سرخوں کا یہ وطیرہ ہے کہ اپنی ہلاکتیں کم اور پاک فوج کی بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں۔ اس وقت وہ اپنی ایک ہلاکت اور چند زخمیوں کو مان رہے ہیں جب کہ گمان ہے کہ ان کی بھی متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سرچ آپریشن مین تین دہشتگردوں کو👇🏻
زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے
اس حوالے سے وزیراعظم یا آرمی چیف بیانات اس لیے جاری نہیں کر رہے تھے کہ حملہ آوروں کا ایک بنیادی مقصد پاکستان کو غیر محفوظ ملک ثابت کرنا ہے۔ یہاں کھیلوں کے علاوہ جو معاشی سرگرمیاں فروغ پا رہی ہیں ان کا راستہ روکنا ہے پاکستان پی ایس ایل وغیرہ کا👇🏻
انعقاد کر کے دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں یا سیر سیاحت کے لیے بلکل محفوظ ملک ہے۔ اگر اس پر وزیراعظم یا آرمی چیف گرم گرم بیانات دیتے تو دشمن کا وہ مقصد حاصل ہوجاتا اور یہ خبر پھر بھرپور انداز میں میڈیا اٹھاتا۔ (کاش👇🏻
کراچی میں فسادات برپا کرنے والی جماعتوں کو بھی یہ بات سمجھ آجائے۔) لیکن اس حملے کا دشمن کو بھرپور جواب ملے گا اور اس کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں افغانستان اور ایران دونوں جگہ ملوث لوگ نشانہ بنے ہیں
یہ آپ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ یہ اینٹلی جنس کی ناکامی تھی👇🏻
جوایسے حملے کی منصوبہ بندی کا قبل از وقت سراغ نہ لگا سکی اور نقصان ہوگیا
باقی یہ کہنا کہ واپس کیسے گئے تو وہاں پر وہی سیکیورٹی فورس تھی جو لڑ رہی تھی اور شہید ہوگئی یا جو مدد کو پہنچی اور ان پرپیچ اور انتہائی مشکل علاقوں میں آدھی رات کے اندھیرے میں نکل جانا کوئی مشکل بات نہیں👇🏻
سانحہ کیچ بلوچستان کے شہدا پر دل خون کے انسو رو رہا ہے لیکن سر اونچا ہے ہماری یہ دعا کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنے والے خونی سرخے اپنے انجام کو پہنچیں گے ان شاءاللہ!
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
حکایت رومی
ایک چمڑہ رنگنے والا کسی کام سے عطر فروشوں کی بازار میں گیا تو بیھوش ہو کر گر پڑا۔لوگ جمع ہو گئے کوئی اس پہ گلاب کا عرق چھنٹ رہا تھا کوئی ہاتھ پاؤں مسل رہا تھا۔ ایک عقلمند اس کی نبض چکاس کر رہا تھا کہ اس نے بھنگ پی ہوئی ہے یا اس کو کوئی اور مرض ہے۔👇🏻
آخرکار اس کے عزیزوں کو اطلاع دے دی گئی کہ آپ کا رشتیدار فلاں جگہ پہ بیھوش پڑا ہے
چمڑہ رنگنے والے کا ایک موٹا چالاک اور سمجھدار بھائی تھا جو روتا ہوا آ پہنچا۔ وہ کتے کا پائخانہ بھی لے آیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے بھائی کا دماغ بدبو کا عادی ہے کیونکہ وہ رات دن جلے👇🏻
ہوئے چمڑے کو رنگنے کا کام کرتا ہے۔ اس لیے خوشبو اس کو تباہ کریگی
چمڑہ رنگنے والے کے بھائی نے لوگوں کو وہاں سے ہٹایا تاکہ کوئی بھی اس کے علاج سے واقف نہ ہو سکےاس نے اپنا منہ بھائی کے کان پر ایسے رکھا کہ گویا لوگ سمجھیں کہ وہ اس کے کان میں کوئی دعا پڑھ رہا ہےجب کہ اس نے چھپ کے👇🏻
آج پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ مایہ ناز سائنس دان، نوبل انعام حاصل کرنے والے ماہر طبیعات پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کا جنم دن ہے...
29 جنوری 1926 کو پیدا ہونے والے عبدالسلام نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ کالج جھنگ سے حاصل کی۔ 1946 میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ریاضی میں👇🏻
ایم اے کیا اور 95.5 فی صد کے ساتھ یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی
ماسٹرز تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عبدالسلام کے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا تو وہ سِول سروس سے وابستہ ہو جاتے یا اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونِ ملک کا رخ کرتے لیکن ایک چھوٹے سے زمیندار کے بیٹے ہونے کے ناطے ان کے👇🏻
پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ خوش قسمتی سے سلام کو ایک اسکالرشپ مل گئی اور وہ پڑھنے کے لئے انگلینڈ روانہ ہو گئے
انہوں نے 1946ء میں سینٹ جان کالج، کیمبرج میں داخلہ لیا اور اپنا ٹرائی پاز ( بی اے آنرز) صرف دو سال میں مکمل کر لیا جبکہ یہ کورس تین سال کا ہوتا ہے۔ اس کامیابی پر👇🏻
ھمارے رب العزت کی تعریف ھمارے لئے ناقابل✍️ بیان
ھمارا رب ہی ☝️کائنات کا شہنشاہ.....
حضرت آدم علیہ اسلام۔۔۔۔۔ بغیر ماں باپ کے پیدا کیا
حضرت داؤد علیہ السلام۔۔۔۔۔ لوہے کو موم کی طرح نرم کر دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام۔۔۔۔۔چالیس دن آگ میں رکھ کر حفاظت کی۔👇🏻
حضرت عزیر علیہ السلام۔۔۔۔۔ سو سال تک سلایا اور کھانا گرم رکھا۔
حضرت نوح علیہ السلام ۔۔۔۔۔ دنیا کو ختم کر کے اللہ کو ماننے والوں کو بچایا۔
حضرت زکریا علیہ السلام۔۔۔۔ بڑھاپے میں بیٹا پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی
حضرت یونس علیہ السلام۔۔۔۔ چالیس دن مچھلی کے پیٹ میں رکھ کر حفاظت کی👇🏻
حضرت اسماعیل علیہ السلام۔۔۔۔ زبح ہونے سے بچایا اور اب زم زم کا تحفہ دیا
حضرت صالح علیہ السلام۔۔۔۔۔۔ پہاڑ سے اونٹنی نکالی اور اس نے باہر آ کر بچہ جنا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام۔۔۔۔۔ تمام جن و انسان چرند پرند ہوا پانی جنات پر حکومت کی۔
حضرت یوسف علیہ السلام۔۔۔۔۔۔ غلامی کی👇🏻
ماں باپ 😊
بچے گلی میں کرکٹ کھیل رہے تھے ۔ گیند ایک مکان کی کھڑکی کا شیشہ توڑتی ہوئ اندر آ گئی۔ خاتون خانہ نے جھلا کر دروازہ کھولا لیکن گلی سنسان پڑی تھی۔ انہوں نے گیند اٹھا کر اپنے پاس رکھ لی۔
آدھے گھنٹے بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ خاتون نے دروازہ کھولا تو بچے نے کہا "👇🏻
آنٹی معاف کیجئے گا ہماری غلطی سے شیشہ ٹوٹ گیا ۔ وہ دیکھئیے۔۔۔۔۔ میرے والد نیا شیشہ لگانے کے لئے آرہے ہیں ۔" اب آپ جلدی سے مجھے گیند دے دیجے ۔۔
خاتون نے دیکھا، وہ شخص تھیلا ہاتھ میں لئے دوسرے ہاتھ میں کھڑکی کے سائز کا شیشہ تھامے ان کے مکان کی طرف آرہا تھا ۔"کوئی بات👇🏻
نہیں بیٹا، گیند لے لو "بچے نے گیند لی اور رفوچکر ہو گیا۔۔۔
اس شخص نے کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے شیشے کی جگہ نیا شیشہ لگایا پھر اس نے خاتون سے کہا "1000 روپے عنایت کر دیجئے ۔"
کیا۔۔۔ کیسے ہزار روپے؟؟، خاتون نے حیرت سے کہا "تم اس بچے کے باپ نہیں ہو؟؟؟
"ہر گز نہیں " اس شخص نے جواب دیا ۔👇🏻
Attention plz Rahimyar khan💐
ماشاء الله 👏یہ تو بہت اچھا اقدام اٹھایا گیا باقی شہروں میں بھی ایسی مشترکہ کوشش کرنی چاہیئے یہی بہترین معاشرتی نظام ہے..
روزانہ 270 سے زیادہ لوگوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے
اگر آپ کے آس پاس کوئی بھوکا ہے اسے الرحمت دسترخوان پر بھیج سکتے ہیں👇🏻
یہاں دوپہر میں 12:15 سے 3:00 بجے تک ایک نئی ڈش فکس ہے ہفتہ میں چار دن گوشت یعنی (دو دن بڑا گوشت' دو دن چکن) ' ایک دن دال' ایک دن دال چاول اور ایک دن چنے ہیں,الحمدللہ
ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کے اللہ کے مہمانوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کے👇🏻
احکامات کے مطابق ان کی پسندیدہ ڈش کھلائیں۔الحمدللہ
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں یہاں روزانہ آتا ہوں اتنا اچھا کھانا کھا کر جس میں زیادہ دن گوشت ہے اب میرے جسم میں ہونے والے درد ختم ہوگئے ہیں۔پہلے روٹی کبھی مل جاتی تھی کبھی نہیں اب روزانہ پیٹ بھر کر کھاتا ہوں جسم میں طاقت آ گئی ہے👇🏻
درجہ ذیل مسنگ پرسن اور بلوچوں کی ایسی ھمدردی کرنے کا یہ👇 تصویری جائزہ بھی لیں اور چند گھنٹے پہلے پکڑے گئے دہشت گرد کے غم میں سوگ منانے والوں کا بھی سوچیں قصور وار ہے کون ؟ ان معصوم بلوچوں اور پاک افواج کی شہادتوں کا ذمہ دار ہے کون🤔 ؟ بلوچستان میں قتلِ عام کے لیے👇🏻
دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کرنے والا حفیظ زہری جیسے ہی گزشتہ روز دبئی میں گرفتار ہوا اسکی معصومیت کا رونا ماما قدیر کے مسنگ پرسنز کیمپ میں شروع کر دیا گیا...
حفیظ زہری، دوسری تصویر میں نظر انے والے مشہور مسنگ پرسن راشد بروہی عرف راشد بلوچ کا کزن ہے، راشد بلوچ بھی دبئی میں مقیم👇🏻
تھا جہاں را کے ساتھ رابطوں میں تھا اور بی ایل اے کے دہشتگردوں کو راء سے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ہدایت موصول آتا تھا
نومبر 2018 میں کراچی چائینیز قونصلیٹ حملہ کے وقت انٹلیجنس اداروں نے دہشتگردوں کی کالز ٹریس کیں تو ان کالز کا تانا بانہ براہ راست راشد بلوچ سے جاملا،👇🏻