آج پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ مایہ ناز سائنس دان، نوبل انعام حاصل کرنے والے ماہر طبیعات پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کا جنم دن ہے...
29 جنوری 1926 کو پیدا ہونے والے عبدالسلام نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ کالج جھنگ سے حاصل کی۔ 1946 میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ریاضی میں👇🏻
ایم اے کیا اور 95.5 فی صد کے ساتھ یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی
ماسٹرز تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عبدالسلام کے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا تو وہ سِول سروس سے وابستہ ہو جاتے یا اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونِ ملک کا رخ کرتے لیکن ایک چھوٹے سے زمیندار کے بیٹے ہونے کے ناطے ان کے👇🏻
پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ خوش قسمتی سے سلام کو ایک اسکالرشپ مل گئی اور وہ پڑھنے کے لئے انگلینڈ روانہ ہو گئے
انہوں نے 1946ء میں سینٹ جان کالج، کیمبرج میں داخلہ لیا اور اپنا ٹرائی پاز ( بی اے آنرز) صرف دو سال میں مکمل کر لیا جبکہ یہ کورس تین سال کا ہوتا ہے۔ اس کامیابی پر👇🏻
انہیں رینگلر کا خطاب دیا گیا، کیمبرج میں کوئی ماہرِ ریاضی کا امتحان فرسٹ کلاس میں پاس کر لے تو اسے "رینگلر" کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام کی ڈاکٹریٹ کا واقعہ بھی بہت متاثر کن ہے۔ انہوں نے پی ایچ۔ ڈی کے لئے ایک نہایت مشکل مسئلہ منتخب کیا تھا جس کے تحت میسون تھیوری👇🏻
سے لامتناہیت (انفینٹیس) کا خاتمہ تھا۔ سلام نے اپنی صلاحیتوں کی بنا پر یہ مسئلہ صرف تین مہینے میں حل کر لیا۔ تاہم انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لئے تین سال کا انتظار کرنا پڑا کیونکہ کیمبرج یونیورسٹی کے قواعد کے تحت پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری داخلے کے تین سال کے بعد ہی دی جاتی ہے۔👇🏻
آخر کار 1952ء میں انہیں پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری مل گئی1951ء میں عبدالسلام کو پرنسٹن یونیورسٹی امریکہ میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈی کی فیلو شپ دی گئی جہاں البرٹ آئن سٹائن لیکچر دینے آتے تھے
ڈاکٹر عبدالسلام 1951ء سے 1954ء تک گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ ریاضی کے صدر👇🏻
اور پروفیسر رہے اس دوران وہ شدید تنہائی کا شکار تھے,وہاں تحقیق نہ ہونے کے برابر، سائنس دانوں سے رابطے نہ تھے اور نہ ہی تازہ ترین ریسرچ کی کوئی خبر تھی,دوسری جانب کالج کے سربراہ نے ان کا شاندار تعلیمی ریکارڈ نظر انداز کرتے ہوئے انہیں احمقانہ کام کرنے کو کہا👇🏻
کالج پرنسپل نے عبدالسلام سے کہا کہ اگر درس و تدریس کے بعد ان کے پاس وقت بچتا ہے تو وہ ان تین کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ ہاسٹل کے وارڈن بن جائیں، کالج کے خزانچی کا عہدہ سنبھال لیں یا پھر فٹ بال کلب کے صدر بن جائیں۔ سلام کو مجبوراً فٹ بال کلب کا صدر بننا پڑا۔👇🏻
اس کے بعد وہ دوبارہ کیمبرج چلے گئے جہاں لیکچرر مقرر ہوئے
ڈاکٹر عبدالسلام نے امپیریل کالج لندن میں تھیوریٹکل فزکس کو کورس متعارف کرایا اور 1957ء سے 1993ء تک وہاں پڑھاتے رہے کیمبرج میں انہوں نے پی اے ایم ڈیراک، میکس بورن، وولف گینگ پاؤلی اور دیگر عظیم سائنسدانوں کے ساتھ👇🏻
تعلیم حاصل کی اور ان کی فکر سے فائدہ اُٹھایا
ڈاکٹر عبدالسلام کے حصے میں 1959ء میں ایک اور اعزاز آیا جب وہ رائل سوسائٹی کے سب سے کم عمر فیلو منتخب ہوئے اس وقت ان کی عمر صرف 33 سال تھی۔ واضح رہے کہ یہ سوسائٹی دنیا میں سائنس دانوں کی سب سے قدیم انجمن ہے۔👇🏻
1950ء کے عشرے میں پروفیسر عبدالسلام پاکستان جاتے رہے کیونکہ وہ سائنس پالیسی پر حکومت کے مشیر تھے اور 1961ء میں انہیں صدرِ پاکستان محمد ایوب خان کا مشیر خاص برائے سائنس بنایا گیا تھا۔ اس دوران انہوں نے پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا👇🏻
اور ملک میں پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) جیسا ادارہ قائم کیا
فروری 1974ء کو لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر عبدالسلام نے تمام اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی سائنس فاؤنڈیشن کا تصور پیش کیا👇🏻
1960ء میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ایک میٹنگ میں شرکت کے دوران سلام نے انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹکل فزکس ( آئی سی ٹی پی ) کا منصوبہ پیش کیا۔ وہ ایک ایسا پلیٹ فارم چاہتے تھے جہاں دنیا بھر خصوصاً تیسری دنیا کے مایرینِ فزکس آ کر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کر سکیں اور👇🏻
اس طرح امیر ممالک کی جانب ذہانت کے فرار کو روکا جائے
سلام اس کے متعلق ایک کتاب میں لکھتے ہیں
'خصوصاً ترقی پذیر ممالک سے فزکس کے ماہرین کے لئے ایک مرکز (تعمیر کرنے) کا خیال 1954ء سے میرے ساتھ رہا جب مجھے مجبوراً اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ کیونکہ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ اگر👇🏻
میں مزید ٹھہرا رہا تو علمی تنہائی کی وجہ سے فزکس چھوڑنی پڑے گی۔ (آئیڈیلز اینڈ ریئلیٹیز، تیسرا ایڈیشن، صفحہ نمبر 392، ورلڈ سائینٹفک پبلشرز)
ڈاکٹر عبدالسلام چاہتے تھے کہ یہ مرکز پاکستان میں بنے۔ انہوں نے اس کا ذکر صدر ایوب خان سے بھی کیا۔ صدر ایوب خان نے اس پر اپنے👇🏻
وزیر خزانہ محمد شعیب سے مشورہ مانگا تو شعیب نے کہا کہ عبدالسلام سائنس دانوں کے لئے ایک ہوٹل بنانا چاہتے ہیں نہ کہ کوئی بین الاقوامی مرکز۔"
ڈاکٹر عبدالسلام کا قول تھا کہ "ترقی اس یقین سے شروع ہوتی ہے کہ جو ضروری ہے وہ ممکن ہے۔" اسی جذبے کے ساتھ انہوں فزکس میں👇🏻
موجود چار اہم قوتوں کے اتحاد (یونیفکیشن) کا نظریہ پیش کیا۔ عبدالسلام نے برقی مقناطیسی (الکیٹرومیگنیٹک) اور کمزور نیوکلیائی قوت (ویک نیوکلئیر فورس) کو ریاضی کے ذریعے ایک ثابت کیا۔ دونوں قوتیں انتہائی بنیادی ہیں لیکن اپنی نوعیت میں مختلف ہیں اور سلام نے دو قوتوں کو ایک قرار دے👇🏻
کر اسے الیکٹرو ویک فورس کا نام دیا
یہ کام آزادانہ طور پر دو امریکی سائنس دانوں پروفیسر اسٹیون وائنبرگ اور شیلڈن لی گلاشو نے بھی انجام دیا۔ اس نظریئے کے تحت تینوں سائنس دانوں نے ڈبلیو اور زیڈ بوسون ذرات کی پیشگوئی کی تھی۔ جلد ہی اس کی تجرباتی تصدیق اس وقت ہو گئی👇🏻
جب پروفیسر کارلو روبیا نے یورپ کے ایٹمی تحقیقی مرکز سرن کی خاص مشینوں پر تجربات کے دوران یہ نمائندہ ذرات دریافت کر لئے اور انہیں اپنے ساتھی سائمن وان ڈر میر کے ساتھ 1984ء میں فزکس کا نوبیل انعام دیا گیا
عمر کے آخری حصے میں پارکنسن بیماری کے باوجود ڈاکٹر عبدالسلام کام کرتے رہے👇🏻
اور انہوں نے اعلیٰ معیار کے تحقیقی مقالات بھی تحریر کئے۔ انہوں نے چائرلٹی اور زندگی کی ابتدا، گریوٹی، سپر کنڈکٹوٹی، سمٹری، پروٹون کے زوال، فرمیون ذرات اور سائنس اور انسانی ترقی پر ریسرچ پیپرز پیش کئے
1979ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کو دو امریکی ماہرین👇🏻
سٹیون وائنبرگ اور شیلڈن لی گلاشو کے ساتھ نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اس اہم تقریب میں شیروانی اور شلوار کا قومی لباس زیب تن کیا اور سر پر پگڑی پہنی۔ ان کی خواہش پر انہیں نوبیل انعام وصول کرنے کے بعد اردو میں تقریر کرنے کی اجازت دی گئی👇🏻
فزکس میں فطری قوتوں کےاتحاد کے علاوہ عبدالسلام کا ایک اور جنون تھا اور وہ تھا دنیا بھر کے سائنس دانوں کو یکجا کرنا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ سائنس انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ 1974ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹکل فزکس کی بنیاد رکھی،👇🏻
حکومتِ اٹلی نے اس کے لئے فراخ دلانہ مدد کی اور ٹریسٹے کے خوبصورت شہرمیں قائم اس مرکز کے لئے آج بھی تعاون کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ یونیسکو اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا اشتراک بھی حاصل ہے
اس مرکز کا مقصد یہ ہے کہ ترقی پذیر اور ترقی👇🏻
یافتہ ممالک کے سائنس دان ایک مقام پر جمع ہو کر اپنے تجربات اور علم کا تبادلہ کر سکیں تاکہ نہ صرف علم کی نئی راہیں کھلیں بلکہ غریب ممالک کے سائنس دانوں کی ترقی یافتہ دنیا تک منتقلی کو بھی روکا جائے 1974ء کو لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر👇🏻
عبدالسلام نے تمام اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی سائنس فاؤنڈیشن کا تصور پیش کیا
اس کے علاوہ یہ سینٹر مختلف سائنسی اور علم تک رسائی کے آؤٹ ریچ پروگرام بھی مہیا کرتا ہے جن کا خاص ہدف ترقی پذیر ممالک کے سائنس دان ہوتےہیں۔ آئی سی ٹی پی میں ہر سال 60 سے زائد👇🏻
کانفرنس اور سیمینارز کے علاوہ لاتعداد ورکشاپس منعقد ہوتی ہیں۔ ہرسال ہزاروں ماہرین اور اسکالرز آئی سی ٹی پی کا دورہ کرتے ہیں کیونکہ ادارہ انہیں سفر کی گرانٹ بھی فراہم کرتا ہے
ڈاکٹر عبدالسلام 1964ء سے 1993ء تک آئی سی ٹی پی کے بانی سربراہ رہے، فزکس سلام کا عشق رہا لیکن👇🏻
ساتھ ہی انہیں شدت سے یہ احساس تھا کہ تیسری دنیا کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم بھی میسر آ جائے، جہاں وہ اپنی علمی تنہائی کو دور کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز (ٹی ڈبلیو اے ایس) کی بنیاد رکھی اور اس کا مرکز بھی ٹریسٹے میں واقع ہے۔👇🏻
یہ اکیڈمی ترقی پذیر ممالک کے اداروں اور اسکالرز کو گرانٹس اور فیلوشپس فراہم کرتی ہے اور سائنسی منصوبوں کی سرپرستی بھی کرتی ہے۔ پاکستان کے اس مایہ ناز سائنس دان نے 21 نومبر 1996ء کو آکسفورڈ میں آخری سانسیں لیں
افسوس آپ قادیانی تھے آپکے لیئے جنت کی دعا کرنا فضول
آپکا مقدمہ الله کے حضور بخشش کے لائق نہیں جورب بہتر کرے...

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Hͥuͣmͫmera Rajpนt (اماں بابا کی شہزادی😍😍)

Hͥuͣmͫmera Rajpนt (اماں بابا کی شہزادی😍😍) Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @humiraj1

Jan 29
حکایت رومی
ایک چمڑہ رنگنے والا کسی کام سے عطر فروشوں کی بازار میں گیا تو بیھوش ہو کر گر پڑا۔لوگ جمع ہو گئے کوئی اس پہ گلاب کا عرق چھنٹ رہا تھا کوئی ہاتھ پاؤں مسل رہا تھا۔ ایک عقلمند اس کی نبض چکاس کر رہا تھا کہ اس نے بھنگ پی ہوئی ہے یا اس کو کوئی اور مرض ہے۔👇🏻
آخرکار اس کے عزیزوں کو اطلاع دے دی گئی کہ آپ کا رشتیدار فلاں جگہ پہ بیھوش پڑا ہے
چمڑہ رنگنے والے کا ایک موٹا چالاک اور سمجھدار بھائی تھا جو روتا ہوا آ پہنچا۔ وہ کتے کا پائخانہ بھی لے آیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے بھائی کا دماغ بدبو کا عادی ہے کیونکہ وہ رات دن جلے👇🏻
ہوئے چمڑے کو رنگنے کا کام کرتا ہے۔ اس لیے خوشبو اس کو تباہ کریگی
چمڑہ رنگنے والے کے بھائی نے لوگوں کو وہاں سے ہٹایا تاکہ کوئی بھی اس کے علاج سے واقف نہ ہو سکےاس نے اپنا منہ بھائی کے کان پر ایسے رکھا کہ گویا لوگ سمجھیں کہ وہ اس کے کان میں کوئی دعا پڑھ رہا ہےجب کہ اس نے چھپ کے👇🏻
Read 5 tweets
Jan 29
سانحہ کیچ بلوچستان
آخری بندہ آخری گولی تک .....
وہ الله کی راہ لڑنے والے کسی شیرنی کے بچے تھے آدھی رات کو گھپ اندھیرے اور سخت سردی میں 10 جوان 50 حملہ آوروں کا 5 گھنٹے تک مقابلہ کرتے رہے۔ آخری بندہ شہید ہونے تک نہ پیچھے ہٹے اور نہ دشمن کو پوسٹ تک پہنچنے دیا👇🏻
ویسے دنیا بھر میں فوج کا اصول ہوتا ہے کہ اگر یقین ہوجائے کہ آپ چیک پوسٹ کو نہیں بچا سکتے تو بجائے جانیں دینے کے آپ عارضی طور پر پیچھے چلے جاتے ہیں اور کسی دوسری پوزیشن سے مقابلہ کرتے ہیں۔ بلکہ اندھیرے میں تو لوگ جانیں بچانے بھاگ بھی جاتے ہیں لیکن👇🏻
ان چند جوانوں نے بہادری کی مثال قائم کر دی اور تب تک لڑتے رہے جب تک آخری جوان شہید نہیں ہوگیا
اس حوالے سے دو تین اعتراضات کیے جارہے ہیں مثلاً کمک کیوں نہیں پہنچی؟
بلکل پہنچی تھی اور جو پہنچی تھی اس میں بھی 4 جوان شہید ہوئے ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ👇🏻
Read 14 tweets
Jan 28
سبحان الله💐الله اکبر

ھمارے رب العزت کی تعریف ھمارے لئے ناقابل✍️ بیان
ھمارا رب ہی ☝️کائنات کا شہنشاہ.....
حضرت آدم علیہ اسلام۔۔۔۔۔ بغیر ماں باپ کے پیدا کیا
حضرت داؤد علیہ السلام۔۔۔۔۔ لوہے کو موم کی طرح نرم کر دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام۔۔۔۔۔چالیس دن آگ میں رکھ کر حفاظت کی۔👇🏻
حضرت عزیر علیہ السلام۔۔۔۔۔ سو سال تک سلایا اور کھانا گرم رکھا۔
حضرت نوح علیہ السلام ۔۔۔۔۔ دنیا کو ختم کر کے اللہ کو ماننے والوں کو بچایا۔
حضرت زکریا علیہ السلام۔۔۔۔ بڑھاپے میں بیٹا پیدا ہونے کی خوشخبری سنائی
حضرت یونس علیہ السلام۔۔۔۔ چالیس دن مچھلی کے پیٹ میں رکھ کر حفاظت کی👇🏻
حضرت اسماعیل علیہ السلام۔۔۔۔ زبح ہونے سے بچایا اور اب زم زم کا تحفہ دیا
حضرت صالح علیہ السلام۔۔۔۔۔۔ پہاڑ سے اونٹنی نکالی اور اس نے باہر آ کر بچہ جنا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام۔۔۔۔۔ تمام جن و انسان چرند پرند ہوا پانی جنات پر حکومت کی۔
حضرت یوسف علیہ السلام۔۔۔۔۔۔ غلامی کی👇🏻
Read 4 tweets
Jan 28
ماں باپ 😊
بچے گلی میں کرکٹ کھیل رہے تھے ۔ گیند ایک مکان کی کھڑکی کا شیشہ توڑتی ہوئ اندر آ گئی۔ خاتون خانہ نے جھلا کر دروازہ کھولا لیکن گلی سنسان پڑی تھی۔ انہوں نے گیند اٹھا کر اپنے پاس رکھ لی۔
آدھے گھنٹے بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ خاتون نے دروازہ کھولا تو بچے نے کہا "👇🏻
آنٹی معاف کیجئے گا ہماری غلطی سے شیشہ ٹوٹ گیا ۔ وہ دیکھئیے۔۔۔۔۔ میرے والد نیا شیشہ لگانے کے لئے آرہے ہیں ۔" اب آپ جلدی سے مجھے گیند دے دیجے ۔۔
خاتون نے دیکھا، وہ شخص تھیلا ہاتھ میں لئے دوسرے ہاتھ میں کھڑکی کے سائز کا شیشہ تھامے ان کے مکان کی طرف آرہا تھا ۔"کوئی بات👇🏻
نہیں بیٹا، گیند لے لو "بچے نے گیند لی اور رفوچکر ہو گیا۔۔۔
اس شخص نے کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے شیشے کی جگہ نیا شیشہ لگایا پھر اس نے خاتون سے کہا "1000 روپے عنایت کر دیجئے ۔"
کیا۔۔۔ کیسے ہزار روپے؟؟، خاتون نے حیرت سے کہا "تم اس بچے کے باپ نہیں ہو؟؟؟
"ہر گز نہیں " اس شخص نے جواب دیا ۔👇🏻
Read 4 tweets
Jan 28
Attention plz Rahimyar khan💐
ماشاء الله 👏یہ تو بہت اچھا اقدام اٹھایا گیا باقی شہروں میں بھی ایسی مشترکہ کوشش کرنی چاہیئے یہی بہترین معاشرتی نظام ہے..
روزانہ 270 سے زیادہ لوگوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے
اگر آپ کے آس پاس کوئی بھوکا ہے اسے الرحمت دسترخوان پر بھیج سکتے ہیں👇🏻
یہاں دوپہر میں 12:15 سے 3:00 بجے تک ایک نئی ڈش فکس ہے ہفتہ میں چار دن گوشت یعنی (دو دن بڑا گوشت' دو دن چکن) ' ایک دن دال' ایک دن دال چاول اور ایک دن چنے ہیں,الحمدللہ
ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کے اللہ کے مہمانوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کے👇🏻
احکامات کے مطابق ان کی پسندیدہ ڈش کھلائیں۔الحمدللہ
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں یہاں روزانہ آتا ہوں اتنا اچھا کھانا کھا کر جس میں زیادہ دن گوشت ہے اب میرے جسم میں ہونے والے درد ختم ہوگئے ہیں۔پہلے روٹی کبھی مل جاتی تھی کبھی نہیں اب روزانہ پیٹ بھر کر کھاتا ہوں جسم میں طاقت آ گئی ہے👇🏻
Read 4 tweets
Jan 28
درجہ ذیل مسنگ پرسن اور بلوچوں کی ایسی ھمدردی کرنے کا یہ👇 تصویری جائزہ بھی لیں اور چند گھنٹے پہلے پکڑے گئے دہشت گرد کے غم میں سوگ منانے والوں کا بھی سوچیں قصور وار ہے کون ؟ ان معصوم بلوچوں اور پاک افواج کی شہادتوں کا ذمہ دار ہے کون🤔 ؟ بلوچستان میں قتلِ عام کے لیے👇🏻
دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کرنے والا حفیظ زہری جیسے ہی گزشتہ روز دبئی میں گرفتار ہوا اسکی معصومیت کا رونا ماما قدیر کے مسنگ پرسنز کیمپ میں شروع کر دیا گیا...
حفیظ زہری، دوسری تصویر میں نظر انے والے مشہور مسنگ پرسن راشد بروہی عرف راشد بلوچ کا کزن ہے، راشد بلوچ بھی دبئی میں مقیم👇🏻
تھا جہاں را کے ساتھ رابطوں میں تھا اور بی ایل اے کے دہشتگردوں کو راء سے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ہدایت موصول آتا تھا
نومبر 2018 میں کراچی چائینیز قونصلیٹ حملہ کے وقت انٹلیجنس اداروں نے دہشتگردوں کی کالز ٹریس کیں تو ان کالز کا تانا بانہ براہ راست راشد بلوچ سے جاملا،👇🏻
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(