خواتین کے لیے تکبیرات ِ تشریق یاد رکھنے کا خوبصورت طریقہ
اکثر خواتین تکبیراتِ تشریق پڑھنا بھول جاتی ہیں۔ اس کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جائے نماز کے کونے پر تکبیر لکھ کر نوٹ لگا دیں
تاکہ نظر پڑتے ہی یاد آ جائے کہ تکبیرات پڑھنی ہیں۔
یہ بات یاد رہے کہ 9 ذی الحجہ کی نمازِ فجر سے 13 ذی الحجہ کی نمازِ عصر تک ہر فرض نماز کے فوراً بعد تکبیراتِ تشریق پڑھنا مرد حضرات کے ساتھ خواتین پر بھی واجب ہے۔
وہ برٹش سامراج کی غلامانہ خدمات اور ان کے خود کاشتہ پودے (قادیانی مذہب) کے سرگرم رکن ہونے کے باعث دنیوی ترقی کی منازل بہت تیزی سے طے کرتے چلے گئے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں، خاص طور پر قادیانی حضرات تو ان کی بظاہر شاندار زندگی اور بڑے عہدوں پر تعیناتی کو قادیانی مذہب کی حقانیت پر
دلیل قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سر ظفر اللہ کی بظاہر شاندار زندگی اندر سے باکل کھوکھلی اور عبرتناک تھی۔ ان کو ساری عمر گھریلو سکون نصیب نہ ہوا۔ ا اس کا حال قارئین درج ذیل سطور میں پڑھیں گے۔
سر ظفراللہ 1893ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا غلام احمد سے
فتنہ قادیانیت کے خلاف کام اللہ پاک کی رضامندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہات کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔خوش بخت و سعادت مند انسانوں کو قدرت ان کاموں کے لئے قبول فرماتی ہے۔
اگر آپ روز محشر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل کرنا چاہتے ہیں توتحفظ ختم نبوت کے اعلی ترین کام میں شریک ہوں۔اس سلسلہ میں مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ
1 ۔ قادیانی ارتدادپھیلانے کے لئے اربوں روپے خرچ کررہے ہیں اوراپنے کفریہ عقائد پر
ملک غلام محمد (سابق گورنر جنرل) کی قبر آج بھی گورا قبرستان میں موجود ہے، جو کراچی میں عیسائیوں کا مشہور قبرستان ہے، ہوا کچھ یوں کہ یہ سابق گورنر جنرل 12 ستمبر 1956 کو لقوا، بلڈ پریشر اور فالج کا یہ مریض اکسٹھ سال کی عمر میں لاہور میں مرا ، اس کی وصیت تھی ، کہ مرنے کے بعد اسے
سعودی عرب میں دفن کیا جائے، لہذا لاہور سے کراچی لاکر اس کی لاش کو امانتاً کراچی کے گورا قبرستان میں دفن کر دیا گیا، پھر کچھ عرصہ بعد اس شخص کی وصیت کے مطابق اس کی لاش کو سعودی عرب منتقل کرنے کے لئے، ایک فوجی کیپٹن، ایک ڈاکٹر، کچھ پولیس اہلکار ، دو گورکن ، اور اس کے قریبی رشتے
*ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں 12 لڑکیاں ہیدا ہوئیں آپ نے کبھی نہ کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا*۔
قادیانی اخبار الحکم، 17 (جولائی1903ء صفحہ16/ملفوظات، جلد 3 صفحہ372)
مرزا قادیانی کا یہ جھوٹ اسکی جہالت اور جھوٹ کا مرکب ہے، جسے یہ تک پتا نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ کی بیٹیاں کتنی تھیں۔
جبکہ وہ
اپنے آپ کو نعوذ بااللہ ظلی، بروزی محمد کہتے ہوئے بھی نہیں شرماتا تھا۔
مرزا قادیانی تو دنیا سے چلا گیا اس کی جماعت آج یہ عذر پیش کرتی ہے کہ یہ ہمارے حضرت جی کا ایک وعظ تھا جو عورتوں میں تھا اور نقل کرنے والا کمرے سے باہر تھا بچوں کا شور بھی تھا اس لئے یہ غلطی وعظ نقل کرنے والے
ڈاکٹر عائض القرنی صاحب "بیت الخلا" کا دروازہ کھلا چھوڑ دینے کے نقصانات پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں:
(یہ معلومات آپ کی اور آپ کے خاندان کی سلامتی سے متعلق ہیں)۔
ذیل دیے گئے چند کام کر لیجیے، آپ کے جسم سے منفی توانائی کا خاتمہ ہوگا اور آپ کے شیاطین کمزور پڑ جائیں گے۔
1: بیت الخلا کی صفائی: اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہے۔ اور بیت الخلا کو مستقل بنیادوں پر صاف ستھرا اور بدبو سے پاک رکھیے۔
2: رات کو سونے پہلے بیت الخلا کو صاف اور پاک رکھنے کا اہتمام کیجیے۔
3: بیت الخلا کا دروازہ ہر وقت اور مستقل بنیادوں پر بند رکھنے کا اہتمام کیجیے۔
4: بیت الخلا میں کپڑے اتار کر لٹکتا نہ رہنے دیجیے۔ محض ایک رات کے لیے لٹکے رہنے والے کپڑوں میں جتنی منفی توانائی بھر جاتی ہے، اس کا خاتمہ تقریباً ناممکن ہوتا ہے یا کم از کم 72 گھنٹوں کے لیے دھوپ میں لٹکانے سے کچھ گلوخلاصی ممکن ہوتی ہے۔
مولانا سہیل باوا صاحب کی *بنوری ٹاؤن کی ڈائری* پڑھ کے میری یادوں کے دریچوں میں بھی ایک یاد جھلملانے لگتی ہے
آیئے میں وہ آپ سب سے شیئر کرتی ہوں
میری والدہ محترمہ کو جب اپنے میکہ یعنی کراچی آنا ہوتا تھا تو اُنکی دعاؤں میں ایک دعا
کا اِضافہ ہو جاتا تھا
کہ
*"اے اللّه مجھے نیو ٹاؤن کی اذان سنا دے"*
اس دعا کے تھوڑے دنوں بعد ہی امّی کراچی چلی جاتی تھیں
اور امّی کے بچوں کا یعنی ہمارا *یقین دعا پر مضبوط سے مضبوط تر ہو جاتا تھا* الحمد لللہ
اور بنوری ٹاؤن کی اذان سننے کا شوق اور بڑھ جاتا تھا
امّی جب واپس آتی
تھیں تو بنوری ٹاؤن کی *فجر کی اذان کی کیسٹ* امّی کے ساتھ ہوتی تھی
*سات منٹ کی وہ پُر کیف اذان فجر*
اتنی مسحور ہوتی تھی کہ جاگنے کے لئے الارم کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اور ہم سب بہن بھائ وہ اذان بہت شوق سے سنتے تھے
اُس وقت ان مؤذن کا نام معلوم نہ تھا
لیکن اب جب معلوم ہوا کہ وہ