38. گولہ کباب. قریشی کباب حسین آباد 39. کیلجی. 2کے اسٹاپ
41.کھیر. فوڈ سینٹر صدر 42. قلفی فالودہ. جان بلوچ صدر 43. میٹھا پان. پی آئی ڈی سی 44. بہاری بوٹی. الکباب بہادر، آباد 45. سوپ. الحسن ناظم آباد
48.قلفی. ، رحمت شیریں طارق روڈ
++++
49. مچھلی کا کٹاکٹ. یونس مچھلی کٹا کٹ ڈاکخانہ لیاقت آباد 50- مال پوڑہ. حنان کھارادر 51. نمکو. رتن تلاؤ پاک کالونی
نوٹ: ہر کسی کو اجازت ہے اس فہرست میں اپنی پسندیدہ ڈش اور علاقے کا اضافہ کرسکتے ہے۔ #KarachiFoods#کراچی ❤️
خالی جمعہ مبارک کہ میسیجز بھیجنے سے بخشش نہی ہوگی _
ملا نصرالدین صاحب کے پاس ایک لڑکا آیا اور ان سے پوچھا:
’’ملا صاحب! میرے والدکی آج جمعہ کے مبارک دن وفات ہوئی ہے۔ اگلے جہان میں اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟
ملا صاحب نے پوچھا: ’’کیا آپ کے والد صاحب نماز روزے کے پابند تھے؟
++
لڑکے نے کہا: ’’نہیں۔ وہ نمازپڑھتے تھے، نہ روزے رکھتے تھے، مگر خوش قسمتی سے جمعہ کے دن فوت ہوئے ہیں‘‘۔
ملا نے دریافت کیا: ’’عیاشی تو نہیں کرتے تھے؟‘‘
لڑکے نے بتایا: ’’عام طور پر تو نہیں۔ مگر جس روز رشوت کی رقم زیادہ مل جاتی، اُس روز جوا بھی کھیل لیتے، عیاشی بھی کرلیتے۔
++++
اس کے باوجود انھیں جمعہ کے مقدس
دن وفات پانے کا شرف حاصل ہوا ہے‘‘۔
ملا : ’’کچھ صدقہ خیرات بھی کرتے تھے؟‘‘
لڑکا: ’’جی نہیں، فقیروں کو بُری طرح پھٹکارکر بھگا دیتے تھے کہ شرم نہیں آتی مانگتے ہوئے؟ مگرفوت جمعہ کے دن ہوئے‘‘۔
++++
منیر نیازی کہتے ہیں کہ ابا جی کے ساتھ بیٹھا ھوا تھا۔
اچانک انہوں نے مجھ سے پوچھا: "حیض کے بارے میں کیا جانتے ہو؟"
میں نے اپنے دل میں الحمد للہ پڑھ کر اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ ہم بھی اب اپنے آپ کو ان آزاد خیال لوگوں میں شمار کر سکتے ہیں جو اپنے
++++
گھر میں ہر قسم کے موضوع پر کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی مجھے وہ سارے بیتے سال یاد آ گئے جو میں نے اباجی کے رعب اور دہشت کے ساتھ اس گھر کے گھٹن زدہ ماحول میں گزار دیئےتھے۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"ابا جی،حیض ایک ایسے سرکل کا نام ہے جس سےھرجوان عورت مہینےمیں ایک بارگزرتی ہے"
+
ابا جی نے پھر پوچھا: "تو پھر عورت اس حالت میں کیا کرتی ہے؟"
میں نے کہا: "ابا جی..، عورت اس حالت میں نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھتی ہے۔۔۔"
ابا جی
نے اس بار قدرے سخت اور اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا:
++++
ایک اندازے کے مطابق اگر صرف ہندوستان کو وسطی ایشیا اور وسطی ایشیا کو ہندوستان تک رسائی بذریعہ پاکستان دے دی جائے تو ہم سالانہ 30 بلین ڈالرز صرف راہداری اور کرایوں کی مد میں کماسکتے ہیں.اسی طرح اگر گوادر کو پورا فنکشنل کیا جائے اور چین اور مشرق وسطی کو لنک کیا جائے تو
++++
سالانہ 200
ارب ڈالرز تک منافع کمایا جاسکتا ہے.
اگر مزید صرف مذہبی زائرین کیلیے ویزہ آن آرائیول کی سہولت فراہم کی جائے, ویزہ فیس صرف 100 ڈالر رکھی جائے اور ساتھ میں یہ شرط بھی کہ ہر مسافر 2000 ڈالر ایکسچینج کروائے تو صرف 10 لاکھ زائرین ہمیں دو تین بلین ڈالرز
++++
سالانہ منافع کماکے دے سکتے ہیں
انڈیا کو اگر راہداری میں تھوڑی سہولت اس شرط پر مہیا کردی جائے کہ وہاں کے بجاج اور ہیرو ہونڈا موٹرسائیکل, مہندرا موٹرز اور چند ایک آئی ٹی گروپس پاکستان میں اپنے پلانٹس لگائے تو مزید 50 سے 70 بلین ڈالرز تک منافع لے جایا جاسکتا ہے.
++++
#حضرت_انسان
چیتے نے کتے سے پوچھا: تم نے انسانوں کو کیسا پایا؟
کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا کہتے ہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے بچوں کو کھایا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے انہیں دھوکہ دیا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے مویشی مارے؟؟
کتا: نہیں
++++
چیتا: کیا تم نے ان کا خون پیا؟؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کو میرے حملوں سے بچایا؟؟
کتا: ہاں
چیتا: انسان بہادر اور ہوشیار کو کیا کہتے ہیں؟
کتا: وہ اسے چیتا کہتے ہیں
چیتا: کیا ہم نے تمہیں شروع سے مشورہ نہیں دیا تھا کہ ہمارے ساتھ چیتا بن کر رہو مگر تم نے انسانوں کے تحفظ
+++
کا ٹھیکے دار بننا پسند کیا۔ میں ان کے بچوں اور مویشیوں کو مارتا ہوں، ان کا خون پیتا ہوں، ان کے وسائل اور محنت کھا جاتا ہوں، اس کے باوجود نہ صرف وہ مجھ سے ڈرتے ہیں بلکہ اپنے ہیروز کو چیتے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
++++
شادی میں بیواؤں کی شرکت کو منحوس خیال کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی بیشتر شادیوں میں کسی بھی بیوہ کو نہیں بلایا جاتا اگر کوئی بیوہ غلطی سے کسی شادی میں چلی جائے تو اسے دلہا دلہن کے قریب جانے، پھول پھینکنے، تحفہ دینے یا آشیرباد دینے کی اجازت نہیں ہوتی..
++++
جتندر پٹیل گجرات کے نواحی قصبے مہسنہ میں پیدا ہوا. سخت محنت کی اور کروڑ پتی بزنس مین بنگیا. لیکن کروڑ پتی بن جانا کوئی کمال کی بات نہیں.کمال چندر پٹیل نے اپنے بیٹے روی پٹیل کی شادی میں کیا. اس نے آس پاس کے پانچ ضلعوں سے اٹھارہ ہزار بیواؤں کو بیٹےکی شادی میں شرکت کی دعوت دے دی
++
اسے اپنی برادری اور سماج کی طرف سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، لوگوں نے بہت سی باتیں بھی بنائیں لیکن جتندر نے ہار نہیں مانی، بلکہ اس نے ہر بیوہ کو ایک کمبل اور ایک پودا اس وعدے کے ساتھ دیا کہ وہ لوگ یہ پودا اپنے گھر میں لگائیں گے اور اس کی دیکھ بھال کریں گے. اس نے بیواؤں
+++
#رفوگر
رفوگر
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے ایک رفوگر رکھا ہوا تھا۔ وہ کپڑا نہیں باتیں رفو کرنے کا اعلی ماہر تھا۔ وہ بادشاہ سلامت کی ہر بات کی کچھ ایسی وضاحت کردیتا کہ سننے والے سر دھننے لگتے کہ واقعی بادشاہ سلامت نے صحیح فرمایا۔
ایک دن بادشاہ سلامت دربار لگا کر اپنی #ImranKhan
++++
جوانی کے شکار کی کہانیاں سنا کر رعایا کو مرعوب کر رہے تھے۔ جوش میں آکر کہنے لگے کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ میں نے آدھے کلومیٹر سے نشانہ لگا کر جو ایک ہرن کو تیر مارا تو تیر سنسناتا ہوا گیا اور ہرن کی بائیں آنکھ میں لگ کر دائیں کان سے ہوتا ہوا پچھلی دائیں ٹانگ #ImranKhan
++++
کے کھر میں جا لگا۔
بادشاہ کو توقع تھی کہ عوام داد دے گی لیکن عوام نے کوئی داد نہیں دی۔ وہ بادشاہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔ بادشاہ بھی سمجھ گیا کہ ضرورت سے زیادہ لمبی چھوڑ دی۔ اپنے رفوگر کی طرف دیکھا۔ رفوگر اٹھا اور کہنے لگا حضرات میں چشم دید گواہ ہوں #ImranKhan
++++