How to get URL link on X (Twitter) App
دینی علوم میں فقہ، حدیث اور تفسیر کی تعلیم حاصل کی اور جوانی میں صحرا کے کئی سفر کرے جن کے ذریعے صحرائی راستوں سے واقفیت حاصل ہوئی۔ اللہ نے ان کی جوانی ان کاموں میں بسر کروائی جو اللہ کی خوشنودی کا سبب تھیں اور جو بعد میں ان کے جہاد میں کارآمد ثابت ہوئے۔2
۔۔۔ اس کا حق ہے کہ حجاب پہنے تو اس کا دوسرا مطلب یہی نکلے گا کہ اس کو یہ بھی حق ہے کہ حجاب نہ کرے. یعنی آپ نے بظاہر اسلام کا دفاع کرنے کی کوشش میں مغرب کے شخصی آزادی کے تصور کو قبول کرلیا جو کہ اسلام سے متضاد ہے. 2/4
مگر کہا جاتا ہے کہ بجائے اس کو تسلی دینے کے اس کی والدہ نے یہ تاریخی الفاظ کہے*عورتوں کی طرح اس پر مت رو جس کا تم مردوں کی طرح دفاع نہ کرسکے* کیونکہ بطور حکمران اس کا کام آنسو بہانا نہیں تھا، مذمت کرنا نہیں تھا،رونا نہیں تھا۔بلکہ اپنی رعایا کا دفاع تھا اور وہ اس میں ناکام رہا2/11
مسلم دنیا میں کمیونسٹ مفکرین اور سیاسی رہنما اکثر اسلام کے قابل عمل ہونے پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں جبکہ ان کو تو اس پر سوچ بچار کرنی چاہیے کہ وہ جس اسلام کو ناقابل عمل قرار دیتے ہیں وہ رسول اللہﷺ کے ہجرت سے مدینہ میں نافذ ہوا تو 1924 میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے تک موجود رہا۔ 2/4
دینی علوم میں فقہ، حدیث اور تفسیر کی تعلیم حاصل کی اور جوانی میں صحرا کے کئی سفر کرے جن کے ذریعے صحرائی راستوں سے واقفیت حاصل ہوئی۔ اللہ نے ان کی جوانی ان کاموں میں بسر کروائی جو اللہ کی خوشنودی کا سبب تھیں اور جو بعد میں ان کے جہاد میں کارآمد ثابت ہوئے۔2
مگر پھر تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح امریکہ اور روس کے درمیان سربرنیسا مسلمانوں کی جگہ سرب کو دینے کا فیصلہ ہوا, کس طرح اقوام متحدہ کے محافظ دستوں نے ناچتے ہوئے شہر سربوں کے حوالے کیا، کس طرح مسلمان مردوں اور عورتوں کو الگ کیا گیا 2/6
لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس دوران روس کا ایک بڑا حصہ، یا تو مسلمانوں کے براہ راست کنٹرول میں تھا یا ماتحت تھا جیسے کہ موجودہ دارالحکومت ماسکو۔ اس دوران بادشاہ کی اولادیں مسلمانوں کے ماتحت ان کے شہر 'سرائے' میں پرورش پاتے اور روسیوں کا حکمران مسلمانوں کو ٹیکس ادا کرتا 2/4
جبکہ مغربی مستشرقین یہ تاثر دیتے ہیں جیسے کہ مسلم دنیا میں غلام، غلام نسل یا سیاہ فام لوگوں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ ہوتا جیسے مغرب نے خود کیا۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، یعنی جو سلسلہ بلال رض کو سیدنا کہہ کر ایک اہم رہنما قبول کرنے سے شروع ہوا تھا وہ ہمیشہ جاری رہا. 2/5
طفر خان کا منگولوں سے سب سے پہلا بڑا معرکہ 1298 میں ہوا جب چنگیز خان کے دوسرے بیٹے چغتائی نے دہلی پر حملہ کیا، جنگ لاہور کے قریب لڑی گئی جس میں منگولوں کو شکست ہوئی. ظفر خان نے ناصرف ان کو شکست دی بلکہ 20,000 جنگجو ہلاک کیے اور ان کو مکمل پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا. 2/6