خواتین اور مرد حضرات بھی کام کرتےہیں
فیکٹری میں 50 سال کی ایک فرنچ خاتون
اک دن اسےکہنےلگی
کہ
سنا ہے تم پاکستان کے لوگ
عورتوں کے حقوق نہیں دیتے
انہیں
گھر میں بند رکھتے ہو
اور
کام بھی نہیں کرنے دیتے
…
آپ کو کام کرتے کتنا عرصہ ہو گیا
جواب ملا
جب میں 18 سال کی تھی تب سے نوکری کررہی ہوں
جواب میں
پاکستانی ماں کے بیٹے
نے کہا کہ
آپ گھر کا کام بھی کرتی ہیں جاب بھی کرتی ہیں
اور آپ کی عمر بھی کافی ہو گئی
جبکہ ہمارے ہاں
غالب…
جب بیٹی پیدا ہوتی ہے
تو بچپن سے لے کر
جب تک اس کی شادی ہوتی ہے
اس وقت تک
اس کے اس لڑکی کے والد اور بھائی اپنی اس بیٹی
کو
اللہ کی رحمت قرار دیتے ہوئے
اپنی
آنکھوں کا تارا بنا کر رکھتے ہیں
اس کی عزت و عصمت کی پوری طرح
حفاظت کرتے ہیں
…
اور
جب اس کی شادی کر دیتے ہیں
تو وہ اپنے شوہر کی ذمہ داری بن جاتی ہے
اب اس کی تمام خواہشات اور ضروریات اس کا شوہر پوری کرتا ہے
اور جب وہ آپ کی عمر میں پہنچ جاتی ہے
تب
اس کے بیٹے اور بیٹیاں
اس کو
اپنی جنت کہہ کے…
اور اپنے حالت اور
پوزیشن کے مطابق اس کی
خدمت کرتے ہیں
ہمارے ہاں
اس عمر میں
عورت کو
آپ کی طرح اس عمر میں کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی
لہذا
کیا
اسے حقوق نہ دینا کہتے ہیں؟
اور
کیا گھر میں بند رکھنا کہتے ہیں؟
یہ ہمارا مسلم معاشرہ ہے
یہ…
اور یہی ہمارے رسم و رواج ہیں
فیکٹری کا وقت ختم ہو گیا اور
وہ خاتون چلی گئی
دوسرے دن اپنی ڈیوٹی
پر آ کر
اس خاتون نے بتایا
کہ وہ ساری رات سو نہیں سکی
اور سوچتی رہی کہ
جہاں عورت کو پیدائش سے لےکر موت کےوقت تک
اتنی عزت دی جاتی ہو؟
منقول
#پیرکامل
