My Authors
Read all threads
پنجاب کی تاریخ میں ایک اور بہت بڑا خاموش ظلم ہوا ہے جس کی بنیاد رکھنے میں بھی ماجھے کا پنجابی پیش پیش تھا۔ جس طرح پنجابی زبان کے جٹکی اور ملتانی لہجوں کو جب ماجھے نے اپنانا قبول نہیں کیا تو پنجاب دشمنوں نے ان لہجوں کو ایک الگ زبان بناکر پیش کردیا جس کی بنیاد پر آج پنجاب
کو دولخت کرنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔۔ بلکل اسی روایت پر پنجابی کے ہریانوی اور ہماچلی لہجوں کو بھی پنجابی سے الگ کوئی زبان بنا کر اس کے بولنے والوں کو پنجاب میں ایک الگ قوم بنانے کی سازش گھڑی گئی۔۔بلکہ ہندوستان میں ماجھے کی آکڑ اور جہالت کی وجہ سے ہماچل پردیش اور ہریانہ کو مشرقی
پنجاب سے توڑ کر الگ صوبے بنا دیا گیا ہے۔۔

برصغیر پاک و ہند کی ریاستوں ہریانہ (پرانی انبالہ اسٹیٹ) اور ہماچل میں جاٹوں کی ایک کثیر آبادی بستی تھی جن کو "مولا جٹ" (Mola Jutt) کہا جاتا تھا۔۔شاید آپ کو یاد ہو 70 کی دہائی میں مولا جٹ کے نام سے ایک پنجابی فلم بھی بنائی گئی تھی جو
کہ انہیں مولے جاٹوں کی بہادری کو کریڈٹ دینے کا ایک طریقہ تھی کیونکہ مولے جاٹوں کی بہادری اور جرات اپنی مثال آپ تھی ۔۔۔مولے جاٹوں کو مغل اور بعد ازاں گورا اپنی فوج میں بھرتی کرنے کو اس لیے ترجیح دیتا تھا کیونکہ یہ لوگ میدان جنگ میں جم کر لڑائی کرتے تھے اور کبھی پیچھے مڑ کر
نہیں دیکھتے تھے۔اسی خصوصیت کی بنا پر ان کو "رن گھڑ" کا خطاب دیا گیا جس کا مطلب میدان جنگ کا بہادر سپاہی تھا۔۔۔یہ مولے جاٹ پنجابی زبان کا ہماچلی لہجہ بولتے تھے جن کو آج کے پاکستان میں رانگھڑی یا ہریانوی کہا جاتا ہے۔

تقسیم پاک و ہند کے بعد ریاست انبالہ (موجودہ ہریانہ) کے اضلاع
حصار روہتک اور کرنال سے مولا جاٹوں کی مسلمان آبادی کی کثیر تعداد میں دوسرے پنجابیوں کی طرح ہجرت کرکے پاکستان آئی۔ اور پنجاب اور سندھ کے مختلف ضلعوں جیسے اوکاڑہ، ساہیوال ،ملتان، لودھراں، خانیوال، اور سندھ میں میرپورخاص، گھوٹکی، حیدرآباد وغیرہ میں آباد ہوئی۔۔۔چونکہ ان کی زبان ماجھے
کی پنجابی سے کچھ مختلف تھی بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ پنجابی کا ہماچلی یا ہریانوی لہجہ پنجابی کے ساتھ ساتھ کچھ الفاظ اردو کے بھی شامل ہیں اسکی ظاہری وجہ ان ریاستوں کی سرحدیں اتر پردیش کے ساتھ ملنا تھی۔۔زبان اور لہجے کے اس معمولی سے فرق کی وجہ سے پنجاب کے مقامی لوگوں نے پہلے تو ان
سب کو رانگھڑ کہنا شروع کہہ دیا اور ان کی زبان اور کلچر کو پنجابی کلچر میں ضم کرنے سے انکار کردیا۔۔چونکہ رانگھڑ کا خطاب صرف جاٹوں کو ہی نہیں ملا کرتا تھا بلکہ مولا جاٹوں کے ساتھ مغل اور گورا فوج میں راجپوتوں کو بھی ملا کرتا تھا۔تو "رنگھڑ" انبالوی جاٹ اور مسلم یا ہندو راجپوت کوئی
بھی کہلا سکتا تھا۔۔ تقسیم پاک و ہند کے بعد جب راجپوت اور جاٹ رنگھڑ خاندان پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے تو ان دونوں کی پنجابی شناخت کو آہستہ آہستہ مٹا دیا گیا اور ان کو جاٹ یا راجپوت کہنے کی بجائے رنگھڑ ہی کہا جاتا رہا۔۔راجپوت رانگھڑوں نے اپنے نام کے ساتھ "راو" کا
ٹائٹل لگانا شروع کردیا تو دیکھا دیکھی جاٹ رانگھڑوں نے بھی خود کو راو کہلوانا شروع کردیا اور اس طرح دھیرے دھیرے رانگھڑ جاٹ اور رانگھڑ راجپوت ایک دوسرے میں ضم ہوگئے۔۔سندھ میں آباد ہونے والے رانگھڑوں نے خود کو مہاجر کہنا شروع کیا تو اپنی مادری زبان رانگھڑی یا ہماچلی/ہریانوی کو
خیرباد کہہ کے اردو کو اپنا لیا اور آج سندھ میں بسنے والے رانگھڑ خود کو مہاجر کہتے اور اردو زبان بولتے ہیں۔۔ البتہ پنجاب میں آباد ہونے والے مولے جٹ اور راجپوت 10 سال پہلے تک خود کو فخریہ پنجابی کہلواتے تھے اگرچہ وہ پنجابی کا مرکزی لہجہ بولنے کی بجائے اپنے مخصوص لہجہ
ہماچلی/ ہریانوی/روہتکی میں بات کرتے تھے۔۔مجھے یاد ہے اوکاڑہ کے جس گاوں میں میرا بچپن گزرا وہاں پر رانگھڑوں کی بہت بڑی آبادی رہتی تھی میری بہت سی سہیلیاں بھی رنگھڑ تھیں اور میں اکثر ان کی باتیں سن کر لطف اندوز ہوتی تھی۔۔مجھے یاد ہے بہت سارے لوگ ان کی زبان کا مذاق بھی اڑاتے تھے
اور ان کو خود سے الگ سمجھتے تھے۔پھر دھیرے دھیرے سب روہتکی/رانگھڑی بولنے والوں نے خود کو راو کہلوانا شروع کردیا۔۔۔راو چونکہ اصل میں راجپوت رانگھڑ ہی اپنے نام کے ساتھ لگاتے تھے اس لیے رفتہ رفتہ وقت کی گرد نے مولا جاٹوں کی ایک کثیر آبادی کو تاریخ کے پنوں میں دفن کردیا اور آج پنجاب
میں آباد مولا جاٹوں کو راو یا راجپوت سمجھا جاتا ہے۔۔البتہ لودھراں اور بہاولنگر میں آباد کچھ مولے جٹ آج بھی خود کو فخریہ جٹ سمجھتے ہیں جن میں چاہل، ماہل اور اس طرح کی دوسری گوتیں شامل ہیں۔۔

پچھلے کچھ سالوں سے پنجاب کی سالمیت کے دشمنوں نے راجپوت اور جاٹ رانگھڑوں (راو) کی ایک کثیر
تعداد کی برین واشنگ کرکے ان کو غیر پنجابی کہلوانے پر مجبور کردیا اور آج ان کی نئی نسلوں نے رانگھڑی یا روہتکی زبان چھوڑ کر اردو بولنا شروع کردیا اور ان کی اکثریت خود کو مہاجر کہلواتی ہے۔ملتان میں آباد رنگھڑ خود کو مہاجر قوم کا حصہ سمجھتے ہیں جوکہ اصل میں کبھی کوئی قوم تھی ہی نہیں.
اگرچہ اب بھی پنجاب کے مرکز میں آباد راو خود کو پنجابی سمجھتے ہیں لیکن جیسے جیسے جنوبی اضلاع کی طرف جانا شروع کریں راو برادری خود کو جاٹ یا راجپوت کہہ کر پنجابی قوم میں شامل کرنے کی بجائے "مہاجر" کہنا شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے سرائیکستان صوبے کی سازش کو تقویت ملی ہے۔۔۔
کوئی جانتا ہے کہ یہ سارے ظلم پنجاب دھرتی کے ساتھ کیوں ہورہے ہیں؟ کیونکہ پنجابی ڈھگے کے پاس اپنی دھرتی، زبان اور کلچر کے دفاع کے لیے وقت نہیں ہے
@threadreaderapp compile please
Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh.

Enjoying this thread?

Keep Current with پنجابی سپارٹن

Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

Twitter may remove this content at anytime, convert it as a PDF, save and print for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video

1) Follow Thread Reader App on Twitter so you can easily mention us!

2) Go to a Twitter thread (series of Tweets by the same owner) and mention us with a keyword "unroll" @threadreaderapp unroll

You can practice here first or read more on our help page!

Follow Us on Twitter!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just three indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!