ڈیڈی
اور
پاپا
میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے
دلچسپ تحریر
جب میں نے ہوش سنبھالا
اُس وقت تمام گھروں میں
والد کو اباجی کہا جاتا تھا،
اُس دور میں اباجی صرف
بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ
بچوں کی ماں کے لیے بھی
خوف کی علامت ہُوا کرتے تھے،
اِدھر ابا جی گھر پہنچتے اور
جاری ہے 👇
بچے گھر کے کونوں کُھدروں میں دبک جاتے اور بچوں کی اماں سر پر دوپٹہ اوڑھ لیتی،
ابا جی کے ہاتھ سے تھیلا وغیرہ پکڑ کر مقررہ جگہ پر رکھ دیا جاتا اور ابا جی چارپائی پر بیٹھ کر جُوتے اُتارتے جنہیں فوراً ایک طرف اُٹھا کر رکھا جاتا،
جاری ہے 👇
پھر ابا جی کو کھانا پیش کیا جاتا اور امی جان اُنہیں قریب بیٹھ کر کھانا کھلاتیں اور سب بہن بھائی بھاگ بھاگ کر اُنہیں کبھی نمک اور کبھی چٹنی مہیا کیا کرتے تھے،
ابا جی کے غُسل سے پہلے امی جان غُسل خانے کا
جاری ہے 👇
صابن وغیرہ ہر چیز رکھ دیتیں اور پھر ابا جی کے کپڑے استری ہوتے،
ابا جی جب دفتر جاتے تو امی اُن کو دروازے تک رخصت کرنے جاتیں اور ابا جی کے روانہ ہوتے ہی گھر میں چھائی خاموشی کے بند ٹُوٹتے اور بچوں کی شرارتیں اور امی جان کی دھمکیاں شروع ہو
جاری ہے 👇
اُس دور میں ابا جی کی دہشت ہر وقت بچوں پر چھائی رہتی تھی
مُجھے اچھی طرح یاد ہے کے سکول کی پراگرس رپورٹ پر ابا جی سے دستخط کروانا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا،
پھر زمانہ بدلا تو بچے ابا جی کو ڈیڈی اور ماں جی کو
جاری ہے👇
ڈیڈی کہلوانے والوں کا وہ رعب اور دہشت نہیں ہوتی تھی
جو ابا جی کہلوانے والوں کی ہوتی تھی، ڈیڈی وہ حضرات تھے جو عورت اور مرد کی برابری پر یقین رکھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ بیوی اور بچوں کو ڈرا کر رکھنے کی بجائے ان سے دوستانہ تعلقات ہونے چاہیے،
جاری ہے 👇
ڈیڈی کہلوانے والے صاحبان کو اگر کھانے میں کوئی نقص نظر آتا تو وہ انتہائی شائستگی
جاری ہے👇
اور ابا صاحبان کی طرح کھانا صحن میں اُٹھا کر نہیں پھینکتے تھے،
ڈیڈی کہلوانے والے بچوں کے سوالات کے جوابات انتہائی پیار و محبت سے دیتے اور بیوی کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات و مطالبات کے جواب بھی خندہ پیشانی اور دلبری سے دیتے اور گھروں میں توازن کی
جاری ہے 👇
زمانہ اور آگے بڑھا
اور ابا صاحبان کو
پاپا اور والدہ کو ماما کہا جانے لگا،
یہاں سے گھروں میں ایک بڑی تبدیلی آنی شروع ہُوئی اور گھر میں حکمرانی کا تاج پاپا کی بجائے ماما کے سر پر سجایا جانے لگا اور پاپا کی حثیت گھر میں ایک عام شہری جیسی ہو گئی،
جاری ہے 👇
ہیں تو اُن کی طرف کوئ متوجہ نہ ہوتا
ماما ٹی وی دیکھتی رہتی ہیں اور بچے موبائل فون پر ایس ایم ایس کرتے رہتے ہیں پاپا حضرات کپڑے وغیرہ تبدیل کرکے کھانا مانگتے ہیں تو ماما کہتی ہیں ذرا صبر کریں ڈرامے میں وقفہ آتا ہے تو کھانا دے دیتی ہُوں
جاری ہے👇
اس جواب کے بعد پاپا دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور ڈرامے میں وقفے کا انتظار کرتے ہیں،
خُدا خُدا کر کے ڈرامے میں کمرشل بریک آتا ہےتو
جاری ہے 👇
اور کھانا لا کر شوہر کے سامنے یُوں رکھتی ہیں جیسے وہ پیش نہ کیا جارہا ہو بلکہ اُسے ڈالا جارہا ہو
اور شوہر کے ہاتھ سے ٹی وی کا ریموٹ
جسے شوہر نے بیوی کی غیر موجودگی میں اُٹھا لیا ہوتا ہے واپس جھپٹ لیتی ہیں اور بولتی ہیں ابھی تو بڑا بھوک بھوک
جاری ہے👇
آج کے پاپا کی حثیت اے ٹی ایم مشین سے زیادہ
جاری ہے👇
میں یہ سوچتا ہُوں کہ کہاں وہ کل
کے ابا جان اور کہاں آج کے پاپا
زمانہ کیا سے کیا ہوگیا
اس میں کس کا قصور ہے؟
بے جا آزادی کا؟
حرام کمائی کا؟
عزت نفس ختم ہونے کا؟
یا پھر ہمسایہ ملک کے ان ڈراموں کا
جن میں عورت کو مرد کے ہاتھوں
یا
مرد کو عورت کے ہاتھوں
زلیل ہونا دکھایا جاتا ہے
