پردہ جہاں اللّٰه تعالیٰ اور اس کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے وہاں عورت کی عفت و پاکدامنی کی علامت و شعار ہے
لیکن لبرل کو اس سے کوئ غرض نہیں
کیونکہ لبرلزم کا مشن ہے بے پردگی
اور میرا یعنی عامر سہیل کا مشن ہے
اللّٰه اور اس کے رسول کی بات
جاری ہے 👇
ارشاد باری تعالیٰ ہے
یٰأَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّازْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَائِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ أَدْنَیٰ أَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ
(الاحزاب: ۵۹)
جاری ہے 👇
’اے نبی
آپ اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیں،
اس سے (فائدہ کیا ہو گا ؟)
بہت جلد پہچان لی جائیں گی
(شناخت ہو جایا کرے گی)پھر ستائی نہ جائیں گی
اللہ تعالیٰ نے
ذٰلِکَ أَدْنٰی أَنْ یُّعْرَفْنَ
جاری ہے 👇
پردہ کی وجہ سے عفائف اور مصؤنات
لگیں گی
فَـلَا یُؤْذَیْنَ
پھر فاسق لوگ ان کو تکلیف نہیں دیں گے (جیساکہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا) گویا ان کی عفت و عصمت بچانے کی علامت و شعار پردہ بتلایا گیا ہے جو کہ آزاد اور مسلمان
جاری ہے 👇
چنانچہ نمیری نے جب حجاج کے سامنے یہ پڑھا
یُخَمِّرْنَ اَطْرَافَ الْبُنَانِ مِنَ التُّقٰی
وَیَخْرَجْنَ جُنَحَ اللَّیْلِ مُعْتَجِرَاتِ
’’وہ تقویٰ کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کے پوروں کے کناروں کو بھی ڈھانپتی ہیں اور جب رات کو بھی نکلتی ہیں تو پردے میں
جاری ہے 👇
تو حجاج بن یوسف نے فوراً کہا
((ھٰکَذَا الْمَرْاَۃُ الْحُرَّۃُ الْمُسْلِمَۃُ))
اسی طرح مسلمان آزاد عورت ہوتی ہے"
تو اسلام نے چادر و برقعہ دینے کے باوجود اس کو آزاد گردانا ہے
جبکہ مغرب کے پرورداؤں اور مغربیت
کے ہیرو اس برقعہ کو کالی قبر اور خیمہ
جاری ہے👇
جو کہ ان کی فسطائیت
رجعت قہقری اور انتہائی بے غیرتی کی علامت ہے
کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ
فکر ہرکس بقدر ہمت اُوست
ہر ایک کی فکر اس کی عقل کے مطابق ہوتی ہے
کُلُّ اِنَائٍ یَتَرَشَّحُ بِمَا فِیْہِ
برتن میں جو کچھ ہو وہی باہر نکلتا ہے
جاری ہے 👇
بے غیرتی پروف ہوتے ہیں
اور اللہ تعالیٰ اور اس کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو مذاق و طنز کا نشانہ بناتے ہیں انہیں کی لخت جگر پھر بازاروں
سڑکوں اور سرکسوں کی زینت بنتی ہیں
جس کی بابت شاعر نے خوب کہا
سڑکوں پہ ناچتی ہیں کنیزیں بتول کی
جاری ہے 👇
ارشاد باری تعالیٰ
وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللَّاتِیْ لاَ یَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِیْنَۃٍ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ
جاری👇
اور بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید
(اور خواہش ہی) نہ رہی ہو وہ
اگر اپنا پردہ اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنا بناؤ سنگھار ظاہر کرنے والی نہ ہوں
تاہم اگر اس سے بھی احتیاط رکھیں
(عفت طلب کریں) تو ان کے لیے بہت افضل (خیر کثیر) ہے
اور اللہ تعالیٰ
جاری ہے 👇
تو دیکھیں یہاں بوڑھی عورتیں جو
جذباتیت سے بالکل بعید ہوتی ہیں
اور نمود و نمائش سے دور ہوتی ہیں وہ بھی اگر پردہ کریں جس کے لیے
لفظ یَسْتَعْفِفْنَ (عفت طلب کریں)
استعمال کیا گیا ہے تو ان کے لیے خیر کثیر ہے
اگر بوڑھی عورت کے لیے یہ
جاری ہے 👇
نوجوان کے لیے تو بالاولیٰ عفت کا مظہر اور خیر کثیر کا کارخانہ اور فیکٹری ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں عفت کی نعمت سے مالا مال کرے اور خیر کثیر کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین یا رب العالمین)
اب کِس کِس لبرل کو تکلیف پہنچتی ہے
مجھ کو کوئ پرواہ نہیں
