اور محنت کے ساتھ حساب سکھا رھے تھے
وہ ریاضی کے ٹیچر تھے
اُنھوں نے بچے کو اچھی طرح بار بار
سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں،
اور بچہ بہت غور سے سمجھ بھی رہا تھا
جب ماسٹر صاحب نے دیکھا
کہ
بچہ اب سمجھ گیا یے
کہ
دو اور دو چار ہوتے ہیں
جاری ہے 👇
مثال دیتے ہوئے بچے کو سمجھایا کہ یوں سمجھو
کہ
میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دیئے
پھر دو کبوتر دیئے
تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے؟
بچے نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیا
کہ
ماسٹر جی
" پانچ "
جاری ہے 👇
انھوں نے دراز سے دو پینسلیں نکالی
اور پوچھا کتنی ہیں
بچہ بولا دو
شاباش
پھر دو اور نکالی اور بچے کو پکڑا کر
پوچھا اب کتنی ہوئیں ؟
بچہ بولا
ماسٹر جی چار
ماسٹر صاحب بہت خوش ہوئے کہ سیکھ گیا
جاری ہے 👇
اُن کے اطمینان اور سکون کی علامت تھی
پھر دوبارہ پوچھا
اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمہیں دو کبوتر دئیے
پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے ؟
" پانچ "
بچے نے فورًا جواب دیا
ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی
جاری ہے 👇
اس زور سے بدکے کہ
کرسی سمیت گرتے گرتے بچے،،
اؤ احمق
پنسلیں دو اور دو "4" ہوتی ہیں
تو کبوتر دو اور دو "5" کیوں ہوتے ہیں ؟
اُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا
"ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس
پہلے سے ہی ہے"
بچے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
جاری ہے 👇
مگر
کچھ کبوتر ہم اپنے آباؤ اجداد سے لےآئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں
اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللّٰه بھی کہتے ہیں،
جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو درود بھی پڑھتے ہیں،
مگر جب عمل کی باری آتی ہے
تو باپ دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں۔
