میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے میں گزرتا تھا،
اس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پینس میں
کاکاؤ (چاکلیٹ)پاوڈر کا ایک ڈبہ خریدتا تھا
ایک دن دیکھا کہ اس نے اسی شیلف
جاری ہے 👇
جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے
مجھے حیرت ہوئی
اور اس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے کیا ؟
اس نے کہا
نہیں
دونوں کی کوالٹی یکساں ہے
میں نے پوچھا
کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں ؟
اس نے جواب دیا کہ نائجیریا
جاری ہے👇
میں آتا ہے
اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہوگئے ہیں
جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آگیا ہے زیادہ قیمت والا مال نیا ہے
اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے
اسے ہم 18 کا ہی بیچ رہے ہیں
میں نے کہا
پھر تو 18 والا ہی خریدیں گے جب تک
جاری ہے 👇
20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا
اس نے کہا
ہاں
یہ مجھے معلوم ہے کہ لوگ 18 والا ہی خریدیں گے
میں نے اس کو کہا
دونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو
کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا
اس نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا
جاری ہے 👇
مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا
لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں
گونج رہا ہے
کہ
تم کوئ لٹیرے ہو جو ایسا بول رہے ہو ؟
_ _ _
یہ کون سا اخلاق ہے؟
دراصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا
یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے
یہ وہ اخلاق ہے جو
جاری ہے👇
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
نے ہمیں سکھایا تھا
لیکن
اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے نہیں ؟
جگاڑ میں حلال حرام تک کو ایک ہی گاڑی سے روندتے چلے جاتے ہیں
کبھی نہیں سوچا کہ حرام کا نتیجہ کیا نکلے گا
پیسے کی حوس نے بس نام کا مسلم چھوڑا
ہم کو ورنہ کرتوت ہمارے۔۔۔۔
