سامان خرید کر باہر نکلا تو سپر سٹور کے بالکل ساتھ باہر ایک چھوٹا سا ٹھیلہ تھا
جس پر ایک شخص تازہ سبزیاں بیچ رہا تھا
گاڑی میں سامان رکھ کر میں نے
سوچا کہ اس سے زرا قیمتیں
چیک کی جائیں
ٹماٹر
بینگن
پیاز
کھیرے
مٹر
آلو
سب سبزیوں کے بھاؤ اُس نے
جاری ہے 👇
بعد آکے سبزیاں
خریدتا رہتا ہوں
مجھے قیمتوں کا اندازہ تھا
میں نے بڑی سختی سے اسے کہا کہ وہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ بتا رہا ہے
جبکہ مجھے فلاں سٹور سے ہر چیز 3 ، 4 روپے کم پر مل رہی ہے،
اس نے بڑے تحمل سے میری بات سنی اور جواب دیا
صاحب جی
جاری ہے 👇
اس کی روزانہ کی سیل لاکھوں میں ہے
وہ اگر قیمت کم بھی کردے گا
تو جتنی سیل ہوتی ہے
اس کے روزانہ کے منافع میں کوئی
کمی نہیں آنی
میں ایک غریب دکاندار ہوں
سڑک کے کنارے بیٹھا ہوں
میری روز کی سیل ہزار
دو ہزار یا 3 ہزار کی ہوگی
جس میں سے مجھے زیادہ سے زیادہ
جاری ہے 👇
اگر میں اپنا منافع کم کردوں تو
گھر خالی ہاتھ ہی جاؤں گا"
اس کی باتیں سن کر مجھے سخت
شرمندگی کا احساس ہوا
سرمایہ دارانہ نظام اور اسلامی نظام میں یہی فرق ہے کہ
اسلام میں مارکیٹ فورسز قمیتوں کا تعین نہیں کرتیں
بلکہ خریدنے اور بیچنے والوں کے
حالات کو بھی
جاری ہے 👇
میں نے اس ٹھیلے والے سے کچھ سلاد کا سامان اور سبزیاں خرید لیں
اس نے ڈسکاؤنٹ آفر کی لیکن میں نے لینے سے انکار کردیا
واپسی میں گاڑی چلاتے ہوئے
میرا ذہن اس کی باتوں کی طرف لگا رہا
اگر ہم " انا "چھوڑ سکتے ہیں تو کوشش کرنی چاہیئے کہ چھوٹے دکانداروں سے کچھ
جاری ہے👇
بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز کو تو اللّٰه نے پہلے ہی بہت دیا ہے
ان کے منافع میں کمی نہیں آئے گی
لیکن اگر ہم چھوٹے دکانداروں کا خیال رکھنا شروع کردیں
تو شاید وہ بھی بے ایمانی کرنا چھوڑ دیں
ہر انسان اپنی نیچر کے حساب سے ایک اچھا انسان ہوتا ہے
جاری ہے 👇
میرے اور آپ جیسے لوگ بناتے ہیں
اپنے جھوٹی شان و شوکت اور دکھاوے
کے لئے جاتے بڑے سٹور پر ہیں
لیکن حقیقت میں صرف دو چار روپے کی سستی چیز
خریدنے کیلئے 100 روپے کا پٹرول خرچ کر بڑے سٹور پر جانے والے بناتے ہیں
جاری ہے 👇
جن لوگوں کو اللّٰه نے کم دیا ہے
اُن کا خیال رکھیں
کیونکہ اُن کی اللّٰه سے کوئی
دشمنی تو ہے نہیں،
جو اللّٰه نے انہیں کم
اور
آپ کو زیادہ دیا
آپ کو زیادہ اِسی لئے دیا ہے
کہ
وہ دیکھ سکے کہ آپ اِس زیادہ دینے کی "آزمائش "
پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔“
