از: مولانا سعید احمد جلال پوری، مدیر ماہنامہ بینات جامعہ العلوم الاسلامیہ
علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی !
گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ کراچی کے توسط سے جناب ندیم احمد کراچی کا ایک مختصر 👇
مگر چبھتا ہوا سوال موصول ہوا کہ: ”آج کل پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور یہ ظلم کرنے والے غیر مسلم ہیں تو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آتی؟“
👇
بلاشبہ یہ سوال آج کل تقریباً ہر دین دار مسلمان کی زبان پر ہے اور اس کے دل و دماغ کو پریشان کئے ہوئے ہے اور اسے سمجھ نہیں آتا کہ اگر مسلمان حق پر ہیں اور یقینا حق پر ہیں، تو ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی اور ان کے اعداء و مخالفین یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین، جو 👇
یقینا باطل پر ہیں، کے خلاف اللہ تعالیٰ کا جوش انتقام حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ اور ان کو تہس نہس کیوں نہیں کردیا جاتا؟ یا کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو مسلمانوں پر فوقیت و برتری کیونکر حاصل ہے؟ اور ان کو اس قدر ڈھیل کیوں دی جارہی ہے؟ 👇
اس کے برعکس مسلمانوں کو روزبروز ذلت و ادبار کا سامنا کیونکر ہے؟👇
اس سوال کے جواب میں راقم الحروف نے جو کچھ لکھا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے قارئین بینات کی خدمت میں پیش کردیا جائے، ملاحظہ ہو:👇
برادر عزیز! آپ کا سوال معقول اور بجا ہے، کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں پر جس قدر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور مسلمان جس قدر ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، شاید ہی کسی دوسری قوم پر کبھی ایسا وقت آیا ہو؟اس سب کے باوجود مسلمانوں کے حق میں اللہ کی مدد کا نہ آنا،👇
واقعی قابل تشویش ہے،اور آپ کی طر ح ہر مسلمان اس تشویش میں مبتلا ہے۔👇
لہٰذا آپ کے سوال کے جواب کے سلسلہ میں چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا، اگر آپ نے ان کو ذہن نشین کرلیا تو امید ہے کہ انشأاللہ آپ کو مسلمانوں کے حق میں اللہ کی مدد نہ آنے کے اسباب و وجوہ سمجھ آجائیں گے۔👇
دراصل یہاں دو امور ہیں، ایک یہ کہ تمام مسلمان عموماً اللہ تعالیٰ کی مدد سے کیوں محروم ہیں؟ دوسرے یہ کہ خاص طور پر وہ نیک صالح مسلمان، جو واقعی اللہ تعالیٰ کے دین کے محافظ ہیں، ان پر مصائب و بلایا کے پہاڑ کیوں توڑے جارہے ہیں ؟ان کے حق میں اللہ کی مدد آنے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے؟👇
اور ان کے دشمنوں کو اس قدر ڈھیل کیوں دی جارہی ہے؟
اول: سب سے پہلے یہ کہ تمام مسلمان اللہ کی مدد سے کیوں محروم ہیں؟ اس سلسلہ میں عرض ہے:
۱:- اس وقت مسلمان من حیث القوم مجموعی اعتبار سے تقریباً بدعملی کا شکار ہوچکے ہیں۔
👇
۲:- اس وقت مسلمانوں میں ذوقِ عبادت اور شوقِ شہادت کا فقدان ہے، بلکہ مسلمان بھی ... الا ماشاء اللہ ... کفار و مشرکین کی طرح موت سے ڈرنے لگے ہیں۔
۳:- اس وقت تقریباً مسلمانوں کو دین، مذہب، ایمان، عقیدہ سے زیادہ اپنی، اپنی اولاد اور اپنے خاندان کی دنیاوی راحت و آرام کی فکر ہے۔
👇
۴:- آج کل مسلمان...الا ماشاء اللہ...موت، مابعد الموت، قبر، حشر، آخرت، جہنم اور جنت کی فکر و احساس سے بے نیاز ہوچکے ہیں اور انہوں نے کافر اقوام کی طرح اپنی کامیابی و ناکامی کا مدار دنیا اور دنیاوی اسباب و ذرائع کو بنالیا ہے، اس لئے تقریباََ سب ہی اس کے حصول و تحصیل کے لئے 👇
دیوانہ وار دوڑ رہے ہیں۔
۵:- اس وقت ...الا ماشاء اللہ... مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد، بھروسہ اور توکل نہیں رہا، اس لئے وہ دنیا اور دنیاوی اسباب و وسائل کو سب کچھ باور کرنے لگے ہیں۔
۶:- جب سے مسلمانوں کا اللہ کی ذات سے رشتہ عبدیت کمزور ہوا ہے، 👇
انہوں نے عبادات و اعمال کے علاوہ قریب قریب سب ہی کچھ چھوڑ دیا ہے، حتی کہ بارگاہ الٰہی میں رونا، بلبلانا اور دعائیں مانگنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
۷:- جس طرح کفر و شرک کے معاشرہ اور بے خدا قوموں میں بدکرداری، بدکاری، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، حرام کاری ، حرام خوری، جبر ، تشدد، 👇
ظلم اور ستم کا دور دورہ ہے، ٹھیک اسی طرح نام نہاد مسلمان بھی ان برائیوں کی دلدل میں سرتاپا غرق ہیں۔
۸:- معدودے چند، اللہ کے جو بندے، اس غلاظت کدہ میں نور کی کرن اور امید کی روشنی ثابت ہوسکتے تھے، ان پر اللہ کی زمین تنگ کردی گئی، چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ 👇
جو مسلمان قرآن و سنت، دین و مذہب کی پاسداری اور اسوئہ نبوت کی راہ نمائی میں زندگی گزارنا چاہتے تھے، انہیں تشدد پسند، دہشت گرد، رجعت پسنداورملک و ملت کے دشمن وغیرہ کہہ کر ٹھکانے لگادیا گیا۔
۹:- نام نہاد مسلمانوں نے کافر اقوام کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اور 👇
ان کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے کر دین و مذہب سے وابستگی رکھنے والے مخلصین کے خلاف ایسا طوفان بدتمیزی برپا کیا اور ان کو اس قدر مطعون و بدنام کیا کہ کوئی سیدھا سادا مسلمان، اسلام اور اسلامی شعائر کو اپناتے ہوئے بھی گھبراتا ہے۔
۱۰👇
:- اسلام دشمن میڈیا، اخبارات، رسائل و جرائد میں اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر خطرناک، نقصان دہ، ملک و ملت دشمن اور امن مخالف باور کرایا گیا کہ اب خود مسلمان معاشرہ ان کو اپنانے اور گلے لگانے پر آمادہ نہیں۔
👇
۱۱:- مادیت پسندی نے نام نہاد مسلمان کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اب اس کو حلال و حرام کی تمیز تک نہیں رہی، چنانچہ ...الا ماشاء اللہ ... اب کوئی مسلمان حلال و حرام کی تمیز کرتا ہو، اس لئے مسلم معاشرہ میں بھی، سود، جوا، رشوت، لاٹری، انعامی اسکیموں کا دور دورہ ہے۔
👇
۱۲:- جو لوگ سود خوری کے مرتکب ہوں، اللہ تعالیٰ کا ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ظاہر ہے جو مسلمان سود خور ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے حالت جنگ میں ہیں، اور جن لوگوں سے اعلانِ جنگ ہو، کیا ان کی مدد کی جائے گی؟
۱۳:- جو معاشرہ عموماً چوری ڈکیتی، مار دھاڑ، اغوا برائے تاوان، جوئے، 👇
لاٹری، انعامی اسکیموں اور رشوت پر پل رہا ہو، اور جہاں ظلم و تشدد عروج پر ہو، جہاں کسی غریب کی عزت و ناموس اور مال و دولت محفوظ نہ ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوگی یا اللہ کا غضب؟ پھر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کفر کے ساتھ حکومت چل سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی، 👇
اس لئے کہ اللہ کی مدد مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ظالم چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی مدد سے محروم ہوتا ہے۔
۱۴:- جس قوم اور معاشرہ کی غذا، لباس، گوشت، پوست حرام مال کی پیداوار ہوں، ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں،جیساکہ حدیث شریف میں ہے:
👇
”عن ابی ھریرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلى الله عليه وسلم : ان اللّٰہ طیب لا یقبل الا طیباََ، وان اللّٰہ امرالموٴمنین بما امربہ المرسلین فقال: ”یاایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا“ وقال تعالیٰ: ”یا ایھا الذین آمنوا کلوا من طیبات ما رزقناکم“ 👇
ثم ذکر الرجل یطیل السفر اشعث اغبر یمد یدیہ الیٰ السماء یارب، یارب، ومطعمہ حرام، ومشربہ حرام، وملبسہ حرام، وغذی بالحرام فانیٰ یستجاب لذالک، رواہ مسلم.“ (مشکوٰة،ص:۲۴۱)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاک، پاکیزہ ہیں👇
اور پاک، پاکیزہ ہی قبول فرماتے ہیں، اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا، پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے رسولوں کی جماعت! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور اعمال صالحہ کرو“ اسی طرح مومنوں سے فرمایا: ”اے ایمان والو! 👇
ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں“ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کی وجہ سے غبار آلود اور پراگندہ بال ہے اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاکر کہتا ہے: اے رب! ،اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا اور 👇
اس کی غذا حرام کی ہے، تو اس کی دعا کیونکر قبول ہوگی؟“
۱۵:- بایں ہمہ وہ مقبولانِ الٰہی، جو مخلوق خدا کی اس مجبوری اور مقہوری پر کڑھتے ہیں ، روتے ہیں، بلبلاتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعائیں کرنا چاہتے ہیں، ان کو بارگاہ الٰہی سے یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ 👇
اپنی ذات کے لئے اور اپنی ضرورت کے لئے دعا کرو، میں قبول کروں گا لیکن عام لوگوں کے حق میں تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
”عن انس بن مالک رضي الله تعالى عنه اراہ مرفوعاََ قال: یأتی علی الناس زمان یدعوالموٴمن للجماعة فلایستجاب لہ، یقول اللّٰہ: ادعنی لنفسک 👇
ولما یحزبک من خاصة امرک فاجیبک، واما الجماعة فلا! انھم اغضبونی. وفی روایة: فانی علیھم غضبان.“ (کتاب الرقائق ص:۱۵۵،۳۸۴)
ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ مومن، 👇
مسلمانوں کی جماعت کے لئے دعا کرے گا، مگر قبول نہیں کی جائے گی، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، تو اپنی ذات کے لئے اور اپنی پیش آمدہ ضروریات کے لئے دعا کر، میں قبول کروں گا، لیکن عام لوگوں کے حق میں قبول نہیں کروں گا، اس لئے کہ انہوں نے مجھے ناراض کرلیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ 👇
میں ان سے ناراض ہوں۔“
۱۶:- پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ آسمان سے اچھے یا بُرے فیصلے اکثریت کے عمل اور بدعملی کے تناظر میں نازل ہوتے ہیں، اس لئے باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم معاشرہ کی اکثریت کے اعمال و افعال اور سیرت و کردار کا کیا حال ہے؟ 👇
کیا ایسا معاشرہ جہاں دین، دینی اقدار کا مذاق اڑایا جاتا ہو، جہاں قرآن و سنت کا انکار کیا جاتا ہو، جہاں اس میں تحریف کی جاتی ہو، جہاں ان کو من مانے مطالب ، مفاہیم اور معانی پہنائے جاتے ہوں، جہاں حدود اللہ کا انکار کیا جاتا ہو، جہاں سود کو حلال اور شراب کو پاک کہا جاتا ہو، 👇
جہاں زنا کاری و بدکاری کو تحفظ ہو، جہاں ظلم و تشدد کا دور دورہ ہو، جہاں مسلمان کہلانا دہشت گردی کی علامت ہو، جہاں بے قصور معصوموں کو کافر اقوام کے حوالہ کیا جاتا ہو، جہاں بدکار و مجرم معزز اور معصوم ذلیل ہوں، جہاں توہین رسالت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جاتا ہو، 👇
جہاں باغیانِ نبوت کو اقتدار کی چھتری مہیا ہو، جہاں محافظین دین و شریعت کو پابند سلاسل کیا جاتا ہو، جہاں کلمہ حق کہنے والوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہو، جہاں کافر اقوام کی کاسہ لیسی کی جاتی ہو، جہاں یہود و نصاریٰ کی خوشنودی کے لئے مسلم ممالک پر اسلام دشمنوں کی چڑھائی کو سند 👇
جواز مہیا کی جاتی ہو، جہاں دینی مدارس و مساجد پر چڑھائی کی جاتی ہو، ان پر بمباری کی جاتی ہو، ہزاروں معصوموں کو خاک و خون میں تڑ پایا جاتا ہو، ان پر فاسفورس بم گراکر ان کا نام و نشان مٹایا جاتا ہو، جہاں مسلمان طالبات اور پردہ نشین خواتین کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہو، 👇
ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہو، ان کے جسم کے چیتھڑے اڑائے جاتے ہوں، ان کو دفن کرنے کے بجائے ان کی لاشوں کو جلایا جاتا ہو، جہاں تاتاری اور نازی مظالم کی داستانیں دہرائی جاتی ہوں، جہاں دین دار طبقہ اور علماء و صلحاء پر زمین تنگ کی جاتی ہو، جہاں اغیار کی خوشنودی کے لئے 👇
اپنے شہریوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کئے جاتے ہوں، جہاں ہزاروں ،لاکھوں مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہو، جہاں دین و شریعت کا نام لینا جرم اور عریانی فحاشی، پتنگ بازی اور میراتھن ریس کی سرپرستی کی جاتی ہو، جہاں عریانی و فحاشی کو روشن خیالی و اعتدال پسندی 👇
کا نام دیا جاتا ہو، جہاں دینی مدارس بند اور قحبہ خانے کھولے جاتے ہوں، جہاں عوام نانِ شبینہ کے محتاج ہوں اور اربابِ اقتدار ۲۰/۲۰ لاکھ روپے ایک رات ہوٹل کے قیام کا کرایہ ادا کرتے ہوں، جہاں اپنے اقتدار اور حکومت کے تحفظ کے لئے دین و مذہب اور شرم و حیاء کی تمام حدود کو 👇
پھلانگا جاتا ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوگی؟ یا اللہ کا عذاب و عقاب؟؟؟👇
بلاشبہ آج کا دور دجالی فتنے اور نئے نئے نظریات کا دور ہے، زمانہ بوڑھا ہوچکا ، ہم جنس پرستی کو قانونی جواز حاصل ہوچکا، ناچ گانے کی محفلیں عام ہوچکیں، دیکھا جائے تو یہ قرب قیامت کا وقت ہے، اس وقت مسلمانوں سے اللہ کی حفاظت و مدد اٹھ چکی ہے، مسلمانوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، 👇
سچی بات یہ ہے کہ یہ اللہ کی ناراضگی، ظاہر داری، چاپلوسی، انانیت، خود پسندی اور امت کے زوال کا وقت ہے، فتنہ و فساد عروج پر ہیں، خیر سے محروم لوگوں کی کثرت ہے اور خدا کی لعنت و غضب کا وقت ہے، اور یہود و نصاریٰ کی نقالی کامیابی کی معراج شمار ہونے لگی ہے۔👇
اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگوں اور معاشرہ کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا قدر و قیمت ہوسکتی ہے؟ چنانچہ ایسے ہی دور کے لوگوں کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ :👇
”عن مرداس الاسلمی رضي الله تعالى عنه قال النبی صلى الله عليه وسلم: یذھب الصالحون الاول فالاول، وتبقیٰ حفالة کحفالة الشعیر اوالتمر لایبالیھم اللّٰہ بالة.“ (صحیح بخاری کتاب الرقائق، ص:۹۵۲، ج:۲)
ترجمہ: ”حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے 👇
فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے جائیں گے، جیسے چھٹائی کے بعد ردی جو یا کھجوریں باقی رہ جاتی ہیں، ایسے ناکارہ لوگ رہ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔
👇
۱۷:- اس کے علاوہ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ: مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ ضرور ہے لیکن ساتھ ہی اللہ کی مدد آنے کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ:
👇
”یاایھا الذین آمنوا ان تنصروا اللّٰہ ینصرکم ویثبت اقدامکم“ (محمد:۷)
ترجمہ: ”اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کریں گے، اور تمہارے قدموں کو ثابت کریں گے۔“
👇
لہٰذا جب سے مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد چھوڑ دی ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں سے اپنی رحمت و عنایت اور مدد کا ہاتھ اٹھالیا ہے، چنانچہ آج ہر طرف مسلمانوں پر کافر اس طرح ٹوٹ رہے ہیں جس طرح دسترخوان پر چنے ہوئے کھانے پر لوگ ٹوٹتے ہیں👇
چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”عن ثوبان رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلى الله عليه وسلم : یوشک الامم ان تداعیٰ علیکم کما تداعیٰ الآکلة الیٰ قصعتھا، فقال قائل: ومن قلة نحن یومئذٍ؟ قال: بل انتم یومئذٍ کثیر! ولکنکم غثاء کغثاء السیل، ولینزعن اللّٰہ من صدورعدوکم المھابة منکم 👇
ولیقذفن اللّٰہ فی قلوبکم الوھن! فقال قائل: یارسول اللّٰہ! وما الوھن؟ قال: حب الدنیا وکراھیة الموت!“ (ابوداؤد ص:۵۹)
ترجمہ: ”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ وقت قریب آتا ہے، جب تمام کافر قومیں تمہارے مٹانے کے لئے... 👇
مل کر سازشیں کریں گی ... اور ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جیسے دسترخوان پر کھانا کھانے والے ... لذیذ ... کھانے کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہماری قلت تعداد کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوگا؟ فرمایا: نہیں! بلکہ تم اس وقت تعداد میں بہت ہوگے، 👇
البتہ تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ناکارہ ہوگے، یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دیں گے، اور تمہارے دلوں میں بزدلی ڈال دیں گے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بزدلی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔“
👇
بتلایا جائے جس معاشرہ کا یہ حال ہو، اور جن مسلمانوں کے اعمال و اخلاق کا یہ منظر نامہ ہو، وہاں اللہ کی مدد آئے گی یا اللہ کا عذاب؟
👇
دوم : رہی یہ بات کہ کفار و مشرکین اور اغیار کے مظالم کا شکار صرف اور صرف دین دار مسلمان ہی کیوں ہیں؟
اگر بدکردار مسلمانوں اور اربابِ اقتدار نے اللہ کو ناراض کر رکھا ہے تو ان کی سزا ان نہتے معصوموں کو کیوں دی جاتی ہے؟ اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آتی؟ 👇
چاہئے تو یہ تھا کہ جرم و سزا کے فلسفہ کے تحت سزا بھی ان ہی لوگوں کو دی جاتی ،جنہوں نے اللہ کو ناراض کررکھا ہے، مگر اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ نیک صالح مسلمان، اور دین و مذہب کے متوالے ،کفار کے مظالم کی تلوار سے ذبح ہورہے ہیں، ان کو بے نام کیا جارہا ہے، 👇
ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے، ان کی جان و مال اور عزت و ناموس برباد کی جارہی ہے، ان پر اللہ کی زمین تنگ کی جارہی ہے، اپنے اور پرائے سب ہی ان کے دشمن اور ان کی جان کے پیاسے ہیں، کوئی بھی ان کے لئے کلمہ خیر کہنے کا روادار نہیں ہے، بلکہ ان پر ہر طرف سے آگ و آہن کی 👇
بارش اور بارود کی یلغار ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟؟
اسی طرح ارشاد الٰہی :”الا ان نصراللّٰہ قریب“ ... بے شک اللہ کی مدد قریب ہے... کا وعدہ کب پورا ہوگا؟
اس سلسلہ میں بھی چند معروضات پیش کرنا چاہوں گا:
۱:- دنیا باخدا مسلمانوں کے لئے قید خانہ اور کفار و مشرکین کے لئے جنت ہے، 👇
چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
”عن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال، قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”الدنیا سجن المؤمن وجنة الکافر“ (ترمذی ص:۵۶ ج:۲)
ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے 👇
اور کافر کے لئے جنت ہے۔“
یعنی دنیا میں عموماً کافر کی نسبت، ایک مومن کو آفات و مصائب کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ کافر کی دنیاوی کروفر اور راحت و آرام اور مومن کی تکلیف و تعذیب کو دیکھ کر پریشان نہیں ہونا چاہئے، بلکہ مومن کی دنیا کی تکلیف و تعذیب اور مصائب و آلام کا، 👇
اس کی جنت کے ساتھ اور کافر کی ظاہری کروفر، خوش عیشی اور راحت و آرام کا اس کی جہنم کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو سمجھ میں آجائے گا کہ جس طرح کافر کی دنیاوی راحت و آسائش کی، اس کی جہنم کی سزا کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں، اسی طرح مسلمان کی دنیا کی عارضی تکالیف و مشکلات 👇
اس کی جنت اور آخرت کی راحت و آرام کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔
جاری ہے
۲:- دنیا دارالعمل اور آخرت دارالجزا ہے اور ظاہر ہے جو شخص عملی میدان میں جتنا محنت و مشقت اور جہد و مجاہدہ برداشت کرے گا، بعد میں اسی تناسب سے اسے راحت و آرام میسر آئیگا اور جو شخص میدانِ عمل میں جتنا کوتاہی کرے گا، بعد میں اسی تناسب سے اُسے ذلت و رسوائی اور 👇
فضیحت و شرمندگی کا سامنا کرنا ہوگا، ٹھیک اسی طرح مقربین بارگاہِ خداوندی کو بھی آخرت کی کھیتی یعنی دنیا میں جہد مسلسل اور محنت و مشقت کا سامنا ہے، مگر عاقبت و انجام کے اعتبار سے جلد یا بدیر راحت و آرام ان کا مقدر ہوگا، دوسری طرف کافر اگرچہ 👇
یہاں ہر طرح کی راحت و آرام سے سرفراز ہیں، مگر مرنے کے ساتھ ہی عذاب جہنم کی شکل میں ان کی راحت و آرام اور ظلم و عدوان کا ثمرہ ان کے سامنے آجائے گا👇
۳:- کسی مسلمان کی تخلیق کا مقصد دنیا اور اس کی راحتوں کا حصول نہیں، بلکہ مسلمان کو جنت اور جنت کی لازوال و ابدی نعمتوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور جنت کا حصول کچھ آسان نہیں، بلکہ جنت کے سامنے یا اردگرد مشکلات و مصائب کی باڑھ لگائی گئی ہے اور 👇
دوزخ کے اردگرد خواہشات کی باڑھ کی گئی ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے👇
”عن انس رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: حفت الجنة بالمکارہ وحفت النار بالشہوات.“ (ترمذی ص:۸۰ج:۲)
ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جنت کے گرد ناگواریوں اورمشقتوں کی باڑھ کی گئی ہے، اور 👇
دوزخ کے گرد خواہشات کی باڑھ کی گئی ہے۔“
👇
اس لئے کسی نیک صالح مسلمان کا دنیا میں مشکلات و مصائب اور مکروہات سے دوچار ہونا دراصل حصولِ جنت میں کامیابی کی نشانی ہے، اور کفار و مشرکین اور معاندین کیلئے دنیاوی راحت و آرام یا خواہشات نفسانیہ کا مہیا ہونا ان کے عذابِ نار و سقر سے دوچار ہونے کی علامت ہے👇
۴:- بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آخرت کے عذاب سے بچانے کے لئے دنیا ہی میں انہیں مصائب و تکالیف میں مبتلا فرماتے ہیں‘ تاکہ اس کی کمی کوتاہیوں کا معاملہ یہیں نمٹ جائے اور آخرت میں ان کو کسی عذاب سے دوچار نہ ہونا پڑے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے👇
”عن انس رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا اراد اللّٰہ بعبدہ الخیر عجل لہ العقوبة فی الدنیا، واذا اراد اللّٰہ بعبدہ الشر امسک عنہ بذنبہ حتی یوافی بہ یوم القیامة.
وبہٰذا الاسناد عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ان عظم الجزاء مع عظم البلأ، 👇
وان اللّٰہ اذا احب قوماً ابتلاہم، فمن رضی فلہ الرضا ومن سخط فلہ السخط.“ (ترمذی،ج:۲)
ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، تو دنیا میں ہی اس کو فوری سزا دے دیتے ہیں اور👇
جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہ کی سزا موخر کردیتے ہیں، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کو پوری سزا دیں گے۔
👇
نیز آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بندے کو جتنا بڑا ابتلاء پیش آئے، اتنی بڑی جزا اس کو ملتی ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اسے ... مصائب و آلام سے ... آزماتے ہیں، پس جو شخص... ہر حالت میں ا للہ تعالیٰ سے ... راضی رہا، اس کے لئے 👇
اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اور جو شخص ناراض ہوا اس کے لئے ناراضی ہے۔“👇
اس حدیث کی تشریح میں حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
” اس حدیث میں دو مضمون ارشاد ہوئے، ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی سزا دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، اس کی سزا کو آخرت پر نہیں 👇
اٹھا رکھتے، بلکہ مختلف مصائب میں اس کو مبتلا کرکے پاک و صاف کردیتے ہیں۔ چنانچہ اگر اس کو کانٹابھی چبھتا ہے تو وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، اور اگر لکھنے والے کے ہاتھ سے قلم گر جاتا ہے تو وہ بھی اس کے لئے کفارہ بن جاتا ہے۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں👇
ایک یہ کہ کسی بندئہ مومن کو کوئی تکلیف اور صدمہ یا پریشانی پیش آئے اسے اپنے گناہوں کا خمیازہ سمجھنا چاہئے۔ دوسری یہ کہ بندئہ مومن کا مصائب و آلام میں مبتلا ہونا اس کے مردود ہونے کی علامت نہیں، بلکہ اس کے ساتھ حق تعالیٰ شانہ کا لطف و انعام ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے 👇
اس کے گناہوں کے کفارہ کا دنیا ہی میں انتظام فرمادیا۔
اس کے برعکس جس بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے گناہوں کے باوجود ڈھیل اور مہلت دیتے ہیں، وہ احمق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت معزز ہے حالانکہ اس کے ساتھ مکرو استدراج کا معاملہ ہورہا ہے کہ 👇
اس کی معصیتوں اور نافرمانیوں کے باوجود اسے ڈھیل دی جارہی ہے، اور قیامت کے دن جب بارگاہِ خداوندی میں پیش ہوگا، اسے اس کی بدعملیوں کا پورا پورا بدلہ چکا دیا جائے گا، الا یہ کہ حق تعالیٰ شانہ محض اپنے فضل و احسان سے عفو و درگزر کا معاملہ فرمائے ... بشرطیکہ 👇
وہ مسلمان ہو کیونکہ کفر و شرک کی معافی نہیں ہے ... ناقل۔
👇
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
جب ہم مسلمان اللہ کو کائنات کا خالق ومالک اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ اور احکام وقوانین میں اس کی طرف سے مجاز اتھارٹی سمجھتے ہیں تو اس یقین وایمان کی رو سے ہم اس امر کے پابند ہو جاتے ہیں کہ اس کو حتمی تصور کریں اور 👇
اگر کوئی بات ہماری سمجھ میں نہ آتی ہو تو بھی اللہ تعالیٰ اور ان کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو صحیح اور برحق مانتے ہوئے سمجھ میں نہ آنے کو اپنی عقل کی کوتاہی پرمحمول کریں۔ 👇
بات وہاں بگڑتی ہے اور اشکال وہیں پیدا ہوتا ہے جب کچھ لوگ یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہماری عقل اور سمجھ کسی بات کے صحیح اور حتمی ہونے کا واحد معیار ہے۔ کوئی بات اس کے دائرے میں آئے گی تو ہم قبول کریں گے اور اگر کوئی بات ہماری سمجھ اور عقل کے دائرے میں نہیں آ رہی تو نہ صرف یہ کہ 👇
سورہ بنی اسرائیل کی آیات ۷۳، ۷۴ اور ۷۵ میں نبی کریمؐ سے یہ کہا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کو قرآن کریم کے احکام کے بارے میں آزمائش میں ڈالنے کا پورا پروگرام رکھتے تھے اور اگر ہم آپؐ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو یہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جاتے، اور اگر ان کا پروگرام آپؐ قبول کر لیتے تو 👇
یہ آپؐ کو دوست بنا لیتے۔
تفسیر قرطبیؒ، خازن اور روح المعانی میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ایک ارشاد ان آیات کے ضمن میں نقل کیا گیا ہے کہ یہ آیات طائف کے بنو ثقیف کی اس پیش کش کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جن میں انہوں نے جناب رسول اکرمؐ سے کہا تھا کہ اگر وہ 👇
ان کی بعض شرائط قبول کر لیں تو وہ سب قبولِ اسلام کے لیے تیار ہیں۔ یہ شرائط ان آیات کریمہ کے حوالہ سے مختلف تفاسیر میں اور آنحضرتؐ کے ساتھ بنو ثقیف کے وفد کی ملاقات کے تذکرہ میں سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں جن میں یہ باتیں بطور خاص قابل ذکر ہیں:
جہاں تک رائے اور دلیل کے اختلاف کا تعلق ہے چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اسے ہمیشہ برداشت کیا ہے اور دلیل کا جواب دلیل سے دیا ہے۔ گزشتہ کئی صدیوں سے مغرب کے مستشرقین اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کے بارے میں لکھتے آرہے ہیں، اعتراضات کرتے ہیں اور 👇
سینکڑوں باتوں سے اختلاف کرتے ہیں لیکن مسلمان کبھی ان پر سیخ پا نہیں ہوئے بلکہ کتاب کا جواب کتاب سے، مقالہ کا جواب مقالہ سے اور دلیل کا جواب دلیل سے دیا گیا ہے، جس پر مغرب کی بہت سی یونیورسٹیوں کی لائبریریاں گواہ ہیں۔ البتہ توہین، استہزا، تحقیر اور تمسخر کی بات مختلف ہے، 👇
دین اسلام، پیغمبر اسلامؐ، قرآن کریم بلکہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے حوالہ سے بھی مسلمانوں نے کبھی یہ لہجہ برداشت نہیں کیا اور نہ آئندہ کبھی برداشت ہوسکتا ہے، ہم تاریخ کے حوالہ سے اس سلسلہ میں ایک عام سی مثال دیا کرتے ہیں کہ 👇
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب ریاست مدینہ کی حکمرانی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سنبھالی تو انہوں نے اڑھائی سالہ مختصر دور حکومت میں تین بڑے اہم کام کیے تھے:
1 عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے اس دور کے مدعیان نبوت کی سرکوبی کی تھی۔
👇
2 زکٰوۃ کے منکرین کا استیصال کر کے ایک دینی فریضہ کا تحفظ کیا تھا۔
اور قرآن کریم کو سرکاری طور پر کتابی شکل میں محفوظ کر کے اللہ تعالٰی کی عظیم اور آخری کتاب کی حفاظت کے بارے میں ذہنوں میں پیدا ہونے والے خدشات و خطرات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا تھا۔
جس کا مطلب 👇
واضح طور پر یہ ہے کہ امت کے اسلامی عقائد کا تحفظ، دینی احکام و فرائض کی حفاظت اور اسلامی علوم کا تحفظ و فروغ ریاستِ مدینہ کی بنیاد تھی اور یہ تینوں کام اسلامی ریاست کے فرائض میں شامل ہیں۔ اس لیے 👇
اور جنرل یحیٰی خان؟
مجلہ:
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ 👇
سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔
یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا۔ 👇
پاکستان دولخت ہوگیا، نوے ہزار فوجی دشمن کی قید میں چلے گئے، اور مغربی پاکستان کے محاذ پر بھی بہت بڑے علاقے پر دشمن نے قبضہ کر لیا۔ یحییٰ خان اگرچہ اس دور میں ملک کے بلاشرکت غیرے حکمران رہے لیکن عوامی حلقوں کا یہ تاثر ہے کہ اس کاروائی میں ان کے ساتھ کچھ سیاسی چہرے بھی شریک ہیں 👇
مسٹر بھٹو کے زمانے میں جب قادیانیوں کا طوطی بولتا تھا، حضرت شیخ بنوریؒ نے متعدد ممالک اسلامیہ کو خطوط لکھے۔ افسوس! کہ وہ سب محفوظ نہیں۔ ماہنامہ بینات بنوریؒ نمبر سے دو خطوط درج ذیل ہیں، شاہ کو تحریر کیا: 👇
’’سیدی ومولائی! ہر شخص اپنی طاقت وقدرت کے بقدر اللہ تعالیٰ کے ہاں جوابدہ ہے۔ آنجناب کو اللہ تعالیٰ نے وہ تمام وسائل عطا کر رکھے ہیں، جن کے ذریعہ آپ ساری روئے زمین پر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرسکتے ہیں۔ سیدی ومولائی! ہمیں علم ہے کہ جب ہمارے وطن عزیز پاکستان اور ظالم ہندوستان 👇
کے درمیان جنگ برپا ہوئی تو آنجناب نے پاکستان کی ہرممکن مادی واخلاقی مدد فرمائی، جو سربراہانِ اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک قابل نمونہ ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ آپ کے اس کارنامہ پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ بجالائیں۔ سیدی ومولائی! آج پاکستان قادیانیت کی جانب سے عظیم خطرہ میں ہے👇