کے بارے کہا تھا لکھنے کے لئیے،
میں کوئ مفتی تو ہوں نہیں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جو کوئ دینی معاملہ ہو وہ بغیر پڑھے اور تصدیق کئیے میں ٹیوٹ نہیں کرتا،
تب بھی یہی جواب دیا کہ پڑھ کر بتاؤں گا
پڑھا بھی اور دو مفتی صاحبان سے پوچھا بھی،
جاری ہے 👇
پرانے زمانے میں جب لوگ باتھ روم بناتے تو
اس کے درمیان اک مخصوص ایریا باقی سطح
سے اونچا رکھا جاتا تھا،
وہ غسل جنابت کے لئیے ہوتا تھا جو کہ میں
حدیث کاپی کروں گا واضح ہو جائے گا،
تو غسل جنابت اس صورت میں فرض ہو جاتا ہے جب عورت
جاری ہے 👇
چاہے دخول پورا ہوا یا نہیں،
غسل کرنے کا طریقہ یہ ہی کہ سب سے پہلے
جسم کا وہ حصہ دھویا جائے جہاں گندگی لگی اور لگنے کا امکان ہوتا ہے،
بہتر ہے زیر ناف سارا حصہ پاؤں تک دھو لیا جائے،
پھر جیسے نماز کے لئیے وضو کرتے ہیں
ویسے وضو کیا جائے،
جاری ہے 👇
اسی وجہ سے پرانے باتھ روم میں لوگ درمیان میں جگہ اونچی رکھتے تھے،
پھر پاؤں دھو لیں اور سر پر پانی تین بار ڈالیں،
پھر دائیں کندھے پر تین بار
پھر بائیں کندھے پر تین بار
اسی طرح باقی جسم پر پانی
جاری ہے 👇
اگر اسی وقت نہا نہیں سکتے تو گندگی دھونے کے بعد وضو کر لیں پھر سوئیں،
جانتے ہیں ایسا کیوں ؟
کیونکہ اگر اسی حالت میں موت ہو جائے
تو مردے کے گلے اور ناک تک غسل میت میں
پانی نہیں جاتا اور وہ ناپاک رہتا ہے،
تو وضو میں یہ دو چیزیں
جاری ہے 👇
تو وضو کر کے سوئیں
باقی کچھ حدیث مبارکہ پیش ہیں،
سنن دارمي
67.غسل جنابت کا بیان
حدیث نمبر: 770
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے (غسل) کے لئے پانی رکھا
جاری ہے👇
پھر شرمگاہ کو دھویا،
اس کے بعد اس ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر رگڑا،
پھر کلی کی،
ناک جھاڑی،
چہرے اور ہاتھ کہنی تک دھوئے،
اور اپنے سر و جسد مبارک کے اوپر پانی ڈالا، غسل سے فارغ ہوئے تو دور ہٹ کر دونوں پیر دھوئے،
میں نے آپ کو چادر پیش کی
جاری ہے 👇
[بخاري 249] ، [مسلم 317] ، [أبوداؤد 245] ، [ترمذي 103] ، [نسائي 253] ، [ابن ماجه 467] ، [أبويعلی 7101] ، [ابن حبان 1190]
ایک اور حدیث مبارکہ
سنن ترمذي
76. باب: غسل جنابت کا بیان۔
حدیث نمبر: 104
جاری ہے 👇
فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
جب غسل جنابت
کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے،
پھر شرمگاہ دھوتے،
اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر بال پانی سے بھگوتے،
پھر اپنے سر پر تین لپ
جاری ہے 👇
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسی کو اہل علم نے غسل جنابت میں اختیار کیا ہے کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے،
پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے،
پھر اپنے پورے بدن پر پانی بہائے،
پھر اپنے پاؤں دھوئے،
اہل علم کا اسی پر عمل ہے،
جاری ہے 👇
جاری ہے 👇
کتاب: غسل کے احکام و مسائل
حدیث نمبر: 272
ہم سے عبدان نے بیان کیا،
انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا،
انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا،
انہوں نے اپنے والد کے حوالہ سے
کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
جاری ہے 👇
جنابت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے
ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کی
طرح وضو کرتے،
پھر غسل کرتے،
پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے اور جب یقین کر لیتے کہ جسم تر ہو گیا ہے،
تو تین مرتبہ اس پر پانی بہاتے،
پھر تمام بدن کا غسل کرتے۔۔
