تو
بندوبست بھی پھر اللّٰه ہی کرتا ہے،
ایک نیک اور مالدار شخص کا قصہ،
ایک دن میرا دل بہت بے چین ہوا،
بہت کوشش کہ دل بہل جائے
پریشانی کا بوجھ اترے
اور جو عجیب سے بے چینی ہے کم ہو جائے،
مگر
وہ تو بڑھتی ہی جا رہی تھی،
تنگ آکر گھر سے باہر نکل گیا،
جاری ہے 👇
نکل آیا،
اتنے میں مغرب کی آزان کانوں میں پڑی
اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی تو دور اک مسجد کے
مینار نظر آئے اور آزان بھی وہیں سے آرہی
تھی،
اپنا رخ اسی مینار کی طرف کر لیا
اور مسجد پہنچ گیا،
وضو کیا
اور دو رکعت نفل مسجد کے ادا کئیے،
جاری ہے 👇
اور دو رکعت سنت ادا کی مگر
دل کی بے چینی گئ نہیں،
سوچا کچھ رکعت اور ادا کرتا ہوں ممکن
دل کو سکون مل جائے،
اٹھا اور مسجد کے اک کونے میں چلا گیا
اس دوران مسجد کی بڑی لائٹیں بند ہو گئیں
دوران نفل کانوں میں کسی کی سسکی
کی آواز پڑی،
اپنی رکعت مکمل کی
جاری ہے 👇
کم روشنی والی جگہ پر اک صاحب کو دیکھا
رو رو کر گڑ گڑا کر دعا مانگ رہے ہیں،
میں تجسس کے مارے چپکے سے ان کے
پیچھے چلا آیا کہ سنوں کیا دعا مانگ رہا ہے،
تو وہ کسی قرضہ کے بارے گڑ گڑا رہے تھے،
میں نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا
وہ چونکے
جاری ہے 👇
مصافحہ ہوا،
میں نے قرضہ کے بارے پوچھا
وہ کچھ شرمائے
میں نے کہا
آپ کی آواز کانوں تک پہنچ گئ ہے
پتہ چل گیا
بتانے لگے کہ کچھ قرض ہے زمہ اور
ادا کرنے کی آج آخری تاریخ ہے اپنے مالک سے
وہی مانگ رہا تھا،
میں نے پوچھا کتنا قرضہ ہے ؟
جاری ہے 👇
میں نے پیسے نکال کر ان کو دے دئیے،
ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے
اور میرے دل کی بے چینی اک دم سکون
میں تبدیل ہو گی،
میں نے اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کر پیش کیا
اور کہا آئیندہ بھی جب ضرورت ہو
مجھے فون کر لیں،
جاری ہے 👇
اُنھوں نے بغیر دیکھے میرا کارڑ واپس کر دیا
اور بولے
نہ جناب یہ نہیں
میرے پاس اُس کا پتہ موجود ہے
جس نے آج آپ کو اتنی دور سے بیجھا ہے،
میں کسی اور کا پتہ جیب میں رکھ
کر اُس کو ناراض نہیں کر سکتا،
سبحان اللّٰه وبحمدہ سبحان اللّٰه العظیم
