کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زنا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی۔
یہاں جب قرآن کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ جہاں صرف اللہ کے حق کا معاملہ ہوتا ہے تو اللہ نرمی کا رویہ اپناتا ہے اور جہاں بندے کا حق اللہ کے حق سے مل جائے
جاری ہے 👇
دو افراد کے زنا کے متاثرین دو فرد،
دو خاندان،
دو قومیں،
دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے،
زنا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے،
اور ہر پتھر جسم پر ایک زخم بنائے گا،
جاری ہے 👇
حکمت یہ ہے کہ جیسے اس گناہ کے
عمل میں اس کے جسم کے ہر ٹشو (tissue) نے لطف اٹھایا تو اب موت بھی
لمحہ لمحہ اور پل پل کی اذیت کے
بعد آئے،
یعنی زانی جب تک اپنے خون
میں غسل نہ کرے،
اس کی توبہ قبول نہ ہوگی،
مگر کیا اللہ پاک اتنا بے انصاف ہے
جاری ہے 👇
کہ ایک گناہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی
مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب
یا طریقہ نہ سکھایا؟
ایسا نہیں ہے،
اللہ تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گناہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے،
جاری ہے 👇
آئیں کچھ کا جائزہ لیں
پہلا حکم:
استیذان
یعنی اجازت طلب کرنا
کسی کے گھر یا کمرے میں بلا اجازت مت جاؤ،
بھائی بہن کے،
باپ بیٹی کے،
ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے
پہلے اجازت طلب کریں،
شریعت اس طرح ہمیں سکھا رہی ہے،
جاری ہے 👇
گھر میں دو حصے رکھیں
1 پرائیویٹ رومز یعنی ذاتی
2 کامن رومز یعنی عام
پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت لیکر جائیں اور اجنبی بالکل مت جائیں
تاکہ ایک دوسرے کو نامناسب حالت میں نہ دیکھ لیں،
ڈرائنگ روم وغیرہ میں
جاری ہے👇
عورتیں بالکل مت سرو کریں
چاہے کزنز ہوں یا سسرالی رشتہ دار،
مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کزنز کھلم کھلا فی میل کزنز کے کمروں میں جاتے ہیں،
چھیڑ خانی ہو رہی ہوتی ہے،
ہنسی مذاق اور آؤٹنگ چل رہی ہوتی ہے
اور اسی دوران شیطان اپنا وار کر دیتا ہے،
جاری ہے 👇
اور عورت زیردست ہوتی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت پاک رہنا چاہے اور مرد اس کو پاک نہ رہنے دے؟
دوسرا حکم
نظر کی حفاظت نظروں کو نیچا رکھیں
اور اپنی حیا کی حفاظت کریں،
یہ حکم مرد عورت دونوں کے لئے ہے،
عورتوں کی شادی بیاہ اور مردوں کی بازاروں
جاری ہے👇
کوئی مہمان آئے تو عورتیں جھانکتی
تاکتی ہیں،
باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا اور Serving ہو رہی ہوتی ہے،
جبکہ شریعت تو دیکھنے سے
بھی منع کر رہی ہے،
مردوں،
عورتوں کی یہ عادت شادی بیاہ میں کھل کر سامنے آتی ہے جب بے حیائی اپنے عروج پر،
جاری ہے 👇
دو اندھے اگر آمنے سامنے بیٹھے ہیں
تو انکو نہیں معلوم کہ سامنے والا کیسا ہے، کتنی عمر کا ہے؟
مگر شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنےسے منع کرتی ہے،
عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ،
جاری ہے👇
صرف پردہ کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ نظر
بھی جھکانی ہے،
امام غزالی فرماتے ہیں،
نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے،
یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے
اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے،
تیسرا حکم
زینت کو چھپانا
جاری ہے 👇
عورت کے اعضائے زینت نماز میں
چھپانے والے اعضاء ہیں۔
کوشش کریں کہ اس فتنہ کے
دور میں محرم مردوں سے بھی زینت والے اعضاء چھپائے جائیں۔
اپنے سینے اور گریبان کو خصوصاً ڈھانپیے۔
مرنے کے بعد اللہ تعالٰی چار کپڑوں میں عورت کو ڈھانک کر قبر میں
جاری ہے 👇
عورتوں نے زندگی میں دو کپڑوں کا لباس معمول بنا لیا ہے کہ اب تو بوتیکس بھی دوپٹے آرڈر پہ تیار کرتی ہیں،
کیونکہ آج عورتیں تین کپڑے بھی پہننے پر راضی نہیں،
مسلمان عورت کا غیر محرم عورت اور غیر مسلم عورت سے بھی نماز والا پردہ ہے،
یعنی سوائے چہرے،
جاری ہے 👇
مگر یہاں تو ویکس بھی کروائی جاتی ہے اور فیشلز بھی
مرد حضرات پبلک یا گھر میں شارٹس نہیں پہن سکتے،
گھر کے مرد حیا دار ہوں گے تو گھر کی عورتیں بھی اپنی حیا کو مقدم رکھیں گی،
ورنہ سب سے پہلے بگاڑ گھروں کے ماحول سے شروع ہوتا ہے،
جاری ہے👇
یاد رکھیں
جب عورت نے اپنے ستر کا خیال نہ
رکھا تو محرم محرم کا دشمن بن گیا
جب اللہ کی مقرر کردہ حدود و قیود کا خیال نہیں رکھا جائے گا
تو باپ بیٹیوں کو خود پہ حلال کر لیں گے
اور بھائی بہنوں کو خود
جاری ہے👇
اور بہنوئ سالیوں کو اور سالیاں بہنویوں کو حلال کر لیں گی،
خدارا اپنے گھروں سے فسق کا ماحول ختم کریں،
چوتھا حکم
بیوہ اور مطلقہ کا نکاح
ان کے نکاح کا مقصد معاشرے کو پاک رکھنا ہے،
کیونکہ بیوہ یا مطلقہ ازدواجی زندگی کے دور سے گزر چکی ہوتی ہے اور ان کے
جاری ہے 👇
سبب بن سکتا ہے،
یہ حکم اس مرد کے لئیے بھی ہے جس کی بیوی مر جائے یا وہ طلاق دے دے،
ہمارے معاشرے میں بیوہ یا مطلقہ کی شادی پہ ایسے ایسے
بے شرم تبصرے اور اعتراضات
کیے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ،
پانچواں حکم
نکاح میں تاخیر نہ کی جائے
جاری ہے👇
جو پاک رہ کر صرف بیوی سے
سکون حاصل کرنا چاہے،
ورنہ معاشرہ بھرا ہوا ہےایسے غلیظ لوگوں سے جو شادی کو بوجھ
سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں اس
بوجھ کو گلے میں ڈالے بنا بھی
سب کچھ مل رہا ہوتا ہے،
اللہ تعالٰی نے اجازت دی ہے کہ ایک سے خواہش پوری نہیں ہوتی
جاری ہے👇
تین کرلو،
چار کرلو،
اور اس میں بیوی کی اجازت
بھی شرط نہیں،
ہاں بیوی کے حقوق پورے کرنا فرض ہے
مگر کیا کریں آج کے اخلاقی طور پر
دیوالیہ معاشرے کا کہ جو گرل فرینڈز
تو دس دس برداشت کر لیتا ہے
مگر بیوی ایک سے دو نہیں،
ہم گھروں میں کیبل لگوا کر،
جاری ہے 👇
کو ایجوکیشن میں پڑھا کر پھر
اپنے بچوں سے رابعہ بصری اور
جنید بغدادی بننے کی توقع کریں تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں،
دو جوان لڑکا لڑکی جب سکول کالج یونیورسٹی کے آزاد اور
" روشن خیال "
ماحول میں پڑھیں گے تو
انکو تعلق بنانے سے کون روکے گا ؟
جاری ہے 👇
مائیں سٹار پلس کے ڈراموں
اور واٹس ایپ اور فیس بک
اور کپڑوں کی ڈیزائننگ فیشن میں
مگن رہتی ہوں،
اولاد کی سرگرمیوں اور ان کی
صحبت سے ناواقف ہوں تو جیسی
خبریں آئے دن اخبارات کی
زینت بنتی ہیں وہ بعید نہیں،
اب تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب
جاری ہے 👇
اس کا تو یہ مطلب بھی بنتا ہے کہ جب نظروں میں حیا ہو تو پھر کپڑوں کی بھی ضرورت نہیں۔
یہ اللہ کا اپنے محبوب کی امت پہ خاص احسان ہے کہ اس نے ہم میں پچھلی قوموں کے تمام گناہ دیکھ کر بھی ہمیں غرق نہیں کیا،
ورنہ بنی اسرائیل کے لوگ تو
جاری ہے 👇
توبہ کے دروازے بند نہیں اور نہ ہی
رب کی رحمت مدھم ہو گئ ہے،
جب اللہ کی محبت اور ایمان کی روشنی دل میں آجاتی ہے تو یہ
“ نورٌ علی نورٌ ”
ہے اب ایسے دل میں بےحیائی
داخل نہیں ہو سکتی،
ایمان کا نور لینا ہے؟
تو سٹڈی کریں کہ صحابہ کرام
جاری ہے 👇
قرآن مجید اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت صحابہ کو پڑھیں،
سمجھیں اور اس پر عمل کریں
اور دین دار نیک صالح لوگوں کی صحبت اختیار کریں،
سچی توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اختیار کریں تو
ان شاء اللہ تعالیٰ دلوں کی بے چینی
سجدوں کے سرور
جاری ہے👇
اور آج میڈیا اور معاشرہ ہمارے ایمان دین اور آخرت کی کامیابی کو بڑی تیزی سے نگلتا جا رہا ہے،
آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس
رب العزت کے غلام ہیں یا اپنے نفس کے۔
اگر آخرت کی فلاح چاہیے تو اللہ تعالیٰ کی غلامی میں پناہ لے لیں۔
لبرل تھوڑا دور رہیں اس تھریڈ سے
کے لئیے ہے
اور کنوارے کے لئیے 100 کوڑے یا دُرے ہیں
لیکن اس کی تفسیر علماء ہی بیان کر سکتے ہیں۔
سعودیہ میں تو کنوارے کو بھی موت کی سزا
دیکھی ہے ہم نے زنا کی
