My Authors
Read all threads
مدینہ کی گلیوں میں منادی کرنے والے کی صدا گونجتی ھے،
"پردے کا حکم"
نازل ہو گیا ھے،
بازار میں موجود عورتیں،
دیواروں کیطرف رخ پھیر لیتی ہیں،
کچھ بالوں سے خود کو چھپاتی ہیں،
کہ اب تو چادر کے بغیر گھر نہیں جائیں گی،
بچوں کو دوڑاتی ہیں کہ گھر سے چادر لے آؤ،
جاری ہے 👇
مرد حضرات منادی سنتے ہیں،
گھروں کو لپک کر گھر کی
خواتین کو یہ حکم سناتے ہیں،
ان کو تاکید سے خود کو ڈھانپنے کا کہتے ہیں،
مگر کوئی بی بی سوال نہیں کرتی کہ
پردہ کس چیز سے کرنا ھے ؟
چادر موٹی ہو یا باریک ؟
آنکھیں کھلی ہوں یا چھپی ؟
اور بس،
خود کو ایسے چھپا لیتی ہیں،
جاری ہے 👇
جیسے کہ حق تھا،
اگلے دن فجر کی نماز میں کوئی بھی خاتون بغیر پردے کے نظر نہیں آتی،

اور منظر تبدیل ہوتا ہے،

شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے،
سکیورٹی گارڈ گردن کو خم دیکر
ڈھیلے سے انداز میں سامنے پردے میں کھڑی لڑکی سے کہتا ہے،
یہ آپ کی تصویر تو نہیں ہے ؟
مجھے کیسے پتہ چلے
جاری ہے👇
گا کہ یہ آپ ہی ہیں؟
لڑکی منت کرتی ھے کہ کسی
خاتون سے کہہ دیجیے کہ
وہ میری شکل دیکھ لے،
مگر ہوس کا مارا گارڈ اپنی اس ذرا سی اتھارٹی کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے،
آپ کو چیک کرنا میری ذمہ داری ھے،
اور پھر، حوا کی اس باحیا بیٹی کے پاس،
اپنا نقاب سرکا دینے کے علاوہ کوئی
جاری ہے👇
چارہ نہیں رہتا،
ذرا سوچیے تو سہی ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟
آدم ؑکے بیٹے اور محمد ِؐعربی کی امت کے مرد کی غیرت کیا ہوئی ؟
کہ آج وہ خود بنتِ حوا کے پردے کے اترنے کا منتظر ھے
امت کی بیٹیوں میں سے چند نے سوال کیے بغیر حیا کو شعار بنایا تو چاروں جانب کانٹے کھڑے کیوں دیکھے؟
جاری ہے 👇
اس زہر کو اپنے اندر انڈیلتے رہنے پر
احتجاج کی سکت ہم میں کیوں باقی نہ رہی؟
یہ زہر ایک دم ہمارے وجود کا حصہ نہیں بنایا گیا
ہمیں وقتا فوقتا تھوڑی تھوڑی مقدار میں اس کی خوراک دی جاتی رہی،
یہ عمل غیر محسوس انداز میں جاری رہا کہ
کبھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کیضرورت ہی محسوس
جاری ہے👇
نہ کی گئ،
سر پر دوپٹا اوڑھے خبریں سناتی
نیوز کاسٹرز کا دوپٹہ سرکتے سرکتے کندھوں تک جا پہنچا،
اور ہم نے یہ گولی نگل لی،
ڈراموں میں کام کرتی خواتین کی آستین گھٹتی گھٹتی کندھوں تک جا پہنچی،
اور ہم نے یہ گولی بھی نگل لی،
چلتے چلتے یہ زہر ہمارے گھر کی دہلیز پار کر گیا،
جاری ہے 👇
اور ہماری باحیا بہنوں اور بیٹیوں سے حجاب
اتار پھینکنے کا تقاضا کرنے لگے،
بےحسی کے عالم میں آدم کےبیٹے نے اردگرد نظر دوڑائی تو یہ زہر ہر گھر میں فیشن اور ماڈرنزم کا خوبصورت لبادہ اوڑھے نظر آیا،
’’اس دور میں جینے کا یہی تقاضا ہے‘‘
کے نسخے نے اسے اس گولی
کو نگلنے پر بھی
جاری ہے 👇
آمادہ کر لیا،
اور نوبت یہاں تک پہنچی،
کہ آج جب کوئی سوال نہ کرنے والی اپنے حجاب کی تقدیم کا سوال کر بیٹھے،
تو ایک ساتھ کئی انجیکشن اس کے جسم میں بھی اتار دیے جاتے ہیں،
’’منع بھی کیا تھا تمھیں کہ اس ٹینٹ جیسے پردے میں نہ چھپاؤ خود کو‘‘
’’یہ تو سب کے ساتھ ہو رہا ہے‘‘
جاری ہے 👇
لوگوں کے ساتھ اس سے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں،
’’تم کیا کر سکتی ہو ؟
اس حال میں کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا‘
’’آئندہ کے لیے اس پردے سے جان چھڑا لو،
کہ اب تو یہی ذریعہ ہے بچاؤ کا،

اور پھر وہ سوال نہ کرنے والی،
حجاب کے اترنے پر بھی سوال کرنے کی جرات کھو بیٹھتی ہے،
جاری ہے 👇
نہ چاہتے ہوئے بھی یا تو حجاب کو اتار پھینکتی ہے یا ہمیشہ کے لئیے اپنا اعتماد کھو دیتی ہے،
سارے کا سارا ملبہ نسخہ بنانے والے پر ڈالنا عدل نہ ہوگا،
دوا کو اپنے اندر انڈیلنے والا کیا آنکھیں اور دل نہ رکھتا تھا ؟
رکھتا ہے دل،
مگر ضمیر کو سلا بیٹھا ہے،
جاری ہے 👇
گھر سے باہر حوا کی کوئ بیٹی نظر آئے تو،

سورۃ النور کا سبق بھول جاتا ہےجسمیں اسکو پہلے نظر جھکانے کا حکم دیا گیا ہے،

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أبْصَارِھِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَھُمْ ۚ ذَٰلِكَ أزْكَىٰ لَھُمْ ۗ إنَّ اللہ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
جاری ہے 👇
’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی
نظریں نیچی رکھا کریں اور
اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں،
یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے،

اس حکم کا ادراک اسے اس وقت ہوتا ہے جب ویسی ہی ایک نظر اس کے اپنے گھر تک کسی کے تعاقب میں آ پہنچتی
جاری ہے👇
مگر افسوس کہ تب بھی مصلحت
آ کر اس کے پاؤں پکڑ لیتی ہے اور
وہ سسکتی بلکتی باکرہ کو اس
مصلحت کا انجیکشن لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے،کسی سوال نہ کرنے والی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ سوتی قوم کی غیرت کو جگانے کے لیے خود اٹھ کھڑی ہو تو انگلیاں اسی کے کردار پر اٹھانے
جاری ہے👇
کا رواج بھی اسی قوم کا طرہ امتیاز ہے،
احتجاج کرنے والے کو عبرت کا نشان بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں
آواز بلند ہونے پر دبا دیے جانے کے ڈر سے خاموشی میں ہی عافیت جاننے سے انقلاب آیا کرتے ہیں نہ زندگی کے آثار باقی رہتے ہیں،
یاد رکھیے کہ غیرت کا جنازہ اٹھ جانا
حیا کی موت کی
جاری ہے👇
ہی طرف ایک قدم ہے،

اس سے اگلا سبق تو ہمیں
اکثر یاد دلایا جاتا ہی ہے،

’حیا اور ایمان ہمیشہ اکھٹے رہتے ہیں،

جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اٹھالیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔‘‘
(حدیثِ نبویؐ)
Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh.

Enjoying this thread?

Keep Current with Amer Sohail Choudhary

Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

Twitter may remove this content at anytime, convert it as a PDF, save and print for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video

1) Follow Thread Reader App on Twitter so you can easily mention us!

2) Go to a Twitter thread (series of Tweets by the same owner) and mention us with a keyword "unroll" @threadreaderapp unroll

You can practice here first or read more on our help page!

Follow Us on Twitter!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!