زندگی برباد کر دیتی ہیں
کوئی بندہ جب اللہ تعالیٰ سے غافل ہوتا ہے
یا
کوئی گناہ کرتا ہے تو اس پر بہت سی مصیبتیں آتی ہیں
مگر ان مصیبتوں میں سے آٹھ
بہت خطرناک ہیں
یہ آٹھ مصیبتیں انسان کی زندگی
برباد کر دیتی ہیں
اور اس کی آخرت کو بھی خطرے میں
جاری ہے 👇
اس لئے ہمارے دین میں بتایا گیا کہ
ہر دن صبح اور شام ان آٹھ مصیبتوں سے بچنے کی دعاء مانگا کریں
عجیب بات یہ ہے کہ
شیطان ان آٹھ مصیبتوں کے تیر ہر صبح
اور ہر شام ہم پر چھوڑتا ہے
پس
جو انسان صبح شام اللہ تعالیٰ کی
پناہ میں آ جاتا ہے
وہ بچ جاتا ہے
جاری ہے 👇
تیروں میں سے کسی ایک یا زیادہ
تیروں کا شکار ہو جاتا ہے،
وہ آٹھ مصیبتیں یہ ہیں
(1) * اَلْھَمِّ * یعنی فکر میں مبتلا ہونا
(2) * اَلْحَزَنِ * یعنی غم میں جکڑا جانا
(3) * اَلْعَجَزِ * یعنی کم ہمتی، بے کاری محرومی
جاری ہے 👇
(5) * اَلْجُبْنِ * یعنی بزدلی، خوف، دل کا کمزور ہو کر پگھلنا
( 6) * اَلْبُخْلِ * یعنی کنجوسی، حرص، لالچ اور مال کے بارے میں تنگ دلی
(7) * غَلَبَۃِ الدَّیْنِ * یعنی قرضے میں بری طرح پھنس جانا کہ نکلنے کی صورت ہی نظر نہ آئے
جاری ہے 👇
* قیمتی دعاء *
ان آٹھ مصیبتوں سے حفاظت کی دعا
کئی احادیث مبارکہ میں ہے
صحیح بخاری میں تو یہاں تک آیا ہے کہ
رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ یہ دعاء مانگتے تھے
جاری ہے 👇
اندازہ لگا لیں
حضور اقدس ﷺ معصوم تھے
محفوظ تھے اور شیطان کے ہر شر سے پاک تھے
مگر پھر بھی اس دعا کی کثرت فرماتے
ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ
حضور اقدس ﷺ دن کے وقت مسجد تشریف لے گئے تو وہاں اپنے صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو بیٹھا پایا
جاری ہے👇
نماز کا تو وقت نہیں پھر مسجد میں کیسے بیٹھے ہو ؟
عرض کیا
تفکرات نے گھیر رکھا ہے
اور قرضے میں پھنس چکا ہوں
فرمایا
یہ کلمات صبح شام پڑھا کرو
انہوں نے اہتمام فرمایا تو تفکرات بھی
دور ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے سارا قرضہ
بھی اُتار دیا
جاری ہے 👇
کچھ فرق کے ساتھ کئی احادیث میں آئی ہے
صحابہ کرام یہ دعا ایک دوسرے کو قرآن مجید کی آیات کی طرح اہتمام سے سکھاتے تھے
دعا کے دو صیغے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں
جو آسان لگے اُسے اپنا معمول بنا لیں
جاری ہے 👇
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ،
وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ،
وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ،
وَضَلَعِ الدَّيْنِ،
وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
جاری ہے 👇
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ،
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ،
وَقَهْرِ الرِّجَالِ
جاری ہے 👇
اختصار کے ساتھ سمجھ لیں
* اَلْھَمِّ * تفکرات کو کہتے ہیں
آگے کی فکریں
پریشانیاں
فضول پریشان کرنے والے منصوبے اور خیالات
* اَلْحُزْنِ * غم کو کہتے ہیں
ماضی کے واقعات کا صدمہ اور غم ایک دم اُبھر کر دل پر چھا جائے
حالانکہ حدیث شریف میں آیا ہے
جاری ہے👇
تک نہیں پا سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ
ہو جائے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اس سے رہ نہیں سکتا تھا
اور جو کچھ اس سے رہ گیا وہ اسے پہنچ نہیں سکتا تھا۔(مسند احمد)
یعنی جو نعمت مل گئی وہ ملنا ہی تھی اس سے زیادہ نہیں مل سکتی تھی
جاری ہے 👇
بچا نہیں جا سکتا تھا
اور جو کچھ نہیں ملا وہ نہیں ملنا تھا خواہ میں کچھ بھی کر لیتا
مطلب یہ کہ اللہ کی تقدیر پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہونا
یہ غم کا علاج ہے،
* اَلْعَجْزِ * کا مطلب اچھے کاموں اور اچھی نعمتوں کو پانے کی
جاری ہے 👇
بھی آ جاتی ہے،
* اَلْکَسَلِ * کا مطلب سستی یعنی انسان کے ارادے کا کمزور ہو جانا
میں نہیں کر سکتا میں نہیں کرتا
* اَلْجُبْنِ * بزدلی، موت کا ڈر، اپنی جان کو بچانے کی ہر وقت فکر
اللہ تعالیٰ نے جان دی کہ اس کو لگا کر جنت پاؤ مگر ہم ہر وقت
جاری ہے 👇
سوچتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے جان دی تاکہ ہم اسے لگا کر
دین کو غلبہ دلائیں، اسلامی حرمتوں کی حفاظت کریں
امت مسلمہ کو عزت دلائیں
مگر ہم جان بچانے کے لئے ہر ذلت برداشت کرنے پر تیار ہو جائیں
اسے ’’ جبن ‘‘ کہتے ہیں
جاری ہے 👇
مال جمع کرنے اور گننے کی حرص
میں مبتلا ہو کر
مال کا نوکر اور ملازم بن جانا
اور مال کے شرعی اور اخلاقی حقوق ادا نہ کرنا اس کو بخل کہتے ہیں
جاری ہے 👇
فضول قرضے لینے کی عادت پڑ جانا
قرضوں کے بوجھ تلے دب جانا
* غَلَبَۃِ الرِّجَالِ یا قَہْرِالرِّجَالِ *
لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ،
رسوا ، مغلوب اور مقہور ہونا
دعا کا اہتمام کریں اللّٰه ان آٹھ آفتوں
سے ہمیشہ محفوظ رکھے گا
