پہلی جنگ عظیم کے دوران شام پر ٹڈی دل
نے حملہ کیا اور باغات اور فصلوں کو تباہ کر دیا جس کی وجہ سے قحط آ گیا اور ایک خلقت موت کے گھاٹ اتر گئی۔
اس دوران غوطہ کے
گاؤں داریا
میں ایک شخص کا باغ بالکل محفوظ اور تروتازہ رہا،
جاری ہے 👇
کہ
اس شخص کے پاس ٹڈی دل کو مارنے کی دوا موجود تھی لیکن اس نے کسی کو اس کا نہیں بتایا،
اس پر حکومت نے ایک فوجی دستہ اس کو سزا دینے کے لئے بھیجا۔
افسر نے اس شخص پر کوڑا اٹھایا اور پوچھنے لگا کہ
جاری ہے 👇
وہ بولا کہ جو دوا میں استعمال کرتا ہوں وہ سب کو معلوم ہے لیکن کوئی بھی اسے استعمال نہیں کرنا چاہتا۔
افسر نے پوچھا کہ وہ دوا کیا ہے؟
اس نے جواب دیا کہ صدقہ اور زکاۃ۔
افسر کہنے لگا کہ کیا ٹڈی دل زکاۃ دینے
جاری ہے 👇
وہ شخص کہنے لگا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ چنانچہ فوجی ٹڈیاں پکڑ کر لاتے اور اس کے باغ میں چھوڑتے تھے اور وہ وہاں سے بھاگ جاتی تھیں،
وہ سب بہت حیران ہوئے
افسر بولا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟
وہ بولا
جاری ہے 👇
حَصِّنُوْا أَمْوَالَکُمْ بِالزَّکوٰۃِ وَدَاوُوْا مَرْضَاکُمْ بَالصَّدَقَۃِ، وَاسْتَقْبِلُوْا أَمْوَاجَ الْبَلاَءِ بَالدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ
(رواہ أبو داود)
اپنے مال کی حفاظت کرو زکوٰۃ ادا کر کے،
اپنے مریضوں کا علاج کرو
جاری ہے 👇
دعا اور گریہ و زاری کے ذریعہ
اس سے معلوم ہوا
کہ
گویا زکوٰۃ مسلمانوں کے لیے انشورنس کے مانندہے
مسلمان اپنی زکوٰۃ دے کرگویا اللہ تعالیٰ کی انشورنس کمپنی میں اپنا بیمہ جاری کرا لیتا ہے
اب اس کے مال کی اللہ تعالیٰ کی جانب سے حفاظت ہوگی
جاری ہے 👇
اٹھارہ یا بیس سال پہلے
گوجرنوالہ کے علاقہ
کھیالی دروازہ میں اندر بیری والا چوک ہے
اس سے تھوڑا اور آگے دریوں اور کھیس
کی دکانیں تھی
وہاں آگ لگی
پہلی چار اور اگلی تین دکانیں جل گئیں
پانچویں کو آگ نے چھوا بھی نہیں
جس کی دکان تھی اس کو بلایا
جاری ہے 👇
تو وہ شخص سچ میں نام بھول گیا ان کا،
وہ ایک ہی بات بولتے
ویکھاں گا میرے مال نوں آگ کسراں
لگدی اے
میں پورا حصہ دینا واں اوپر والے دا
اور قدرت ان کی دکان سے آگے تین جل گئیں ان کی دکان کو آگ نے چھوا تک نہیں۔۔
