اور
تلوں والا کلچہ
کھانے کو جی چاہ رہا ہے
ابا جی نے سالوں بعد فرمائش کی
ابا مجھے پیار سے بِلا کی جگہ بِلو کہتے ہیں
میری خوشی کی انتہا نہ رہی
فجر کی نماز ادا کی جوگر پہنے
مارنگ واک کے بعد
چکڑ چھولے والے کے اڈے پر جا دھمکا
ابھی وہ اپنی ریڑھی سجا رھا تھا
جاری ہے👇
وہ بولا
باؤ جی اتنی صبح ؟
آپ جانتے چنے 7 بجے سے پہلے نہیں ملیں گے
میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور بے قراری سے انتظار کرنے لگا
چنے والے سے ھر دو منٹ بعد دریافت کرتا بھائی اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا ؟
وہ بس
تھوڑی دیر باؤ جی
کہ کر تسلی دے دیتا
جاری ہے 👇
بار بار موبائل پر وقت دیکھتا
چنے والا جو مجھے نوٹ کررھا تھا
میرے پاس آیا اور بولا
باؤ جی اپ پہلے بھی چنے لے جاتے
ھو پر اتنی سویرے اور اتنی بےقراری
پہلے نہیں دیکھی خیر تو ہے؟
میں تو جیسے سوال کا منتظر تھا
میں نے سر اٹھا کر فخر سے کہا
جاری ہے 👇
بجا لانا چاہتا ہوں
وہ بولا مرشد مطلب اپ کے پیر ؟
میں نے کہا ہاں میرے والد بزرگوار
وہ جھلا کر بولا
کبھی مرشد کہتے ھو کبھی والد ؟
چکر کیا کیا ؟
میں نے بتایا
میرا باپ ہی میرا مرشد ہے
وہ بولا اچھا تو
جاری ہے 👇
میں نے کہا نہیں بھائی میں اپنے والد اور والدہ کو سب سے بڑا پیر مانتا ھوں
ان کے ہوتے مجھے آج تک کسی مرشد کی ضرورت نہیں پڑی
ویسے بھی
قرآن کریم میں
اللّٰه فرماتا ہے کہ
تمھارے والدین تمھارے سب سے بڑے محسن ہیں
چنے والے کے چہرے سے صاف عیاں
تھا وہ میری
جاری ہے👇
بولا
وہ تو ٹھیک ھے پر
مرشد مرشد ھوتا ہے
اور ماں باپ ماں باپ
میرے مرشد کا
نور محل
ٹنڈو مستی خان میں ہے
وہ فرماتے ہیں کہ بنا مرشد راہ نہیں ملتی
میں نے کہا بلکل درست کہتے ہیں تمھارے مرشد
دیکھو مرشد"رشد"
سے ہے مرشد مطلب راستہ دکھانے والا
جاری ہے 👇
کون دکھا سکتا ھے ؟
وہ لاجواب ہوگیا
شاید اس کے اندر حق اور باطل
کی جنگ جاری تھی
پھر کچھ توقف کے بعد بولا
باؤ جی اگر کسی کا باپ شرابی ہو زانی
ہو یا رشوت لیتا ہو تو کیا اس کی اطاعت اور تکریم کرنی چاہئیے ؟
میں نے کہا ہاں
یہ اس کا عمل ہے کہ وہ کیا
جاری ہے 👇
جواب دہ ہے پر بچے پر فرض ھے
کہ وہ باپ کے ہر حکم کے آگے سر جھکائے
انکار کی صرف ایک صورت ہے
کہ باپ شرک کرنے کو کہے،
چنے والا حیران رہ گیا
بولا میرا باپ گاوں میں بھٹی کی بنی
کچی شراب پیتا ہے
گالم گلوچ کرتا ھے تو کیا مجھ پر اسکی فرمانبرداری
جاری ہے👇
میں نے کہا ہاں بلکہ فرض اولین ہے
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا باؤ جی آپ اپنے مرشد کے لئے چنے لے جانے کو اتنے بےقرار کیوں ھو ؟
میں نے کہا بھائی میرے ابا کبھی ہم سے کچھ نہیں مانگتے ہم 5 بھائی اماں ابا کے لب ہلنے کے منتظر رھتے ہیں
ابھی میرے چاروں بھائ سوئے پڑے
جاری ہے 👇
کوئی جاگ گیا اور ابا نے اس سے چکڑ چنے اور تلوں والے کلچے کی فرمائش کر دی اور وہ
مجھ سے پہلے ابا کے لئے چنے لے گیا تو میرے ہاتھ سے نیکی کا موقع نکل جائے گا
چنے والا حیرت سے تکنے لگا بولا باؤ جی آپ ایسا سوچتے ھو ؟
میں نے کہا سوچتے نہیں
جاری ہے 👇
ہیں کہ والدین کوئی بات منہ سے نکالیں
اور ہم ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں
ہم تو تاڑ میں رہتے ہیں،
چنے والے کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے
اسی اثناء میں ایک رکشہ آکر رکا چنے والے نے رکشہ میں سے ایک بڑا پتیلہ چوبی باٹے میں انڈیلا اور مجھے چنے
جاری ہے 👇
(ایک ابا ایک میری فیملی)
کے لئیے پیک کر کے دیئے میں
پیسے ادا کر کہ گاڑی کی طرف لپکا
چنے والا میرے پیچھے بھاگا
قریب آکر پوچھا باؤ جی
عیبی باپ کو مرشد کیسے مان لوں ؟
میں نے کہا
نہ مانو مرشد
پر اس کی فرمابرداری تو کرو
میں اس کا مسئلہ جان چکا تھا
میں نے کہا سوچو
جاری ہے 👇
میں فرق کرنا ھوتا تو وہ دونوں
اقسام کے والدین کے لئے الگ الگ
احکامات جاری کرتا
جب اللّٰه والدین کو ایک نظر سے دیکھتا ہے
اور ایک ہی طرح کے حقوق بیان کرتا ہے تو تم تفریق کرنے والے کون ہو ؟
اس نے سوال کیا
اگر میں اپنے ابا سے معافی
جاری ہے 👇
اور ہماری پردہ پوشی بھی کرتے ہیں
تمہیں زندہ پیر میسر ہیں جاو جاکر
اپنی عاقبت سنوار لو
اس سے پہلے کے وقت ہاتھ سے نکل جائے،
چنے والے نے اپنے ہلپر کو ریڑھی
جاری ہے 👇
منانے شیخو پورہ چلا گیا جاتے ہوئے وہ زاروقطار رو رہا تھا
اور مجھے کہہ کر گیا باؤ جی دعا کرنا
میرے پہچنے تک میرا بوڑھا سلامت رہے
میں وہاں سے نکلا راستے میں ایک تنور سے مرشد کے حکم کے مطابق تلوں والے سرخ کلچے لگوائے
تیزی سے گاڑی بھگاتا ھوا گھر
جاری ہے👇
کو انسولین لگائی اور چکڑ چنوں کے ساتھ کلچے دیئے ابا مزے سے چنے کھا رہے تھے
اور ہر نوالے پر دعا دے رہے تھے
"بِلو اللّٰه تیری مشک بھری رکھے"
میں اور میری بیوی دل ہی دل میں
آمین کہہ رہے تھے
مرشد کو چنے کھلانے اور دعائیں
سمیٹنے کے بعد جب میں
جاری ہے 👇
تو پتہ چلا کہ میرے حصے کے چنے
میرے بچے کھا کر سکول چلے گئے ہیں،
دور بچپن کی طرف دماغ دوڑا کہ
کس طرح ہم بھی ابا کے لائے چنے
کھا کر سکول چلے جاتے تھے،
اس ایک کہانی میں بہت ساری نصحیتیں
ہیں کون کون سی آپ کو سمجھ آتی پتہ نہیں،
