پہلے ہم نے کہا کہ یہ کرونا وبا صرف چین تک محدود ہے
پھر فرمایا کہ یہ حرام جانوروں کے کھانے سے ہوتی ہے
پھر دل کو تسلی دی کہ
اِس سے بوڑھے اور بیمار ہی
زیادہ متاثر ہوتے ہیں
بیماری یورپ پہنچی تو ہم نے
طعنے دیئے کہ بڑے ترقی یافتہ بنتے تھے اب بولو
جاری ہے 👇
کیسی رہی ؟
اُس کے بعد امریکہ کی باری آئی تو ہم نے پینترا بدلا کہ یہ ہم جنس پرستی کی سزا ہے
جب وبا ہمارے ملک میں پہنچی تو پہلا مریض دیکھنے کے لیے لوگ اسپتال کے باہر اکٹھے ہو گئے
جب پچاس مریض ہو گئے تو کہا
کہ
ہماری قوتِ مدافعت بہت بہتر ہے
ہزار مریض ہوئے تو ہم نے اذانیں
جاری ہے 👇
دینا شروع کر دیں
دس ہزار ہوئے تو ہم نے جڑی بوٹیوں سے علاج کا ڈھنڈورا پیٹا
پھر کسی نے کہا کہ یہ وائرس تو دراصل امریکہ اور یورپ کی شیطانی ہے
کوئی بل گیٹس کے لتے لینے لگا تو
کسی نے فائیوجی کھمبوں پر الزام دیا
کوئی بولا کہ یہ سب ڈرامہ بازی اور
میڈیا کی سنسنی خیزی ہے،
جاری ہے 👇
کچھ خرد مندوں نے یہ لطیف نکتہ
بھی سمجھایا کہ ملیریا سے ہر سال
اِس سے زیادہ بندے مرتے ہیں
کوئی نہیں پوچھتا
سو گھبرانے کی ضرورت نہیں
ساتھ ہی یہ غلغلہ بھی اٹھا کہ وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا
ایک موقع پر ہمارے بابے میدان میں آئے
اور جوش و خروش کرتے ہوئے پیشن گوئیاں کیں
جاری ہے 👇
کہ پندرہ سے بیس
دن میں یہ وائرس ختم ہو جائے گا
کسی نے کہا یہ مسجدیں بند کرنے کی سازش ہے
کسی فلسفی نے اِس میں انسانیت کی
بھلائی تلاش کی کہ وضو کرو پردہ کرو
اور کسی نے خوب سائنس کا مذاق اڑایا
حقیقت بڑی تلخ ہے اور وہ یہ ہے کہ تادمِ تحریر ملک میں کورونا وائرس کے ایک لاکھ
جاری ہے 👇
سے زیادہ مریض ہو چکے ہیں
اور پندرہ سو سے زائد اموات ہو چکی ہیں مغربی ممالک کو دیئے جانے والے طعنے
اب کم ہو گئے ہیں اور ایسی وڈیوز بھی سامنے نہیں
آ رہیں جن میں بندے یورپ کی گلیوں
میں اذانیں دیتے پھر رہے ہوں
حرام جانوروں کو بھی معافی مل
گئی ہے اور ہم جنس پرستوں کو بھی
جاری ہے 👇
فی الحال ہم نے در گزر کر دیا ہے
روحانی بابے چُپ سادھ کر بیٹھ گئے ہیں
اور اُن کے پیروکار سوچ رہے ہیں
کہ اب کون سی کوڑی لائیں جن سے اِن
'اہلِ نظر" بابوں کا دفاع کیا جا سکے
سازشی تھیوریاں بھی آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں
لوگوں کی تکلیف دور کرنے والے پیر بے بس ہیں
جاری ہے 👇
فائیو جی کے کھمبوں کو اب کوئی آگ نہیں لگا رہا
گرمی اپنے جوبن پر ہے
سورج سوا نیزے پر ہے اور وائرس ہے کہ پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے
سائنس کا مذاق اڑانے والے اب سرگوشیوں میں پوچھتے پھرتے ہیں کہ
بھائی وہ ویکسین کا کیا بنا ؟
بیماریوں کے سائے میں پل کر جوان ہونے والے
جاری ہے 👇
جنہیں اپنی امیونٹی پر بہت ناز تھا
اب دبک کر بیٹھ گئے ہیں
لہسن اور ادرک گھوٹ کے کھانے والے بھی بدمزا ہو رہے ہیں
اور قہوے پینے والے بھی تشویش کا شکار ہیں
جو مرد مجہول اِس وبا کو میڈیا کی"ہائپ" قرار دیتے تھے انہیں
چُپ سی لگ گئی ہے
کیونکہ اُن کا کوئی نہ کوئی جاننے والا
عزیز
جاری ہے👇
دوست
رشتہ دار
اس وائیرس سے نبرد آزما ہے
وہان سے پھیلنے والا وائرس
امریکہ
یورپ سے ہوتا ہوا اب ہمارے گھروں تک
آ پہنچا ہے
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ابھی کتنے لوگ رہتے ہیں آپ کے سوشل سرکل میں جن کے حساب سے ابھی بھی یہ بیماری نہیں سازش ہے؟
کیوں جان نہیں چھوٹ رہی ؟
جاری ہے 👇
ہماری نماز دکھاوے کی
ہماری امداد بغیر کیمرہ کے قبول نہیں ہوتی
گڑیوں سے کھیلنے والی معصوم بچیوں
کی عزت پامال پھر قتل
معصوم بچوں سے بدفعلی
بھائ بھائ کا گل کاٹ رہا ہے
حق مارنا فرض ہو گیا ہے
زنا چوری چھپے بھی اور ظاہر بھی
کون کون سا گناہ جو نہیں کر رہے ہم
پھر کیا امید رکھیں ؟؟؟
• • •
Missing some Tweet in this thread? You can try to
force a refresh
ہرنی جب بچہ دیتی ہے تو قدرت کے اصول فوراً لاگو ہو جاتے ہیں
اور
اُسے اُن اصولوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے
اور
جینا سیکھانا پڑتا ہے
سب سے پہلے تو وہ بچہ تب پیدا کرتی ہے جب ہریالی ہر سو ہوتی ہے
اور
گھاس اتنی اونچی
کہ
اُسکا بچہ اُس میں چھپ جائے تاکہ
جاری ہے 👇
وہ شکاریوں کی نظر میں نہ آئے
بچہ بھی قدرتی طور پہ پہلے دن ہی چھلانگیں لگانا شروع کردیتا ہے
بھاگنے کی پریکٹس ہونے لگتی ہے
کیونکہ
اُسکی بقاء کے لیے یہ لازمی ہے
اونچی گھاس اُسکو وہ وقت دیتی ہے
کہ
وہ آنے والے مشکل دور کے لیئے خود کو چند دنوں میں تیار کرلے
اور
ماں اُسے
جاری ہے 👇
چند دنوں میں ہی خطرات سے
آگاہی سیکھا دیتی ہے
ماں بچے کو اونچی گھاس کا استمال
جھنڈ سے جڑے رہنے کے فوائد
شکاری کی شکل
اور
اُسکی چالوں سے آگاہ کردیتی ہے
یوں وہ بچہ بڑا ہوکر بچ بچا کر
اپنی نسل کے بقاء کے لیئے
کردار ادا کرتی یا کرتا ہے
ایک دفعہ کسی ملک کے بادشاہ کو
اپنا ہاتھ دکھانے کی سوجی
اُس نے اپنے وزیر کو کہا
کسی اچھے نجومی کو بلایا جائے
نجومی آیا
بادشاہ کا ہاتھ دیکھا اور بولا
بادشاہ سلامت
آپ کی ہاتھ کی لکیریں بتاتی ہیں
کہ
آپ اپنے خاندان کو مرتا ہوا دیکھیں گے
جاری ہے 👇
بادشاہ کو بڑا غصہ آیا
فرمان جاری کیا
نجومی کی گردن کاٹ دی جائے
کیونکہ
اِس نے اتنا برا مستقبل بتایا
نجومی کی گردن اڑا دی گئ
پھر
بادشاہ نے وزیر کو کہا
کسی دوسرے نجومی کو بلایا جائے
دوسرا نجومی آیا
بادشاہ کا ہاتھ دیکھا
اور بولا
آپ اپنے خاندان کے جنازے دیکھیں گے
جاری ہے 👇
بادشاہ کو پھر غصہ آگیا
فرمان جاری کر دیا
نجومی کی گردن اڑا دی جائے
اُس نجومی کی بھی گردن اڑا دی گئ
اب دوبارہ وزیر کو حکم دیا
کوئ اور نجومی لاؤ
بڑی مشکل سے وزیر نے اور نجومی ڈھونڈا
اُس کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا
بادشاہ نے کہا سوچ سمجھ کر قسمت
کا حال بتانا
بیوی نے شوہر کو فون کیا
کہ
آکر مجھے امی کے گھر سے لے جائیں
شوہر..
ابھی دو دن پہلے ہی میں تمہیں
وہاں چھوڑ کر آیا ہوں
تھوڑے دن اور رہ لو..
بیوی..
نہیں بس آپ مجھے لے جائیں..
شوہر..
اکتائے ہوئے لہجے میں بولا
کہ
آخر وہاں مسئلہ کیا ہے تمہیں
جاری ہے 👇
بیوی..
دیکھیں جی..
میں نے امی ابو سے بھی لڑ کر دیکھ لیا
بھائی بھابھیوں سے بھی لڑ کر دیکھ لیا
حتیٰ کہ ہمسائیوں سے بھی لڑ کر دیکھ لیا
پر جو مزہ اور سکون
آپ سے لڑ جھگڑ کر آتا ہے
وہ مجھے یہاں نہیں آیا..
اس لیے مجھے لے جائیں
😂😂😂😂😂
جاری ہے 👇
اوپر تو ایک لطیفہ ہے بس
لیکن
کیا آپ نے غور کیا اِس میں ہے کیا ؟
عورت کا سب کچھ خاوند ہی ہوتا ہے
کیونکہ
اگر وہ اچھی ماں کا پرورش یافتہ ہے
تو وہ بیوی کی عزت کرے گا
پھر ایسے خاوند کے
ساتھ ہی زندگی کا سکون ہے
میاں بیوی کی لڑائ کا بھی الگ مزا ہے
لیکن
وہ لڑائ جس میں
یہ میرا تھریڈ دو سال پرانا ہے
دوبارہ اس وجہ سے ٹیوٹ کر رہا ہوں
کہ
جنہوں نے نہیں پڑھا وہ پڑھ لیں
آئیندہ فریش کےساتھ ساتھ
ایک آدھا پرانا بھی کر دیا کروں گا
ذیادہ تر میں خود لکھتا ہوں
لیکن
کوئ اچھی تحریر پڑھوں
تو وہ بھی شئیر کرتا ہوں
مقصد صرف یہ ہوتا اچھی بات کو پھیلانا
جاری ہے 👇
سچا واقعہ
وہ عورت روزانہ اُس نوجوان کو دیکھتی
لیکن
وہ بغیر اُس کی طرف دیکھے سر جھکا کر گلی سے گزر جاتا
دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا
اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اُسے
اپنا دل دے بیٹھی
وہ چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اُس پر
نظر التفات ڈالے
لیکن وہ اپنی
جاری ہے 👇
مستی میں مگن سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا
اور
کبھی بھی نظر اٹھا کر نہ دیکھتا
اُس عورت کو اب ضد سی ہوگئ تھی
وہ حیران تھی کہ
ایسا نوجوان بھی ہو سکتا
جو اُس کی طرف نہ دیکھے
کیونکہ
وہ اپنے علاقہ سب سے امیر
اور
خوبصورت عورت تھی