اس مہینہ عرفہ ہوگا
عرفہ میدانِ عرفات کو کہتے ہیں
قیامت والے دن سب انسان اِسی میدان میں اکھٹے ہوں گے
جبل رحمت پر اللّٰه تعالیٰ جلوہ افروز ہو گا
اور ایک ہاتھ میں آسمان لپٹ کر دوسرے میں زمین
پھر ارشاد ہوگا
میں ہوں بادشاہ کوئ ہے دوسرا ؟
جاری ہے 👇
ِاس دن دین اسلام کی تکمیل اورنعتموں کا اتمام ہوا
صحیحین میں عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ سے حدیث مروی ہے کہ
ایک یہودی نے عمربن خطاب سے کہا
اے امیر المومنین تم ایک آيت قرآن مجید میں پڑھتے ہو
اگر وہ
آيت ہم یہودیوں پرنازل ہوتی تو ہم
جاری ہے 👇
عمر رضہ اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے
وہ کون سی آیات ہے ؟
اس نے کہا
💠اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا المائدة :3 💠
آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کوکامل کردیا اورتم پراپناانعام بھر پور کردیا اورتمہارے لیے
جاری ہے 👇
تو
حضرت عمر رضہ اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے
🌸ہمیں اس دن اورجگہ کا بھی علم ہے،
جب یہ آيت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوئ وہ جمعہ کا دن تھا
اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں تھے🌸
عرفہ میں وقوف کرنے والوں کے
جاری ہے 👇
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
یوم عرفہ
(میدان عرفات میں اکھٹے ہونا حج کا خطبہ)
یوم النحر
(جمرات،سر منڈوانا،طواف زیارت)
ایام تشریق(دس ذوالحجۃ کے بعد کے تین دن)
ہم اہل اسلام کے عید کے دن ہیں اور یہ سب کھانے پینے کے دن ہیں
جاری ہے 👇
اور عمر بن الخطاب رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
یہ آيت اليوم اکملت جمعہ اورعرفہ والے دن نازل ہوئ،
اوریہ دونوں ہمارے لیے عید کے دن ہیں،
یہ ایسا دن ہے جس کی اللہ تعالی نے قسم اٹھائ ہے
اور عظیم الشان اور مرتبہ والی
جاری ہے 👇
اور یہی وہ یوم المشہود ہے جو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں کہا ہے
*وشاهد ومشهود البروج* ( 3 )
حاضر ہونے والے اور حاضر کیے گۓ کی قسم،
ابوہریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جاری ہے 👇
اور یوم مشہود عرفہ کا دن اور
شاھد جمعہ کا دن ہے،
اسے امام ترمذي نے روایت کیا اور
علامہ البانی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے
حسن قرار دیا ہے،
اوریہی دن الوتر بھی ہے
جس کی اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں قسم اٹھائ ہے
جاری ہے 👇
اور
جفت اورطاق کی قسم۔ الفجر ( 3 )
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں الشفع عیدالاضحی اور الوتر یوم عرفہ ہے، عکرمہ اورضحاک رحمہ اللہ تعالی کا قول بھی یہی ہے،
اِس دن کا روزہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے،
قتادہ رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
جاری ہے 👇
نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے
یوم عرفہ کے روزہ کےبارہ میں فرمایا،
( یہ گزرے ہوۓ اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ) صحیح مسلم،
یہ روزہ حاجی کے لیے رکھنا
مستحب نہیں اس لیے
کہ
نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے
اس کا ررزہ ترک کیا تھا،
اوریہ بھی مروی ہے کہ
جاری ہے 👇
یوم عرفہ کا میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے،
لہذا حاجی کے علاوہ باقی سب کے لیے یہ روزہ رکھنا مستحب ہے،
یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالی نے اولاد آدم سے عہد میثاق لیا تھا،
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں
جاری ہے 👇
( بلاشبہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی ذریت سے عرفہ میں میثاق لیا اور آدم علیہ السلام کی پشت سے ساری ذریت نکال کر ذروں کی مانند اپنے سامنے پھیلا دی اوران سے آمنے سامنے بات کرتے ہوۓ فرمایا،
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟
جاری ہے 👇
ہم سب گواہ بنتے ہیں،
تا کہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ تم تو اس محض بے خـبر تھے،
یا یوں کہو کہ پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوۓ،
تو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا ؟
جاری ہے 👇
علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے
تو اس طرح کتنا ہی عظیم دن اورکتنا ہی عظیم عہدو میثاق ہے،
اس دن میدان عرفات میں وقوف کرنے
والوں کو گناہوں کی بخشش اور آگ سے آزادی ملتی ہے،
صحیح مسلم میں عائشہ رضي اللّٰہ تعالیٰ
جاری ہے👇
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
( اللہ تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی اور دن میں اپنے بندوں کوآگ سے آزادی نہیں دیتا، اور بلاشبہ اللّٰه تعالیٰ ان کے قریب ہوتا اور پھر فرشتوں کےسامنے ان سے فخرکرکے فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ )
جاری ہے 👇
بیان کرتے ہیں کہ
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
( اللّٰہ تعالیٰ یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کےساتھ فخر کرتے ہوۓ کہتے ہیں میرے ان بندوں کو دیکھو میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوۓ آۓ ہیں )
جاری ہے 👇
حج و قربانی کی مناسبت سے
ماہ ذوالحجہ کو اللّٰه تبارک و تعالیٰ
نے اس قدر برکتیں اور سعادتیں عطا کر رکھی ہیں کہ آقائے دو جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا
جاری ہے 👇
لیلۃ القدر کی مناسبت سے جہاں ماہ رمضان المبارک کو منفرد شان والی ایک رات لیلۃ القدر نصیب ہوئی ہے جس کے اندر چند ساعتیں اللّٰه کے بندوں کی
جاری ہے 👇
جاری ہے👇
ان دس راتوں کے اختتام پر اللّٰه رب العزت نے عیدالاضحٰی کے دن کو مسرت و شادمانی کے دن کی صورت میں یادگار حیثیت کر دی،
جاری ہے 👇
سے روایت ہے
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
مامن ايام العمل الصالح فيهن احب الی الله من هذه الايام العشرة قالوا يارسول الله ولا الجهاد في سبيل الله، قال ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلک بشئی۔
جاری ہے 👇
اللہ تعالیٰ کے حضور نیک عمل جتنا پسندیدہ و محبوب ہے کسی اور دن میں اتنا پسندیدہ و محبوب تر نہیں
صحابہ کرام نے عرض کی
یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم،
اللہ کے راستہ میں جہاد بھی نہیں،
فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔
تھریڈ کا باقی حصہ بعد میں
