طاھر احمد نسیم کون تھا ؟
پشاور کی مقامی عدالت میں قتل ھونیوالے طاھر احمد نسیم کے بارے میں مختلف ذرائع سے جو معلومات حاصل ھوٸیں۔
وہ آپ لوگوں کیساتھ شئیر کر رھا ھوں۔
یہ شخص پشاور رنگ روڈ حیات آباد سے ملحقہ علاقہ اچینی بالا کا رھائشی تھا۔
جاری ہے 👇
اور یہ کم عمری میں امریکہ شفٹ ھو گیا تھا۔
1992 میں اس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا اور کہا کہ میں اس صدی کا مجدد ھوں اور نبوت کا سلسلہ جاری ھے۔
یہ بندہ ھر وقت سوشل میڈیا پر بہت ایکٹیو تھا اور نوجوانوں کیساتھ مناظرے کرتا تھا۔
جاری ہے 👇
اپنے ایک ویڈیو میں ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میں امریکہ میں ٹیکسی چلا رھا ھوں
حالانکہ وہ ھر وقت سوشل میڈیا پر مصروف رھتا۔
اس سے اندازہ ھوتا ھے کہ اس کو باقاعدہ فنڈنگ ھوتی تھی
جاری ہے 👇
پاکستان آنے کے بعد یہاں کے مقامی علماء کیساتھ کافی مناظرے کر چکا تھا
آج سے آٹھ سال پہلے ایک بڑے مجمع میں توبہ تائب ھو چکا تھا۔
اور باقاعدہ کلمہ پڑھ کر
حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا برملہ اظہار کیا تھا
جاری ہے 👇
لیکن شادی کے بعد اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھ پر ایمان لے آٶ
میں نبی ھوں۔
اس کی بیوی نے دیگر رشتہ داروں کو مطلع کیا اور اس کے خیالات سے آگاہ کیا۔
یہ بندہ فیس بک اور وٹس ایپ پر نوجوانوں کو گمراہ کرتا تھا۔
جاری ہے 👇
جس کے ساتھ رنگ روڈ پر واقع Hyper Mall میں اس کی ملاقات ھوئی تھی۔
اور یہ دونوں فیس بک فرینڈز تھے۔
اس بندے کیخلاف تحفظ ختم نبوت کے صوبائی امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے باقاعدہ
جاری ہے 👇
العرض یہ بندہ اپنے کفریہ عقائد سے
باز نہیں آ رھا تھا اور باقاعدہ اس کا پرچار کر رھا تھا۔
یہاں یہ بات لکھنا بھی ضروری ھے کہ اچینی اور سفید ڈھیری میں قادیانیت تیزی سے پھیل رھی ھے اور اس بندے نے بھی بہت سے نوجوانوں کے عقائد خراب کئے۔
اس کے قتل کے واقعہ
جاری ہے 👇
دوسری اھم بات یہ کہ اگر عدالتیں توھین رسالت قانون کیمطابق فیصلے نہیں
جاری ہے 👇
یہ اھم بات قادیانی کے حمایتیوں کو بھی ذھین نشین کر لینی چاھئے کہ پاکستان کے عاشق پارٹی بازی کو چھوڑ کر ناموس رسالت پر تن من دھن قربان کرنے کو تیار ھیں۔
جاری ہے 👇
اور
پھر دھمکی دو
اتنا دم ہے تو سامنے آؤ اپنی پہچان کے ساتھ
ڈرا کس کو رہے ہو میرے ناجائز سالو
